ابولکلام آزاد کی نظر میں مسٹرجناح بحیثیت ایک فرقہ پرست

علی وقار

محفلین
قائداعظم کی 1938 کی امریکی ریڈیو پر تقریر (6 منٹ کے بعد والے حصے کو نظر انداز کر دیں,، اس کا تقریر سے کوئی تعلق نہیں)


اس تقریر کو سننے کے بعد یہاں پر پھیلائے گئے جھوٹ کی قلعی کھل جائے گی کہ قائداعظم کو آزادی سے دلچسپی نہیں تھی۔ جبکہ قائداعظم، نہ صرف انگریزوں بلکہ ہندووں سے بھی آزادی چاہتے تھے۔
عمدہ شراکت۔
 

محمد وارث

لائبریرین
جمہوریت میں اکثریت حکومت بناتی ہے۔

لیگ کی سادہ اکثریت نہیں تھی کہ وہ حکومت بنا سکے۔ ایسے میں کانگریس اور دیگر جماعتوں کو حق تھا کہ جمہوری طریقے پر مل کر حکومت بنائیں۔ حکومتیں اسی لیے بنائی جاتی ہیں کہ خون نہ بہے۔ جمہوریت اسی لیے اختیار کی جاتی ہے کہ قتل اور انارکی کا بازار گرم نہ ہو۔ لیکن مسلم لیگ کے غیر جمہوری طریقوں سے پنجاب خون سے رنگ گیا۔ نہ صرف تقسیم سے پہلے بلکہ تقسیم ہند کے بعد بھی سب سے زیادہ پنجاب میں قتل عام ہوا اور خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ سکھوں کی اکالی پارٹی لیگ کی رویے سے سخت ناراض تھی۔

کیا 2 مارچ 1947 کو مسٹر خضر حیات ٹوانا کی چیف منسٹر کے عہدہ سے جبری رخصت کی ذمہ داری مسلم لیگ کی خونی سول نافرمانی کی تحریک پر نہیں؟ کیا جو گورنر راج لگا اور جو خون بہا اسکی ذمہ داری مسٹر جناح اور لیاقت علی خان پر نہیں؟ لیگ کی سادہ اکثریت نہیں تھی سو اب جو اکثریت میں تھے ان کی رائے کو قبول کرنا ہی جمہوریت اور خون خرابے سے بچنے کا طریقہ تھا۔
کانگریس کی مخلوط حکومت کو میں نے غیر جمہوری نہیں کہا، آپ میرے پچھلے مراسلے دیکھ لیں۔ غیر اخلاقی ضرور کہا تھا۔

باقی رہی "خون کی ندیاں" تو یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی آپ نے بنا ڈالی، یا ہمیشہ سے کانگریسی اور پرو کانگریسی بناتے رہے ہیں۔ ہندوستان میں فسادات اور خونہ خرابہ ایک صدیوں پرانا مسئلہ ہے اور اس میں شمال مغرب سے آنے والے مسلمان حمہ آوروں کا بھی بہت ہاتھ رہا ہے۔ اور 1947ء کے تقسیم کے قتل و غارت میں سب سے بڑا ہاتھ نہرو کے "دوست" ماؤنٹ بیٹن کا ہے، سٹنلے وولپرٹ کی Shameful Flight پڑھ لیں، یہ مصنف نہ لیگی ہے نہ کانگریسی!
 

جاسم محمد

محفلین
اور 1947ء کے تقسیم کے قتل و غارت میں سب سے بڑا ہاتھ نہرو کے "دوست" ماؤنٹ بیٹن کا ہے
نہرو کا ماؤنٹ بیٹن ہی نہیں اسکی بیگم کیساتھ بھی بہت قریبی دوستانہ تعلق تھا۔
edwina.jpg

 

محمد وارث

لائبریرین
نہرو کا ماؤنٹ بیٹن ہی نہیں اسکی بیگم کیساتھ بھی بہت قریبی دوستانہ تعلق تھا۔
edwina.jpg

جاسم صاحب کچھ چیزوں کو بین الواوین اور بین السطور بھی پڑھ لیتے ہیں۔:)
 

علی وقار

محفلین
نہرو کا ماؤنٹ بیٹن ہی نہیں اسکی بیگم کیساتھ بھی بہت قریبی دوستانہ تعلق تھا۔
edwina.jpg

جاسم صاحب کچھ چیزوں کو بین الواوین اور بین السطور بھی پڑھ لیتے ہیں۔:)
یہاں کچھ نہیں، اکثر کا لفظ زیادہ بہتر لگتا۔ آپ رعایت کر گئے۔
 

سید رافع

محفلین
Stanley Wulpert کی کتاب Jinnah of Pakistan اس معاملے میں پڑھنے کے لائق کتاب ہے۔

سٹنلے وولپرٹ کی Shameful Flight پڑھ لیں، یہ مصنف نہ لیگی ہے نہ کانگریسی!

