لبیک یا رسول اللہ کا ملک کے مختلف شہروں کی اہم شاہراہوں پردھرنا، بدترین ٹریفک جام

جاسم محمد

محفلین
دونوں صورتوں میں اپنی بدنامی ہے۔ بل پاس ہوگیا تو کیا فرانس سے تعلقات توڑنے کی ہمت ہے؟ بل پاس نہ ہوا تو ’’ کالعدم‘‘ جماعت کو کیا منہ دکھائیں گے جسے کالعدم قرار دینے کے بعد اس سے مذاکرات کررہے ہیں۔
تیسری صورت یعنی تحریک لبیک کے خلاف ریاستی ایکشن میں بھی اپنی بدنامی ہے۔ اگر ریاستی ایکشن کامیاب ہو گیا تو لاشیں گریں گی جس پر دیسی لبرلز پوری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو حکومت کے خلاف اکٹھا کر لیں گے۔ اور کالعدم تحریک لبیک والوں کو جمہوری انقلابی لوگ ثابت کریں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
نااہل حکومت ہے کوئی کام ڈھنگ کا نہیں کرسکتی
کوئی کام کرنے دے تو ڈھنگ سے ہو۔ تحریک لبیک دھرنا دے تو ریاستی رٹ کہاں ہے؟ ریاستی رٹ قائم کرے تو انسانی حقوق کہاں ہیں؟ انسانی حقوق دے تو کالعدم تحریک سے معاہدہ کیوں کیا؟ یہ عوام ہے یا منافقین کا گروہ؟
 

علی وقار

محفلین
اگر ٹھنڈے دماغ سے غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ 2017 میں تحریک لبیک سے معاہدے کے لیے فوج کا دباؤ شامل تھا۔ اس وقت فوج اور حکومت ایک پیج پر ہوتے تو وہ معاہدہ نہ ہو پاتا اور کسی جتھے کے لیے مطالبے منوانا آسان نہ رہتا۔ اس کے بعد ایک پیج والی حکومت آئی مگر جتھہ بازوں نے فوجیوں کو بھی لفٹ دینے سے انکار کر دیا۔ یہ غلط روایت قائم کرنے میں فیض حمید اینڈ کمپنی نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
 
تیسری صورت یعنی تحریک لبیک کے خلاف ریاستی ایکشن میں بھی اپنی بدنامی ہے۔ اگر ریاستی ایکشن کامیاب ہو گیا تو لاشیں گریں گی جس پر دیسی لبرلز پوری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو حکومت کے خلاف اکٹھا کر لیں گے۔ اور کالعدم تحریک لبیک والوں کو جمہوری انقلابی لوگ ثابت کریں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے کیا خوب کہا ہے؛

‘ہمارے ملک کے وزیراعظم کی باتوں سے ہر آدمی پریشان ہے’ - Videos - Dawn News
 

جاسم محمد

محفلین
معاہدے کے بعد مجبوری بن گئی ہے کیونکہ کافی عرصہ سے یہ روایت قائم ہو گئی تھی کہ ایک جتھہ مطالبے منوا سکتا ہے۔ یہ غلط ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، مگر ایسا ہو رہا ہے اور یہ تو ہو کر رہنا تھا۔
معاہدے کے بعد مجبوری نہیں بنی، مجبوری کے تحت معاہدہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ تحریک لبیک والوں کی تاریخ ہے کہ وہ مطالبات پورے ہونے تک یا معاہدہ ہونے تک اپنا دھرنا نہیں سمیٹتے۔ اسی لئے حکومت کو چار و ناچار دھرنا ختم کرنے کیلیے ان کیساتھ معاہدہ یا مطالبات تسلیم کرنے پڑتے ہیں۔ دوسری صورت کریک ڈاؤن، خون خرابہ اور لاشوں کا گرنا ہے جس پر الٹا حکومت کیخلاف دیسی لبرلز کریک ڈاؤن کر دیتے ہیں
 

