مسجد قبلتین چند سوالات؟

ابن آدم

محفلین
کہا جاتا ہے کہ مسلمان جب مدینہ گئے تو پہلے ١٦-١٧ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے. نبی کریم ﷺ کی شدید خواہش تھی کہ مسلمانوں کو بیت الله کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے جو کہ پھر سوره بقرہ کی آیات ۱۴۲-۱۴۴ میں ۲ہجری میں جاکر ملی. ان آیات کی روایات/شان نزول ہے وہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے اور اس کو نبی کے ساتھ جوڑنا دین کے ساتھ ایک مذاق سے کم نہیں۔کہا جاتا ہے کہ:

"ظہر کا وقت ہو گیا اور لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ دو رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا اور اسی وقت آپ اور آپ کی اقتدا میں تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رخ پھر گئے۔ اس کے بعد مدینہ اور اطراف مدینہ میں اس کی عام منادی کی گئی۔ کیونکہ بیت المقدس مدینے کے شمال میں ہے جبکہ کعبہ جنوب میں اس لیے قبلہ تبدیل کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہوگا اور مقتدیوں کو صرف رخ ہی نہ بدلنا پڑا ہوگا بلکہ کچھ نہ کچھ انہیں بھی چل کر اپنی صفیں درست کرنا پڑی ہوں گی چنانچہ بعض روایات میں یہ تفصیل مذکور بھی ہے۔"

اہم ترین بات یہ ہے کہ دوران نماز اس نوعیت کی وحی آنا کہ صفوں کی ترتیب ہی تتر بتر ہوجائے، کیا نمازیوں کے ذہنی و قلبی خضوع و خشوع کے خلاف نہیں؟ کیا یہی وحی نماز کے بعد نازل نہیں ہو سکتی تھی کہ ہیجان انگیزی کی بجائے باوقار طریقے سے مسلمانوں کو جدید حکم سے آگاہ کردیا جاتا؟

اس پہلو کو کو اگر کچھ دیر کے لیے نظر انداز بھی کردیا جائے تو سوچنے کی بات ہے مقتدیوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ بیت اللہ کی جانب رخ کرنے کا حکم آگیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف رخ موڑلیے بلکہ سمجھ بھی لیا کہ نئی ترتیب کس طریقے سے وضع کرنی ہے؟ انہیں تو اب تک وحی سنائی نہیں گئی تھی کہ وہ مقصد سمجھ پاتے، اور سورہ بقرہ کی آیت ١٤٣ کہ جسکو اس وقوعے کی شان نزول مانا جاتا ہے تو اس سے بھی تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی جو بھی خواہش تھی (شان نزول کے مطابق مکہ کی جانب رخ کرنے کی) تو اسکا اظہار تو عام لوگوں کے سامنے اب تک کیا ہی نہیں گیا تھا کہ اسکی بنیاد پر مسلمان دوران نماز یہ قیاس لگاتے کہ اس خواہش کی تکمیل دوران نماز کسی وحی کی صورت میں ہو گئی ہے، لہذا صفوں کی از سر نو ترتیب بیت اللہ کی جانب رخ کرتے ہوئے بنالی جائے۔

نبی کریم ﷺ کی اگر بیت اللہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھنے کی خواہش کیا مدینہ آکر بیدار ہوئی؟ مکہ میں کیا ترتیب رہتی تھی؟ بعض لوگ اسکا جواب یہ دیتے ہیں کہ وہاں استقبال قبلتین ہوتا تھا کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان کھڑے ہوکر نماز کا اہتمام ہوا کرتا تھا، مکہ میں توآخر تک نناوے فیصد جماعت چھپ کر ہوتی تھی، اور اسکے لیے جو جگہ بیان ہوتے ہے، وہ دار ارقم ہے جو کہ بیت اللہ سے مشرق کی جانب ہے نہ کہ جنوب کی، لہذا وہاں رہتے ہوئے اس مبینہ فرضی استقبال قبلتین کا معاملہ ممکن تھا ہی نہیں۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ مسجد اقصی کی جانب رخ کرنے کا حکم مدینہ آیا تھا، تو سورہ بقرہ کی آیت ١۴۲ کی روشنی میں اس پہلی تبدیلی کے متعلق نادانوں نے سوال کیوں نہیں کیا تھا، جبکہ دوسری تبدیلی پر کہا گیا کہ نادان پوچھیں گے کہ تبدیلی کیوں ہوئی۔

اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ مانا جائے کہ شروع سے ہی بیت المقدس کی جانب رخ کرکے ادائیگی صلوة کا حکم تھا اور استقبال قبلتین صرف ایک امکانی صورت تھی جو کہ مکہ میں تو کسی قدر ممکن تھی مگر مدینہ آکر تو اسکا امکان مسدود ہوگیا تھا لہذا بیت اللہ کے قبلہ ہوجانے کی خواہش نے بھی وہیں آکر زیادہ شدت اختیار کرلی (ہوگی)، تو لامحالہ یہ سوال اٹھ جاتا ہے کہ آخر مکہ والوں کو دین ابراہیمی کی جانب ہی تو دعوت دی جارہی تھی اور وہ لوگ بیت اللہ، صفا مروہ، رمی جمرات وغیرہ کو حضرت ابراہیم سے متعلق جان کر ہی رسومات بجالاتے تھے۔ بیت اللہ کے سامنے آکر اپنے تئیں بلا روح اور خشیت کے کوئی رسمی نماز بھی ادا کرتے تھے جسکا ذکر قرآن میں بھی ہے، تو آخر مکہ والوں نے بیت اللہ کی مقابلہ میں ایک ایسی عبادت گاہ کو قبلہ بیان کرنے کی بات پر اعتراض کیوں نہ لگایا کہ جسکی نسبت خود یہودی حضرت ابراہیم کی بجائے دسیوں صدیوں بعد کے حضرت داود کی جانب کرتے تھے۔ مدینہ کے نادانوں سے پہلے تو یہ سوال مکہ میں ہی اٹھ جانا چاہیے تھا۔ آخر تمام مکی دور کی تاریخ اس بنیادی منطقی سوال سے خاموش کیوں ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بنو سلمہ کی وہ مسجد جہاں یہ مبینہ واقعہ پیش آیا اسکو دور نبوی میں کہا کیا جاتا تھا؟ تاریخی حوالے تو یہ بیان کرتے کہ بنو امیہ کے دور اقتدار میں بطور یادگار اس مقام پر مسجد تعمیر کی گئی اور قبلتین کا نام دیا گیا۔ یہ ضرور ہوا ہوگا کہ اس تعمیر سے تھوڑا عرصہ پہلے یہ جگہ اس مبینہ وقوعے سے روایت سازوں نے منسوب کردی ہو، جسکو ارباب اختیار نے بعد میں ایک باقاعدہ یادگار بنادیا ہو۔ ایسی ایک واضح مثال ہمارے اپنے دور میں موجود ہے، جمعہ جمعہ آٹھ دن کی بات ہے کہ شہید بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے عین نیچے کی جگہ ہندو رجعت پسندوں نے دیومالائی رام کا جنم استھل قرار دیدی، اور مذہبی ہندووں کے اذہان نے اسکو بلا ثبوت حقیقت بھی تسلیم کرلیا، اور پھر جب الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازع اراضی کا فیصلہ سنایا تو وہ حصہ ہندووں کے حوالے کیا تھا، اور بیرونی مضافاتی زمین میں سے ایک تہائی مسلمانوں کو دیا تھا۔ حالانکہ تنازع سے قبل ہندو پوجا پاٹ بیرونی احاطے میں کیا کرتے تھے۔