تاریخ دان ہزاروں شواہد کی روشنی میں صحیح بات کو تلاش کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔ اس میں وہ کس حد تک غیر جانبدار رہے اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔ سٹنلے وولپرٹ ایک رشین یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انکی کتاب Jinnah of Pakistan تاریخ سے زیادہ ایک اظہار عقیدت ہے جو انکے یہودی پس منظر میں اس کتاب کو اور مشکوک بنا دیتی ہے۔ Shameful Flight کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ وہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ماونٹ بیٹن اور انگریز حکومت سانحہ تقسیم ہند کی ذمہ دار ہے۔ سٹنلے وولپرٹ غیر جانبدار نہیں ہیں۔

مسلم لیگ کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ:

مسلم لیگ فیوڈل راجاوں اور لینڈ لارڈ پر مشتمل تھی اور ان میں جناح کے علاوہ کوئی بھی قومی سطح کا لیڈر نہ تھا۔

میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ محض ایک ٹولہ تھا جو کسی نظریے سے سچا نہیں تھا چہ جائکہ قرآن جیسے بلند نظریے سے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی فکر کا نتیجہ ہندوستان میں فرقہ واریت، تقسیم ہند کے دوران قتل و غارت اور قیام پاکستان کے بعد سے آج تک انارکی اور شدت پسندی کی صورت میں نکلا ہے۔

مسٹر جناح کی اقتدار کے خواہش کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ:

جناح کی پہلے انڈین وائسرائے بننے کی امید امرتسر واقعے کے بعد ہوا میں تحلیل ہو گئی۔

میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ مسٹر جناح اقتدار کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ انہوں نے اسی خواہش کے تحت ماونٹ بیٹن کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل بننےنہیں دیا جو کافی مسائل کو حل کرنے کا سبب ہو سکتا تھا۔

ہندوستان کی فرقہ واریت کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ:

برطانیہ کی بڑھتی ہوئی مایوسی دراصل انڈین سیاسی رہنماوں کی نا ختم ہونے والے جھگڑوں، مسلسل دو چند ہوتے مطالبات، اور شکر گزاری اور بھروسہ مندی کی کمی تھی۔ ان ہندوستانی رہنماوں کے بہترین برطانوی دوستوں کا بھی ان سے ایمان اٹھ گیا تھا۔

لیکن حیرت ہے کہ سٹنلے وولپرٹ اس سے نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ خون میں رنگی تقسیم ہند کے ذمہ دار ہیں تو ماونٹ بیٹن ہیں۔ وہ اپنی ہی کتاب کو بھول جاتے ہیں اور یہ بھی کہ شملہ کانفرنس، کرپس اور کیبنیٹ مشن کی ناکامی فرقہ واریت تھی جس کی علمبردار لیگ کی ناقص قیادت تھی۔

مسٹر جناح سے متعلق ماونٹ بیٹن کے خط کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ:

میں (یعنی سٹنلے وولپرٹ) کو ماونٹ بیٹن کے ایک انتہائی خفیہ خط کو پڑھنے کا موقع ملا جو انہوں نے کنگ جارج کو لکھا تھا۔ اس میں ماونٹ بیٹن نے جناح کو سائکوپیتھ لکھا تھا۔
 

علی وقار

محفلین
تاریخ دان ہزاروں شواہد کی روشنی میں صحیح بات کو تلاش کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔ اس میں وہ کس حد تک غیر جانبدار رہے اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔ سٹنلے وولپرٹ ایک رشین یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انکی کتاب Jinnah of Pakistan تاریخ سے زیادہ ایک اظہار عقیدت ہے جو انکے یہودی پس منظر میں اس کتاب کو اور مشکوک بنا دیتی ہے۔ Shameful Flight کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ وہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ماونٹ بیٹن اور انگریز حکومت سانحہ تقسیم ہند کی ذمہ دار ہے۔ سٹنلے وولپرٹ غیر جانبدار نہیں ہیں۔