جاسم محمد

محفلین
اگر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ 2017 میں تحریک لبیک سے معاہدے کے لیے فوج کا دباؤ شامل تھا۔
مشرف نے تو لال مسجد والوں کیساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ انہوں نے بھی پولیس آفیسرز اغوا کر کے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا تھا۔ اس وقت بھی دیسی لبرل کہتے تھے کہاں ہے ریاستی رٹ؟ اور جب مشرف نے ریاستی رٹ دکھائی۔ لال مسجد میں لاشیں گری تو وہی دیسی لبرل انسانی حقوق کا پروپیگنڈہ کر کر کے عوام کو مشرف کے خلاف کر گئے۔
 

علی وقار

محفلین
مشرف نے تو لال مسجد والوں کیساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ انہوں نے بھی پولیس آفیسرز اغوا کر کے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا تھا۔ اس وقت بھی دیسی لبرل کہتے تھے کہاں ہے ریاستی رٹ؟ اور جب مشرف نے ریاستی رٹ دکھائی۔ لال مسجد میں لاشیں گری تو وہی دیسی لبرل انسانی حقوق کا پروپیگنڈہ کر کر کے عوام کو مشرف کے خلاف کر گئے۔
وہ جتھہ لے کر نہیں چڑھ دوڑے تھے گو کہ ریاستی رٹ کو للکارنے کی ان کی روش بھی غلط تھی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر اس حوالے سے قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسی نا خوشگوار صورت حال پیدا نہ ہو ورنہ اگلا جتھہ طالبان والے لے کر آئیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ آج سے تحریک لبیک دوسری بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے۔ پہلے نمبر پر کسی کو بھی رکھ لیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
وہ جتھہ لے کر نہیں چڑھ دوڑے تھے گو کہ ریاستی رٹ کو للکارنے کی ان کی روش بھی غلط تھی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر اس حوالے سے قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسی نا خوشگوار صورت حال پیدا نہ ہو ورنہ اگلا جتھہ طالبان والے لے کر آئیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ آج سے تحریک لبیک دوسری بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے۔ پہلے نمبر پر کسی کو بھی رکھ لیں۔
کالعدم تنظیموں اور جماعتوں کیخلاف ریاستی کریک ڈاؤن کی قانون سازی پہلے سے موجود ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت جو کچھ بھی کرتی ہے ضرورت سے زیادہ ذہین عوام اس کے ہر اقدام میں سے کیڑے نکال لیتی ہے۔
اگر حکومت تحریک لبیک کو آزادی سے دھرنے دینے دے اور بالکل کوئی مداخلت نہ کرے تو عوام حکومت پر چڑھ دوڑتی ہے کہ ریاستی رٹ قائم کریں، دھرنے کو اٹھوائیں۔
حکومت پر امن طریقہ سے دھرنا ختم کرنے کیلئے مذاکرات کر لے تو وہی عوام حکومت پر چڑھ دوڑتی ہے کہ ان جتھوں کیساتھ مذاکرات کیوں کئے؟ ریاست نے گھٹنے کیوں ٹیکے؟
اور اگر حکومت دھرنے والوں کے مطالبات تسلیم کیے بغیر ان پر طاقت کا استعمال کرے تو وہی عوام حکومت پر چڑھ دوڑتی ہے کہ یزیدیوں نے عاشقین رسول شہید کر دیے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں پوری دنیا کو حکومت کے خلاف اکٹھا کر لیتی ہیں کہ دیکھیں کیسے حکومت جمہوری انقلابیوں پر جبر و تشدد کر رہی ہے۔
ایسی عجیب صورت حال میں بتائیں کونسا قانون اور کونسی حکومت ان جتھوں کیخلاف کوئی کامیاب کاروائی کر سکے گی؟ جب عوام خود شدید کنفیوژن کا شکار ہو کہ اسے حکومت سے چاہئے کیا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
مجھے لگتا ہے کہ آج سے تحریک لبیک دوسری بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے۔ پہلے نمبر پر کسی کو بھی رکھ لیں۔
پاکستان میں جس سیاسی جماعت کی لاشیں گر جائیں وہ عوام میں وقتی طور پر ہی سہی، بے انتہا مقبول ہو جاتی ہے۔ قوم کا مزاج ہی کچھ ایسا ہے۔
 

