سری لنکا کرکٹ‌ ٹیم پر لاہور میں‌ حملہ

خرم

محفلین
میرا خیال تو ہے کہ یہ ایک سکورنگ ایونٹ تھا۔ ممبئی حملوں کے جواب میں کہ اگر ممبئی محفوظ نہیں تو لاہور بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ وہی 80 کی دہائی کی باتیں۔ ظالمان یا کسی اور کو اس سب کچھ سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ ویسے بھی پختون اور طالبان ایک ہی چیز کے دو نام نہیں ہیں۔ پختون ایک علاقائی اکائی ہیں، ایک تہذیب کی علامت ہیں اور ظالمان ایک پر فریب نظریہ جو کسی قدر کسی تہذیب سے منسلک نہیں ہے۔
 

طالوت

محفلین
افسوس کہ فراز مر گیا ، ورنہ وہ وطن پرست ، وطن پرستوں کے زخموں پر مرہم ضرور رکھتا !



اب میرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو !
اس سے پہلے بھی میرا نصف بدن کاٹ چکی ہے
اسی بندوق کی نالی ہے میری سمت کہ جو !
اس سے پہلے بھی میری شہہ رگ کا لہو چاٹ چکی ہے

پھر وہی آگ در آئی ہے میری گلیوں میں !
پھر میرے شہر میں بارود کی بو پھیلی ہے
پھر سے تو کون ، میں کون ہوں ؟ آپس میں سوال
پھر وہی سوچ میان و من تو پھیلی ہے

میرے بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کسی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے !
میرے سینے میں صدا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار، تذبذب کی فضاء
پھر ہوئیں عام وہی اہل ریا کی باتیں
نعرہ حب وطن مال تجارت کی طرح
جنسِ ارزاں کی طرح خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی
صبح وحژت کی طرح ، شامِ غریباں کی طرح
اس سے پہلے بھی تو پیمان وفا ٹوٹے تھے
شیشہء دل کی طرح ، آئینہ جاں کی طرح

پھر کہاں احمریں ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئیے
پھر کہاں شبنمی چہروں پہ رفاقت کی روا !
صندلیں پیروں سے مستانہ روی روٹھ گئی
مرمریں ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگارِ حنا

دل نشین آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا
شاخِ بازو کے لیے زلف کا بادل رویا
مثلِ پیراہن گل ، پھر سے بدن چاک ہوئے
جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر

اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دو نیم
نوک دشنہ سے کھنچی تھی میری دھرتی پہ لکیر
ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا !
میرے سوختہ جانو ، میرے پیارے لوگو !

اب کہ گر زلزلے آئے تو قیامت ہو گی
میرے دلگیر ، میرے درد کے مارے لوگو
کسی غاصب کسی ظالم کسی قاتل کے لیے
خود کو تقسیم نہ کرنا میرے پیارے لوگو

وسلام
 
سیدھا سیدھا بھارت ملوث ہے۔ بھارت کے حکمرانوں سمیت ان کے عام لوگوں کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں۔ سونیا گاندھی کا بیان کہ ہم بدلہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نجانے ہمارے حکمران بھارت کا نام لینے سے کیوں خوفزدہ ہیں؟ اب بچا ہی کیا ہے جو اب بھی بھارت کے ساتھ معاملات سدھرنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں جب کہ وہ ہنوز پاکستان کو ’’دہشت گرد ملک ‘‘ ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہا ہے۔ بھارت کا لاہور کے واقعے پر رد عمل دیکھ لیں۔