مسلم لیگ کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ:

مسلم لیگ فیوڈل راجاوں اور لینڈ لارڈ پر مشتمل تھی اور ان میں جناح کے علاوہ کوئی بھی قومی سطح کا لیڈر نہ تھا۔

میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ محض ایک ٹولہ تھا جو کسی نظریے سے سچا نہیں تھا چہ جائکہ قرآن جیسے بلند نظریے سے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی فکر کا نتیجہ ہندوستان میں فرقہ واریت، تقسیم ہند کے دوران قتل و غارت اور قیام پاکستان کے بعد سے آج تک انارکی اور شدت پسندی کی صورت میں نکلا ہے۔

مسٹر جناح کی اقتدار کے خواہش کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ:

جناح کی پہلے انڈین وائسرائے بننے کی امید امرتسر واقعے کے بعد ہوا میں تحلیل ہو گئی۔

میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ مسٹر جناح اقتدار کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ انہوں نے اسی خواہش کے تحت ماونٹ بیٹن کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل بننےنہیں دیا جو کافی مسائل کو حل کرنے کا سبب ہو سکتا تھا۔

ہندوستان کی فرقہ واریت کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ:

برطانیہ کی بڑھتی ہوئی مایوسی دراصل انڈین سیاسی رہنماوں کی نا ختم ہونے والے جھگڑوں، مسلسل دو چند ہوتے مطالبات، اور شکر گزاری اور بھروسہ مندی کی کمی تھی۔ ان ہندوستانی رہنماوں کے بہترین برطانوی دوستوں کا بھی ان سے ایمان اٹھ گیا تھا۔

لیکن حیرت ہے کہ سٹنلے وولپرٹ اس سے نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ خون میں رنگی تقسیم ہند کے ذمہ دار ہیں تو ماونٹ بیٹن ہیں۔ وہ اپنی ہی کتاب کو بھول جاتے ہیں اور یہ بھی کہ شملہ کانفرنس، کرپس اور کیبنیٹ مشن کی ناکامی فرقہ واریت تھی جس کی علمبردار لیگ کی ناقص قیادت تھی۔

مسٹر جناح سے متعلق ماونٹ بیٹن کے خط کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ:

میں (یعنی سٹنلے وولپرٹ) کو ماونٹ بیٹن کے ایک انتہائی خفیہ خط کو پڑھنے کا موقع ملا جو انہوں نے کنگ جارج کو لکھا تھا۔ اس میں ماونٹ بیٹن نے جناح کو سائکوپیتھ لکھا تھا۔
رافع بھائی، آپ کا کیا خیال ہے کہ محمد علی جناح نے کانگریس یا مخالف رہنماؤں کو کبھی یہ موقع فراہم نہ کیا تھا کہ وہ متحدہ ہندوستان کی تشکیل کر پاتے؟ اگر مسٹر جناح نے کانگریسی رہنماؤں کو ایسے متعدد مواقع فراہم کیے تو پھر تقسیم ہند کی ذمہ داری کُلی طور پر جناح پر کیسے عائد کی جا سکتی ہے؟ جناح ہندوستانی سیاست کا ایک اہم کردار تھے۔ آخر وہ عوام کی ایک بڑی تعداد کی منشاء کے خلاف کیسے چل سکتے تھے؟ خیال رہے کہ وہ کسی زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے مگر بعد ازاں حالات ایسے بنتے چلے گئے کہ انہوں نے برصغیر کے دو بڑے گروہوں کے لیے دو ریاستوں کے بنائے جانے کو مناسب خیال کیا۔ میری نظر میں اصل ایشو یہ تھا کہ تقسیم ہند کے لیے مناسب ہوم ورک نہ کیا گیا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
 

سید رافع

محفلین
رافع بھائی، آپ کا کیا خیال ہے کہ محمد علی جناح نے کانگریس یا مخالف رہنماؤں کو کبھی یہ موقع فراہم نہ کیا تھا کہ وہ متحدہ ہندوستان کی تشکیل کر پاتے
شملہ کانفرنس اور کرپس مشن کی ناکامی کیوں ہوئی؟ اس سے اندازہ ہو گا کہ کیسے فرقہ واریت نے ان موقعوں کو ضایع کیا۔ پھر کیبنٹ مشن کی ناکامی اور عاضی اسمبلی کی ناکامی۔ کوئی حد ہے جناح کی فرقہ واریت کی!

