صوبہ سرحد کا نام

جہانزیب

محفلین
صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے پختونستان، پختونخواہ یا افغانیہ رکھنے میں کیا قباحت ہے؟
اور اس سلسلے میں جن لوگوں کو اختلافات ہیں اُن کی وجوہات کیا ہیں؟
 

زیک

مسافر
مجھے افغانیہ پر اعتراض ہے مگر پختونخواہ ٹھیک ہے اگر سرحد کے لوگ چاہیں۔ افغانیہ سے افغانستان کے ساتھ مسائل پیدا ہوتے ہیں کہ انہوں نے ابھی تک پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد کو نہیں مانا۔
 

اعجاز

محفلین
بھائی ۔ صوبے بڑھاؤ پھر نام رکھو جو رکھنا ہے
میرے خیال میں‌ لیکن لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، سکھر، کراچی، ملتان 7 صوبے ہونے چاہئیں۔ تاکہ انکا انتظام آسان ہو۔
 

اعجاز

محفلین
اور یہ کم سے کم 7 صوبے ہیں۔ صوبے بڑھائے بغیر نام رکھنا زیادتی ہوگی ان صوبوں میں‌ دوسری قومیت کے ساتھ۔
 

ساجداقبال

محفلین
میرے خیال میں یہ کام 60 سال پہلے ہو جانا چاہیے تھے۔ ذاتی طور پر مجھے ”خیبر“ پسند ہے۔ پشتو شاعری میں سرحد کو اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ لیکن پختونخواہ بھی برا نہیں۔ اب سرحد، فرنٹئیر تو کوئی نام نہ ہوا ناں۔ میرے خیال میں اس فرسودہ نام کو نئی اسمبلی پہلے ہی ہفتے تبدیل کرے اور اس فضول کی بحث سے جان چھڑوائے۔
 

جہانزیب

محفلین
یہی تو میرا سوال تھا کہ جب کسی کو بھی سرحد کا نام بدلنے پر اعتراض نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ اتنے سالوں میں یہ ایشو اتنی بار اُٹھا ہے تب بھی ابھی تک نام وہی سرحد کیوں ہے؟ جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں اُن کے دلائل کیا ہیں اس بارے میں؟ اگر کسی کو معلوم ہو تو ۔
ایک بات جو میرے ذہن میں آتی ہے کہ اللہ کے کرم سے پاکستان میں اگر کسی بھی مسلہ کو سیاسی مسلہ بنا دیا جائے تو پھر اُس کو حل کرنا نا ممکنات میں سے ہے، اور شاید اس مسلہ کو بھی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے سیاسی رُخ دے دیا ہے، مخالفت اور میرے خیال میں حمایت کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی دل سے اس کو الجھائے رکھنا چاہتی ہیں کہ عوام کی ہمدردی انہیں حاصل رہے ۔
 

فرضی

محفلین
سرحد کو جتنا جلدی ہوسکے نام ملنا چاہیے۔ پشتونوں کی احساس محرومی کا کچھ ازالہ ہوسکے گا۔ یقین جانیے جتنی نفرت نام کے مسلے پر پشتونوں میں پھیلائی جارہی ہے وہ پاکستان کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ اگر اکثریتی آبادی کے امنگوں کے مطابق سرحد کو پختونخواہ کا نام دے دیا جائے تو بہت اچھا ہوگا۔ پشتون آپس میں بات کرتے ہوئے سرحد کو اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔
 

اعجاز

محفلین
یہی تو میرا سوال تھا کہ جب کسی کو بھی سرحد کا نام بدلنے پر اعتراض نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ اتنے سالوں میں یہ ایشو اتنی بار اُٹھا ہے تب بھی ابھی تک نام وہی سرحد کیوں ہے؟ جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں اُن کے دلائل کیا ہیں اس بارے میں؟ اگر کسی کو معلوم ہو تو ۔
ایک بات جو میرے ذہن میں آتی ہے کہ اللہ کے کرم سے پاکستان میں اگر کسی بھی مسلہ کو سیاسی مسلہ بنا دیا جائے تو پھر اُس کو حل کرنا نا ممکنات میں سے ہے، اور شاید اس مسلہ کو بھی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے سیاسی رُخ دے دیا ہے، مخالفت اور میرے خیال میں حمایت کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی دل سے اس کو الجھائے رکھنا چاہتی ہیں کہ عوام کی ہمدردی انہیں حاصل رہے ۔

ایک مسئلہ تو یہ ہے کے جیسے ملتان میں‌ رہنے والوں کو پنجابی کہلانا بہت پسند نہیں‌ ہے شاید اسی طرح ہزارہ والوں کو پختونخوا نا بھائے۔ تو کیا ضرورت ہے نیا مسئلہ کھڑا کرنے کا۔
 

ثناءاللہ

محفلین
اعجاز صاحب آپ کی بات درست ہے۔
میرے خیال میں جب پاکستان کا نام رکھا گیا تھا تو اس میں پانچ صوبوں کے ناموں کو ملا کر یہ نام رکھا گیا تھا
جیسے:
پاکستان
پ : پنجاب
ا: افغانیہ (صوبہ سرحد کا نام)
ک: کشمیر
س: سندھ
اور
تان: بلوچستان