ایک اور بات بھی غور طلب ہے کہ آخر یہی مسجد کیوں مسجد قبلتین ٹھہری۔ امت محمدیہ کی تاریخ کی ابتدائی ترین باقاعدہ مساجد یعنی مسجد قبا اور مسجد نبوی کیونکر قبلتین نہ ٹھہریں۔ اگر دو قبلوں والی بات درست ہے، تو آخران مساجد میں بھی تو دونوں قبلوں پر نماز پڑھی گئی ہوگی۔ مسجد قبا کی نیو تو دوران ہجرت ہی پڑ گئی تھی، جبکہ مسجد نبوی کی تعمیر مدینہ آتے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھی۔ اور اس سے بالکل متصل ازواج کے حجرے بنائے گئے۔ جبکہ پچھلی جانب اصحاب الصفاء کا چبوترا تھا۔ اب ذرا اس بنیادی ڈھانچے پر اس مفروضہ کو دماغ میں رکھ کر زیر غور لایا جائے کہ قبلہ مکہ کی جانب ابھی نہیں ہوا ہے، تو کیا یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ منبر رسول ﷺ تو شمال یعنی بیت المقدس کی سمت میں ہو، اور ازواج کے حجرے پچھلی جانب یعنی اس وقت کے داخلی دروازے کی طرف ہوں؟ کیا یہ ترتیب ایک اچھی منصوبہ بندی مانی جاسکتی ہیں، کہ نجی رہائش گاہیں بالکل لبِ سڑک ہوں۔ مزید یہ کہ ریاض الجنۃ میں منبر رسول ﷺ اور متصل حجرہ حضرت عائشہؓ آج میں اپنے مقام پر موجود ہیں، حجرہ عائشہؓ کی سمت قبلہ رخ ہے، اگر مسجد نبویؐ کی ابتدائی تعمیر بیت المقدس بحیثیت قبلہ رکھتے ہوئے کی گئی ہوتی تو حجرہ عائشہؓ کی دیواروں کی ترتیب مدینہ یروشلم کے متوازی خط پر ہوتی نہ کہ مکہ مدینہ کے متوازی خط پر، کیونکہ مکہ بیشک مدینہ کے جنوب میں ہو اور یروشلم شمال میں، مگر یہ تینوں شہر زاویہ مستقیم پر نہیں ہیں، کہ منبر رسولؐ شمال کی جانب سے اٹھا کر جنوب کی جانب رکھ دیا گیا، اور داخلی دروازہ دوسری جانب سے کھول دیا گیا۔ بلکہ یہ تینوں شہر زاویہ منفرجہ بناتے ہیں، یعنی احاطے کے ترتیب میں نمایاں تبدیلیاں لانی پڑتیں۔

سوچنے والوں کے لیے یہ بات باعث حیرت ہے کہ نماز ہی کے اہم رکن میں تبدیلی سے متعلق دس کے قریب لگ بھگ آیات میں ایک بار بھی صلوة کا لفظ استعمال آخر کیوں نہیں ہوا؟ یا یہ کہ کسی اور حکم کے متعلق پیش بندی کی آیات تو نہیں ہیں جن پر ایک سنسنی آمیز شان نزول چڑھاکر رخ کہیں اور پھیرا گیا، اور یہ ظاہر کیا گیا کہ جب تک اسلام کو سیاسی برتری حاصل نہیں ہوگئی ، اس نے یہود کو لبھانے کے لیے انکے قبلے کو اپنا قبلہ مانا ہوا تھا، اور غزوہ بدر کے زمانے میں اس کی ضرورت سے آزاد ہوتے ہی قبلہ بدل لیا۔ جبکہ یہی آیات تو یہ بات کر رہی ہیں کہ مسلمانوں نے اپنا قبلہ نہیں بدلہ تھا۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
یہ سوالات تب اٹھتے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم ہر نماز میں یا ہر ہفتے یا ہر مہینے یا ہر سال یا کسی بھی مدت میں باقاعدگی سے ہوا کرتا۔
جو واقعہ ہی صدیوں میں ایک مرتبہ رونما ہوا ، اس پر غور و خوض کر کے اتنے سوالات پیدا کرنے کیا مقصد ؟ اور کیا حاصل ؟
 

ابن آدم

محفلین
یہ سوالات تب اٹھتے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم ہر نماز میں یا ہر ہفتے یا ہر مہینے یا ہر سال یا کسی بھی مدت میں باقاعدگی سے ہوا کرتا۔
جو واقعہ ہی صدیوں میں ایک مرتبہ رونما ہوا ، اس پر غور و خوض کر کے اتنے سوالات پیدا کرنے کیا مقصد ؟ اور کیا حاصل ؟
جناب کچھ لوگ ڈائنوسار پر تحقیق کرتے ہیں. ان کی ہڈیاں ڈھونڈتے ہیں اب کسی کو ان کا کام پسند نہ ائے تو وہ ان کی تحقیق نہ پڑھے.
قرآن کی دو آیات ہیں جس کے ساتھ ایک واقعہ منسلک ہے تو وہ واقعہ کیا صحیح بھی ہے کہ نہیں یہ میرے لئے ایک قرآن کے ادنی سے قاری کے طور پر جاننے کی خواہش تھی اس پر تھوڑی سی تحقیق کی اور آپ کے سامنے اپنی رائے رکھ دی ہے. اس معاملے کا تعلق نہ ہی عقائد سے اور نہ ہی کسی عبادت سے لیکن قرآن سے ضرور جڑا ہوا ہے. تو میرے لئے یہ باعث دلچسپی ہے.
 

گرائیں

محفلین
کہا جاتا ہے کہ مسلمان جب مدینہ گئے تو پہلے ١٦-١٧ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے. نبی کریم ﷺ کی شدید خواہش تھی کہ مسلمانوں کو بیت الله کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے جو کہ پھر سوره بقرہ کی آیات ۱۴۲-۱۴۴ میں ۲ہجری میں جاکر ملی. ان آیات کی روایات/شان نزول ہے وہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے اور اس کو نبی کے ساتھ جوڑنا دین کے ساتھ ایک مذاق سے کم نہیں۔کہا جاتا ہے کہ:

"ظہر کا وقت ہو گیا اور لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ دو رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا اور اسی وقت آپ اور آپ کی اقتدا میں تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رخ پھر گئے۔ اس کے بعد مدینہ اور اطراف مدینہ میں اس کی عام منادی کی گئی۔ کیونکہ بیت المقدس مدینے کے شمال میں ہے جبکہ کعبہ جنوب میں اس لیے قبلہ تبدیل کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہوگا اور مقتدیوں کو صرف رخ ہی نہ بدلنا پڑا ہوگا بلکہ کچھ نہ کچھ انہیں بھی چل کر اپنی صفیں درست کرنا پڑی ہوں گی چنانچہ بعض روایات میں یہ تفصیل مذکور بھی ہے۔"