اگر مسٹر جناح نے کانگریسی رہنماؤں کو ایسے متعدد مواقع فراہم کیے تو پھر تقسیم ہند کی ذمہ داری کُلی طور پر جناح پر کیسے عائد کی جا سکتی ہے؟
موقعے انگریز حکومت دے رہی تھی اور فرقہ واریت اسے ضایع کر رہی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں میں سے ایسی تحریک نا اٹھی جو تمام فرقوں کی نمائندہ ہوتی؟ انہیں انصاف و عزت فراہم کرتی جیسا کہ کانگریس کرنے کا وعدہ کرتی۔
جناح ہندوستانی سیاست کا ایک اہم کردار تھے۔ آخر وہ عوام کی ایک بڑی تعداد کی منشاء کے خلاف کیسے چل سکتے تھے؟
پروپیگینڈہ کے ذریعے عوام کو فرقہ پرست بنایا جا سکتا ہے۔ خوف کا پروپیگینڈہ۔
خیال رہے کہ وہ کسی زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے مگر بعد ازاں حالات ایسے بنتے چلے گئے کہ انہوں نے برصغیر کے دو بڑے گروہوں کے لیے دو ریاستوں کے بنائے جانے کو مناسب خیال کیا۔
وہ وائسرائے بننے کے خواب میں تھے کہ گاندھی نے اپنے انقلابی اقدامات سے اس خواب کو چکنا چور کر دیا۔ آزادی ان کے پیش نظر تھی ہی نہیں۔
میری نظر میں اصل ایشو یہ تھا کہ تقسیم ہند کے لیے مناسب ہوم ورک نہ کیا گیا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
جب آپ سنجیدہ نا ہوں تو آخر وقت تک آپ پر کرنے کے کام واضح نہیں ہوتے۔
 

سید رافع

محفلین
تقسیم ہند کی ذمہ داری کُلی طور پر جناح پر کیسے عائد کی جا سکتی ہے؟
شملہ کانفرنس ایک بہت بڑا واقعہ ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جناح اس وقت کے وائسرائے سے اپنے شدت پسند اور فرقہ وارنہ ٹولے سے مشورے کے بعد کہتے ہیں ، آپ (یعنی لارڈ ویول) کیونکہ تمام مسلم ممبروں کی اپنی کونسل میں نامزدگی کو مسلم لیگ سے ہونے پر یقین دہانی نہ کرا سکے، اس لیے ہم افسوس کے ساتھ آپکی کونسل کے لیے نام تجویز نہیں کر سکتے۔

مطلب آزادی رائے بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔ میں مسلمان ہوں تو کانگریس یا کسی اور پارٹی سے نہیں ہو سکتا۔ کیا اس سے زیادہ فرقہ واریت ہو سکتی ہے؟ کیا اس سے زیادہ مسلمان سکڑ سکتے ہیں؟ کیا اس سے زیادہ شدت پسندی ہو سکتی ہے؟ جناح اور لیگ کا یہ بیان جمہوری رویوں کے خلاف تو ہے ہی، انسانیت سے بھی گرا ہوا ہے۔ مسلمان کیوں تمام قوموں کے ساتھ مل جل کر زندگی نہیں گزار سکتے؟ مسلمان کیوں دیگر قوموں کے ساتھ رہ کر معیشت، معاشرت و سیاست نہیں چلا سکتے؟

بہر حال شملہ کانفرنس وہ پہلا موقع تھا جب جنگ سے تھکے اور بکھرتے برطانیہ نے حکومت ہند کے لیڈروں کو سپرد کرنے کی کوشش کی۔ یاد رہے یہ کانفرنس آزادی سے محض 25 ماہ قبل جون 1945 کو منعقد کی گئی تھی۔ یہ موقع فرقہ وارنہ گفتگو کے بعد ختم ہو گیا۔
 