ہندوستان نے لاہور میں سری لنکا کے کرکٹرز پر شدت پسندوں کے حملے کو انتہائی تکلیف دہ قرارد دیا ہے۔وزیر خارجہ پرنب مکھر جی نے کہا ہے کہ یہ واقعہ اس بھیانک خطرے کا عکاس ہے جو پاکستان میں موجود منظم دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے در پیش ہے جو مسلسل اس طرح کی خونریزی کر رہی ہیں۔مسٹر مکھرجی نے کہا کہ ممبئی حملہ ہو یا لاہور میں کرکٹرز پر حملہ ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب تک پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کے ڈھانچے کو تباہ نہیں کیا جاتا اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو سزائیں نہیں دی جاتیں تب تک اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔’ ہم ایک بار پھر پاکستانی حکام اور سبھی متعلقہ لوگوں سے درخواست کریں گے کہ وہ اس مسئلے سے بین الاقوامی برادری کی توجہ دوسری طرف نہ ہٹائے اور اس مسلے کا موثر طریقے سے سامنا کرے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ آج دہشت گردی کسی ایک مخصوص جغرافیائی خطے تک محدود نہیں ہے۔ دہشت گردی آج امن عالم اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔’ لاہور حملہ بین الاقوامی دہشت گردی کا حصہ ہے اس لیے عالمی برادی کو بھی اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا‘۔خارجی امور کے وزیر مملکت آنند شرما نے کرکٹرز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک بار پھر یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے اندر جو دہشت گرد تنظیمیں ہیں وہ ایک گمبھیر چیلنج ہیں۔’ وہ نہ صرف اس خطے کے لیے، یہاں کے امن کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں‘۔سری لنکا کے عوام اور کرکٹرز کے ساتھ اتحاد کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ ہندوستان کی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ اس حقیقت کے پیش نطر ایک شعوری فیصلہ تھا کہ وہاں دہشت گرد تنطیمیں آزادی کے ساتھ سرگرم ہیں اور’ ہم اپنی ٹیم کی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے تھے۔‘’ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ ایک مشکل فیصلہ تھا کیوں کہ ہندوستان دونوں ملکوں کے درمیان رابطے میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا۔‘ملک کی سیاسی جماعتوں نے بھی کرکٹرز پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
بی بی سی اردو
 
حملے کا عینی شاہد ڈرائیور خلیل

’’میں پہلے یہی سمجھا جیسے آتش بازی ہورہی ہے۔ ایک دم سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ تب پتہ چلا میرے بالکل سامنے سے سفید کلر کی گاڑی سے ایک بندہ نکلا اور اس نے ڈائریکٹ فائرنگ شروع کردی۔ پھر میں نے سمجھا یہ تو حملہ ہوگیا ہے۔‘‘
یہ الفاظ ہے بس ڈرائیور خلیل کے۔ سری لنکا کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی جس بس میں سوار تھے اُسے خلیل چلا رہا تھا۔ خلیل لاہور میں پیش آنے والے واقعے کا عینی شاہد ہے۔ خلیل نے ہمارے اسپورٹس نمائندے طارق سعید کو بتایا کہ یہ حملہ کب اور کیسے ہوا؟
’’فائرنگ شروع ہوتے ہی گاڑی میں سوار تمام کھلاڑی اندر ہی لیٹ گئے۔ چیخ و پکار شروع ہوگئی۔ اتنی دیر میں پیچھے سے ایک راکٹ بھی آیا، وہ راکٹ نشانے پر نہیں لگا، وہ سیدھا زمین پر جاکے لگا۔ پھر زوردار دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد میری گاڑی کے سامنے ایک اور بندہ آگیا اور اس نے ھینڈ گرینیڈ پکڑا ہوا تھا، اُچھالا میری طرف، خدا کی قدرت کہ وہ نیچے گر گیا اور گاڑی کو نہیں لگا۔‘‘

خلیل نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ وہ کسی طرح گاڑی کو جائے وقوع سے دور لے جانے میں کامیاب ہوا۔ ڈرائیور خلیل کے مطابق حملہ آوروں کی عمریں بیس تا پچیس سال کے بیچ میں تھیں۔ ’’بہت ’ینگ‘ تھے۔‘‘

خلیل نے بتایا کہ پولیس اور کمانڈوز کے جوانوں نے حملہ آوروں پر جوابی حملہ کیا لیکن یہ حملہ اتنا حیران کردینے والا تھا کہ پہلے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔
ڈوئچے ویلے، شعبہ اُردو، بون
 
'یہ ہمارا ممبئی ہے'

