سولھویں سالگرہ سید عمران بھائی کے ساتھ علمی اور معلوماتی مکالمہ

سید عمران

محفلین
تو پھر دنیا میں کامیابی کا مفہوم کیا ہے!؟
اس کا بہت آسان جواب یہ ہے کہ دنیا میں کامیابی کا تعلق چیز کے حصول سے نہیں بلکہ چیز کے حکم سے متعلق ہے۔ مثلا ایک شخص بزنس کرتا ہے۔ اب کیسے پتا چلے کہ وہ کامیاب ہے یا ناکام؟
وہ اس طرح کہ اگر وہ بزنس میں حکم کو پورا کرتا ہے تو وہ کامیاب ہے چاہے وہ مال و دولت، عزت و شہرت حاصل کرے یا بالکل قلاش ہو جائے۔
جب کہ دوسری صورت میں اگر وہ بزنس میں حکم کو توڑتا ہے تو وہ ناکام ہے، بالکل اسی طرح چاہے وہ مال و دولت، عزت و شہرت حاصل کرے یا بالکل قلاش ہو جائے۔
یعنی کامیابی کا ملنا کسی چیز کے ملنے یا محرومی سے نہیں بلکہ حکم کے پورا ہونے یا ٹوٹنے سے ہوا۔
ہاں اس کامیابی اور ناکامی کا نتیجہ اسے روز آخرت ملے گا۔
اصل میں دنیا میں کامیاب ہونا اسباب دنیا کا حصول سمجھا جاتا ہے اگر اس میں کمی ہے تو دنیاوی لحاظ سے ناکام قرار دیا جاتا یے...
اللہ تعالی نے اس بات کو واضح کرنے کے لیے انبیاء کرام کو مختلف دنیاوی حیثیتیں دیں کسی کو بہت تنگ دستی میں رکھا کہ رہنے کو گھر تک نہ تھا کسی کو متوسط طبقہ میں رکھا اور کسی کو بادشاہت سے نوازا...
یہی بتانے کے لیے کہ دنیا میں چاہے جیسے رہو آخرت کا معاملہ اس سے بالکل الگ ہے...
دنیا کا فقیر آخرت میں کروڑوں امراء سے مالدار ہوسکتا ہے اور دنیا کا امیر آخرت میں بدحالی کا شکار ہوسکتا ہے...
یر دو جہاں کی کمائی کا طریقہ مختلف بھی یے اور باہم مربوط بھی!!!
 

صابرہ امین

لائبریرین
سید عمران بھائی،
آپ کی حسِ مزاح بہت عمدہ ہے اگرچہ کبھی کھبی اوسان بھی خطا ہو جاتے ہیں ۔ :at-wits-end: آپ سے پوچھنا ہے کہ کیا آپ سے جب کوئی کچھ ملتا جلتا مذاق کرنے کی کوشش کرے تو کیا آپ برا مناتے ہیں اور اس شخص کی لڑیوں میں جانا چھوڑ دیتے ہیں ۔:D
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
سید عمران بھائی،
آپ کی حسِ مزاح بہت عمدہ ہے اگرچہ کبھی کھبی اوسان بھی خطا ہو جاتے ہیں ۔ :at-wits-end: آپ سے پوچھنا ہے کہ کیا آپ سے جب کوئی کچھ ملتا جلتا مذاق کرنے کی کوشش کرے تو کیا آپ برا مناتے ہیں اور اس شخص کی لڑیوں میں جانا چھوڑ دیتے ہیں ۔:D
اس سے پہلے کہ وہ خود آ کر کچھ کہیں ۔۔ ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ برا تو نہیں مناتے لیک لڑی میں جانا چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی لڑی سے بھی نکل جانے کو کہتے ہیں۔ اب سامنے والا مہا ڈھیٹ ہو تو ان کی ایک نہیں چلتی۔ گواہ رہئیے گا کہ ہم نے "کسی" کا نام نہیں لیا :ROFLMAO:
 