اہم ترین بات یہ ہے کہ دوران نماز اس نوعیت کی وحی آنا کہ صفوں کی ترتیب ہی تتر بتر ہوجائے، کیا نمازیوں کے ذہنی و قلبی خضوع و خشوع کے خلاف نہیں؟ کیا یہی وحی نماز کے بعد نازل نہیں ہو سکتی تھی کہ ہیجان انگیزی کی بجائے باوقار طریقے سے مسلمانوں کو جدید حکم سے آگاہ کردیا جاتا؟

اس پہلو کو کو اگر کچھ دیر کے لیے نظر انداز بھی کردیا جائے تو سوچنے کی بات ہے مقتدیوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ بیت اللہ کی جانب رخ کرنے کا حکم آگیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف رخ موڑلیے بلکہ سمجھ بھی لیا کہ نئی ترتیب کس طریقے سے وضع کرنی ہے؟ انہیں تو اب تک وحی سنائی نہیں گئی تھی کہ وہ مقصد سمجھ پاتے، اور سورہ بقرہ کی آیت ١٤٣ کہ جسکو اس وقوعے کی شان نزول مانا جاتا ہے تو اس سے بھی تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی جو بھی خواہش تھی (شان نزول کے مطابق مکہ کی جانب رخ کرنے کی) تو اسکا اظہار تو عام لوگوں کے سامنے اب تک کیا ہی نہیں گیا تھا کہ اسکی بنیاد پر مسلمان دوران نماز یہ قیاس لگاتے کہ اس خواہش کی تکمیل دوران نماز کسی وحی کی صورت میں ہو گئی ہے، لہذا صفوں کی از سر نو ترتیب بیت اللہ کی جانب رخ کرتے ہوئے بنالی جائے۔

نبی کریم ﷺ کی اگر بیت اللہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھنے کی خواہش کیا مدینہ آکر بیدار ہوئی؟ مکہ میں کیا ترتیب رہتی تھی؟ بعض لوگ اسکا جواب یہ دیتے ہیں کہ وہاں استقبال قبلتین ہوتا تھا کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان کھڑے ہوکر نماز کا اہتمام ہوا کرتا تھا، مکہ میں توآخر تک نناوے فیصد جماعت چھپ کر ہوتی تھی، اور اسکے لیے جو جگہ بیان ہوتے ہے، وہ دار ارقم ہے جو کہ بیت اللہ سے مشرق کی جانب ہے نہ کہ جنوب کی، لہذا وہاں رہتے ہوئے اس مبینہ فرضی استقبال قبلتین کا معاملہ ممکن تھا ہی نہیں۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ مسجد اقصی کی جانب رخ کرنے کا حکم مدینہ آیا تھا، تو سورہ بقرہ کی آیت ١۴۲ کی روشنی میں اس پہلی تبدیلی کے متعلق نادانوں نے سوال کیوں نہیں کیا تھا، جبکہ دوسری تبدیلی پر کہا گیا کہ نادان پوچھیں گے کہ تبدیلی کیوں ہوئی۔

اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ مانا جائے کہ شروع سے ہی بیت المقدس کی جانب رخ کرکے ادائیگی صلوة کا حکم تھا اور استقبال قبلتین صرف ایک امکانی صورت تھی جو کہ مکہ میں تو کسی قدر ممکن تھی مگر مدینہ آکر تو اسکا امکان مسدود ہوگیا تھا لہذا بیت اللہ کے قبلہ ہوجانے کی خواہش نے بھی وہیں آکر زیادہ شدت اختیار کرلی (ہوگی)، تو لامحالہ یہ سوال اٹھ جاتا ہے کہ آخر مکہ والوں کو دین ابراہیمی کی جانب ہی تو دعوت دی جارہی تھی اور وہ لوگ بیت اللہ، صفا مروہ، رمی جمرات وغیرہ کو حضرت ابراہیم سے متعلق جان کر ہی رسومات بجالاتے تھے۔ بیت اللہ کے سامنے آکر اپنے تئیں بلا روح اور خشیت کے کوئی رسمی نماز بھی ادا کرتے تھے جسکا ذکر قرآن میں بھی ہے، تو آخر مکہ والوں نے بیت اللہ کی مقابلہ میں ایک ایسی عبادت گاہ کو قبلہ بیان کرنے کی بات پر اعتراض کیوں نہ لگایا کہ جسکی نسبت خود یہودی حضرت ابراہیم کی بجائے دسیوں صدیوں بعد کے حضرت داود کی جانب کرتے تھے۔ مدینہ کے نادانوں سے پہلے تو یہ سوال مکہ میں ہی اٹھ جانا چاہیے تھا۔ آخر تمام مکی دور کی تاریخ اس بنیادی منطقی سوال سے خاموش کیوں ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بنو سلمہ کی وہ مسجد جہاں یہ مبینہ واقعہ پیش آیا اسکو دور نبوی میں کہا کیا جاتا تھا؟ تاریخی حوالے تو یہ بیان کرتے کہ بنو امیہ کے دور اقتدار میں بطور یادگار اس مقام پر مسجد تعمیر کی گئی اور قبلتین کا نام دیا گیا۔ یہ ضرور ہوا ہوگا کہ اس تعمیر سے تھوڑا عرصہ پہلے یہ جگہ اس مبینہ وقوعے سے روایت سازوں نے منسوب کردی ہو، جسکو ارباب اختیار نے بعد میں ایک باقاعدہ یادگار بنادیا ہو۔ ایسی ایک واضح مثال ہمارے اپنے دور میں موجود ہے، جمعہ جمعہ آٹھ دن کی بات ہے کہ شہید بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے عین نیچے کی جگہ ہندو رجعت پسندوں نے دیومالائی رام کا جنم استھل قرار دیدی، اور مذہبی ہندووں کے اذہان نے اسکو بلا ثبوت حقیقت بھی تسلیم کرلیا، اور پھر جب الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازع اراضی کا فیصلہ سنایا تو وہ حصہ ہندووں کے حوالے کیا تھا، اور بیرونی مضافاتی زمین میں سے ایک تہائی مسلمانوں کو دیا تھا۔ حالانکہ تنازع سے قبل ہندو پوجا پاٹ بیرونی احاطے میں کیا کرتے تھے۔

ایک اور بات بھی غور طلب ہے کہ آخر یہی مسجد کیوں مسجد قبلتین ٹھہری۔ امت محمدیہ کی تاریخ کی ابتدائی ترین باقاعدہ مساجد یعنی مسجد قبا اور مسجد نبوی کیونکر قبلتین نہ ٹھہریں۔ اگر دو قبلوں والی بات درست ہے، تو آخران مساجد میں بھی تو دونوں قبلوں پر نماز پڑھی گئی ہوگی۔ مسجد قبا کی نیو تو دوران ہجرت ہی پڑ گئی تھی، جبکہ مسجد نبوی کی تعمیر مدینہ آتے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھی۔ اور اس سے بالکل متصل ازواج کے حجرے بنائے گئے۔ جبکہ پچھلی جانب اصحاب الصفاء کا چبوترا تھا۔ اب ذرا اس بنیادی ڈھانچے پر اس مفروضہ کو دماغ میں رکھ کر زیر غور لایا جائے کہ قبلہ مکہ کی جانب ابھی نہیں ہوا ہے، تو کیا یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ منبر رسول ﷺ تو شمال یعنی بیت المقدس کی سمت میں ہو، اور ازواج کے حجرے پچھلی جانب یعنی اس وقت کے داخلی دروازے کی طرف ہوں؟ کیا یہ ترتیب ایک اچھی منصوبہ بندی مانی جاسکتی ہیں، کہ نجی رہائش گاہیں بالکل لبِ سڑک ہوں۔ مزید یہ کہ ریاض الجنۃ میں منبر رسول ﷺ اور متصل حجرہ حضرت عائشہؓ آج میں اپنے مقام پر موجود ہیں، حجرہ عائشہؓ کی سمت قبلہ رخ ہے، اگر مسجد نبویؐ کی ابتدائی تعمیر بیت المقدس بحیثیت قبلہ رکھتے ہوئے کی گئی ہوتی تو حجرہ عائشہؓ کی دیواروں کی ترتیب مدینہ یروشلم کے متوازی خط پر ہوتی نہ کہ مکہ مدینہ کے متوازی خط پر، کیونکہ مکہ بیشک مدینہ کے جنوب میں ہو اور یروشلم شمال میں، مگر یہ تینوں شہر زاویہ مستقیم پر نہیں ہیں، کہ منبر رسولؐ شمال کی جانب سے اٹھا کر جنوب کی جانب رکھ دیا گیا، اور داخلی دروازہ دوسری جانب سے کھول دیا گیا۔ بلکہ یہ تینوں شہر زاویہ منفرجہ بناتے ہیں، یعنی احاطے کے ترتیب میں نمایاں تبدیلیاں لانی پڑتیں۔