محمد حنیف کا بلاگ از بی بی سی اردو ڈاٹ کام
عمران خان نے کچھ عرصہ پہلے ایک آسٹریلوی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں شدت پسند کرکٹ میچوں یا کرکٹرز کو کبھی نشانہ نہیں بنائیں گے کیونکہ پاکستانی کرکٹ کے دیوانے ہیں۔
یہ نہیں معلوم کے انہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ شدت پسند عوامی جذبات کا احترام کرتے ہیں یا پھر شاید انہیں امید ہو کہ چونکہ اب ہماری ٹیم کے کچھ کھلاڑی پنج وقتہ نمازی ہیں اور کچھ ہر بال کو فیس کرنے سے پہلے درود شریف کا ورد کرتے ہیں اس لیے شدت پسند انہیں اپنا مومن بھائی سمجھتے ہوئے معاف کردیں گے۔
ہوسکتا ہے عمران خان کا خیال ہو کہ شدت پسند، یا دہشت گرد یا طالبان یا مجاہدین (تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے دیوانے کا نام) ان کے خیالات عالیہ سننے کے بعد کم از کم اس ٹیم پر تو حملہ نہیں کریں جو دنیا کی وہ واحد بہادر اور بھائی چارہ دکھانے والی ٹیم ہے جس نے پاکستان آنے کی ہمت کی۔
عمران خان کی نیت صاف لیکن تجزیہ غلط۔
کیوں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر شدت پسندوں نے کسی کرکٹر پر حملہ کیا تو انہیں انتہائی سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اے کاش۔
پاکستان کے لوگوں کو کرکٹ کے علاوہ بھی کئی شوق ہیں۔ انہیں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا شوق ہے، فلمیں دیکھنے اور گانے سننے کا شوق ہے اور شادی بیاہ کے موقع پر تھوڑا رقص بھی کر لیتے ہیں یا دوسروں کو کرتا دیکھ کر خوش ہو لیتے ہیں۔
سوات میں ڈھائی سو سکول تباہ کیے گئے، کسی شہر کی سڑکوں پر جلوس نہیں نکلا۔ صرف منگورہ میں پانچ سو سے زائد سی ڈی اور ڈی وی ڈی کی دکانیں بند کروادی گئیں، عوام نے کوئی ردعمل نہیں دکھائے۔ منگورہ کے چوک میں لا کر شادی بیاہ پر رقص کر کے روزی کمانے والی شبانہ کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا، ردعمل صرف یہ ہوا کہ منگورہ کی خواتین نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔
عمران خان، قاضی حسین احمد اور حمید گل کے منہ پر شبانہ کا نام اسلیے نہیں آیا کیونکہ اس سے ان کا وضو ٹوٹ سکتا ہے۔
لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں ہمارے ٹی وی چینل والوں نے پٹی چلادی ہے کہ یہ 'ہمارا ممبئی ہے'، ٹی وی سکرین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دکھایا گیا ہے کہ ممبئی کے حملہ آورں کی طرح لاہور کے حملہ آوروں نے بھی سنیکر پہنے تھے، کندھوں پر بیک پیک اٹھائے تھے اور گھوم پھر بھی اسی طرح رہے تھے اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حملے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ لیکن ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ہم نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ممبئی پر حملہ کرنے والوں میں سے کچھ پاکستان سے گئے تھے؟
 

زینب

محفلین
زینب بہن سائیں غوث علی شاہ جو ن لیگ کا سرکردہ لیڈر ہے وہ بھی تو سندھ کا ہے۔


ظہور بھائی میں نے‌خود کو کبھی صرف پنجابی نہیں کہا اپ میرے سات ہزار پیغامات اٹھا کے دیکھ لو کہیں میں نے صوبایئت کی با ت کی ہو ،،،،میں‌ہمیشہ جتنا درد کسی سندھی کا محسوس کرتی ہوں اتنی ہی تکلیف مجھے سرحد کے لوگوں پے ہوتی ہے ۔۔میں آپ کو بتاوں کہ یہاں ایک مارکیٹ‌ہے جو کہ صرف پٹھانوں‌کی ہے کپڑے کی بہت بڑی مارکیٹ‌ہے مجھے سے کبھی کوئی پوچھے کہاں سے لیے کپڑے وغیرہ تو میں‌کہتی ہوں "اپنے پٹھان بھایئوں سے"،،،پر ہمت علی ایسی ایسی جلانے ولای باتیں کرتے ہین کہ مجھ سے چپ نہیں رہا جاتا بس۔۔۔اپ سے صرف اتنا کہوں‌گی کہ میں صرف ایک پاکستانی ہوں اور پورا پاکستان میرا گھر ہے
 

