تعارف بہت مختصر سا تعارف ہے میرا

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
اللہ اللہ کریں۔ وہ پہلے سے اپنی لڑی کا ماتم منا رہے ہیں اور آپ پھر وہیں جانے کی دعوت دے رہی ہیں
تو کس نے کہا تھا کہ اتنا لمبا عرصہ غائب ہو جائیں۔
اب ہاتھ لگے ہیں تو بھگتیں نا۔ اسی طرح ہی سیکھیں گے۔
ہمیں لگا کہ ان کی غیر موجودگی میں اس لڑی میں ہم میزبان بن جائیں کچھ دیر کو۔ :ROFLMAO:
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
یہ ایک سرائیکی گانے کے بول ہیں جس میں سوہنی کہتی ہے کہ "میں نے ایک غلطی کی تھی جس کی وجہ ساری رات میں دریا کے رحم و کرم پر رہی"
مجھے وہ گانا بے اختیار یاد آ رہا ہے :cry2::cry2:

وہ بیچاری تو کہتی رہی

" مینوں پار لنگھا دے وے گھڑیا منتاں تیریاں کردی"

بدلا کس نے تھا بھلا گھڑا۔۔ بھابی نے یا کسی اور نے؟
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
کہتے تو ایسے ہی ہیں لیکن اس کہانی کے بھی کئی ورژن بن گئے
ہمیں تو صرف بھابی والے کا پتہ ہے تبھی تو ہم بھابیوں سے کوئی جھگڑا کرتے ہی نہیں ۔ ویسے تو وہ بھی اچھی ہیں لیکن وقت اور حالات کا کیا بھروسہ۔

باقی ورژن کیا ہیں بھلا؟
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
مراسلات لکھنا الگ بات ہے۔۔۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ جبکہ کہانی یا افسانہ لکھنے میں سب سے ضروری چیز تسلسل برقراررکھنا ہے۔ اور تسلسل برقرار رکھنے کے لئے اپنے خیالات کو مرکوز رکھنا۔ یہی مار کھا جاتے ہیں ہم۔

یہ متلون مزاجی صرف لکھنے کی حد تک ہے یا ------
یا کے آگے اگر تو سوال رشتہ یا تعلق کے بارے ہے تو بالکل نہیں۔ نبھاتے ہیں ، چاہے یکطرفہ ہی کیوں نہ ہوں۔ بس روز مرہ کے کام یا کسی بھی پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں یہ متلون مزاجی حاوی ہوتی ہے۔ نقصآن دہ ہر گز نہیں ہے کہ ہر کام کو مکمل ہونے کے لئے وقت چاہئیے ہوتا ہے۔ اور جب ایک ساتھ کئی کام شروع کئے ہوں تو ٹائم تو لگتا ہے نا۔
 
جی یہ تو پھر بہت مثبت رویہ ہے اور سراہے جانے کے لائق ہے
ورنہ تو ایک شاعر کے بقول
ﺗﻌﻠﻖ ﺟﻮﮌ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ، ﻧﺒﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻧﯿﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
جی یہ تو پھر بہت مثبت رویہ ہے اور سراہے جانے کے لائق ہے
ورنہ تو ایک شاعر کے بقول
ﺗﻌﻠﻖ ﺟﻮﮌ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ، ﻧﺒﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻧﯿﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
سراہنے سے زیادہ اگر کوئی مثبت لے اور خود پہ لاگو کر لے تو تعریف اپنے آپ وصول ہو جاتی ہے۔
تعلق الہامی ہوں ، بے غرض ہوں، بے مطلب ہوں تو ٹوٹتے نہیں ہیں۔ دل و روح سے بنائے اور قبول کئے رشتے قائم دائم رہتے ہیں،انھیں زنجیروں سے باندھ کر رکھنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔

بقول شاعر
ہو تعلق اگر تو روح سے ہو
دل تو اکثر بھر جایا کرتے ہیں
 
سراہنے سے زیادہ اگر کوئی مثبت لے اور خود پہ لاگو کر لے تو تعریف اپنے آپ وصول ہو جاتی ہے۔
تعلق الہامی ہوں ، بے غرض ہوں، بے مطلب ہوں تو ٹوٹتے نہیں ہیں۔ دل و روح سے بنائے اور قبول کئے رشتے قائم دائم رہتے ہیں،انھیں زنجیروں سے باندھ کر رکھنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔

بقول شاعر
ہو تعلق اگر تو روح سے ہو
دل تو اکثر بھر جایا کرتے ہیں

بہترین! آپ کے لکھے سے مکمل اتفاق ہے
اللہ پاک خود پر لاگو کرنے کی توفیق عطا فرمائے
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
Top