برما (میانمار) اور شام میں مسلم عوام کا قتل عام ساری دنیا خاموش تماشائی

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
برما (میانمار) میں تین جون سے بے گناہ و مظلوم مقہور مسلمانوں کا بدترین قتل عام جاری ہے۔ لاکھوں مسلمان جو برما بنگلہ دیش کی سرحد پر ساحلی دلدلی علاقوں میں جانوروں بلکہ کیڑے مکوڑوں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں، کا اچانک قتل عام شروع کر دیا گیا ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایک بودھ لڑکی نے اسلام قبول کر لیا تھا جسے بودھوں نے غصہ میں آ کر پہلے قتل کیا اور پھر اس کا الزام مسلمانوں پر عائد کیا کہ انہوں نے اغواء کر کے اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کیا۔ یہ واقعہ 28 مئی کو پیش آیا۔ 3 جون کو بودھوں نے ایک بس روک لی اور پھر اس میں سوار تبلیغی جماعت کے 10 ارکان کو اتار کر قتل کر دیا۔ ساتھ ہی کئی ایک کے سر اور چہرے مونڈھ کر مشہور کر دیا کہ مسلمانوں نے بودھ رہنما کو شاگردوں سمیت قتل کیا ہے۔ بس پھر کیا تھا، ہر طرف سے بودھ مسلمانوں پر حملہ آور ہو گئے۔ انہوں نے بے بس و بے کس مسلمانوں کا مار مار کر کچومر نکال دیا۔ 10 جون کو جب دنیا تک خبر پہنچی تو افواج کے ساتھ کرفیو نافذ کر کے معمولی میڈیا کو بھی علاقہ بدر کر دیا گیا۔ یوں اب فوج، پولیس اور بودھ مل کر مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ ہزاروں بستیاں جلا دی گئی ہیں۔ لاکھوں مسلمان جو معمولی جھونپڑیوں میں رہتے تھے وہ بھی خاکستر کر دی گئی ہیں۔ ہزاروں مسلمان جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش کی طرف بھاگے تو انہیں بنگلہ دیشی بحریہ اور فوج نے واپس دھکیل دیا۔ واپس پہنچے تو وہ بھی قتل ہو گئے۔ مقامی حکومت نے پہلے ہی ان مسلمانوں سے شہریت چھین رکھی ہے۔ مسلمان تعلیم حاصل نہیں کر سکتے، علاج معالجہ نہیں کروا سکتے، سفر نہیں کر سکتے، دوسرے گائوں تک نہیں جا سکتے، جو 15 سال سے بڑا ہو ،اسے فوج اٹھا کر خرکار کیمپ میں لے جا کر جبراً مزدوری کرواتی ہے۔ برما انہیں بنگالی جبکہ بنگلہ دیش انہیں برمی قرار دیتا ہے۔ یوں وہ دونوں طرف سے مار کھا رہے ہیں۔ ساری دنیا ان مظلوموں کا خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے۔ کوئی ان کا غمگسار نہیں۔ 57 مسلم ممالک میں سے کبھی کسی نے ان کے لئے زبان سے کوئی لفظ نہیں نکالا، کبھی کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے ان کی کوئی بات نہیں کی۔ اب اقوام متحدہ نے امداد کے لئے اپیل کی ہے تو اس میں کہا گیا ہے، مسلمانوں اور بودھوں کی باہم لڑائی میں بے گھر ہونے والوں کو امداد کی ضرورت ہے جن کی تعداد 90 ہزار ہے، اس سے تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہاں جیسے برابر کی لڑائی جاری ہے، یہ دوہرا ظلم ہے جو ان مسلمانوں پر روا رکھا گیا ہے۔
