دلشاد محور
آخری سرگرمی:
‏جولائی 28, 2008
رکنیت:
‏جولائی 8, 2008
مراسلے:
9
نمبرات:
0
محصول مثبت درجہ بندیاں:
15
محصول نیوٹرل درجہ بندیاں:
0
محصول منفی درجہ بندیاں:
0

مراسلہ ریٹنگ

محصول: عطا کردہ:
پسندیدہ 15 4
زبردست 0 0
معلوماتی 0 0
دوستانہ 0 0
پر مزاح 0 0
متفق 0 0
غیر متفق 0 0
غمناک 0 0
ناقص املا 0 0
مضحکہ خیز 0 0
نا پسندیدہ 0 0

زیر اقتدا 1

یوم پیدائش:
‏فروری 2
مقام سکونت:
ok
پیشہ:
tv

اس صفحے کی تشہیر

دلشاد محور

محفلین, از ok

دلشاد محور کو آخری دفعہ پایا گیا:
‏جولائی 28, 2008
    1. فیصل عظیم فیصل
      فیصل عظیم فیصل
      الحمد للہ معذرت خواہ ہوں کہ آپ کا پیغام اتنے عرصے بعد دیکھ پایا ۔ ویسے ذ-پ زیادہ کار آمد رہتا ہے
    2. ابن سعید
      ابن سعید
      محترم سلام مسنون!

      ابھی ابھی محفل میں آپ کے تعارف کا دھاگہ دکھا ہے۔ انشاء اللہ آپ آہستہ آہستہ ہر چیز سے واقف ہو جائیں گے۔ آپ اگر مخصوص کرکے بتا سکیں کہ آپ کو کیا مسائل درپیش ہیں۔ تو ہم بہتر مدد کر سکیں۔

      والسلام!

      --
      سعود ابن سعید
    3. ابن سعید
      ابن سعید
      سلام مسنون!

      دلشاد محور صاحب، امید کہ بخیر ہونگے۔ آپ نے کسی وزیٹر پیغام کی موڈیریٹرس کو رپورٹ بھیجی ہے۔ جب کہ آپ کے پروفائل میں سوائے آپ کے اپنے کے کسی اور کے پیغامات دستیاب نہیں ہیں۔

      کیا یہ فعل آپ سے تجرباتی طور پر سرزد ہوا ہے یا کوئی مسئلہ ہے؟

      اگر کوئی پریشانی در پیش ہو تو بتائیں ہم آپ کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہیں۔

      والسلام!

      --
      سعود ابن سعید
    4. دلشاد محور
      دلشاد محور
      جہڑا پیا دا ڈیوا بالیا ہم او وسم کے اج تئیں بلیا نئیں‌
      اوں وقت کوئی ایجھا شخص نہ ہا جہڑا ڈیکھ کے ساکوں‌جلیا نئیں‌
      لگی نظر تے یار نکھیڑے تھئے ول زہن ڈوہاں دا رلیا نئیں‌
      ایجھا چھوڑ تے محور منہ کیتس گئی عمراں‌ڈھل او ولیا نئیں‌
      سرائیکی شاعر دلشاد محور
    5. دلشاد محور
      دلشاد محور
      ہک شخص کوں دہداں رات دا میں کلھا ویندے چڑھ چوبارے تے
      اللہ جانڑدا ہے کیا روگ ہیسی متھا روندے ٹیک کنارے تے
      بہہ تارے رات دے گنڑدا ہے کہیں‌کیتے ظلم بے چارے تے
      اونکوں محور کُئی نچویندا پے جیندے نچدن لوک اشارے تے
      سرائیکی شاعر دلشاد محور
      میری دوستوں سے گزارش ہے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں گے
      شکریہ
    6. دلشاد محور
      دلشاد محور
      اُن کو بولا تھا دوستی کیلیے
      وہ تُل گئے دشمنی کیلیے
      دلشاد محور کراچی دیفنس
    7. دلشاد محور
      دلشاد محور
      کبھی تم یہ پوچھا ہئے کسی آشنا ہو کر
      کیوں‌جلتا ہے یہ پروانہ یوں‌شمع پہ فدا ہوکر
      سرائیکی شاعر دلشاد محور کراچی ڈیفنس
    8. دلشاد محور
      دلشاد محور
      نصیبوں کی یہ گردش تھی رلایا آج قسمت نے
      کبھی اجڑے فقیری میں کبھی ہم بادشاہ ہو کر
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • تعارف

    یوم پیدائش:
    ‏فروری 2
    مقام سکونت:
    ok
    پیشہ:
    tv
    no

    poetry