فہیم

لائبریرین
ظہور بھائی میں نے‌خود کو کبھی صرف پنجابی نہیں کہا اپ میرے سات ہزار پیغامات اٹھا کے دیکھ لو کہیں میں نے صوبایئت کی با ت کی ہو ،،،،میں‌ہمیشہ جتنا درد کسی سندھی کا محسوس کرتی ہوں اتنی ہی تکلیف مجھے سرحد کے لوگوں پے ہوتی ہے ۔۔میں آپ کو بتاوں کہ یہاں ایک مارکیٹ‌ہے جو کہ صرف پٹھانوں‌کی ہے کپڑے کی بہت بڑی مارکیٹ‌ہے مجھے سے کبھی کوئی پوچھے کہاں سے لیے کپڑے وغیرہ تو میں‌کہتی ہوں "اپنے پٹھان بھایئوں سے"،،،پر ہمت علی ایسی ایسی جلانے ولای باتیں کرتے ہین کہ مجھ سے چپ نہیں رہا جاتا بس۔۔۔اپ سے صرف اتنا کہوں‌گی کہ میں صرف ایک پاکستانی ہوں اور پورا پاکستان میرا گھر ہے

:applause: :applause: :applause:
بہت خوب۔
 

زینب

محفلین
حملہ آوروں میں ایک پشتو بول رہا تھا اور دوسرا اردو بول رہا تھا،
بشکریہ سیربین۔ بی بی سی ریڈیو۔

پشتو تو لازمی بولنے والا ہو گا اور کوئی ہو نا ہو۔سوات معاہدہ جو ختم کروانا تھا جو اج ختم ہو بھی گیا ہے :mad: جس معاہدے پے سب سے زیادہ تکلیف انڈیا کو تھی
 

آبی ٹوکول

محفلین
محمد حنیف کا بلاگ از بی بی سی اردو ڈاٹ کام
عمران خان نے کچھ عرصہ پہلے ایک آسٹریلوی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں شدت پسند کرکٹ میچوں یا کرکٹرز کو کبھی نشانہ نہیں بنائیں گے کیونکہ پاکستانی کرکٹ کے دیوانے ہیں۔
عمران خان نے جس تناظر میں بات کی تھی وہ یہ تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کہ جو عوامل کار فرما ہیں یعنی نام نہاد امریکی جنگ جو کہ دہشت گردی کہ نام پرلڑی جارہی ہے اور اس کہ نتیجے میں بطور رد عمل پیدا ہونے والے جو عوامل ہیں وہ کبھی بھی اس طرح کی حرکت نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا اس میں کوئی بھی مفاد نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
 

شاہ حسین

محفلین
پنجابیوں نے پہلے تو ملک توڑا ۔ جو لوگ پنجاب میں گورنر راج کی بات کرتے ہیں وہ بھول گئے سندھ میں نواز شریف کا گورنر راج ۔ نواز شریف اہلیت کیس ؟؟؟؟ یا اچھے بچّوں کی فرما برداری ۔ ق لیگ ۔۔ مشرّف

سندھ نے ہمیشہ غدّاروں کا ساتھ دیا کبھی پی پی کبھی ایم کیو ایم الطاف حسین کے حالیہ بیان کو ہی دیکھ لین '' حملہ آور پاکستانی تھے" حالانکہ سب جانتے ہیں وہ سب امریکی تھے ۔زرداری نے بی بی کو مروا دیا اور غدّاری کا مرتکب ہوا ۔

صوبہ سرحد کے عوام جتنے بھی پشتو بولنے والے سب طالبان ہیں اور طالبان محب وطن نہیں ۔ ایم ۔ ایم اے کی حکومت جس طرح سے وجود میں آئی تھی سب جانتے ہیں- حا لانکہ صرف قاضی صاحب کچھ مہینے پہلے حکومت سے الگ ہو گئے تھے یا یہ کہہ سکتے ہیں کھانا کھانے کی بعد میٹھا کھانے چل پڑے
کچھ بھی کہہ لیں بس امن پسند لوگ نہیں ہیں چاہے گھر میں کتنی ہی میّتیں کیوں نہ پڑی ہوں۔ اے۔ این ۔پی ۔۔۔ ڈیل

بلوچستان والے عرصہ دراز سے قوم پرسی میں مبتلا ہیں گوادر میں جو لوگ مستقل رہائش اختیار کرنا چاہیں حقِ رائے دہی سے محروم رہیں گے ۔
ہمیشہ انڈیا کی گود میں بیٹھے رہیں گے اور انڈیا اپنے مفاد کے لییے ان کو استمال کر رہا ہے ۔