سوچنے والوں کے لیے یہ بات باعث حیرت ہے کہ نماز ہی کے اہم رکن میں تبدیلی سے متعلق دس کے قریب لگ بھگ آیات میں ایک بار بھی صلوة کا لفظ استعمال آخر کیوں نہیں ہوا؟ یا یہ کہ کسی اور حکم کے متعلق پیش بندی کی آیات تو نہیں ہیں جن پر ایک سنسنی آمیز شان نزول چڑھاکر رخ کہیں اور پھیرا گیا، اور یہ ظاہر کیا گیا کہ جب تک اسلام کو سیاسی برتری حاصل نہیں ہوگئی ، اس نے یہود کو لبھانے کے لیے انکے قبلے کو اپنا قبلہ مانا ہوا تھا، اور غزوہ بدر کے زمانے میں اس کی ضرورت سے آزاد ہوتے ہی قبلہ بدل لیا۔ جبکہ یہی آیات تو یہ بات کر رہی ہیں کہ مسلمانوں نے اپنا قبلہ نہیں بدلہ تھا۔
جزاک اللہ

یہ بہت اہم سوالات اٹھائے آپ نے۔ یہ سوالات در اصل سورہ اسراء کی پہلی آیت میں موجود ترکیب مسجد اقصی کے معانی تلاش کرنے کے دوران سامنے آئے۔
کچھ تاریخی حوالے جو سامنے آئے، وہ مندرجہ ذیل ترتیب میں آپ اور باقی قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں۔

مسجد اقصی کے لغوی معانی دور والی مسجد کے ہیں۔ اس کا متضاد ہوگا مسجد ادنی یعنی قریب والی مسجد۔
لغوی ترجمہ کے حساب سے دیکھا جائے تو اس میں بیت المقدس یا موجودہ مسجد اقصی کی طرف اشارہ بنتا ہی نہیں۔ دور والی مسجد کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی مسجد جو مسجد حرام سے دور ہو۔ کونسی ہو سکتی ہے اس پہ بھی بات کریں گے۔
نبی ﷺ کی وفات کے پانچویں یا چھٹے سال جب یروشلم فتح ہوا تو عمر ؓ وہاں گئے۔ کچھ احباب کا کہنا ہے کہ عمرؓ کی وہاں آمد کی روایات اس فتح کے دو سو سال تک موجود نہ تھیں بلکہ یہ فخالد بن ثابت الفھمی تھے جنھوں نے شہر کھلوایا۔ بہر حال، عمرؓ شہر میں داخل ہوئے اور ظہر کی نماز چرچ میں اس بناء پر پڑھنے سے انکار کیا کہ بعد کے مسلمان اس کو دلیل نہ بنا لیں۔ اگر مسجس اقصی ہوتی وہاں تو کیا عمر ؓ کو چرچ میں نماز کی دعوت دی جاتی؟ بلکہ عمرؓ سے منسوب ایک مسجد ، مسجد عمرؓ ، روایات کے مطابق آج بھی یروشلم میں چرچ کے دروازے کے قریب موجود ہے۔

موجود مسجد اقصی اور قبۃ الصخراء عبدالملک بن مروان کے دور میں بننے شروع ہوئے۔ ایک عیسائی راہب جو اس وقت وہاں سے گزرا تھا اس کے بقول اس کی تعمیر معاویہ اول (معاویہ بن ابی سفیان؟؟) کے دور میں شروع ہوئی اور اس بات پہ سب کا اتفاق ہے کہ تکمیل ولید بن عبدالملک کے دور میں سن ۷۱۵ عیسوی میں ہوئی جب نبی ﷺ کو وفات پائے تراسی سال گزر چکے تھے۔ عبدالملک بن مروان نے مسجد کی تعمیر اور قبۃ الصخرا کو سیاسی بنیادوں پر پروموٹ کیا تھا کہ اس وقت کچھ عرصہ کے لئے حجاز پر عبداللہ بن زبیر کی حکومت تھی اور شام سے لوگ حج کے لئے وہاں جا نہ سکتے تھے۔ تو یروشلم کی زیارت کو پروموٹ کیا گیا اور اس دور میں یہاں طواف ، قربانی اور حج تک ہوا۔ غالبا اسی دور میں یروشلم کی تقدیس کے سلسلے میں روایات گھڑی گئیں۔ اور اسے مکہ اور مدینہ کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام قرار دیا گیا۔
منقول ہے کہ امام ابن تیمیہ کو لوگوں میں موجود ان خیالات کے بطلان کے لئے ایک کتاب لکھنی پڑی جس میں انھوں نے یہ کہا کہ یروشلم کو اسلام میں کسی قسم کی تقدیس حاصل نہیں ہے۔
اور یہ بھی روایات میں آتا ہے کہ معراج کی روایات کہ بیت المقدس سے نبی ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا بھی یہیں سے ہوا۔ یہ روایات قبۃ الصخرا کی تعمیر کے بعد مشہور ہوئیں ، معاف کیجئے گا اس وقت میرا مطالعہ بہت سکیچی اور بے ترتیب ہے اور اس وقت میں چاہتے ہوئے بھی متعلقہ حوالہ جات نہیں دے سکتا ، لیکن یہ سب کچھ دو دن کی گوگل سرچ کا نتیجہ ہے۔ تو یقینا آپ مجھ سے بہتر سرچ کر کے ان معلومات کی تصدیق یا تردید کر سکیں گے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ
عین ممکن ہے کہ مسجد قبلتین سے متعلق روایات بھی اسی دور میں نمودار ہوئی ہوں جب یروشلم کو مکہ کے برابر کے تقدس کا حامل قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہو؟؟
 
