1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں
زعیم مشتاق
آخری سرگرمی:
‏اکتوبر 15, 2017
رکنیت:
‏اکتوبر 11, 2016
مراسلے:
30
نمبرات:
18
محصول مثبت درجہ بندیاں:
69
محصول نیوٹرل درجہ بندیاں:
0
محصول منفی درجہ بندیاں:
0

مراسلہ ریٹنگ

محصول: عطا کردہ:
پسندیدہ 32 13
زبردست 5 0
معلوماتی 3 0
دوستانہ 29 2
پر مزاح 0 0
متفق 0 1
غیر متفق 0 0
غمناک 0 0
ناقص املا 0 0
مضحکہ خیز 0 0
نا پسندیدہ 0 0
جنس:
مذکر
یوم پیدائش:
‏اپریل 21
مقام سکونت:
اسلام آباد
پیشہ:
سیلز مینجر

اس صفحے کی تشہیر

زعیم مشتاق

محفلین, مذکر, از اسلام آباد

ہے تری ذات سے مشتق مرے لوہے کا مزاج میں تو کندن ہی تری آگ میں جلنے سے ہوا ‏(احسان دانش) ‏نومبر 5, 2016

زعیم مشتاق کو آخری دفعہ پایا گیا:
‏اکتوبر 15, 2017
    1. زعیم مشتاق
      زعیم مشتاق
      ہے تری ذات سے مشتق مرے لوہے کا مزاج میں تو کندن ہی تری آگ میں جلنے سے ہوا ‏(احسان دانش)
      1. عبدالقیوم چوہدری نے اسے پسند کیا۔
    2. زعیم مشتاق
      زعیم مشتاق
      ﮐﺎﺵ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺁﺱ ﮐﺎ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ .. . ﺍﻣﺮﺗﺎ ﭘﺮﯾﺘﻢ (Favourite Lines from Amrita Preetum's Book "Yaatri")
    3. زعیم مشتاق
      زعیم مشتاق
      وِچ بَزارے تَکڑی دَھر کے روگ ناں میرے تول/ میری پِیڑ اَوّلی سبھ توں، میرے درد انمول
      1. عبدالقیوم چوہدری
        عبدالقیوم چوہدری
        وا وا۔ سوہنا
        ‏اکتوبر 13, 2016
        زعیم مشتاق نے اسے پسند کیا۔
      2. زعیم مشتاق
        زعیم مشتاق
        شکریہ بھائی
        ‏اکتوبر 13, 2016
    4. زعیم مشتاق
      زعیم مشتاق
      تعارف
      1. محمد تابش صدیقی نے اسے پسند کیا۔
      2. محمد تابش صدیقی
        محمد تابش صدیقی
        ‏اکتوبر 11, 2016
        زعیم مشتاق نے اسے پسند کیا۔
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • تعارف

    جنس:
    مذکر
    یوم پیدائش:
    ‏اپریل 21
    مقام سکونت:
    اسلام آباد
    پیشہ:
    سیلز مینجر
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    پوچھتے ہیں کہ زعیم کون
    ہے
    کوئی بتلاو کہ ہم بتلائیں کیا

    ہمار تعارف :: ا تعریف .. اس خدا کی جس نے جہاں بنایا پھر ہمیں بنا یا

    نام :...زعیم مشتاق .. اس میں سارا اشتیاق ہمارا اور کمال ہمارے والدین کا ہے وہ بھی کافی عرصہ

    تک سوچتے رہے کہ کیا کمال کر دیا اس مشتاق کو لانے میں ..

    زبان :.. زبان ہماری محبّت کی اور میٹھی ہے لیکن کبھی کبھی اس میں تلخی بھی لے آتے ہیں صرف منہ کا ذائقہ

    بدلنے کے لیے -اور اس خیال سے بھی کہ سب یہ نا . کہیں کہ ہر ایک کو ایک ہی زبان دے رکھی ہے ..بولنے میں اردو ،پنجابی ،انگریزی،اور تھوڑی تھوڑی سرائیکی بول لیتے ہیں ..باقی زبانوں میں صرف ایک ہی لفظ آتا ہے

    جو آپ کی سماعت کے لیے نہیں ہے ..