سید رافع

محفلین
جناح ہندوستانی سیاست کا ایک اہم کردار تھے۔ آخر وہ عوام کی ایک بڑی تعداد کی منشاء کے خلاف کیسے چل سکتے تھے؟
ظاہر ہے کہ چھ لاکھ لوگ جو قتل ہوئے وہ قتل تو نہ ہونا چاہتے ہوں گے؟ جو لوگ کلکتہ ہنگاموں کی نظر ہوئے یا پنچاب میں قتل ہوئے وہ بھی قتل ہونے کی منشاء تو نہ رکھتے ہوں گے۔ انگریز تو حکومت ہند کے رہنماوں کو منتقل کرنا چاہتے تھے تاکہ اب وہ عوام کی امنگیں پوری کریں۔ اب جب لیڈر ہی فرقہ پرست ہوں اور چھوٹے قد کے ہوں تو قتل تو ہو گا۔

شملہ کانفرنس فرقہ پرستی کی وجہ سے ناکام ہو چکی تھی لیکن جنگ عظیم دویم سے چکنا چور انگریز جلد از جلد حکومت ہند کے رہنماوں کو منتقل کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد کیبنٹ مشن 1946 میں آیا۔ لیگ اور کانگریس ہند کی حکومت سنبھالنے کے ایک معاہدے پر متفق ہو گئے۔ اس موقعے پر نہرو کے جولائی 1946 کے اس بیان پر کہ معاہدہ کانگریس تبدیل بھی کر سکتی ہے، جناح اور لیگ کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا۔ یوں بقول مولانا آزاد کے کہ، باوجود کانگریس کی بہت سی کوششوں کے جناح راضی نہ ہوئے۔ جناح نے کہہ دیا کہ جو نہرو کی رائے تھی وہی کانگریس کی رائے ہے۔

مذہبی منافرت کی فضا بنائی جا چکی تھی۔ پروپگینڈے کا بازار گرم تھا۔ کیبنٹ مشن بھی ناکام ہوا۔ اسکے بعد صرف ایک سال بچا اور پھر قتل عام ہوا۔
 

سید رافع

محفلین
دوسری جنگ عظیم میں مسلم لیگ کی برطانوی امپیریل فوج کی موافقت کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ Shameful Flight میں لکھتے ہیں کہ:

کانگریس کی جنگ عظیم دو میں ہندوستانیوں کی شمولیت کی مخالفت کے عین برعکس مسلم لیگ تھی۔ انکے اس رویے کو وائسراے، کمانڈر انچیف سے لے کر فوجی افسروں اور سپاہیوں نے بہت سراہا۔ مسلم فوجی افسر اور سپاہی برٹش انڈین فوج میں کلیدی کردار ادا کرنے لگے۔

پاکستانیوں کو سمجھ جانا چاہیے کہ ان پر فوج، غلامی اور جنگ کیوں مسلط ہے۔ کانگریس نے آزادی ہند سے قبل اور ہند میں جمہوری نظام کے قیام سے قبل، جنگ عظیم دویم میں شرکت کی مخالفت کی۔ اسکے برعکس انگریز خوشامدی مسلم لیگی ٹولے نے جس کو جمہوریت کی پرواہ کل تھی نہ آج ہے اور جس کو نہ آزادی سے کل دلچسپی تھی نہ آج ہے، اس نے بڑھ چڑھ کر جنگ میں حصہ لیا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
تاریخ دان ہزاروں شواہد کی روشنی میں صحیح بات کو تلاش کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔ اس میں وہ کس حد تک غیر جانبدار رہے اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔ سٹنلے وولپرٹ ایک رشین یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انکی کتاب Jinnah of Pakistan تاریخ سے زیادہ ایک اظہار عقیدت ہے جو انکے یہودی پس منظر میں اس کتاب کو اور مشکوک بنا دیتی ہے۔ Shameful Flight کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ وہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ماونٹ بیٹن اور انگریز حکومت سانحہ تقسیم ہند کی ذمہ دار ہے۔ سٹنلے وولپرٹ غیر جانبدار نہیں ہیں۔
افسوس کہ آپ پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ آپ نے وولپرٹ کو غیر جانبدار ثابت کرنا ہے اور اس کے لیے بغیر مکمل تحقیق کیے یا بغر بات جانے، عنوان کو پکڑ کر اپنے فیصلے کی بنیاد رکھی اور پر اس پر ردے پر ردا رکھتے ہی چلے گئے۔ محض آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ Shameful Flightکے الفاظ وولپرٹ کے نہیں بلکہ چرچل کے تھے جو اس نے تاجِ برطانیہ اور ماؤنٹ بیٹن کی افراتفری میں ہندوستان کی تقسیم اور وہاں سے نکلنے کے لیے کہے تھے۔
 