جئے ہند لکھ دوں ۔ ؟

سری لنکا کی ٹیم پر حملہ قابل مذمّت ہے
 

زینب

محفلین
پنجابیوں نے ملک نہیں توڑا۔۔مشرف نے تو اب بھی غداری اور الطاف کو نااہلیت کیس کے بعد مبارک کے لیے فون کیا ہے

سندھ کے لوگ غدار نہیں ہاں ۔۔ہاں سندھ کی عوام کے لیڈر غداری اور الطاف جیسے غدار ضرور ہیں

سرحد کے پشتو بولنے والے طالبان نہیں ہیئں انڈیا نے 16 کونسلیٹ بنائے ہیں افغانستان میں وہاں سے وہ را کے ایجنٹ بھیجتا ہے جس سے ہماری آرمی لڑ رہی ہے کچھ لوگ ہین جو انڈیا امیریکہ کے ہاتھوں میں‌کھیل رہے ہیں

بلوچستان میں بگٹی کا خاندان پشت در پشت انڈیا کے ہاتھوں بکا ہوا تھا اب بھی اسی کے بھائی بیٹے انڈیا سے پیسا لے کے لڑ رہے ہیں۔۔۔”



شاہ صاحب عام سے لوگ نا تو سندھی ہیں نا پنجابی نا بلوچی نا پٹھان ہم صرف پاکستانی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اپ نے نہیں دیکھا جہاں بات پاکستان کی آئے چند غداروں‌کے علاوہ ساری قوم ایک ہو جاتی ہے اپ لیڈروں کی بات کریں نا عام سے لوگں کی نہیں
 

زینب

محفلین
ویسے کل جب ساری قوم دکھ کی کیفیت میں تھی جب پوری دنیا میں پاکستان کی ایک بار پھر سے انتہائی غلط امیج سامنے ائی اسی وقت ہمارے محب وطن وزیراعغم نے اراکین پارلیمنٹ‌کی اعزاز میں ڈنر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔کل رات کو پارٹیاں منائی جا رہیئں تھیں اسلام آباد میں قوم جائے بھاڑ میں
 

مہوش علی

لائبریرین
محمد حنیف کا بلاگ از بی بی سی اردو ڈاٹ کام
عمران خان نے کچھ عرصہ پہلے ایک آسٹریلوی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں شدت پسند کرکٹ میچوں یا کرکٹرز کو کبھی نشانہ نہیں بنائیں گے کیونکہ پاکستانی کرکٹ کے دیوانے ہیں۔
یہ نہیں معلوم کے انہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ شدت پسند عوامی جذبات کا احترام کرتے ہیں یا پھر شاید انہیں امید ہو کہ چونکہ اب ہماری ٹیم کے کچھ کھلاڑی پنج وقتہ نمازی ہیں اور کچھ ہر بال کو فیس کرنے سے پہلے درود شریف کا ورد کرتے ہیں اس لیے شدت پسند انہیں اپنا مومن بھائی سمجھتے ہوئے معاف کردیں گے۔
ہوسکتا ہے عمران خان کا خیال ہو کہ شدت پسند، یا دہشت گرد یا طالبان یا مجاہدین (تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے دیوانے کا نام) ان کے خیالات عالیہ سننے کے بعد کم از کم اس ٹیم پر تو حملہ نہیں کریں جو دنیا کی وہ واحد بہادر اور بھائی چارہ دکھانے والی ٹیم ہے جس نے پاکستان آنے کی ہمت کی۔
عمران خان کی نیت صاف لیکن تجزیہ غلط۔
کیوں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر شدت پسندوں نے کسی کرکٹر پر حملہ کیا تو انہیں انتہائی سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اے کاش۔
پاکستان کے لوگوں کو کرکٹ کے علاوہ بھی کئی شوق ہیں۔ انہیں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا شوق ہے، فلمیں دیکھنے اور گانے سننے کا شوق ہے اور شادی بیاہ کے موقع پر تھوڑا رقص بھی کر لیتے ہیں یا دوسروں کو کرتا دیکھ کر خوش ہو لیتے ہیں۔
سوات میں ڈھائی سو سکول تباہ کیے گئے، کسی شہر کی سڑکوں پر جلوس نہیں نکلا۔ صرف منگورہ میں پانچ سو سے زائد سی ڈی اور ڈی وی ڈی کی دکانیں بند کروادی گئیں، عوام نے کوئی ردعمل نہیں دکھائے۔ منگورہ کے چوک میں لا کر شادی بیاہ پر رقص کر کے روزی کمانے والی شبانہ کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا، ردعمل صرف یہ ہوا کہ منگورہ کی خواتین نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔
عمران خان، قاضی حسین احمد اور حمید گل کے منہ پر شبانہ کا نام اسلیے نہیں آیا کیونکہ اس سے ان کا وضو ٹوٹ سکتا ہے۔
لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں ہمارے ٹی وی چینل والوں نے پٹی چلادی ہے کہ یہ 'ہمارا ممبئی ہے'، ٹی وی سکرین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دکھایا گیا ہے کہ ممبئی کے حملہ آورں کی طرح لاہور کے حملہ آوروں نے بھی سنیکر پہنے تھے، کندھوں پر بیک پیک اٹھائے تھے اور گھوم پھر بھی اسی طرح رہے تھے اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حملے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ لیکن ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ہم نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ممبئی پر حملہ کرنے والوں میں سے کچھ پاکستان سے گئے تھے؟