اس صورتحال پر یاد آیا کہ پاکستان میں ایک عیسائی خاتون آسیہ نے توہین رسالت کی، اسے عدالت سے سزائے موت ہوئی تو سارا یورپ امریکہ میدان میں آ گیا۔ پوپ جان پال تک متحرک ہوا، بیان دیا پھر پاکستان میں اس پر بہت بڑی تحریک چلی، گورنر پنجاب سمیت کتنے لوگ قتل ہوئے اور قضیہ تھما نہیں۔
پاکستانی ہندوئوں کے قبول اسلام کی جھوٹی بات پر بھارت کی پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا۔ آخر کیوں…؟ دنیا میں مسلمان ہی وہ واحد مخلوق ہیں کہ جن کے مارے جانے پر ہر طرف قبرستان جیسی خاموشی دیکھنے کو ملتی ہے… مسلمانوں کی کیفیت تو ان برائلر مرغیوں جیسی ہو چکی ہے کہ جو ڈربے میں سے باری باری نکلتی، ذبح ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کو دیکھتی ہیں لیکن بولتی کوئی بھی نہیں۔ نہ کبھی قصاب کے ہاتھ پر چونچ مارتی ہیں۔ اگر سارے مسلمان یونہی خاموش رہیں گے تو لازماً ان مرغیوں کی طرح ذبح ہوتے رہیں گے۔ آج یہی حال شام میں بھی مسلمانوں کا ہے کہ جن پر بشارالاسد سوا سال سے بے پناہ ظلم ڈھا رہا ہے۔ 20 ہزار سے زائد مسلمان شہری بشارالاسد کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔ بشارالاسد کو روس کی کھلے عام اور امریکہ و یورپ کی مکمل غیر اعلانیہ مدد حاصل ہے۔ اس کے حوصلے بلند ہیں کیونکہ وہ نصیری مذہب کا ماننے والا ہے جبکہ اس کے مقابل شہید ہونے والے عام مسلمان ہیں۔ اسلام دشمنوں کی ہی کوشش ہے کہ نصیریوں کا خاتمہ اور مسلمانوں کی حکومت قائم نہ ہو سکے۔ نصیری جیلوں میں قید مسلمانوں سے بشارالاسد کی تصویر کو سجدہ کرواتے اور نعوذباللہ بشارالاسد کے نام کا کلمہ پڑھواتے ہیں۔ بہرحال یہاں صورتحال اس لئے کچھ بہتر ہے کہ فوج میں بغاوت اور پھوٹ پڑ چکی ہے۔ دنیا بھر میں مسلم نوجوان بھی تنگ آ کر بشارالاسد کی افواج کے خلاف لڑنے کے لئے تیزی سے شام پہنچ رہے ہیں۔ خصوصاً پڑوسی ممالک اور لیبیا کے انقلابی دستے اس میں پیش پیش ہیں۔ امید ہے کہ یہاں 20 ہزار سے زائد مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور امریکہ کو ایک اور محاذ پر شکست ہوگی لیکن اس قدر اندھے قتل عام پر جس طرح دنیا بھر اور مسلم دنیا نے چپ سادھ رکھی ہے وہ یا پھر اپنی باری پر مرنے کا انتظار کرنا چاہئے۔ انتہائی پریشان کن ہے۔ اب مسلمانوں کو یہ چپ کا روزہ توڑنا چاہئے اور آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

بشکریہ ہفت روزہ جرار
والسلام،،، علی اوڈراجپوت
ali oadrajput
 
برما کے حوالے سے ایک پروگرام کراچی میں ہوچکاہے اور اسکی بھرپور تشہیر کی گئی عوام لناس میں

545140_434311879936244_1687320974_n.jpg
 
صحافیوں کے نام