علی وقار

محفلین
شملہ کانفرنس اور کرپس مشن کی ناکامی کیوں ہوئی؟

شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد کیبنٹ مشن 1946 میں آیا۔ لیگ اور کانگریس ہند کی حکومت سنبھالنے کے ایک معاہدے پر متفق ہو گئے۔ اس موقعے پر نہرو کے جولائی 1946 کے اس بیان پر کہ معاہدہ کانگریس تبدیل بھی کر سکتی ہے، جناح اور لیگ کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا۔ یوں بقول مولانا آزاد کے کہ، باوجود کانگریس کی بہت سی کوششوں کے جناح راضی نہ ہوئے۔ جناح نے کہہ دیا کہ جو نہرو کی رائے تھی وہی کانگریس کی رائے ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ مجھے آپ کی ہر بات سے اختلاف ہے۔ آپ نے اچھے نکات اٹھائے تاہم میرا استدلال یہ ہے کہ تقسیم ہند میں صرف جناح کا کردار نہیں تھا، اس میں جواہر لال نہرو اور دیگر کرداروں کا نمایاں ہاتھ تھا۔ انیس سو تیس کے اواخر سے ہندوستان بھر میں ہندوؤں اور مسلمانوں، ان کے رہنماؤں کے مابین بد اعتمادی بڑھ چکی تھی۔ انیس سو چالیس کی دہائی میں یہ بات طے ہو چکی تھی کہ انگریز نے ہندوستان سے چلے جانا ہے اور ان تحریکوں کی حیثیت ثانوی ہے جو انگریزوں کو ہندوستان سے چلے جانے پر ٰمجبورٰ کر رہی تھیں۔ انگریز بوجوہ یہاں سے جانے کے لیے پر تول رہے تھے۔ وہ جو تجاویز پیش کر رہے تھے، کانگریس اس نظر سے انہیں دیکھ رہی تھی کہ ان کی متحدہ ہندوستان پر حکومت قائم ہو جائے جب کہ مسلم لیگ کو یہ خدشات لاحق تھے کہ انگریز کے چلے جانے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا جس کا ایک نظارہ وہ کانگریسی وزارتوں میں کر چکے تھے، اس لیے جناح کے پاس بھی یہ دلیل موجود تھی کہ وہ ہندوستان کے ایک بڑے گروہ یعنی مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کرتے۔ یہ بات درست لگتی ہے کہ اگر جناح اس منظرنامے پر موجود نہ ہوتے تو شاید پاکستان نہ بن پاتا۔ اور، آج پاکستان کی جو حالت ہے، وہ ہمارے سامنے ہے، مگر دوسری جانب بھارت کی حالت بھی ہمارے سامنے ہے۔ کیا بھارت ہر حوالے سے ایک مثالی ملک ہے اور وہاں رہنے والے مسلمانوں کے لیے گاہے بگاہے عرصہ حیات تنگ نہیں کر دیا جاتا۔اگر بھارت میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے تو پھر اس سوال پر زیادہ شدت سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے لیے الگ وطن کیوں بنایا گیا۔
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
معاملہ یوں ہے کہ یہاں اکثر نے بنیادی تاریخ نہیں پڑھی تو بحث یا گفتگو کیسے ہو۔ جیسے @محمداحمد کہتے پائے گئے کہ پاکستان میں 95 فیصد سے زائد مسلمان تھے

یہاں مجھ سے یقیناً غلطی ہوئی۔

لیکن اس غلطی کے پیچھے تبصرے کا سیاق و سباق بھی اہم ہے۔

میرے خیال میں، پاکستان کے اندر دو قومی نظریے کی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہیے۔

میں دراصل اس سوال کا جواب دے رہا تھا۔ سو آبادی کے تناسب کے حوالے سے سہواً موجودہ اعداد و شمار پر ہی اکتفا کر گیا۔
 

سید رافع

محفلین
محض آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ Shameful Flightکے الفاظ وولپرٹ کے نہیں بلکہ چرچل کے تھے جو اس نے تاجِ برطانیہ اور ماؤنٹ بیٹن کی افراتفری میں ہندوستان کی تقسیم اور وہاں سے نکلنے کے لیے کہے تھے۔

