الف عین
شاہد شاہنواز
محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد عبدالرؤوف
سید عاطف علی
عظیم
------------
پاس آتے نہیں یاد آتے ہیں کیوں
دور رہتے ہوے دل جلاتے ہیں کیوں
--------یا
دور رہ کر مرا دل جلاتے ہیں کیوں
------------
ان کو الفت سے میری ہے انکار جب
گھر میں تصویر میری سجاتے ہیں کیوں
----------
راہِ الفت پہ خود آپ چلتے نہیں
پیار کرنا ہمیں وہ سکھاتے ہیں کیوں
---------------
میں بُرا کچھ بھی لوگوں سے کرتا نہیں
مجھ کو نظروں سے اپنی گراتے ہیں کیوں
----------
اس حکومت نے جینا ہے دوبھر کیا
ظلم اتنا غریبوں پہ ڈھاتے ہیں کیوں
-------
جب روادار الفت کے بنتے نہیں
دیکھ کر ہاتھ مجھ کو ہلاتے ہیں کیوں
-----------
دل جلے گا مرا وہ نہیں سوچتے
خط رقیبوں کو مجھ سے لکھاتے ہیں کیوں
---------
میں نے پوچھا انہیں محبّت ہے کیا
بات سن کر مری سر کجھاتے ہیں کیوں
-----------
جب سمجھتے ہیں میں ہوں بُرا آدمی
لوگ ملنے مرے پاس آتے ہیں کیوں
--------
عہد الفت نبھانے کا مجھ سے کیا
مجھ سے دامن وہ پھر اب چھڑاتے ہیں کیوں
------------
جب محبّت پہ میری بھروسہ نہیں
مجھ کو پہلو میں اپنے بٹھاتے ہیں کیوں
---------
زندگی میں جو ارشد کے بنتے نہ تھے
اس کی تربت پہ آنسو بہاتے ہیں کیوں
--------------
 

الف عین

لائبریرین
الف عین
شاہد شاہنواز
محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد عبدالرؤوف
سید عاطف علی
عظیم
------------
پاس آتے نہیں یاد آتے ہیں کیوں
دور رہتے ہوے دل جلاتے ہیں کیوں
--------یا
دور رہ کر مرا دل جلاتے ہیں کیوں
------------
کون؟
ان کو الفت سے میری ہے انکار جب
گھر میں تصویر میری سجاتے ہیں کیوں
----------
محبوب یہ دعویٰ کیسے کر سکتا ہے کہ عاشق اس سے محبت نہیں کرتا! ہاں، یہ کہہ سکتا ہے کہ اسے عاشق سے محبت نہیں ۔ پہلا مصرع واضح کر کے کہیں
راہِ الفت پہ خود آپ چلتے نہیں
پیار کرنا ہمیں وہ سکھاتے ہیں کیوں
---------------
وہ یا آپ، کس کی بات کی جا رہی ہے؟
پیار کرنا ہمیں پھر..... ہو سکتا ہے
میں بُرا کچھ بھی لوگوں سے کرتا نہیں
مجھ کو نظروں سے اپنی گراتے ہیں کیوں
----------
کسی سے برا کرنا محاورہ نہیں
دونوں مصرعوں میں ربط نہیں
اس حکومت نے جینا ہے دوبھر کیا
ظلم اتنا غریبوں پہ ڈھاتے ہیں کیوں
-------
کون؟ فاعل تو حکومت، واحد ہے
جب روادار الفت کے بنتے نہیں
دیکھ کر ہاتھ مجھ کو ہلاتے ہیں کیوں
-----------
ہاتھ ہلانا کس وجہ سے؟
دل جلے گا مرا وہ نہیں سوچتے
خط رقیبوں کو مجھ سے لکھاتے ہیں کیوں
---------
درست
میں نے پوچھا انہیں محبّت ہے کیا
بات سن کر مری سر کجھاتے ہیں کیوں
-----------
مزاحیہ شعر مت کہا کرو بھائی
جب سمجھتے ہیں میں ہوں بُرا آدمی
لوگ ملنے مرے پاس آتے ہیں کیوں
--------
ٹھیک ہے، مگر کوئی خاص بات نہیں
عہد الفت نبھانے کا مجھ سے کیا
مجھ سے دامن وہ پھر اب چھڑاتے ہیں کیوں
------------
ٹھیک
جب محبّت پہ میری بھروسہ نہیں
مجھ کو پہلو میں اپنے بٹھاتے ہیں کیوں
---------
دو لخت
زندگی میں جو ارشد کے بنتے نہ تھے
اس کی تربت پہ آنسو بہاتے ہیں کیوں
--------------
درست
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
پاس آتے نہیں یاد آتے ہیں کیوں
دور رہتے ہوے دل جلاتے ہیں کیوں
--------یا
دور رہ کر مرا دل جلاتے ہیں کیوں
مشورہ:
ہر گھڑی وہ مجھے آزماتے ہیں کیوں
جب وہ آتے نہیں یاد آتے ہیں کیوں