ہماری عوام انتہا درجہ کے بے حس ہے۔
اس عوام سے بڑے درجے کا بے حس و بے غیرت ہمارا میڈیا ہے۔
اور لیڈران کی تو بات ہی نہیں کرتی [جامعہ حفصہ سے لیکر پاک جوان کے سوات و فاٹا میں مسلسل قتل عام تک، اور کوئٹہ سے لیکر ہنگو و پارہ چنار میں محاصرے و قتل عام تک قاضی حسین احمد اور عمران خان کی زبانوں سے مذمت کے الفاظ نکل جانے سے واقعی انکے وضو ٹوٹ جانے کا ڈر تھا]

سری لنکن ٹیم پر قاتلانہ حملے کا بھی یہ قوم ایسے ہی حشر کرے گی جیسا کہ اس سے قبل فاٹا میں دیگر غیر ملکیوں کے قتل و اغوا پر کیا ہے۔ میڈیا میں موجود حامد میر اور جنرل حمید گل جیسے لوگ پھر سے وہی سلوک کریں گے جو اس سے قبل غیر ملکیوں کے فاٹا میں قتل یا اسلام آباد ہوٹل بلاسٹ میں کرتے رہے ہیں [۔۔۔ یعنی پورا الزام مذہبی Fanatics سے ہٹا کر انڈیا پر ڈال دینا]
 

طالوت

محفلین
[۔۔۔ یعنی پورا الزام مذہبی fanatics سے ہٹا کر انڈیا پر ڈال دینا]

ہمیں دشمنوں کی کیا ضرورت بھلا ؟ اور ویسے بھی عمران ، قاضی یا کسی دوسرے کے بیان کی اوقات ہی کیا ہے ؟ اصل بیانات تو حکومت کے ہوتے ہیں ، اور وہ خیر سے آپ کی ہم خیال ہے ۔۔ آپ لوگ ہندوستانی شہریت کی درخواست کیوں نہیں دے دیتے ؟ (برا تو لگے گا مگر آپ کے باربار کے خالی ڈھول سن سن کر کہنا پڑا)
وسلام
 

زینب

محفلین
دی تو تھی درخواست بھتہ کھانے والے نے۔۔۔۔۔۔۔

ویسے قاضی یا عمران کا تو وضو ٹوٹتا ہو گا پر بھتہ لینے والے کا نہیں ٹوٹا جس نے حملوں‌کے بعد اگلے 5 منٹ‌میں کہہ دیا تھا کہ یہ دہشتگردپاکستانی ہیں اور پاکستان میں ہی ہیں۔ہائے رے محب الوطنی میں صدقے جاواں
 

مہوش علی

لائبریرین
عمران خان نے جس تناظر میں بات کی تھی وہ یہ تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کہ جو عوامل کار فرما ہیں یعنی نام نہاد امریکی جنگ جو کہ دہشت گردی کہ نام پرلڑی جارہی ہے اور اس کہ نتیجے میں بطور رد عمل پیدا ہونے والے جو عوامل ہیں وہ کبھی بھی اس طرح کی حرکت نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا اس میں کوئی بھی مفاد نہیں ۔ ۔ ۔ ۔

عمران خان کا دماغ خراب ہے جو ابھی تک طالبانی فتنوں کو فرشتوں کی طرح معصوم سمجھ رہا ہے۔ اسکا دماغ تو اُس وقت بھی ٹھکانے نہیں آیا جب یہ چینی انجینئرز اور دیگر غیر ملکیوں کو اغوا کر کے قتل کر رہے تھے۔