جی کتاب میں اس کا تذکرہ ہے۔ لیکن وولپرٹ کتاب کا عنوان بہتر رکھ سکتا تھا۔

چرچل امپریلسٹ تھا۔ آپ سمجھے کہ وہ ہندوستان کو آزادی دینا چاہتا تھا اور افراتفری میں نکلنے کو Shameful Flight کہا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ چرچل آزادی ہند کے خلاف تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ہند، بادشاہ جارج ششم کو سربراہ تسلیم کرے ،اور امور حکومت میں بادشاہ کا حصہ ہو۔ چرچل بادشاہ کی طرف سے جنگ عظیم دویم لڑ چکا تھا، اور اپنے بعد کے وزیراعظم ایٹلی کو سمجھا رہا تھا کہ ہند سے شرمناک فرار نہ کرو بلکہ اس پر حکومت کرنے کی راہیں برقرار رکھو۔

یکم جولائی 1947 یعنی آزادی ہند سے ڈیڑھ ماہ قبل چرچل نے ایٹلی کو یہ خط لکھا جو Shameful Flight کا مطلب سمجھا رہا ہے:

July 1، 1947 My dear Prime Minister, I’m worried to hear that you’ll call the India Bill, ‘The Indian Independence Bill’. This is completely against what we’d been told before. The only reason why I gave support to plans agreed with Mountbatten is because they’d establish Dominion status. Dominion status is not the same as Independence, although it may lead to independence. It’s not true that a community is independent when its Ministers have in fact taken the Oath of Allegiance to the King. This is a very serious issue and the correct process and naming should be used. The correct title would be, it seems to me, ‘The Indian Dominions Bill’. I’ll also support it if it were called ‘The India Bill, 1947’ or ‘The India Self-Government Bill’. I’m glad to hear you’re thinking about these changes. Believe me, Yours sincerely, Winston Spencer Churchill
 
آخری تدوین:

سید رافع

محفلین
میرا استدلال یہ ہے کہ تقسیم ہند میں صرف جناح کا کردار نہیں تھا، اس میں جواہر لال نہرو اور دیگر کرداروں کا نمایاں ہاتھ تھا۔
میرا استدلال یہ ہے کہ تقسیم ہند میں جناح کا کردار سب سے زیادہ مشکوک ہے۔ کیا آپ کے علم میں ہے کہ 1937 تک مسلم لیگ محض ایک elite یا اشرافیہ کی جماعت تھی؟

حسن عسکری رضوی اپنی کتاب Military, State and Society in Pakistan میں لکھتے ہیں کہ:

.The Muslim League maintained an elitist character until 1937

بعینہ یہی بات مسلم لیگ کے بارے میں سٹنلے وولپرٹ نے Shameful Flight میں لکھی ہے:

مسلم لیگ فیوڈل نواب زادوں اور لینڈ لارڈ پر مشتمل تھی اور ان میں جناح کے علاوہ کوئی بھی قومی سطح کا لیڈر نہ تھا۔

میں مسٹر جناح کے zionist ہونے کے بارے میں یقین سے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔
 

سید رافع

محفلین
کیا بھارت ہر حوالے سے ایک مثالی ملک ہے اور وہاں رہنے والے مسلمانوں کے لیے گاہے بگاہے عرصہ حیات تنگ نہیں کر دیا جاتا۔
میڈیا ایک ارب چالیس کروڑ انسانوں کو جھگڑتا دکھاتا ہے کیونکہ یہ اسکی روٹی روزی ہے۔ حقیقت اس سے کوسوں دور ہے۔ بھارت کے ایک ارب سے زائد ہندو، 20 کروڑ سے زائد مسلمان اور قریبا 20 کروڑ کے لگ بھگ دیگر مذاہب کے لوگ مل جل کر رہ رہے ہیں۔ مل جل کر کاروبار، فوج، سیاست، عدلیہ اور گورنمنٹ کے اداروں میں کام کر رہے ہیں۔ حتی کہ شادیاں کرتے ہیں۔ یہ عام انسانی فطرت ہے کہ مل جل کر رہا جائے۔ چند غنڈے، انتہا پسند مرد و عورتیں ہر جگہ ہوتی ہیں۔ انکا سدباب قانون اور عدالتوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
 