بہت خوب اور بہت اچھے ۔ زبردست۔ آپ لوگ واقعی ایک منظم انداز میں کام کرتے ہیں ۔ یقیناً کوئی بہت ہی نپے تلے انداز میں پیچھے سے ڈوریاں ہلاتا ہے ۔ اب تھوڑے دنوں کے بعد ایک اور آدمی ایک فرضی نام سے آئے گا اور معراج کے واقعے کے بارے میں بھی شک و شبہات پیش کرے گا ۔ جب مسجد اقصٰی تھی ہی نہیں تو معراج کیسے ہوگئی ۔ معراج اور مسجد اقصیٰ کے متعلق تمام حدیثوں کو رد کیا جائے گا ۔ قرآن کا نام لے کر یہ لوگ دین کی جڑیں کاٹ رہے ہیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ کون سی لابی ہے جو مسجد اقصیٰ کی اہمیت اور تقدس کو مسلمانوں کے اندر ختم کرنا چاہتی ہے ۔ اس سے کیا نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ لوگ۔
************************************************************
عقل کے اندھوں کے لئے ایک تحریر پیش خدمت ہے ۔
************************************************************
***کلامِ سعدی: ایک غلط فہمی کا ازالہ***

اس تحریر کا مقصد آپ تمام بیوقوف اور سادہ لوح قارئین تک یہ اطلاع پہنچانا ہے کہ میں نے بارہ سال تک فارسی زبان پڑھی ہے ۔ اگرچہ فارسی میری مادری زبان نہیں لیکن فارسی گرامر کی درجنوں کتابیں چاٹنے ، لغات کھنگالنے اور برسوں کے گہرے غور و فکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ شیخ سعدی کا کلام اتنا مشہور ہونے کے باوجود آج تک صحیح طرح سے کسی کی سمجھ میں آہی نہیں سکا۔ شروع ہی سے لوگ کلامِ سعدی کو غلط طریقے سے سمجھتے آرہے ہیں۔ مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شیخ سعدی کے کلام کی جتنی بھی شرحیں آج تک لکھی گئی ہیں وہ سب کی سب غلط فہمی پر مبنی ہیں اور بالکل بھی درست نہیں ہیں۔ دراصل یہ لوگ شیخ سعدی کے کلام کو سمجھ ہی نہیں سکے ہیں۔ نہ تو انہیں سعدی کے کسی شعر کے پس منظر کا پتہ ہے اور نہ ہی وہ ان کے الفاظ کی اصل روح تک پہنچ سکے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ تمام شارحین غور و فکر اور تجزیے کی صلاحیت سے عاری تھے۔ مزید دکھ تو اس بات کا ہے کہ غیر فارسی دان تو ایک طرف خود فارسی اہل ِزبان میں سے بھی کوئی آج تک سعدی کے کلام کو سمجھ نہ سکا۔ حد تو یہ ہے کہ شیخ سعدی کے معاصرین، ان کے شاگرد اور حلقہ بردار اصحاب بھی ان کے کلام کومطلق نہ سمجھ سکے۔ بلکہ کلام کی تشریح میں آئیں بائیں شائیں کرتے رہے اور غلط سلط باتیں کتابوں میں لکھ ڈالیں۔ خیر ، یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ الحمدللہ مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ یہ خاکسار کلامِ سعدی کے اصل مطالب تک پہنچ چکا ہے۔ صدیوں بعد بالآخر کلامِ سعدی کی روح کو دریافت کرنے کا سہرا اس عاجز ہی کے سر بندھا ہے۔ (این سعادت بزورِ بازو نیست ۔ تانہ بخشد خدائے بخشندہ)۔ اللہ عز و جل نے اپنے کرم سے مجھے اپنی فارسی دانی اورعمیق غور و خوض کی بدولت کلام سعدی کی درست اور بالکل صحیح تشریح کرنے کا شرف بخشا ہے۔ اور یہ امر آپ تمام قارئین لئے بھی باعثِ شرف ہونا چاہئے کہ روزِ اول سے کلام ِسعدی پرغلط فہمیوں اور غلط آرائیوں کی جو دھول جمی ہوئی تھی اسے صاف کرنے کا کام میں اپنی نوکِ قلم سے انجام دے رہا ہوں۔ الحمدللہ ، میں فارسی شعر فہمی کے اس درجے پر پہنچ چکا ہوں کہ اب میں آپ کو سعدی کے شعر کا وہ اصل روپ اور چہرہ دکھا سکوں گا جو آج تک سارے زمانے سے پوشیدہ رہا ۔ اپنے تدبر اور تفکر کی بدولت میں نے سعدی کے اشعار سے ایسے ایسے نکتے برآمد کئے ہیں کہ جن تک شاید خود شیخ سعدی کی نظر بھی نہ پہنچ سکی ہو۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ صرف مجھ حقیر ناچیز ہی پر اس نے عقل و دانائی کے یہ روشن دروازے وا کئے اور شیخ سعدی کے باطن میں جھانکنے اور ان کے کلام کی اصل روح کو سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق عطا فرمائی۔ مجھے امید ہے کہ یہ کار خیر میرے لئے رہتی دنیا تک ایک صدقہء جاریہ اور آخرت میں باعثِ بخشش ثابت ہوگا ۔ وما توفیقی الا باللہ است ۔
********************************************************* ******************************************************** ******************************************************************************************************************
"کلامِ سعدی: غلط فہمی کا ازالہ" کے عنوان سے جو تحریر میں نے اوپر لکھی ہے اس کی مضحکہ خیزی اوربیہودہ پن روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ اول تو مجھے اس درجے کی فارسی آتی ہی نہیں ہے لیکن اگر آتی بھی ہو تو زبان دانی اور شعر فہمی کے یہ دعوے کرنا کہ کلامِ سعدی کو آج تک کوئی بھی کماحقہ نہیں سمجھ سکا اور اس کا صحیح مفہوم صرف مجھ پر ہی کھلا ہے کتنی کھوکھل ، بیہودہ اور بیکارسی بات ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کلامِ سعدی کے بارے میں اس طرح کی بات کرنا تو بیہودہ اور بیوقوفانہ ہے لیکن کلامِ الہی کے بارے میں ایسے دعوے کرنا اب علمی گفتگو کہلاتی ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ایسے احمقانہ دعووں کو نظر انداز کرنے کے بجائے اب میں اور آپ اس "علمی بحث" میں شریک ہوجاتے ہیں۔

آپ ذرا دیر کے لئے میری مندرجہ بالا تحریر میں کلامِ سعدی کی جگہ کلامِ الٰہی رکھ کر دیکھئے۔ تمام استعارے آپ پر کھل جائیں گے اور میرے دعووں کی احمقانہ نوعیت واضح تر ہوجائے گی۔ قرآن فہمی کے لئے حدیث اور روایت کے سلسلوں کو نظرانداز کردینا اور محض لغات اور گرامر کی رو سے کلامِ الٰہی کی تفہیم و تفسیر کرنا دراصل خودقرآن کے انکار کی طرف پہلا قدم ہے۔ یعنی اگر کسی عمارت کو علی الاعلان ڈھانا ممکن نہ ہو تو چپکے چپکے اس کی بنیاد کو تباہ کردینا چاہئے۔ پھر کچھ ہی عرصے میں عمارت کا خود بخود ڈھے جانا لازم ہے۔ یعنی قرآن فہمی کے نام پر حدیث کا انکار کرکے دراصل قرآن کی عمارت ڈھانے کا چپکے چپکے اہتمام کیا جارہا ہے۔