سوشل میڈیا کے توسط سے ہمارے سامنے یہ خبریں عیاں ہورہی ہیں کہ ماینمار برما کے اندر مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اور اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق قریب بیس ہزار سے زائد مسلمانوں کو مسلمان ہونے کے جرم کی پاداش میں شہید کیا جاچکا ہے۔ بہت سے مسلمان وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں اور بنگلہ دیش وغیرہ میں غیر قانونی طریق سے داخل ہوئے جہاں کے فوجیوں سے وہ رحم کی بھیک کا سوال بھی کررہے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی بے غیرتی اور شرمناک بات یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا چاہے عالمی ہو یا مقامی، بی بی سی ہو یا جیو،دنیا ٹی وی ہو یا این ڈی ٹی وی، ایکسپریس نیوز ہو یا اسٹار نیوز، وال اسٹریٹ جنرل ہو یا ڈان نیوز، کوئی ہندی اخبار ہو یا اردو اخبار کسی جگہ بھی اتنی بڑی سفاکی، انسانیت کی تاریخ میں ایک اور اتنا بڑا ظلم، مسلمان جو دنیا کی بڑی آبادیوں میں سے ایک ہیں ان کی بے رحمی اور نفرت آمیز انسانیت سوز طریقوں سے قتل عام کو جگہ ہی نہیں دی گئی یا دی گئی تو محض رسمی طور پر نہ ہونے کے برابر اور ایسے کونوں میں کہ عام قاری اس سے کوئی اثر نہ لے سکے۔ ملک ریاض کا کیس ہو یا الطاف حسین کی تقریر، راجہ پرویز اشرف کا پرائم منسٹر بننا ہو یا بلاول کا پارٹی میٹنگ میں شریک ہونا یہ سب انتہائی اہم اور جلے ہوئے حروفوں میں چھپنے کے قابل خبر ہے۔ لیکن مسلمانوں کا قتل عام ہونا ایک معمولی سی چیز ہے، اسکی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ ہم پریس سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ وہ اس سلسلے میں لوگوں کی رائے قائم کرے گا لیکن۔۔۔۔ شاید لوگ ٹھیک ہی کہتے تھے۔۔۔۔۔ میڈیا صیہونی لوبی کا کارندہ ہے۔۔۔۔۔ میڈیا فری میسن کا زر خرید غلام ہے۔۔۔۔۔ میڈیا دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔۔۔۔ میڈیا یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔۔۔۔۔ میڈیا وہی دکھاتا ہے جو اسکا آقا اس سے کہلواتا ہے۔۔۔۔۔ میڈیا ایک سازش ہے۔۔۔۔ میڈیا لوگوں کے مائنڈ سیٹ کو دنیا بھر پر قبضہ گروپ امریکہ کے ایماء کے مطابق کرنے کی خاطر ایک ہتھیار ہے۔۔۔۔۔ ہم ان لوگوں کی باتوں کو مجذوب کی بھڑیں سمجھ کر اڑا دیتے تھے ۔۔۔۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ لوگوں کا کوئی کام نہیں بس ہر چیز کو برا کہتے ہیں۔۔۔۔ ہم میڈیا کو پسند کرتے تھے کہ یہ ہم کو وہی دکھاتا جو ہم دیکھنا چاہتے۔۔۔۔ وہی سنواتا جو ہماری اکثریت سننا چاہتی۔۔۔۔ اس کی چکاچوند روشنی نے ہماری بینائی چھین لی۔۔ اس کی آزادی پر مشرف نے شب خون مارنے کی کوشش کی، ہم آوازیں بلند کی۔۔۔ اس کا دفاع کیا اور نتیجتا آج ۔۔۔۔۔۔ جی ہاں ، آج میڈیا نے ہم کو کہا دفعہ ہو جاو۔۔۔۔ ہم اپنے آقاوں کے غلام ہیں۔۔۔۔۔ ہم ان کے حکم کے بغیر الف بھی نہیں لکھ سکتے۔۔۔۔ ہم کسی درخت کی تصویر بھی نہیں دکھا سکتے۔۔۔۔ میڈیا میڈیا میڈیا۔۔۔۔۔۔ ہم نے ایڈیٹرز سے امید چھوڑی۔۔۔۔۔ ٹی وی پر نیوز بلیٹن کے ایڈیٹرز سے بھی ہم نے امید توڑ دی۔۔۔۔ پھر لگ بام ٹکٹکی باندھی تو ان صحافیوں سے جو بڑے بڑے سیاستدانوں کے چہروں کو کالا کرتے ہیں۔۔۔۔ ان کی کرتوتیں عوام کو چسکے لے لے کر سناتے ہیں۔۔۔۔ ٹاک شوز کے اندر حکمرانوں کا دفاع کرنے والوں کو اپنے سوالات میں الجھا کر ان کو ان کے لیڈران سمیت ننگا کردیتے ہیں۔۔۔۔ لیکن ان کی طرف سے بھی اس مسئلے پر چب سادھ لی گئی۔۔۔۔ ضمیر کی آواز نہ جانے آئی ہوگی کہ نہیں، لیکن گر آئی بھی تو اس کو ہوس کی گود میں سُلا کر مزے سے نفس کو دنیا میں جنت کے مزے دلواتے رہے ۔۔۔
کہاں ہیں جناب کامران خان؟؟ جو عجب کرپشن کی غضب کہانیاں سناتے تو سانس لیتے نہ رکتے؟ آج کیوں برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف انکی زبانیں گنگ ہیں؟ کونسا سانپ انکو سونگ گیا؟
کہاں ہیں حامد میر؟؟ جو ٹاک شو کے اندر ہر مدعا اٹھاتا ہے۔ اسکو ڈسکس کرتا ہے۔۔ امن کی آشا ہو یا طالبان کی بھاشا، ہر موضوع پر پروگرام، ہر موضوع پر لیڈروں کے چمچوں اور لیڈروں کے درمیان بحث کروانے والا؟؟
کہاں ہے جاوید چوہدری؟؟ مسلمانوں کے عروج زوال پر لیکچر دینے والا؟؟ فیصل رضا عابدی کے خلاف تو بڑا نڈر تھا تو آج برما کے مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کے لئے ایک پورا پروگرام کیوں نہیں؟؟
کہاں جناب طلعت حسین صاحب؟؟ آپ تو مبشر اور مہر کے خلاف بڑے بولے، نجم سیٹھی کے بارے میں باہمت انکشاف کیا؟ کہاں ہے آپ کا روشن ضمیر؟؟ آپ نے تو ملک ریاض یا بقول آپ کے ریاض ٹھیکدار کے کیس کے وقت میں تو بڑے روشن ضمیر کی دہائیاں دیں۔۔۔ میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا۔۔۔ کالی بھیڑوں سے لڑنے اور انکو سمجھنے کی ٹپس بھی عنایت کی۔۔ آج آپ کی زبان بھی کیوں نہیں کھل رہی؟؟ کیوں اس بات کو ہائی لائٹ نہیں کیا جارہا؟؟ کیوں برما کے غیر مسلموں کی بربریت کا تذکرہ آپ کی زبان سے نہیں ہوتا، کیوں ؟ کیوں؟ آخر کیوں؟؟
پھر ہم نے نظریں کالم نگاروں پر لگائیں، کہاں ہے حسن نثار؟؟ مغرب کی ایجادات کے تو آپ انتہائی مشکور۔۔۔ مولویوں کے خلاف تو آپ کی زبان اور قلم مثل نشتر و شمشیر۔۔۔۔ پنجاپ اور وفاقی حکومتوں کے خلاف تو آپ کے جارحانہ خطبے۔۔۔۔ عوام کی بے وقوفیوں کا بے انتہا رونا۔۔۔۔ لعنت زدہ جمہوریت کے خلاف تو آپ میں بات کرنے کی بے انتہاء ہمت۔۔۔۔۔ عوام الناس کے رائے کے خلاف حقائق کو اجاگر کرنے والے باہمت مرد بننے کا جذبہ۔۔۔۔ لیکن یہاں کیا ایسی چیز ہے جو آپ کو روکتی ہے۔۔۔ کیوں آپ کے قلم کی شوخی غائب ہے؟ کیوں ظلم پر چپ سادھ کر ظالم کے ساتھی بنے ہوئے ہیں؟؟؟
کہاں ہے ہارون الرشید؟؟؟ ضمیر کی دہائیاں۔۔۔ اخلاق کا درس۔۔۔۔ کپتان کی تعریفوں میں پرچوں کو سیاہ کرنا۔۔۔۔ وفاق اور پنجاپ حکومت کو لتاڑ دینے والا جرات مند قلم کیوں اس معاملے پر سو گیا؟؟؟ کیوں اس میں جان باقی نہیں؟؟ کیوں یہ کوما میں چلا گیا؟؟