جاسم محمد

محفلین
کیا اتنے علوم کی دستیابی کے باوجود یونیورسٹی جائے بغیر کوئی گھر بیٹھے ڈاکٹر یا انجینئر یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بن سکتا ہے؟؟؟
ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ آپ دوسروں کیلئے بنتے ہیں۔ دوسروں تک معیاری ڈاکٹر، انجینئر پہنچے اس کیلئے ایک سائنسی طریقہ (ڈاکٹریٹ، ماسٹرز وغیرہ) وضح کیا گیا ہے۔
یہی اصول دین و مذہب پر لاگو ہوگا۔ اگر آپ نے دین دوسروں تک پہنچانا ہے تو اس کیلئے کسی مستند اسلامی یونیورسٹی سے ڈگری لازم ہوگی۔ بصورت دیگر صحت کا جو حال نیم حکیم کر دیتے ہیں، دین کا وہی حال نیم مولوی کر رہے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
اللہ تعالی نے اس بات کو واضح کرنے کے لیے انبیاء کرام کو مختلف دنیاوی حیثیتیں دیں کسی کو بہت تنگ دستی میں رکھا کہ رہنے کو گھر تک نہ تھا کسی کو متوسط طبقہ میں رکھا اور کسی کو بادشاہت سے نوازا...
زندگی مسلسل آزمائش و جد و جہد کا نام ہے۔ پیدائش کے بعد پہلی سانس لینے والی تکلیف سے لیکر موت کی تکلیف تک زندگی ایک آزمائش ہے۔ کون کہاں پیدا ہوتا ہے اس کا اختیار کسی کو نہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی اپنی مرضی سے نہیں آتا۔ ہاں ملی ہوئی زندگی کیسے گزارنی ہے کا اختیار انسان کو حاصل ہے۔ اور یہیں سے جزا سزا و آخرت کا کانسپٹ آتا ہے۔
 

سید عمران

محفلین
سید عمران بھائی،
آپ کی حسِ مزاح بہت عمدہ ہے اگرچہ کبھی کھبی اوسان بھی خطا ہو جاتے ہیں ۔ :at-wits-end: آپ سے پوچھنا ہے کہ کیا آپ سے جب کوئی کچھ ملتا جلتا مذاق کرنے کی کوشش کرے تو کیا آپ برا مناتے ہیں اور اس شخص کی لڑیوں میں جانا چھوڑ دیتے ہیں ۔:D
اگر ایسا ہوتا تو ہم بھیا کی اس لڑی میں کبھی قدم رنجہ نہ فرماتے!!!
 

سید عمران

محفلین
زندگی مسلسل آزمائش و جد و جہد کا نام ہے۔ پیدائش کے بعد پہلی سانس لینے والی تکلیف سے لیکر موت کی تکلیف تک زندگی ایک آزمائش ہے۔ کون کہاں پیدا ہوتا ہے اس کا اختیار کسی کو نہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی اپنی مرضی سے نہیں آتا۔ ہاں ملی ہوئی زندگی کیسے گزارنی ہے کا اختیار انسان کو حاصل ہے۔ اور یہیں سے جزا سزا و آخرت کا کانسپٹ آتا ہے۔
ابھی تک تو ریل درست پٹڑی ہر چل رہی ہے...
خدا کرے آگے بھی ہٹڑی سے نہ اترے!!!
:praying::praying::praying:
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
بصورت دیگر صحت کا جو حال نیم حکیم کر دیتے ہیں، دین کا وہی حال نیم مولوی کر رہے ہیں
میں نے آج تک ایک بھی آدمی ایسا نہیں دیکھا چاہے وہ کسی ڈاکٹر کا ستایا ہوا کیوں نہ ہو اور وہ اپنی جسمانی تکلیف کے وقت ڈاکٹر کے پاس نہ جانے کا سوچے بھی، جبکہ ایسے کئی لوگ دیکھے جو کسی مولوی سے دھوکہ کھائے بغیر بھی تہیہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں چاہے روحانی تکلیف کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو کسی مولوی کے پاس نہ جائیں گے
آپ تو ماشاءاللہ سمجھدار ہیں نیم مولوی کے پاس کیوں جاتے ہیں، جب آپ کو صحت کے متعلق کوئی معلومات چاہیے ہوتی کسی انجنئیر سے سوال نہیں کرتے بلکہ کسی ڈاکٹر اور ڈاکٹرز میں بھی جو آپ کی ریسرچ کے مطابق متعلقہ شعبے کا بہترین سے بہترین ڈاکٹر ہوتا ہے کی تلاش کرتے ہیں، وہی کلیہ دین کے متعلق کیوں نہیں اپناتے
 