کلامِ الٰہی کی تفسیر و تشہیر کا انتظام خود صاحبِ کلام نے کیا۔ اس نے اپنے کلام کو تختیوں کی صورت میں نازل کرنے کے بجائے ایک چلتی پھرتی زندہ تفہیم و تفسیر کی صورت میں ایک پیغام رساں کے ذریعے انسانوں تک پہنچایا ہے۔ اس پیغام رساں کے کردار کو درمیان سے نکال کر کلامِ الٰہی کو کس طرح سمجھا اور اپنایا جاسکتا ہے؟! اتنی سی بات تو مجھ ناقص العقل کی سمجھ میں بھی آتی ہے۔ لیکن نہیں آتی تو ان علاموں اور دانشوروں کی سمجھ میں نہیں آتی جو عربی زبان کی چار کتابوں اور لغات کی مدد سے قرآن فہمی کا منفرد دعوی کررہے ہیں اور یہ راگ بھی الاپتے جاتے ہیں کہ آج تک کلامِ الٰہی کو جس طرح سمجھا گیا وہ سب غلط تھا۔چودہ سو سال کے بعد اب صرف ہم ہی اس کلام کو صحیح طور پر سمجھے ہیں۔

خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے


٭٭٭واٹس ایپ سے منقول ٭٭٭
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
کہا جاتا ہے کہ مسلمان جب مدینہ گئے تو پہلے ١٦-١٧ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے. نبی کریم ﷺ کی شدید خواہش تھی کہ مسلمانوں کو بیت الله کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے جو کہ پھر سوره بقرہ کی آیات ۱۴۲-۱۴۴ میں ۲ہجری میں جاکر ملی. ان آیات کی روایات/شان نزول ہے وہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے اور اس کو نبی کے ساتھ جوڑنا دین کے ساتھ ایک مذاق سے کم نہیں۔کہا جاتا ہے کہ:

"ظہر کا وقت ہو گیا اور لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ دو رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا اور اسی وقت آپ اور آپ کی اقتدا میں تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رخ پھر گئے۔ اس کے بعد مدینہ اور اطراف مدینہ میں اس کی عام منادی کی گئی۔ کیونکہ بیت المقدس مدینے کے شمال میں ہے جبکہ کعبہ جنوب میں اس لیے قبلہ تبدیل کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہوگا اور مقتدیوں کو صرف رخ ہی نہ بدلنا پڑا ہوگا بلکہ کچھ نہ کچھ انہیں بھی چل کر اپنی صفیں درست کرنا پڑی ہوں گی چنانچہ بعض روایات میں یہ تفصیل مذکور بھی ہے۔"

اہم ترین بات یہ ہے کہ دوران نماز اس نوعیت کی وحی آنا کہ صفوں کی ترتیب ہی تتر بتر ہوجائے، کیا نمازیوں کے ذہنی و قلبی خضوع و خشوع کے خلاف نہیں؟ کیا یہی وحی نماز کے بعد نازل نہیں ہو سکتی تھی کہ ہیجان انگیزی کی بجائے باوقار طریقے سے مسلمانوں کو جدید حکم سے آگاہ کردیا جاتا؟

اس پہلو کو کو اگر کچھ دیر کے لیے نظر انداز بھی کردیا جائے تو سوچنے کی بات ہے مقتدیوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ بیت اللہ کی جانب رخ کرنے کا حکم آگیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف رخ موڑلیے بلکہ سمجھ بھی لیا کہ نئی ترتیب کس طریقے سے وضع کرنی ہے؟ انہیں تو اب تک وحی سنائی نہیں گئی تھی کہ وہ مقصد سمجھ پاتے، اور سورہ بقرہ کی آیت ١٤٣ کہ جسکو اس وقوعے کی شان نزول مانا جاتا ہے تو اس سے بھی تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی جو بھی خواہش تھی (شان نزول کے مطابق مکہ کی جانب رخ کرنے کی) تو اسکا اظہار تو عام لوگوں کے سامنے اب تک کیا ہی نہیں گیا تھا کہ اسکی بنیاد پر مسلمان دوران نماز یہ قیاس لگاتے کہ اس خواہش کی تکمیل دوران نماز کسی وحی کی صورت میں ہو گئی ہے، لہذا صفوں کی از سر نو ترتیب بیت اللہ کی جانب رخ کرتے ہوئے بنالی جائے۔

نبی کریم ﷺ کی اگر بیت اللہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھنے کی خواہش کیا مدینہ آکر بیدار ہوئی؟ مکہ میں کیا ترتیب رہتی تھی؟ بعض لوگ اسکا جواب یہ دیتے ہیں کہ وہاں استقبال قبلتین ہوتا تھا کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان کھڑے ہوکر نماز کا اہتمام ہوا کرتا تھا، مکہ میں توآخر تک نناوے فیصد جماعت چھپ کر ہوتی تھی، اور اسکے لیے جو جگہ بیان ہوتے ہے، وہ دار ارقم ہے جو کہ بیت اللہ سے مشرق کی جانب ہے نہ کہ جنوب کی، لہذا وہاں رہتے ہوئے اس مبینہ فرضی استقبال قبلتین کا معاملہ ممکن تھا ہی نہیں۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ مسجد اقصی کی جانب رخ کرنے کا حکم مدینہ آیا تھا، تو سورہ بقرہ کی آیت ١۴۲ کی روشنی میں اس پہلی تبدیلی کے متعلق نادانوں نے سوال کیوں نہیں کیا تھا، جبکہ دوسری تبدیلی پر کہا گیا کہ نادان پوچھیں گے کہ تبدیلی کیوں ہوئی۔

اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ مانا جائے کہ شروع سے ہی بیت المقدس کی جانب رخ کرکے ادائیگی صلوة کا حکم تھا اور استقبال قبلتین صرف ایک امکانی صورت تھی جو کہ مکہ میں تو کسی قدر ممکن تھی مگر مدینہ آکر تو اسکا امکان مسدود ہوگیا تھا لہذا بیت اللہ کے قبلہ ہوجانے کی خواہش نے بھی وہیں آکر زیادہ شدت اختیار کرلی (ہوگی)، تو لامحالہ یہ سوال اٹھ جاتا ہے کہ آخر مکہ والوں کو دین ابراہیمی کی جانب ہی تو دعوت دی جارہی تھی اور وہ لوگ بیت اللہ، صفا مروہ، رمی جمرات وغیرہ کو حضرت ابراہیم سے متعلق جان کر ہی رسومات بجالاتے تھے۔ بیت اللہ کے سامنے آکر اپنے تئیں بلا روح اور خشیت کے کوئی رسمی نماز بھی ادا کرتے تھے جسکا ذکر قرآن میں بھی ہے، تو آخر مکہ والوں نے بیت اللہ کی مقابلہ میں ایک ایسی عبادت گاہ کو قبلہ بیان کرنے کی بات پر اعتراض کیوں نہ لگایا کہ جسکی نسبت خود یہودی حضرت ابراہیم کی بجائے دسیوں صدیوں بعد کے حضرت داود کی جانب کرتے تھے۔ مدینہ کے نادانوں سے پہلے تو یہ سوال مکہ میں ہی اٹھ جانا چاہیے تھا۔ آخر تمام مکی دور کی تاریخ اس بنیادی منطقی سوال سے خاموش کیوں ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بنو سلمہ کی وہ مسجد جہاں یہ مبینہ واقعہ پیش آیا اسکو دور نبوی میں کہا کیا جاتا تھا؟ تاریخی حوالے تو یہ بیان کرتے کہ بنو امیہ کے دور اقتدار میں بطور یادگار اس مقام پر مسجد تعمیر کی گئی اور قبلتین کا نام دیا گیا۔ یہ ضرور ہوا ہوگا کہ اس تعمیر سے تھوڑا عرصہ پہلے یہ جگہ اس مبینہ وقوعے سے روایت سازوں نے منسوب کردی ہو، جسکو ارباب اختیار نے بعد میں ایک باقاعدہ یادگار بنادیا ہو۔ ایسی ایک واضح مثال ہمارے اپنے دور میں موجود ہے، جمعہ جمعہ آٹھ دن کی بات ہے کہ شہید بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے عین نیچے کی جگہ ہندو رجعت پسندوں نے دیومالائی رام کا جنم استھل قرار دیدی، اور مذہبی ہندووں کے اذہان نے اسکو بلا ثبوت حقیقت بھی تسلیم کرلیا، اور پھر جب الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازع اراضی کا فیصلہ سنایا تو وہ حصہ ہندووں کے حوالے کیا تھا، اور بیرونی مضافاتی زمین میں سے ایک تہائی مسلمانوں کو دیا تھا۔ حالانکہ تنازع سے قبل ہندو پوجا پاٹ بیرونی احاطے میں کیا کرتے تھے۔