علی وقار

محفلین
کالعدم تنظیموں اور جماعتوں کیخلاف ریاستی کریک ڈاؤن کی قانون سازی پہلے سے موجود ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت جو کچھ بھی کرتی ہے ضرورت سے زیادہ ذہین عوام اس کے ہر اقدام میں سے کیڑے نکال لیتی ہے۔
اگر حکومت تحریک لبیک کو آزادی سے دھرنے دینے دے اور بالکل کوئی مداخلت نہ کرے تو عوام حکومت پر چڑھ دوڑتی ہے کہ ریاستی رٹ قائم کریں، دھرنے کو اٹھوائیں۔
حکومت پر امن طریقہ سے دھرنا ختم کرنے کیلئے مذاکرات کر لے تو وہی عوام حکومت پر چڑھ دوڑتی ہے کہ ان جتھوں کیساتھ مذاکرات کیوں کئے؟ ریاست نے گھٹنے کیوں ٹیکے؟
اور اگر حکومت دھرنے والوں کے مطالبات تسلیم کیے بغیر ان پر طاقت کا استعمال کرے تو وہی عوام حکومت پر چڑھ دوڑتی ہے کہ یزیدیوں نے عاشقین رسول شہید کر دیے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں پوری دنیا کو حکومت کے خلاف اکٹھا کر لیتی ہیں کہ دیکھیں کیسے حکومت جمہوری انقلابیوں پر جبر و تشدد کر رہی ہے۔
ایسی عجیب صورت حال میں بتائیں کونسا قانون اور کونسی حکومت ان جتھوں کیخلاف کوئی کامیاب کاروائی کر سکے گی؟ جب عوام خود شدید کنفیوژن کا شکار ہو کہ اسے حکومت سے چاہئے کیا ہے۔
عوام کو جنہوں نے کنفیوز کیا ہے اُن کا نام لیتے ہوئے نہ ڈریں۔
 

علی وقار

محفلین
آئین کبھی کلاہ پہن لیتا ہے، کبھی ہیٹ۔ کبھی یہ مسٹر بن جاتا ہے تو کبھی مولانا۔ عوام کہاں جا کر ٹکریں مارے۔ اس قوم کو چاہیے کہ محمد علی جناح کے بتائے گئے راستے پر ہی چلے۔ مگر بار بار کے سمجھوتوں نے معاملات کو اس نہج تک پہنچا دیا کہ جتھے باز ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے لگ گئے۔ تحریک لبیک عوام سے ووٹ لے کر آئے اور تب جو کچھ کرنا چاہتی ہے، کرے۔ یہ مطالبہ جتھے کے زور پر منوانا غلط ہے مگر جنہوں نے یہ روایت قائم کروائی ہے، ان کو مورد الزام نہ ٹھہرانا اس سے بھی زیادہ غلط ہے۔ بائیس کروڑ کی آبادی میں سے اسلام آباد فتح کرنے کے لیے پچاس ہزار بھی بہت ثابت ہوتے ہیں۔ پس، ملکی مستقبل مزید مخدوش ہو گیا۔
 

جاسم محمد

محفلین
عوام کو جنہوں نے کنفیوز کیا ہے اُن کا نام لیتے ہوئے نہ ڈریں۔
خلائی مخلوق کی زیادہ سے زیادہ تعداد ۵ لاکھ ہے۔ کل عوام ۲۰ کروڑ سے زائد ہے۔ ہر الیکشن میں مختلف جماعتوں کو کروڑوں ووٹ پڑتا ہے۔ گرمی میں گھنٹوں لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ عوام ڈالتی ہے خلائی مخلوق نہیں۔ سوشل میڈیا آزاد ہے اور وہاں خلائی مخلوق کے خلاف بھرپور بات ہوتی ہے۔ اگر اب بھی کسی کو سارا الزام انہی پر ڈالنا ہے تو ڈالتا رہے۔ عوام بہرحال اپنے غلط فیصلوں کی خود ذمہ دار ہے۔
 