کہاں ہےوہی جاوید چوہدری؟؟ علم کے ذخیرے سے چنے ہوئے موتی چھانٹ کر دینے والا۔۔۔ اپنے سفر نامے شئیر کرنے والا۔۔۔ ہر کسی کی اعتدال سے اچھائیاں اور برائیاں قارئین کے سامنے لانے والا۔۔۔ تاریخ کے مناظر قلم سے اپنے کالموں کی اسکرین پر دکھانے والا۔۔۔۔ حال کے بارے میں بھی ایک پہنچا ہوا لکھاری۔۔۔۔ کیوں آخر اس موجودہ فتنہ و فساد سے ہم کو آگاہ نہیں کررہا؟؟ کیوں آخر اسکی آواز اسکی ٹائی کے پیچھے پھنسی ہوئی ہے۔۔۔ کیوں اسکا ہاتھ اس بربریت کو لکھنے معذور ہے۔۔؟؟
کہاں انصار عباسی؟؟ ظلم کو چیلنچ کرنے والا۔۔۔۔ کرپشن کا پول کھولنے والا۔۔۔۔ مسلمانوں کا بے پناہ درد رکھنے والا۔۔۔۔ منصفیوں کو انصاف کی تلقین کرنے والا۔۔۔۔ کیوں سو گیا؟؟ کیوں یہ اس قتل عام اور بربریت پر اس طرح سے آواز نہیں اٹھارہا جیسی اس نے میڈیا پر پھیلنے والی فحاشی پر اٹھائی تھی۔ کیوں ایسی تحریک نہیں کررہا جیسی اس نے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے خلاف کی تھی۔۔۔ خدارا انصار عباسی اٹھو۔۔ قلم اٹھاو ۔۔۔ اپنے صحافی دوستوں کو بھی اس پر آمادہ کرو۔۔۔ خدارا خدارا خدارا۔۔۔۔ انصار صاحب راقم الحروف کو تمام صحافیوں میں آپ سے سب سے زیادہ امید ہے۔ آپ کو اس عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ اس ظلم اور بربریت کو مقامی اور انٹرنیشنل میڈیا پر اجاگر کرنے کی کوشش کرو۔
یا پھر آپ تمام لوگوں کے چپ رہنے کی یہی وجہ ہے کہ آپ لوگ یہ سمجھتے ہو کہ برما میں ایسا کچھ نہیں ہورہا اور صرف یہ سوشل میڈیا پر پروپگنڈہ ہے۔ تو پھر تحقیقی رپورٹیں لاو ۔۔ اصل حقائق سے ہم کو آگاہ کرو۔۔۔ یا پھر وجہ یہ ہے کہ آپ کے منہ میں ایسی ہڈی ہے جو نہ اگلی جاتی ہے نہ نگلی۔۔۔ خدارا اس پر روشنی ڈالو۔۔۔ اب وہ دور گیا کہ آپ لوگ دانش ور کہلا کر جو لکھتے لوگ پڑھتے۔۔۔ سوشل میڈیا بہت تیز ہے۔۔۔ اور ہم جیسے گمنام لکھاریوں کو بھی اب آپ کے اخباروں کی ضرورت نہیں۔۔ ہم اپنا نقطہ نظر مختلف فورمز اور سوشل میڈیا پر پیش کرسکتے ہیں، لہذا حقائق چھپانا تقریبا ناممکن ہے۔ لہذا اپنی ساکھ بحال کرو اور عوام کو آگاہی فراہم کرو۔ ورنہ ایسے میڈیا کا کوئی فائدہ نہیں۔۔ اس سے بہتر ہے کہ عوام اس کا بائیکوٹ کردے ۔۔۔ کیونکہ ذہن سازی والے خبرناموں سے انسان بے خبر ہی اچھا۔ آخر میں جذباتیت کے باعث بدتمیزی والے الفاظ کے لئے معذرت چونکہ بندہ ہے معذور۔۔۔


mmjumani
 

ساجد

محفلین
برمی مسلمانوں پر بہت مدت سے عرصہ حیات تنگ ہے ۔ بہت سارے برمی بنگلہ دیش میں پناہ گزیں ہیں اور کچھ عرب ممالک میں خصوصی رعایات کے ساتھ رہ رہے ہیں لیکن جس بات کا قلق ہے وہ یہ کہ بین الاقوامی برادری ان کی حالتِ زار پر چُپ سادھے ہوئے ہے اور اسلامی مما لک کی حکومتیں بھی ان کے لئے کچھ نہیں کر رہیں بلکہ بنگلہ دیش نے ، جو کہ خود اسلامی ممالک میں شمار کیا جاتا ہے ، ان پر اپنی سرحد بند کر رکھی ہے۔
 

ساجد

محفلین