ایک اور بات بھی غور طلب ہے کہ آخر یہی مسجد کیوں مسجد قبلتین ٹھہری۔ امت محمدیہ کی تاریخ کی ابتدائی ترین باقاعدہ مساجد یعنی مسجد قبا اور مسجد نبوی کیونکر قبلتین نہ ٹھہریں۔ اگر دو قبلوں والی بات درست ہے، تو آخران مساجد میں بھی تو دونوں قبلوں پر نماز پڑھی گئی ہوگی۔ مسجد قبا کی نیو تو دوران ہجرت ہی پڑ گئی تھی، جبکہ مسجد نبوی کی تعمیر مدینہ آتے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھی۔ اور اس سے بالکل متصل ازواج کے حجرے بنائے گئے۔ جبکہ پچھلی جانب اصحاب الصفاء کا چبوترا تھا۔ اب ذرا اس بنیادی ڈھانچے پر اس مفروضہ کو دماغ میں رکھ کر زیر غور لایا جائے کہ قبلہ مکہ کی جانب ابھی نہیں ہوا ہے، تو کیا یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ منبر رسول ﷺ تو شمال یعنی بیت المقدس کی سمت میں ہو، اور ازواج کے حجرے پچھلی جانب یعنی اس وقت کے داخلی دروازے کی طرف ہوں؟ کیا یہ ترتیب ایک اچھی منصوبہ بندی مانی جاسکتی ہیں، کہ نجی رہائش گاہیں بالکل لبِ سڑک ہوں۔ مزید یہ کہ ریاض الجنۃ میں منبر رسول ﷺ اور متصل حجرہ حضرت عائشہؓ آج میں اپنے مقام پر موجود ہیں، حجرہ عائشہؓ کی سمت قبلہ رخ ہے، اگر مسجد نبویؐ کی ابتدائی تعمیر بیت المقدس بحیثیت قبلہ رکھتے ہوئے کی گئی ہوتی تو حجرہ عائشہؓ کی دیواروں کی ترتیب مدینہ یروشلم کے متوازی خط پر ہوتی نہ کہ مکہ مدینہ کے متوازی خط پر، کیونکہ مکہ بیشک مدینہ کے جنوب میں ہو اور یروشلم شمال میں، مگر یہ تینوں شہر زاویہ مستقیم پر نہیں ہیں، کہ منبر رسولؐ شمال کی جانب سے اٹھا کر جنوب کی جانب رکھ دیا گیا، اور داخلی دروازہ دوسری جانب سے کھول دیا گیا۔ بلکہ یہ تینوں شہر زاویہ منفرجہ بناتے ہیں، یعنی احاطے کے ترتیب میں نمایاں تبدیلیاں لانی پڑتیں۔

سوچنے والوں کے لیے یہ بات باعث حیرت ہے کہ نماز ہی کے اہم رکن میں تبدیلی سے متعلق دس کے قریب لگ بھگ آیات میں ایک بار بھی صلوة کا لفظ استعمال آخر کیوں نہیں ہوا؟ یا یہ کہ کسی اور حکم کے متعلق پیش بندی کی آیات تو نہیں ہیں جن پر ایک سنسنی آمیز شان نزول چڑھاکر رخ کہیں اور پھیرا گیا، اور یہ ظاہر کیا گیا کہ جب تک اسلام کو سیاسی برتری حاصل نہیں ہوگئی ، اس نے یہود کو لبھانے کے لیے انکے قبلے کو اپنا قبلہ مانا ہوا تھا، اور غزوہ بدر کے زمانے میں اس کی ضرورت سے آزاد ہوتے ہی قبلہ بدل لیا۔ جبکہ یہی آیات تو یہ بات کر رہی ہیں کہ مسلمانوں نے اپنا قبلہ نہیں بدلہ تھا۔

جزاک اللہ

یہ بہت اہم سوالات اٹھائے آپ نے۔ یہ سوالات در اصل سورہ اسراء کی پہلی آیت میں موجود ترکیب مسجد اقصی کے معانی تلاش کرنے کے دوران سامنے آئے۔
کچھ تاریخی حوالے جو سامنے آئے، وہ مندرجہ ذیل ترتیب میں آپ اور باقی قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں۔

مسجد اقصی کے لغوی معانی دور والی مسجد کے ہیں۔ اس کا متضاد ہوگا مسجد ادنی یعنی قریب والی مسجد۔
لغوی ترجمہ کے حساب سے دیکھا جائے تو اس میں بیت المقدس یا موجودہ مسجد اقصی کی طرف اشارہ بنتا ہی نہیں۔ دور والی مسجد کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی مسجد جو مسجد حرام سے دور ہو۔ کونسی ہو سکتی ہے اس پہ بھی بات کریں گے۔
نبی ﷺ کی وفات کے پانچویں یا چھٹے سال جب یروشلم فتح ہوا تو عمر ؓ وہاں گئے۔ کچھ احباب کا کہنا ہے کہ عمرؓ کی وہاں آمد کی روایات اس فتح کے دو سو سال تک موجود نہ تھیں بلکہ یہ فخالد بن ثابت الفھمی تھے جنھوں نے شہر کھلوایا۔ بہر حال، عمرؓ شہر میں داخل ہوئے اور ظہر کی نماز چرچ میں اس بناء پر پڑھنے سے انکار کیا کہ بعد کے مسلمان اس کو دلیل نہ بنا لیں۔ اگر مسجس اقصی ہوتی وہاں تو کیا عمر ؓ کو چرچ میں نماز کی دعوت دی جاتی؟ بلکہ عمرؓ سے منسوب ایک مسجد ، مسجد عمرؓ ، روایات کے مطابق آج بھی یروشلم میں چرچ کے دروازے کے قریب موجود ہے۔