اور میرے خیال سے افغانیہ بہتر رہے گا
 

ظفری

لائبریرین
ایک مسئلہ تو یہ ہے کے جیسے ملتان میں‌ رہنے والوں کو پنجابی کہلانا بہت پسند نہیں‌ ہے شاید اسی طرح ہزارہ والوں کو پختونخوا نا بھائے۔ تو کیا ضرورت ہے نیا مسئلہ کھڑا کرنے کا۔
صوبوں کے نام شایداکثریت پر رکھے گئے ہیں ۔ جس صوبے میں جس کی اکثریت ہے اس کا نام بھی اسی اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے ۔ ملتان اور اس سے محلقہ علاقوں میں اور بھی قومیں آباد ہیں ۔ مگراکثریت پنجابیوں کی ہے اس لیئے صوبہ پنجاب کہلوانے کو ترجیح دی گئی ۔ اسی طرح سندھ اور بلوچستان میں بھی کئی اور قومیں آباد ہیں ۔ مگر آبادی کی تناسب سے وہاں بھی یہی سلوک روا رکھا گیا ۔ جیسا کہ اب پاکستان میں مسلمانوں کیساتھ ، ہندو ، عیسائی ، سکھ ، پارسی اور دیگر مذہب کے ماننے والے بھی رہتے ہیں ۔ مگر اس کو مسلمانوں کی اکثریت کی بناء پر "اسلامی جہموریہ پاکستان " کہا جاتا ہے ۔ ( اگر مسلمان یہاں‌اقلیت میں ہوتے تو کیا پاکستان کا نام یہی ہوتا ۔ ؟ ) یہی صورتحال صوبہ سرحد میں بھی ہے کہ وہاں پٹھانوں کی اکثریت ہے ۔ اس لیئے صوبہ کے نام میں ان کی اکثریت کو واضع ہونا چاہیئے اور یہ کوئی بے جا مطالبہ نہیں ہے ۔ مگر اس مطالبے کو سیاسی اکھاڑہ بنا لیا گیا ہے ۔ جس کا اب سدِ باب کرنے کا وقت آگیا ہے ۔
 

ڈاکٹر عباس

محفلین
میرا خیال ہے کہ اس صوبے کا نام ضرور تبدیل ہونا چاہیے،اور اس میں کسی کی انا کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے
پنجاب کا نام کسی قومیت پر نہیں بلکہ پانچ دریاوں کی وجہ سے ہے ۔اور سندہ بھی دریائے سندہ ہی کی وجہ سے ہے۔
 

اعجاز

محفلین
اگر سرحد کا نام کچھ اور رکھنا ہے تو وہ تو وہی صحیح ہوگا جو وہاں‌ کے لوگ رکھیں گے۔ سو وہاں پر ووٹنگ کروا لینی چاہئیے۔

باقی صوبے بڑھانے پر کسی کو کیا اعتراض ہے؟
 

اعجاز

محفلین
بھائی یہی تو مسئلہ ہے کہ کسی بھی صوبے کی اکثریت یہ نہیں چاہے گی کہ اس کے صوبے کی تقسیم ہو ۔ ورنہ جناح پور اور سندھو دیش نہ بنانے میں کیا قباحت تھی ۔ ;)

ہاں‌تو بس یاد رکھیں کے کہیں‌کی بھی اقلیت بھی نہیں‌چاہے گی کہ وہاں کی اکثریت کو مزید فائدے ملیں۔ چاہے کسی بھی شکل میں۔
 

ظفری

لائبریرین
ہاں‌تو بس یاد رکھیں کے کہیں‌کی بھی اقلیت بھی نہیں‌چاہے گی کہ وہاں کی اکثریت کو مزید فائدے ملیں۔ چاہے کسی بھی شکل میں۔
یہ ناممکنات میں سے ہے ۔ بڑی طاقت چھوٹی طاقت کو ہمیشہ دباتی ہی آئی ہے ۔ مگر اس کے لیئے ایک ایسا نظام مرتب کیا جاسکتا ہے جو ان کے درمیان حقوق کے تفحظ کیساتھ محرومانہ احساس کا کچھ تدراک کرسکے ۔
 

زونی

محفلین
ہاں‌تو بس یاد رکھیں کے کہیں‌کی بھی اقلیت بھی نہیں‌چاہے گی کہ وہاں کی اکثریت کو مزید فائدے ملیں۔ چاہے کسی بھی شکل میں۔




ویسے صوبوں کو بانٹ کر اور زیادہ صوبے بنانے میں اکثریت کا کیا فائدہ مضمر ھے ، اور کیا سندھ ، بلوچستان اور باقی صوبوں کو علیحدہ کر دینے سے کیا پاکستان خوشحال ہو جائے گا ، میرے خیال میں اسطرح قوم پرستی کا جزبہ اور بڑھے گا اور کوئی صوبہ بھی محفوظ نہیں رھے گا،
 

زونی

محفلین
صوبوں کے نام شایداکثریت پر رکھے گئے ہیں ۔ جس صوبے میں جس کی اکثریت ہے اس کا نام بھی اسی اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے ۔



پنجاب کا نام اکثریت کے نام پہ نہیں بلکہ "پنج آب" یعنی پانچ دریاؤں کی مطابقت سے ھے جبکہ سندھ کا نام دریائے سندھ کی مناسبت سے ھے اور جو کہ پہلے سندھو کے نام سے جانا جاتا تھا اور لفظ ھندو بھی سندھو سے ہی ماخوذ ھے،
 
Top