سید عمران

محفلین
سید عمران بھائی،
آپ کی حسِ مزاح بہت عمدہ ہے اگرچہ کبھی کھبی اوسان بھی خطا ہو جاتے ہیں ۔ :at-wits-end: آپ سے پوچھنا ہے کہ جب کوئی کچھ ملتا جلتا مذاق کرنے کی کوشش کرے تو کیا آپ برا مناتے ہیں اور اس شخص کی لڑیوں میں جانا چھوڑ دیتے ہیں ۔:D
اس سے ذرا ہٹ کے اور اس سے ذرا ملتا جلتا ایک اور جواب۔۔۔
انسان ہر شخص کو پسند نہیں کرتا اور ہر شخص کو ناپسند بھی نہیں کرتا۔۔۔
بعض مرتبہ سامنے والا ہر لحاظ سے تو نہیں البتہ کافی لحاظ سے اچھا ہوتا ہے مگر آپ کو اچھا نہیں لگتا بلا کسی سبب کے۔ اگر آپ سے کوئی اس ناپسندیدگی کی وجہ پوچھے تو خود آپ کے پاس بھی اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہوتا۔۔۔
پسند ناپسند کی یہ انسانی جبلت پیدائشی ہوتی ہے کیوں کہ بچپن کے زمانہ ہی سے یہ پسند ناپسند عیاں ہونی شروع ہوجاتی ہے جیسا کہ اسکول میں چند بچے خود بخود آپس میں ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں اور ہر کسی کو اپنے گروپ میں نہیں آنے دیتے۔ یہ رجحان خاندان میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے جہاں کچھ کزنز کی آپس میں بہت بنتی ہے مگر آپ کے ساتھ ویسا تعلق قائم نہیں ہوتا چاہے آپ ان کو قریب لانے کے لیے ان پر کتنی ہی جان چھڑکیں اور کتنا ہی مال خرچ کریں۔۔۔
اس فعل کو ذہنی یا قلبی مناسبت اور عدم مناسبت کہتے ہیں۔۔۔
یہی رجحان آپ کو محفل پر بھی نظر آئے گا جس کو جس سے مناسبت ہوتی ہے، اسے اچھا لگتا ہے وہ خودبخود اس سے بات چیت بڑھاتا ہے، دوستی کرتا ہے باوجود اس کے کہ کوئی کسی کو دعوت نہیں دیتا کہ مجھ سے دوستی کرو اور فلاں سے نہ کرو۔ کیوں کہ اس طرح زبردستی سے نہ رشتے بنتے ہیں نہ ٹوٹتے ہیں۔۔۔
جب سے یہ اصول معلوم ہوا ہم نے لوگوں کی پروا کرنا چھوڑ دی کوئی قریب آتا ہے تو صد بسم اللہ نہ آئے تو ہم بھی لاپروا۔۔۔
بہرحال ہر بڑے گروپ میں چھوٹے چھوٹے گروپ بن جاتے ہیں۔ یہ گروپ بندی یا پارٹی بازی کوئی بری بات نہیں اگر اس کی طرف سے کسی کی حق تلفی نہ کی جائے۔۔۔
تو انہیں آپس میں لگے رہنے دیں۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔۔۔
اگر وہ آپ کو پسند نہیں کرتے تو آپ بھی ان سے دور ہوجائیں، کہیں اور رین بسیرا کرلیں۔۔۔
خدا کی زمین بہت بڑی ہے ایک سے بڑھ کر بندہ آپ کی مناسبت والا مل جائے گا!!!
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
میں نے آج تک ایک بھی آدمی ایسا نہیں دیکھا چاہے وہ کسی ڈاکٹر کا ستایا ہوا کیوں نہ ہو اور وہ اپنی جسمانی تکلیف کے وقت ڈاکٹر کے پاس نہ جانے کا سوچے بھی، جبکہ ایسے کئی لوگ دیکھے جو کسی مولوی سے دھوکہ کھائے بغیر بھی تہیہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں چاہے روحانی تکلیف کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو کسی مولوی کے پاس نہ جائیں گے
آپ تو ماشاءاللہ سمجھدار ہیں نیم مولوی کے پاس کیوں جاتے ہیں، جب آپ کو صحت کے متعلق کوئی معلومات چاہیے ہوتی کسی انجنئیر سے سوال نہیں کرتے بلکہ کسی ڈاکٹر اور ڈاکٹرز میں بھی جو آپ کی ریسرچ کے مطابق متعلقہ شعبے کا بہترین سے بہترین ڈاکٹر ہوتا ہے کی تلاش کرتے ہیں، وہی کلیہ دین کے متعلق کیوں نہیں اپناتے
شیطان اس جگہ زیادہ ہاتھ مارتا ہے جہاں اسے خدا کی بغاوت کا زیادہ موقع ملے. جیسے اللہ تعالی نےشیطان کا قول نقل کیا ہے...
فبما اغویتنی لاقعدن لھم صراطک المستقیم
(شیطان نے خدا سے کہا) جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو میں بھی تیری صراط مستقیم پر ضرور لوگوں کی گھات میں بیٹھا رہوں گا (اور انہیں گمراہ کرتا رہوں گا)
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
میں نے آج تک ایک بھی آدمی ایسا نہیں دیکھا چاہے وہ کسی ڈاکٹر کا ستایا ہوا کیوں نہ ہو اور وہ اپنی جسمانی تکلیف کے وقت ڈاکٹر کے پاس نہ جانے کا سوچے بھی، جبکہ ایسے کئی لوگ دیکھے جو کسی مولوی سے دھوکہ کھائے بغیر بھی تہیہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں چاہے روحانی تکلیف کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو کسی مولوی کے پاس نہ جائیں گے
یہ تو پھر لوگوں کے مولویوں سے بغض کا قصور ہے۔ میں نے نیم مولوی اسی لئے لکھا تھا۔ پیری مریدی، مدرسوں میں دی جانی والی غیر معیاری اسلامی تعلیم کا سدباب کیا جا سکتا ہے اگر یہاں بھی سائنسی معیار کی ڈگری لازمی کر دی جائے۔
 

