اردو تذکیر و تانیث کو سادہ بنانے کے لیے چند تجاویز:
جو الفاظ مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتے ہیں انھیں مذکر استعمال کرنے کو ترجیح دی جائے۔
غیر حقیقی جنس والے الفاظ ی پر ختم ہوں تو انھیں مؤنث استعمال کرنا جائز ٹھہرایا جائے۔
غیر حقیقی جنس والے ایسے الفاظ جو ی کے سوا کسی اور حرف پر ختم ہوں تو...
جنس کی پہچان
1۔ ایسے الفاظ جن کے آخر میں ی آتی ہے عموماً مؤنث ہوتے ہیں جیسے بکری، بیٹی، گھڑی وغیرہ
لیکن اس قاعدے میں مندرجہ ذیل استثنا ہیں:
ا۔ یائے نسبتی والے الفاظ
ب۔ پانی، دہی، گھی، جی، موتی، ہاتھی وغیرہ جیسے دیسی الفاظ
2۔ عموماً کسی زمرے میں آنے والے الفاظ کی جنس اس زمرے کو ظاہر کرنے والے لفظ...
مؤنث جنس کے الفاظ دو قسم کے ہیں:
1۔ حقیقی مؤنث الفاظ (ماداؤں کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ )
2۔ سماعی مؤنث الفاظ(غیر ماداؤں کے لیے اہلِ زبان سے سنے جانے والے الفاظ)
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات مذکروں کے لیے بھی سماعی مؤنث الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں مثلاً ہستی، ذات، شخصیت وغیرہ
اسم کے اوصاف
ہر اسم کے تین اوصاف ہوتے ہیں: جنس، تعداد اور حالت
اسم کی جنس
اردو میں ہر لفظ یا تو مذکر استعمال ہوتا ہے یا مؤنث۔ البتہ بعض الفاظ ایسے ہیں جو مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتے ہیں انھیں مشترک کہا جا سکتا ہے۔ تو اس طرح اردو اسما کی جنس تین طرح کی ہوئی: مذکر، مؤنث، مشترک۔
مثالیں...
اسم
اسم ایک ایسا لفظ ہوتا ہے جو کسی شخص، جگہ، چیز، عمل، کیفیت یا تصور کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثالیں:
شخص: لڑکا، عمران، استاد، بادشاہ، منگتا، وغیرہ
جگہ: سڑک، گھر، گاؤں، شہر، اسلام آباد، مکہ، وغیرہ
چیز: ہانڈی، قلم، کرسی، وغیرہ
عمل: تعمیر، چوری، ہنسی، اسراف، چاپلوسی، نگرانی، وغیرہ
کیفیت: اکتاہٹ،...
اس لڑی کا مقصد اردو کی حقیقی قواعد کی تشکیل یا کم از کم اس پر مباحثہ کرنے کا ہے۔ہمارے ہاں اردو کی جو قواعد لکھی گئی ہیں وہ زیادہ تر عربی فارسی کے تتبع میں لکھی گئی ہیں ۔ لاطینی اور سنسکرت کے تتبع میں اردو قواعد کے بارے بھی پڑھا ہے۔ لیکن اردو ان چاروں زبانوں سے مختلف زبان ہے اس لیے اس کی اپنی...
یہ تو دھچکا ہے میرے لیے۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ محفل یوں ہی جمی رہے گی۔ اور اردو پر بحث مباحثے کی یہ سہولت برقرار رہے گی ۔ میں اردو رسم الخط اور اردو قواعد پر کچھ لڑیاں شروع کرنا چاہتا تھا لیکن سستی کی وجہ سے کبھی شروع نہ کر سکا۔ اب میں کوشش کرتا ہوں کہ کچھ کام کر کے یہ لڑیاں شروع کی جائیں۔...
ایک دو سوال:
1. جب یہ دونوں اپنے خیال میں نکاح میں بندھ گئے اور خلوت بھی کر لی تو اس کے بعد اس نے طلاق کیوں دی؟ کیا اگلے دن ان کا خلوت کے لیے جی نہیں چاہے گا ؟
کپنا=آری یا چھری سے کاٹنا
کَترنا=قینچی سے کاٹنا
کُترنا=باریک ٹکڑوں میں کاٹنا
دَلنا=کلھاڑی سے لکڑی پھاڑنا
ٹُکنا=لمبی قدرے باریک چیز کا حصہ کاٹ کر الگ کرنا
کَٹنا= لکھے ہوئے لفظ/الفاظ کو قلم/پین سے کاٹنا
تچھ پتھروں کو گھڑنے کے لیے استعمال ہونے والا اوزار ہے۔ تو اس سے تچھنا کا مطلب بنتا ہے...