ہمسفر کی تلاش اور بچھڑنے کا سفر

ہمسفر

محفلین
ہمسفر کی تلاش اور بچھڑنے کا سفر
وہ قریب میرے اتنا تھا کہ سوچتا رہ گیا
بچھڑ کے اس سے بے سبب مچلتا رہ گیا
دل کی دھڑکنوں کا جنوں سمجھا نہیں کوئی
خامشیِ مرگ میں عشق دھڑکتا رہ گیا
بے مروت کہانی میری سن کہ شاید
اک لال آنسو گال پہ چھلکتا رہ گیا
اُلجھنوں ، پریشانیوں میں پلا بڑھا شخص
اِک پل خوشی کی خاطر غم سے لڑتا رہ گیا
ہمسفر کی تلاش میں تھک گیا اس قدر
اپنے ہی گھر کی دیواروں کا سہارا ڈھونڈتا رہ گیا
گو ہمسفر کی تلاش نے سمجھا دیا تھا مجھے
پھر کیوں؟ بے وفا میں وفا ڈھونڈتا رہ گیا
محسن علی ہمسفر​

آپ کی اصلاح کی منتظر:cool:
شکریہ
 

الف عین

لائبریرین
محسن علی۔ آپ پہلے ادب خوب پڑھیں اور غور کریں کہ کیا چیز کسی بھی شعری خیال کو غزل کا شعر بناتی ہے۔ یہاں ہی عروض وغیرہ پر اسباق چل رہے ہیں، ان کو پڑھیں۔ قافیہ اور ردیف بھی کیا ہوتا ہے، اس پر بھی غور کریں۔
اور اگر ان باتوں پر غور کرنے کی فرصت نہ ہو تو میرا مشورہ ہےکہ نثری نظمیں لکھیں، عروض کے علم کے بغیر غزل غزل نہیں ہوتی۔ کم از کم بحور اور اوزان کا احساس بہر طور واجب ہے۔ تخئیل آپ کے پاس ہے، اور اپنے ہر شعر کے خیال کو مزید جولانیاں دکھا کر نثری نظم میں تبدیل کر کے دیکھیں۔ اس صورت میں اصلاح کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔
 

ہمسفر

محفلین
شکریہ محترم
میں ضرور ان پر غور و غوض کرونگا
آپ نے جس انداز میں رہنمائی فرمائی ہے وہ میرے لئے مشعل راہ ہے
اس مطلب یہ ہوا کہ یہ سب میں نے غلط لکھا ہے :d
چلیں کوئی بات نہیں میں‌آئندہ آزاد نثری نظمیں‌تحریر کرونگا
لیکن مجھے اس سمت میں آنے کا بہت شوق ہے
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
شکریہ محترم
میں ضرور ان پر غور و غوض کرونگا
آپ نے جس انداز میں رہنمائی فرمائی ہے وہ میرے لئے مشعل راہ ہے
اس مطلب یہ ہوا کہ یہ سب میں نے غلط لکھا ہے :d
چلیں کوئی بات نہیں میں‌آئندہ آزاد نثری نظمیں‌تحریر کرونگا
لیکن مجھے اس سمت میں آنے کا بہت شوق ہے
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین


اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو پھر میں ٹھیک ہوں کیا کہتے ہیں آپ ہمسفر صاحب کچھ یاد آیا کہ نہیں‌ استاد صاحب کی بات پر غور کرے انشاءاللہ کامیاب ہو جائے گے اگر آپ کو نثری نظمیں لکھنے کا شوق ہے تو نثری نظمیں لکھے اگر آپ غزل میں آنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو علمِ عروض کچھ نا کچھ جانا پڑے گا یہاں کلاس چل رہی ہے اور اس کے علاوہ علمِ عروض پر بھی بہت کام ہو ہے اور ہو رہا ہے آپ اس پر بھی نظر ڈال لے شکریہ
 

ہمسفر

محفلین
شکریہ
یقینا میں‌غلط ہوں
اور میں جانتا بھی ہون‌لیکن میں‌اپنے اندر چھپے جذبات کو کسی نہ کسی صورت باہر دیکھنا چاہتا ہوں
ویسے بھی دوسرے لوگ جو شاعری پڑھتے ہیں وہ کبھی اوزان پر اتنا غور نہیں فرماتے صرف مطلب سمجھنے کی حد تک ہوتے ہیں

لیکن جو شعراء ہیں انہیں یہ علم ضرور حاصل کرنا چاہیے
میری مراد نو عمر سے ہے
تو یقینا مجھے یہ سیکھنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ فوٹو ٹیک بھائی ربط ارسال فرمائیں جہاں پر کلاس محترم چل رہی ہے
 

الف عین

لائبریرین
ایک سبق یہاں دے ہی دوں محسن
شعر کی زمین میں ایک ردیف ہوتی ہے اور ایک چیز قافیہ ہوتا ہے۔ تمیاری غزل میں ردیف ہے: رہ گیا
قافئے کی تعریف بھی یہ ہے کہ اس کے آخری کچھ حروف مشترک ہونے چاہئے اور ان سے پہلے کے حروف کو انگریزی کے لفظ کے مطابق ’رائم‘ کرنا چاہئے۔
جیسے: ہم اندھیروں سے بچ کے چلتے ہیں
اور اندھیروں میں جا نکلتے ہیں

کتنے عیاش لوگ ہیں ہم بھی
دن میں سو منزلیں بدلتے ہیں
احمد ندیم وقاسمی کے ان اشعار میں ردیف ہے۔۔۔۔ ہیں
اور قوافی ہیں: نکلتے، چلتے اور بدلتے
ان قوافی میں بھی دیکھو۔ مشترک حروف یوں تو ’لتے‘ ہے، لیکن رائم کے حساب سے ہم یوں کہتے ہیں کہ مشترک حروف ’تے‘ ہے، اور اس سے پہلے ’چل، نکل اور بدل ۔ تینوں رائم کرتے ہیں۔ اس طرح یہ قافیہ درست ہے۔
تمہاری ’غزل‘ میں ردیف تو درست ہے لیکن قوافی میں اگر ’تا‘ کو مشترک مانا جائے تو ’سوچ‘، مچل‘ دھڑک‘ رائم نہیں کرتے۔ اس لئے یہ قوافی غلط ہیں۔ درست یوں ہو سکتے ہیں:
مچلتا، بدلتا، نکلتا۔۔۔ جیسے قاسمی کے قوافی ہیں، اسی طرح۔
یا
چھلکتا، ڈھلکتا، وغیرہ
اگر سوچتا اور چاہتا کو قوافی بنایا جائے رو اس سقم کو ایطا کہتے ہیں۔ وارث دوسری جگہ اسقامِ سخن پر کچھ پوسٹ کر رہے تھے، وہاں دیکھیں۔
 
Top