    سکونت :.. خمیر ہمارا اسی عرض پاک کا ہے لیکن وہ کہتے نا ں کہ "سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے "

    اس لیے جگر صاحب بہت چیختے ،چلاتے ہیں جب بھی ہمارےجہاں کو کچھ ہوتا ہے

    تعلیم :... اتنا تو یاد ہے کہ اسکول بھی گے اور کالج اور یونیورسٹی بھی گے اور خوشی خوشی گے

    پہلے بی -ایس -سی کیا پھر بی ایڈ..پھر سوچا کہ ہم نے کون سے کچھ ایجاد کر لینا ہے سائنس
    پڑھ کر ..پھر ماسٹرز کیا انگلش ادب میں ..ہمارے پروفیسر صاحبان ہمیں ماسٹر بنانا چاہتے تھے

    پیشہ :... کچھ عرصہ ملک کے ہونہاروں کو تعلیم کے زیور سے مالا مال کر نے کی کوشش کی ابھی اور کرتے اگر

    ہمارے والدین کو ہماری اعلی ٰ تعلیم کی نہ یاد آجاتی اور ہمیں دیس نکالا نہ مل جاتا .. تعلیم دینے میں کہاں تک کامیابی ہوئی

    یہ تو نہیں معلوم لیکن جب جب یاد آتا ہے کہ کیا کیا پڑھا بیٹھے تو دل بہت دکھتا ہے ان بیچاروں کے حال پر

    کبھی کبھی مڈبھیڑ ہو جاتی ہے نیٹ پر ان قوم کے نونہالوں سے تو بہت ادب کرتے ہے اور بار بار ہماری خیریت

    معلوم کرتے ہیں ..بس یہ کہ کر تسلی دیتے ہیں کہ ہم ٹیھک ہیں جہاں بھی ہیں اور آپ اپنی خیر مناؤ ..

    عمر :.. ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے .!!.. بہت کچھ دیکھنے کی چاہ میں آنکھیں کھولیں ھیں اور اتنا کچھ دیکھا

    کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں .. اب بند کرنے کو دل نہیں چاہتا ..آپ سے التماس ہے کہ ہماری دراز عمری کی

    د عا کریں ...

    ازدواجی حیثیت :... حیثیت سے توخیر ابھی مالا مال نہیں .. شدہ ہونے کا پریقین ہے لیکن کچھ عرصہ ہوا کہ اب سوچتے ہیں کہ

    کہیں گم شدہ تو نہیں ..ویسے بھی گمشدہ ہونا زیادہ بہتر ہے شادی شدہ ہونے سے ..نوٹ ..وہ نوجوان خواتین و حضرات

    ہماری بات پر بلکل دھیان نہ دیں اور جو کرنا چاہتے ہیں کر گزریں .." بقول شاعر " بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق "

    مشاغل :... پڑھتے ہیں بہت کچھ ..ہر شعبہ کو پڑھا ..سائنس ، تاریخ ، ادب ، شاعری، مذهب ... کچھ سمجھے پاے اور زیادہ

    ہماری ناقص عقل کا قصور ہے ..ابھی تعلیمی مراحل میں ہیں اور آپ سے التماس ہے کہ د عا کریں کبھی نہ کبھی اس علم

    کے میدان میں یکتا ہو جایئں ..

    فن :... ہمارا فن ابھی نوزائدہ ہے اسلیے اس کے چیخنے اور چلانے کی زیادہ پروہ نہ کیجیئے گا اور اگر ہو سکے تو

    کان بند اور آنکھیں کھولی رکھیے گا ..بچوں پر کڑی نظر جو رکھنی پڑتی ہے ..

    اس بزم میں ہم خود ہی کھینچے چلے آئے ..جب یہاں آے تو تسلی ہوئی کہ واہ یہاں تو ہمارے جیسے ہزاروں ہیں

    اور مزید چلے آرہے ہیں ..اب آ ہی گے تو بس دھرنا دے دیا اور جانے کو دل نہیں چاہتا ..

    الله تعالہ اس بزم کو اور اس کے منتظمین اور متاثرین کو اپنی حافظ اور اماں اور ہماری دسترس سے

    دور رکھے ..
    شکریہ

    دستخط


    تفریق کی راہوں سے گزرناکیسا
    انسان کا انسان سے ڈرنا کیسا