عقلمند کے لیے اشارہ کافی،۔۔۔۔ مگر عمران خان اشاروں کو سمجھنے والا ہوتا تو اُسے پنجاب یونیورسٹی میں لاتوں و گھونسوں کا شاید سامنا نہ کرنا پڑتا اور وہ پہلے ہی سمجھ جاتا کہ قاضی صاحب کی گود میں مسلسل بیٹھے رہنے کے باوجود اگر پنجاب یونورسٹی میں اس نے کوئی سیاسی سرگرمی دکھائی تو یونیورسٹی کا ماحول یہ ہے کہ جمیعت ایسی تمام پارٹیوں کو لاتوں و گھونسوں سے پیٹتی ہے۔
 

زینب

محفلین
چلو عمران خان تو ہمت والا مرد ہے جی جان سے دلیری سے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتا ہے بھتہ لینے والے جیسا تو نہیں چھپ کے ملک سے باہر بیٹھا ہوا اپنے دور حکومت میں بھی پلٹ کے آنے کی ہمت نہیں ہوئی شاید ملواری لاتوں گھونسو کی مار سہنے کے قابل نہیں
 
’حملہ آوروں کو قریب سےدیکھا‘
سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی عمریں بیس سے پچیس برس سے زیادہ نہیں ہیں اور ان میں پشتو بولنے والے بھی شامل تھے۔

لبرٹی چوک لاہور کا ایک پررونق علاقہ ہے اور یہاں دن ہو یا رات ہر وقت گہما گہمی رہتی ہے۔اس علاقے میں جہاں گھروں کے شہر کی بڑی مارکیٹ اور نجی اداروں کے دفاتر ہیں۔
محمد زاہد
لبرٹی چوک کے بالکل قریب ایک پلازہ میں رہائش رکھنے والے محمد زاہد نے اپنے گھر کی کھڑی سے یہ واقعہ دیکھا اور ان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے مسلسل پندرہ منٹ تک فائرنگ کی اور بقول ان کے اس فائرنگ کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے پاکستان اور بھارت میں جنگ ہورہی ہو۔ انہوں نے یہ بتایا کہ حملے آور بھاگتے ہوئے فائرنگ کر رہے تھے۔
حاجی فضل رحمان
حاجی فضل رحمان ایک ویگن ڈرائیور ہیں۔ فائرنگ کے وقت وہ لبرٹی چوک سے گزر رہے تھے اور ان کی وین بھی فائرنگ کی زد میں آگئی ہے تاہم وہ خود اس واقعہ میں محفوط رہے۔ حاجی فضل بتاتے ہیں وہ جب قذافی سٹیڈیم سے لبرٹی چوک کی طرف آرہے تھے تو انہوں نے فائرنگ کی آواز سنی اور جب وہ چوک پر پہنچے تو انہوں نے وہاں پر پولیسوں والوں کو زخمی دیکھا۔

ان کے بقول چوک کے ساتھ بغلی گلی میں داخل ہوئے تو وہاں پر بھی کمانڈوز جیسے وردی پہنے دو لڑکے کھڑے تھے اور انہوں نے گاڑی کو گلی میں داخلی سے روکنے کے لیے فائرنگ کردی جس سے ایک گولی وین میں لگی جس سے اس کا سامنے شیشہ ٹوٹ گیا۔حاجی کا کہنا ہے وہ تیزی سے اپنی وین کو اس گلی سے دور لے گئے۔
آصف محمود
آصف محمود اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے کے بعد ناشتہ لینے کے لیے لبرٹی مارکیٹ جا رہے تھے جب ان کا سامنا حملوں آور سے ہوا اور ان کا کہنا ہے کہ لبرٹی چوک کے قریب حملوآوروں اور ان کی گاڑیاں اس قدر قریب آگئی جس کی وجہ سے ان کی گاڑی کا سائیڈ کا شیشہ حملہ آور کی گاڑی کے شیشے ٹکرایا ۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک نے انہیں گالیاں دیں جبکہ دوسرا پشتو میں بات کررہا تھا۔
عثمان
نوجوان عثمان ان لوگوں میں سے ایک ہیں جہنوں نے حملہ آوروں کو فائرنگ کرتے دیکھا۔ وہ واقعہ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ اپنی بہن کےساتھ موٹرسائیکل پر جارہے تھے جب انہوں نے فائرنگ کی آواز سنی اور پھر انہیں چار نوجوان فائرنگ کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ چار حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کررہے تھے اور اس طرح کرتے ہوئے وہ موقع سے فرار ہوگئے۔