علی وقار

محفلین
خلائی مخلوق کی زیادہ سے زیادہ تعداد ۵ لاکھ ہے۔ کل عوام ۲۰ کروڑ سے زائد ہے۔ ہر الیکشن میں مختلف جماعتوں کو کروڑوں ووٹ پڑتا ہے۔ گرمی میں گھنٹوں لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ عوام ڈالتی ہے خلائی مخلوق نہیں۔ سوشل میڈیا آزاد ہے اور وہاں خلائی مخلوق کے خلاف بھرپور بات ہوتی ہے۔ اگر اب بھی کسی کو سارا الزام انہی پر ڈالنا ہے تو ڈالتا رہے۔ عوام بہرحال اپنے غلط فیصلوں کی خود ذمہ دار ہے۔
خلائی مخلوق کا واقعی سراغ نہیں ملا اس لیے اس کا کوئی وجود نہیں۔ آپ نے درست کہا۔ اس مراسلے پر پُر مزاح کی ریٹنگ دینا منع ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
آئین کبھی کلاہ پہن لیتا ہے، کبھی ہیٹ۔ کبھی یہ مسٹر بن جاتا ہے تو کبھی مولانا۔ عوام کہاں جا کر ٹکریں مارے۔ اس قوم کو چاہیے کہ محمد علی جناح کے بتائے گئے راستے پر ہی چلے۔ مگر بار بار کے سمجھوتوں نے معاملات کو اس نہج تک پہنچا دیا کہ جتھے باز ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے لگ گئے۔ تحریک لبیک عوام سے ووٹ لے کر آئے اور تب جو کچھ کرنا چاہتی ہے، کرے۔ یہ مطالبہ جتھے کے زور پر منوانا غلط ہے مگر جنہوں نے یہ روایت قائم کروائی ہے، ان کو مورد الزام نہ ٹھہرانا اس سے بھی زیادہ غلط ہے۔ بائیس کروڑ کی آبادی میں سے اسلام آباد فتح کرنے کے لیے پچاس ہزار بھی بہت ثابت ہوتے ہیں۔ پس، ملکی مستقبل مزید مخدوش ہو گیا۔
۱۹۵۳ اینٹی قادیانی فسادات۔ مذہبی جتھوں نے لاہور میں پہلا مارشل لا لگوایا۔ فوج کو سول انتظامی امور میں گھسنے کا پہلا موقع فراہم کیا۔ مارشل لا حکومت نے آئین و قانون کے مطابق مذہبی جتھوں کے لیڈران کو سزائے موت دی۔ شدید عوامی دباؤ پر (جیسا کہ آج ہے) فیصلہ تبدیل کر کے عمر قید اور بعد میں عام معافی دے دی۔
عوام ریاست کو آئینی و قانونی رٹ قائم کرنے دے تو نظام ٹھیک ہو۔ ۱۹۵۳ سے ایک تسلسل ہے کہ مشتعل جتھے لیکر ریاست پر حملہ کر دو اور جب ریاست آئین و قانون پر عملداری کرے تو عوامی دباؤ سے ان سخت فیصلوں کو واپس کروا لو۔ پھر اگلے حملے کی تیاری کرو۔ اگر آج ریاست ان جتھوں کے آگے بے بس ہے تو اس کی بنیادی وجہ عوام کا ریاست کو آئین و قانون کی عملداری سے روکنا ہے۔
1953 Lahore riots - Wikipedia
 

جاسم محمد

محفلین
یہ فیصلہ کس نے تبدیل کیا تھا؟
حکومت نے شدید عوامی دباؤ پر اینٹی قادیانی فسادات کے ماسٹر مائینڈ مولانا مودودی کو عین قانونا دی جانے والی سزائے موت دو دن کے اندر اندر عمر قید میں تبدیل کروا دی۔ اور پھر دو سال بعد ہی اسے چھوڑنا پڑا تاکہ آئیندہ بھی مذہبی فسادات جاری رکھ سکے۔

Maudoodi (1903-1979), Maulana Abul Ala | Sciences Po Mass Violence and Resistance - Research Network
اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ تحریک لبیک کے ہر مذہبی فسادات کے بعد عوامی دباؤ پر حکومت کو ان کے لیڈران کے خلاف مقدمات واپس لینے پڑتے ہیں۔ اور یوں عوامی حمایت کیساتھ ان مذہبی جتھوں کا ریاست پر حملے کا تسلسل قائم و دائم رہتا ہے۔
 

علی وقار

محفلین
حکومت نے شدید عوامی دباؤ پر اینٹی قادیانی فسادات کے ماسٹر مائینڈ مولانا مودودی کو عین قانونا دی جانے والی سزائے موت دو دن کے اندر اندر عمر قید میں تبدیل کروا دی۔ اور پھر دو سال بعد ہی اسے چھوڑنا پڑا تاکہ آئیندہ بھی مذہبی فسادات جاری رکھ سکے۔