سید رافع

محفلین
کانگریس اس نظر سے انہیں دیکھ رہی تھی کہ ان کی متحدہ ہندوستان پر حکومت قائم ہو جائے جب کہ مسلم لیگ کو یہ خدشات لاحق تھے کہ انگریز کے چلے جانے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا جس کا ایک نظارہ وہ کانگریسی وزارتوں میں کر چکے تھے،
علی بھائی،جیسے دو قومی نظریہ ایک شیطانی پروپگینڈہ ہے بالکل اسی طرح مسلم لیگ جو اس پروپگینڈے کے بل پر قائم ہوئی یہ بات مشہور کرنا شروع کی کہ کانگریس وزارتیں اقلیتوں پر مظالم کر رہیں ہیں۔

مولانا نے اپنی کتاب میں اسکا تذکرہ کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:

کانگریس کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ وہ انتظامیہ کی ذمہ داری سنبھال رہی تھی۔ اس لیے کانگریس کے لیے ایک طرح آزمائش کی گھڑی تھی۔ ایک طرف عوام کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ اپنے قومی کردار پر کس طرح پوری اترتی ہے تو دوسری طرف مسلم لیگ اس کے خلاف یہ پروپگینڈا کر رہی تھی کہ کانگریس محض نام کی قومی جماعت ہے۔ مسلم لیگ نے اپنے تئیں کانگریس صرف بدنام کرنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس نے پروپگینڈا بھی کیا کہ کانگریسی وزارتیں اقلیتوں پر مظالم کر رہی تھیں۔ اس نے ایک کمیٹی مقرر کی جس نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نازیبا برتاو کے طرح طرح کے الزامات کانگریسی وازرتوں پر عائد کیے۔ میں اپنے ذاتی علم کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ الزامات قطعا بے بنیاد تھے۔ اس بارے میں وائسرائے اور مختلف صوبوں کے گورنروں کی بھی یہی رائے تھی۔ اس لیے سنجیدہ لوگ لیگ کی تیار کی ہوئی رپورٹ سے بالکل متاثر نہیں ہوئے۔ مسلم لیگ کی مشتہر کی ہوئی مظالم کی داستانیں محض تخلیق کی گئی تھیں۔
 

سید رافع

محفلین
دو قومی نظریہ کا سوال انگریز نے اٹھایا۔ انگریز نے کہا کہ کیونکہ ہندوستان ایک قوم نہیں اس لیے وہ خود حکومت کے قابل نہیں۔ اس دلیل کے پیچھے تقسیم کرو اور حکومت کرو کا نظریہ کارفرما تھا۔ اس بوگس نظریے کو جعلی ثابت کرنے کا آسان ترین جواب جنگ آزای 1857 جو مسلمان اور ہندووں اور دیگر قوموں نے مل کر انگریز کے خلاف لڑی۔

دو قومی نظریے کی اصل وہابیت ہے جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ جن عقائد پر وہابی ہیں وہ مسلم ہیں اور دیگر غیر مسلم ہیں۔ چنانچہ انکا جان اور مال ان پر حلال ہے۔ وہابی کے نزدیک غیر مسلم ، وہ مسلمان بھی ہیں جوان کے طے شدہ عقائد کے خلاف ہیں اور ہندو، سکھ اور عیسائی بھی ہیں۔ آل سعود اور ابن وہاب کا انگریزوں سے گٹھ جوڑ ،اس نظریے کی عرب میں ترویج کا باعث بنا اور ہند میں شاہ اسماعیل نے تقویۃ الایمان لکھ کر اسے ہندوستان میں برآمد کیا۔ وہابی دراصل خوارج ہیں جو اپنے علاوہ ہر ایک کو غیر مسلم سمجھتے ہیں۔

سرسید احمد خان دو وقومی نظریے کے موجد نہیں بلکہ ابن وہاب ہے۔ سرسید تک یہ نظریہ احمد سر ہندی اور شاہ ولی اللہ سے ہوتا ہوا پہنچا ہے۔ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ کا جہاد معروف و معلوم ہے۔ جو جہاد سے زیادہ فساد ہے۔ اسی فساد کے پیڑ کا کانٹوں بھرا پھول دو قومی نظریہ ،پھل سانحہ تقسیم ہند اور بدمزہ ذائقہ پاکستان ہے۔

اب اسی سوچ لیں کہ مسٹر جناح، انکا لیگی ٹولہ، پاکستان کی موجودہ قیادت کس نظریاتی کشتی میں سوار ہیں اور کیسے عام انسان پس رہے ہیں قتل ہو رہے ہیں۔
 
آخری تدوین:
Top