شاید لوگ ٹھیک ہی کہتے تھے۔۔۔ ۔۔ میڈیا صیہونی لوبی کا کارندہ ہے۔۔۔ ۔۔ میڈیا فری میسن کا زر خرید غلام ہے۔۔۔ ۔۔ میڈیا دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔۔۔ ۔ میڈیا یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔۔۔ ۔۔ میڈیا وہی دکھاتا ہے جو اسکا آقا اس سے کہلواتا ہے۔۔۔ ۔۔ میڈیا ایک سازش ہے۔۔۔ ۔ میڈیا لوگوں کے مائنڈ سیٹ کو دنیا بھر پر قبضہ گروپ امریکہ کے ایماء کے مطابق کرنے کی خاطر ایک ہتھیار ہے۔۔۔ ۔۔ ہم ان لوگوں کی باتوں کو مجذوب کی بھڑیں سمجھ کر اڑا دیتے تھے ۔۔۔ ۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ لوگوں کا کوئی کام نہیں بس ہر چیز کو برا کہتے ہیں۔۔۔ ۔ ہم میڈیا کو پسند کرتے تھے کہ یہ ہم کو وہی دکھاتا جو ہم دیکھنا چاہتے۔۔۔ ۔ وہی سنواتا جو ہماری اکثریت سننا چاہتی۔۔۔ ۔ اس کی چکاچوند روشنی نے ہماری بینائی چھین لی۔۔ اس کی آزادی پر مشرف نے شب خون مارنے کی کوشش کی، ہم آوازیں بلند کی۔۔۔ اس کا دفاع کیا اور نتیجتا آج ۔۔۔ ۔۔۔ جی ہاں ، آج میڈیا نے ہم کو کہا دفعہ ہو جاو۔۔۔ ۔ ہم اپنے آقاوں کے غلام ہیں۔۔۔ ۔۔ ہم ان کے حکم کے بغیر الف بھی نہیں لکھ سکتے۔۔۔ ۔ ہم کسی درخت کی تصویر بھی نہیں دکھا سکتے۔۔۔ ۔ میڈیا میڈیا میڈیا۔۔۔ ۔۔۔ ہم نے ایڈیٹرز سے امید چھوڑی۔۔۔ ۔۔ ٹی وی پر نیوز بلیٹن کے ایڈیٹرز سے بھی ہم نے امید توڑ دی
مختلف نوعیت کے معاملات کو گڈ مڈ کرنے سے حالات کی درستی میں کوئی مدد نہیں ملا کرتی البتہ اس کے بگڑنے کے امکانات بڑھ جایا کرتے ہیں۔ آگے چلنے سے قبل ایک اہم مسئلے پر تھوڑی بات کروں کہ یہ مراسلات جو یہاں ارسال کئے گئے ہیں ارسال کنندہ کی اپنی تحریر نہیں بلکہ ایک ہفت روزہ کا کاپی پیسٹ ہے جو کہ جماعت الدعوۃ کا ترجمان ہے۔یوں ان مراسلات پر ارسال کنندہ سے کسی سوال جواب کی بجائے ہم جماعت الدعوۃ کے متعلق چند عمومی حقائق کے تناظر میں ان مراسلات کا جائزہ لیتے ہیں۔
جماعت الدعوۃ ، کشمیر کی آزادی کے حوالے سے بہت پیش پیش ہے اور ان کا ایک رسالہ الدعوۃ کے نام سے ہے جو کہ یگانہ خصوصیات رکھتا تھا کہ اس میں جاندار کی تصویر نہیں ہوا کرتی تھی ، کشمیری مجاہدین کے بیانات ہوا کرتے تھے ، کشمیر میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی وصیتیں ہوا کرتی تھیں جس میں ایک بات کا خصوصی ذکر ہوا کرتا تھا کہ ٹیلیویژن اٹھا کر گھروں سے باہر پھینک دو (اس وقت برصغیر میں نیٹ اتنا عام نہیں تھا صرف خواص تک محدود تھا) ۔ان کی ہدایت پر توڑ کر گھروں سے باہر پھینکے گئے ٹیلیویژن سیٹوں کی تصاویر بھی اس رسالے میں خصوصیت کے ساتھ شامل کی جاتی تھیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آج کی جنگیں میدانِ جنگ میں کم اور میڈیا پر زیادہ لڑی جاتی ہیں اور ٹیلی ویژن اس جنگ کا اہم ترین ہتھیار ہے۔ ان مراسلات میں کالم نگار نے بھی ٹیلی ویژن پر تنقید کر کے اس کا ثبوت فراہم کیا ہے، گویا کہ اب یہ بات مسلم ہے کہ میڈیا جس کے قابو میں ہو حالات آسانی سے اس کے قابو میں آ جاتے ہیں۔جن دنوں میں اس رسالے کا قاری تھا میں نے چند دعوتی علماء کرام سے عرض کیا کہ جناب آپ ٹیلی ویژن تڑوانے کی بجائے اس کے درست استعمال پر زور دیں اور اس کو چلانے والوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اسلامی ثقافت کا پاس رکھا کریں ۔ آپ اسے اپنے گھر سے باہر پھنکوا دیں گے تو اس کی "شیطانیت" میں تو تب بھی فرق نہیں آئے گا۔ یہی بات جہاد کشمیر کے حوالے سے ہوتی تھی کہ آپ نوجوانوں کو وہاں مروانے کی بجائے تعلیم و تاریخ سے مزین کریں اور اپنےکمزور و پسے ہوئے عوام کی معاشی و تعلیمی بہتری میں ان کی صلاحیتوں کا ستعمال کریں تو کشمیر کیا پوری دنیا آپ کے ساتھ ہو گی (ان دنوں میں ہانگ کانگ چین کے حوالے کیا گیا تھا ) میں نے اس کی مثال بھی ان کے سامنے رکھی لیکن ان کی انگلی فضا میں بلند ہوتی اور اللہ کے نام پر جہاد و قتال کا وردان کی زبان پر جاری ہو جاتا اور ان کی یہ فضا میں بلند انگلی ہمارے خیالات کو سلی پوائنٹ پر (طاغوت کے ہاتھوں) کیچ آؤٹ قرار دے کرہماری مسلمانانہ صلاحیتوں پرکئی سوالیہ نشان چھوڑ جاتی۔
قصہ مختصر یہ کہ دور جدید کا سب سے اہم جنگی ہتھیار میڈیا اور اس کا ایک اہم ترین پرزہ ٹیلی ویژن ہے اور ہم نے اپنے ہاتھوں سے اس ہتھیار کو اپنے مخالفین کو دیا اور اس کی "شیطانیت" سے خود کو مامون سمجھا لیکن آج یہی ہتھیار ہمیں شکار کر رہا ہے اور ہم اس کی شکایت لے کر بھی اسی میڈیا پر جاتے ہیں۔ لیکن کیسے؟ اوپر کوماز میں کوٹ کیا گیا مراسلہ سب کچھ واضح کر رہا ہے۔ہم ابھی بھی اس کو مطعون کر رہے ہیں، بد دعائیں دے رہے ہیں،دجال کا ہتھیار قرار دے رہے ہیں اور اسے ایک سازش قرار دے رہے ہیں۔ ہاں ایک اہم بات بھی کہی انہوں نے کہ " میڈیا وہی دکھاتا ہے جو اسکا آقا اس سے کہلواتا ہے۔۔۔" ارے بھئی جب آپ اس حقیقت سے آگاہ ہیں تو پھر میڈیا کے آقا بننے کی کوشش کرو وہ آپ کو بھی دکھائے گا۔ جناب آپ دنیا کے مسائل کو دنیاوی وسائل سے ہی حل کر سکتے ہو اگر آپ کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہو تو آگے بڑھئیے اور اپنے نوجوان کے ہاتھ میں بندوق اور ذہن میں بارود بھرنے کی بجائےاس کو تعلیم دیجئیے کہ آج کے دور میں قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے اور جب یہ قلم کی بورڈ کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو سلطنتوں کو بغیر گولی چلائے اپنی قلمرو میں لے لیتا ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
ساجدبھائی جو آپ چاہتے ہیں اس کو حاصل کرنے کے لیے 30 سے 40 سال کا عرصہ درکار ہے۔ تب تو کریڈیٹ کوئی اور لے جائے گا، جبکہ موجودہ دور کے جذباتی قسم کے لیڈر ہتھیلی پر آج ہی سرسوں جمانا چاہتے ہیں۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top