جاسم محمد

محفلین
آپ جہاندیدہ آدمی ہو آپ کو تو بھیڑ چال پسند نہیں ہونی چاہیے
دراصل اسلام کا علم آپ عام پبلک و نجی یونیورسٹیز میں پڑھ کر حاصل کر سکتے ہیں اور کسی مسلک یا فرقہ کے زیر نگرانی چلنے والے مدارس میں بھی۔ اسی لئے کہا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں معیاری اسلامی تعلیم دی جاتی ہے تو اس پر مزید بحث نہیں کروں گا۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
دراصل اسلام کا علم آپ عام پبلک و نجی یونیورسٹیز میں پڑھ کر حاصل کر سکتے ہیں اور کسی مسلک یا فرقہ کے زیر نگرانی چلنے والے مدارس میں بھی۔ اسی لئے کہا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں معیاری اسلامی تعلیم دی جاتی ہے تو اس پر مزید بحث نہیں کروں گا۔
میں عرض کر رہا ہوں کہ آپ مجھ پر یا کسی اور پر اعتبار کرتے ہی کیوں ہیں ایک منصف کا کام دونوں طرف کے دلائل کا بخوبی جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے اگر تو آپ خود کو کسی دھوکے میں رکھنا چاہتے ہیں تو دوسری بات ہے ورنہ جس نزدیکی سے آپ نے یونیورسٹیوں کو دیکھا ہے کم سے کم اتنا حق تو اُسی لیول کے مدارس کا بھی بنتا ہے جس لیول کے یونیورسٹیوں کو آپ دیکھ کر مرعوب ہیں
 

سید عمران

محفلین
یہ تو پھر لوگوں کے مولویوں سے بغض کا قصور ہے۔ میں نے نیم مولوی اسی لئے لکھا تھا۔ پیری مریدی، مدرسوں میں دی جانی والی غیر معیاری اسلامی تعلیم کا سدباب کیا جا سکتا ہے اگر یہاں بھی سائنسی معیار کی ڈگری لازمی کر دی جائے۔
اتر گئے پٹڑی سے!!!
 

سید عمران

محفلین
آپ سمجھتے ہیں کہ مدرسوں میں دی جانے والی اسلامی تعلیم معیاری ہے تو میں مزید بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔
غیر معیاری کتب یا طرز تعلیم میں کمی کی جانب واضح نشاندہی کی جائے...
تاکہ فی الفور اس پر قابو پا کے اصلاح کریں!!!
 

جاسم محمد

محفلین
میں عرض کر رہا ہوں کہ آپ مجھ پر یا کسی اور پر اعتبار کرتے ہی کیوں ہیں ایک منصف کا کام دونوں طرف کے دلائل کا بخوبی جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے اگر تو آپ خود کو کسی دھوکے میں رکھنا چاہتے ہیں تو دوسری بات ہے ورنہ جس نزدیکی سے آپ نے یونیورسٹیوں کو دیکھا ہے کم سے کم اتنا حق تو اُسی لیول کے مدارس کا بھی بنتا ہے جس لیول کے یونیورسٹیوں کو آپ دیکھ کر مرعوب ہیں
غیر معیاری کتب یا طرز تعلیم میں کمی کی جانب واضح نشاندہی کی جائے...
تاکہ فی الفور اس پر قابو پا کے اصلاح کریں!!!
میں پہلے بھی دو بار عرض کر چکا ہوں کہ اگر آپ مدارس میں دی جانے والی اسلامی تعلیم کو معیاری سمجھتے ہیں تو میری طرف سے مزید بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن آپ دونوں پھر بھی میرے سے بار بار سوال پوچھ کر خود ہی یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شاید واقعی میں ایسا ہی ہے :)
 

فاخر رضا

محفلین
دخل در معقولات کے لیے پیشگی معذرت، لیکن ان دو نکاتِ نظر کےبیچ ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے، یہ قرآنی دعا ہے (اور مجھے بھی بہت پسند ہے) اور اس میں صرف دنیا یا آخرت کی نہیں، بلکہ دونوں جہانوں میں عافیت اور کامیابی کی دعا ہے:
رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ
اس سے کیا انکار
سر تسلیم خم
 
Top