اس حکومت نے جینا ہے دوبھر کیا
ظلم اتنا غریبوں پہ ڈھاتے ہیں کیوں
پہلے مصرعے پر ایک مشورہ:

حشر کو مانتے ہیں اگر حکمراں
ظلم اتنا غریبوں پہ ڈھاتے ہیں کیوں
 
آخری تدوین:
الف عین
(اصلاح)
--------
اس طرح وہ مرا دل جلاتے ہیں کیوں
پیار کرتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں کیوں
--------
ان کو انکار ہے گر وفا سے مری
گھر میں تصویر میری سجاتے ہیں کیوں
---------
راہِ الفت پہ خود آپ چلتے نہیں
پیار کرنا ہمیں پھر سکھاتے ہیں کیوں
------------
جب میں تکلیف لوگوں کو دیتا نہیں
مجھ کو نظروں سے اپنی گراتے ہیں کیوں
----------
حکمرانوں نے جینا ہے دوبھر کیا
ظلم اتنا غریبوں پہ ڈھاتے ہیں کیوں
-------
جو روادار الفت کے بنتے نہیں
وہ مجھے دیکھ کر مسکراتے ہیں کیوں
----------
دل میں ان کے جب پیار میرا بسا
مان لینے میں پھر ہچکچاتے ہیں کیوں
-------------
مجھ میں خوبی اگر وہ نہیں دیکھنے
لوگ ملنے مجھے روز آتے ہیں کیوں
-----------
دل میں ان کے بھروسہ نہیں ہے اگر
پاس اپنے مجھے پھر بٹھاتے ہیں کیوں
----------
استادِ محترم ۔عبدالرؤوف بھائی کے دونوں اشعار اگر آپ کو زیادہ بہتر لگیں تو انہیں رکھ لیتا ہوں
 

الف عین

لائبریرین
الف عین
(اصلاح)
--------
اس طرح وہ مرا دل جلاتے ہیں کیوں
پیار کرتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں کیوں
--------
مطلع روفی کا ہی بہتر ہے، یہ والا واضح نہیں، پیار کر کےبھولنا سمجھ میں نہیں آیا
ان کو انکار ہے گر وفا سے مری
گھر میں تصویر میری سجاتے ہیں کیوں
---------
درست
راہِ الفت پہ خود آپ چلتے نہیں
پیار کرنا ہمیں پھر سکھاتے ہیں کیوں
------------
ٹھیک ہے گو واضح نہیں
جب میں تکلیف لوگوں کو دیتا نہیں
مجھ کو نظروں سے اپنی گراتے ہیں کیوں
----------
ٹھیک
حکمرانوں نے جینا ہے دوبھر کیا
ظلم اتنا غریبوں پہ ڈھاتے ہیں کیوں
-------
طلم پھر وہ غریبوں....
یا روفی کا قبول کر لیجے
جو روادار الفت کے بنتے نہیں
وہ مجھے دیکھ کر مسکراتے ہیں کیوں
----------
ٹھیک
دل میں ان کے جب پیار میرا بسا
مان لینے میں پھر ہچکچاتے ہیں کیوں
-------------
پہلے مصرع میں 'ہے' چھوٹ گیا ہے کہیں
مجھ میں خوبی اگر وہ نہیں دیکھنے
لوگ ملنے مجھے روز آتے ہیں کیوں
-----------
یہ بھی دیکھنے آ سکتے ہیں کہ کوئی برائی بھی انتہائی درجے کی ہے!
دل میں ان کے بھروسہ نہیں ہے اگر
پاس اپنے مجھے پھر بٹھاتے ہیں کیوں
---------
ٹھیک
زیادہ تر اشعار کو ٹھیک کہہ رہا ہوں کہ تکنیکی پرابلم نہیں ہے لیکن کوئی شعر نہیں بن رہا ہے!
 
Top