اصل ربط
 

AHsadiqi

محفلین
:sad2:اناللہ وانا الیہ راجعون
کل میں سارادن نیٹ پر نہیں آسکا اس افسوس ناک خبر کا مجھے اس پردیس میں آج پتا چلا پتہ نہیں کیوں میری آنکھوں میں آنسو آرہے ہیں
جبکہ ہمیں تو اب تک بے حس ہو جانا چاہئے ہم تو ہر افسوس ناک سانحہ پر ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں دشمن کو تو ہم پہچانتے ہی نہیں ہیں کون ہمارا دشمن ہے ہم تو قائد اعظم محمد علی جناح کو بھول چکے ہیں ہم تو اقبال کے تصورات کو بھول چکے ہیں ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ تقسیم کے وقت کتنی جانوں کا نذرانہ دیا تو آزادی ملی ہم تو ہندو بنیا کی سازش کو بھول چکے ہمیں تو اب (معذرت کے ساتھ )کتوں کی طرح ایک دوسرے کو بھنبوڑنا ہے ایک دوسرے کو کاٹ کاٹ کر مرجائیں گے ہمارے دشمن کہہ رہے کہ پاکستان کا وجودچند سال بعد نہیں رہے گا میں بلوچستان میں جاوں تو میرے بلوچی بھائی کہتے ہیں کہ پنجاب والے ہمیں کھا رہے ہیں سندھی بھائی کہتے ہیں پنجاب والے ہمیں کھارہے ہیں سرحد کے پٹھان بھائی کہتے ہیں ہمیں پنجاب والے مار رہے ہیں ہمیں تو اب ڈوب مرنا چاہئے ہم کس کو اپنا رہبر و راہنما بنائیں یہاں تو ہر کو ئی رہزن نظر آتا ہے متاسفانہ کو ئی بھی تو نہیں جو آج قائدانہ صلاحیتوں کو رکھتا ہو اقبال نے فرمایا
نگہ بلندسخن دلنواز جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
کیا آج ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں کیا کو ئی ایک بندہ ملتا ہے جو ایسی صلاحیتیں رکھتا ہو
قحط الرجال ہو گیا ہے یا یہ مٹی زرخیز نہیں ہے
میرے خیال میں میں غلطی پر ہوں ورنہ ہماری مٹی بنجر نہیں ہے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
آخر میں یہ کہتا ہوں کہ کاش ہم سب محفل ممبران اپنی اپنی پارٹیوں کی حمایت کی بجائے خود کو اس قابل بنائیں کے اقبال کی بتائی ہوئی صلاحیتیں اپنے اندر پیدا کرکے اس قوم کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو منجدھار سے نکال کر ساحل تک لگا سکیں
والسلام
 

مہوش علی

لائبریرین
ہمیں دشمنوں کی کیا ضرورت بھلا ؟ اور ویسے بھی عمران ، قاضی یا کسی دوسرے کے بیان کی اوقات ہی کیا ہے ؟ اصل بیانات تو حکومت کے ہوتے ہیں ، اور وہ خیر سے آپ کی ہم خیال ہے ۔۔ آپ لوگ ہندوستانی شہریت کی درخواست کیوں نہیں دے دیتے ؟ (برا تو لگے گا مگر آپ کے باربار کے خالی ڈھول سن سن کر کہنا پڑا)
وسلام

بار بار کے خالی ڈھول وہ ہیں کہ جن کی تال پر ٹاپتے ٹاپتے اور مذہبی جنونیوں کے ہر جرم پر "را" "را" الاپتے الاپتے ابتک ہزاروں معصوم خاک و خون میں لت پت ہو چکے ہیں ۔۔۔ بے حس و مردہ لوگ ۔۔۔ ہزاروں معصوموں کے بالواسطہ قاتل
جو چپ رہے گی زبان خنجر
لہو پکارے گا آستیں کا
کیا حقیقت سن کر بُرا لگا؟ [معذرت، مگر آپکی پوسٹ اتنی سخت ہو گئی تھی کہ جوابا مجھے بھی حقیقت بغیر لگی لپٹی کے دکھانی پڑی]
 
Top