Maudoodi (1903-1979), Maulana Abul Ala | Sciences Po Mass Violence and Resistance - Research Network
اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ تحریک لبیک کے ہر مذہبی فسادات کے بعد عوامی دباؤ پر حکومت کو ان کے لیڈران کے خلاف مقدمات واپس لینے پڑتے ہیں۔ اور یوں عوامی حمایت کیساتھ ان مذہبی جتھوں کا ریاست پر حملے کا تسلسل قائم و دائم رہتا ہے۔
غلطی لگ گئی آپ کو۔
کیا غلط تھا یا صحیح تھا اسے ایک طرف رکھیں، انہیں دو دن بعد رہا نہیں کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد کئی سال یا شاید دو سال کے بعد رہائی ممکن ہوئی۔ انہیں کوئی جتھہ چھڑا کر نہیں لے گیا تھا۔
تب کا پاکستان پھر بھی کسی قاعدے قانون پر چلتا تھا۔
کہنے کا مقصد یہ کہ، یوں نہیں ہوتا تھا کہ کوئی جتھہ آئے، آپ کی گردن دبوچ لے، اور اپنے بندے چھڑوا کر لے جائے۔ نہ کوئی جرح، نہ کوئی سوال۔ نہ کوئی مقدمہ، نہ عدالت میں پیشی۔
 

جاسم محمد

محفلین
غلطی لگ گئی آپ کو۔
کیا غلط تھا یا صحیح تھا اسے ایک طرف رکھیں، انہیں دو دن بعد رہا نہیں کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد کئی سال یا شاید دو سال کے بعد رہائی ممکن ہوئی۔ انہیں کوئی جتھہ چھڑا کر نہیں لے گیا تھا۔
تب کا پاکستان پھر بھی کسی قاعدے قانون پر چلتا تھا۔
ریاست یا حکومت جو بھی فیصلہ کر لے۔ اگر عوام اس کا ساتھ ہی نہ دے تو وہ کیا اکھاڑ لے گی؟ بھٹو کو قصوری کے قتل پر سزائے موت ہوئی۔ وہ ابھی تک سندھ میں زندہ ہے۔ ممتاز قادری کو سلمان تاثیر کے قتل پر سزائے موت ہوئی۔ وہ آج بھی ایک بڑے مذہبی طبقہ میں “شہید” بنا ہوا ہے۔ اس کا جنازہ دیکھنے والا تھا۔
جب عوام حکومتی یا ریاستی فیصلوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھے گی تو نظام ٹھیک کہاں سے ہوگا؟ ہر پانچ سال بعد مختلف سیاسی جماعتوں کو اعتماد کا ووٹ دے دینا کافی نہیں ہے۔ جب تک عوام حکومتی و ریاستی فیصلوں پر اعتماد نہیں کرتی یہ مسائل چلتے رہیں گے۔
 

علی وقار

محفلین
ریاست یا حکومت جو بھی فیصلہ کر لے۔ اگر عوام اس کا ساتھ ہی نہ دے تو وہ کیا اکھاڑ لے گی؟ بھٹو کو قصوری کے قتل پر سزائے موت ہوئی۔ وہ ابھی تک سندھ میں زندہ ہے۔ ممتاز قادری کو سلمان تاثیر کے قتل پر سزائے موت ہوئی۔ وہ آج بھی ایک بڑے مذہبی طبقہ میں “شہید” بنا ہوا ہے۔ اس کا جنازہ دیکھنے والا تھا۔
جب عوام حکومتی یا ریاستی فیصلوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھے گی تو نظام ٹھیک کہاں سے ہوگا؟ ہر پانچ سال بعد مختلف سیاسی جماعتوں کو اعتماد کا ووٹ دے دینا کافی نہیں ہے۔ جب تک عوام کو حکومتی و ریاستی فیصلوں پر اعتماد نہیں آتا یہ مسائل چلتے رہیں گے۔
عوام سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا آپ بائیس کروڑ کی آبادی میں سے پچاس ساٹھ ہزار افراد کے اکٹھ کو عوام سمجھتے ہیں۔ یہ تو درست بات نہیں۔
 
Top