موجود مسجد اقصی اور قبۃ الصخراء عبدالملک بن مروان کے دور میں بننے شروع ہوئے۔ ایک عیسائی راہب جو اس وقت وہاں سے گزرا تھا اس کے بقول اس کی تعمیر معاویہ اول (معاویہ بن ابی سفیان؟؟) کے دور میں شروع ہوئی اور اس بات پہ سب کا اتفاق ہے کہ تکمیل ولید بن عبدالملک کے دور میں سن ۷۱۵ عیسوی میں ہوئی جب نبی ﷺ کو وفات پائے تراسی سال گزر چکے تھے۔ عبدالملک بن مروان نے مسجد کی تعمیر اور قبۃ الصخرا کو سیاسی بنیادوں پر پروموٹ کیا تھا کہ اس وقت کچھ عرصہ کے لئے حجاز پر عبداللہ بن زبیر کی حکومت تھی اور شام سے لوگ حج کے لئے وہاں جا نہ سکتے تھے۔ تو یروشلم کی زیارت کو پروموٹ کیا گیا اور اس دور میں یہاں طواف ، قربانی اور حج تک ہوا۔ غالبا اسی دور میں یروشلم کی تقدیس کے سلسلے میں روایات گھڑی گئیں۔ اور اسے مکہ اور مدینہ کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام قرار دیا گیا۔
منقول ہے کہ امام ابن تیمیہ کو لوگوں میں موجود ان خیالات کے بطلان کے لئے ایک کتاب لکھنی پڑی جس میں انھوں نے یہ کہا کہ یروشلم کو اسلام میں کسی قسم کی تقدیس حاصل نہیں ہے۔
اور یہ بھی روایات میں آتا ہے کہ معراج کی روایات کہ بیت المقدس سے نبی ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا بھی یہیں سے ہوا۔ یہ روایات قبۃ الصخرا کی تعمیر کے بعد مشہور ہوئیں ، معاف کیجئے گا اس وقت میرا مطالعہ بہت سکیچی اور بے ترتیب ہے اور اس وقت میں چاہتے ہوئے بھی متعلقہ حوالہ جات نہیں دے سکتا ، لیکن یہ سب کچھ دو دن کی گوگل سرچ کا نتیجہ ہے۔ تو یقینا آپ مجھ سے بہتر سرچ کر کے ان معلومات کی تصدیق یا تردید کر سکیں گے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ
عین ممکن ہے کہ مسجد قبلتین سے متعلق روایات بھی اسی دور میں نمودار ہوئی ہوں جب یروشلم کو مکہ کے برابر کے تقدس کا حامل قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہو؟؟
کیا مضحکہ خیز ریسرچ ہے بھئی آپ لوگوں کی۔ گاہے بگاہے ایک نئی شُرلی چھوڑتے رہنا کیا ضروری ہوتا ہے؟؟؟
 
جزاک اللہ

یہ بہت اہم سوالات اٹھائے آپ نے۔ یہ سوالات در اصل سورہ اسراء کی پہلی آیت میں موجود ترکیب مسجد اقصی کے معانی تلاش کرنے کے دوران سامنے آئے۔
کچھ تاریخی حوالے جو سامنے آئے، وہ مندرجہ ذیل ترتیب میں آپ اور باقی قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں۔

مسجد اقصی کے لغوی معانی دور والی مسجد کے ہیں۔ اس کا متضاد ہوگا مسجد ادنی یعنی قریب والی مسجد۔
لغوی ترجمہ کے حساب سے دیکھا جائے تو اس میں بیت المقدس یا موجودہ مسجد اقصی کی طرف اشارہ بنتا ہی نہیں۔ دور والی مسجد کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی مسجد جو مسجد حرام سے دور ہو۔ کونسی ہو سکتی ہے اس پہ بھی بات کریں گے۔
نبی ﷺ کی وفات کے پانچویں یا چھٹے سال جب یروشلم فتح ہوا تو عمر ؓ وہاں گئے۔ کچھ احباب کا کہنا ہے کہ عمرؓ کی وہاں آمد کی روایات اس فتح کے دو سو سال تک موجود نہ تھیں بلکہ یہ فخالد بن ثابت الفھمی تھے جنھوں نے شہر کھلوایا۔ بہر حال، عمرؓ شہر میں داخل ہوئے اور ظہر کی نماز چرچ میں اس بناء پر پڑھنے سے انکار کیا کہ بعد کے مسلمان اس کو دلیل نہ بنا لیں۔ اگر مسجس اقصی ہوتی وہاں تو کیا عمر ؓ کو چرچ میں نماز کی دعوت دی جاتی؟ بلکہ عمرؓ سے منسوب ایک مسجد ، مسجد عمرؓ ، روایات کے مطابق آج بھی یروشلم میں چرچ کے دروازے کے قریب موجود ہے۔

موجود مسجد اقصی اور قبۃ الصخراء عبدالملک بن مروان کے دور میں بننے شروع ہوئے۔ ایک عیسائی راہب جو اس وقت وہاں سے گزرا تھا اس کے بقول اس کی تعمیر معاویہ اول (معاویہ بن ابی سفیان؟؟) کے دور میں شروع ہوئی اور اس بات پہ سب کا اتفاق ہے کہ تکمیل ولید بن عبدالملک کے دور میں سن ۷۱۵ عیسوی میں ہوئی جب نبی ﷺ کو وفات پائے تراسی سال گزر چکے تھے۔ عبدالملک بن مروان نے مسجد کی تعمیر اور قبۃ الصخرا کو سیاسی بنیادوں پر پروموٹ کیا تھا کہ اس وقت کچھ عرصہ کے لئے حجاز پر عبداللہ بن زبیر کی حکومت تھی اور شام سے لوگ حج کے لئے وہاں جا نہ سکتے تھے۔ تو یروشلم کی زیارت کو پروموٹ کیا گیا اور اس دور میں یہاں طواف ، قربانی اور حج تک ہوا۔ غالبا اسی دور میں یروشلم کی تقدیس کے سلسلے میں روایات گھڑی گئیں۔ اور اسے مکہ اور مدینہ کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام قرار دیا گیا۔
منقول ہے کہ امام ابن تیمیہ کو لوگوں میں موجود ان خیالات کے بطلان کے لئے ایک کتاب لکھنی پڑی جس میں انھوں نے یہ کہا کہ یروشلم کو اسلام میں کسی قسم کی تقدیس حاصل نہیں ہے۔
اور یہ بھی روایات میں آتا ہے کہ معراج کی روایات کہ بیت المقدس سے نبی ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا بھی یہیں سے ہوا۔ یہ روایات قبۃ الصخرا کی تعمیر کے بعد مشہور ہوئیں ، معاف کیجئے گا اس وقت میرا مطالعہ بہت سکیچی اور بے ترتیب ہے اور اس وقت میں چاہتے ہوئے بھی متعلقہ حوالہ جات نہیں دے سکتا ، لیکن یہ سب کچھ دو دن کی گوگل سرچ کا نتیجہ ہے۔ تو یقینا آپ مجھ سے بہتر سرچ کر کے ان معلومات کی تصدیق یا تردید کر سکیں گے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ
عین ممکن ہے کہ مسجد قبلتین سے متعلق روایات بھی اسی دور میں نمودار ہوئی ہوں جب یروشلم کو مکہ کے برابر کے تقدس کا حامل قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہو؟؟
سوال نہیں اس کا جواب اسے اہم یا غیر اہم بنایا کرتا ہے۔ آپ کی دعوت پر میں نے جب گوگل سے پوچھا تو مجھے تو اس نے یہ کہا کہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ شریف کی تعمیر کے چالیس برس کے بعد تعمیر فرمائی یہ تب بھی ایک معروف اور مشہور مقام تھا۔ (ایسی دلیل جو قرآن کے نزول سے قبل کی ہو سوائے کتب قدیمہ کے کہیں سے نہیں ملتی کیونکہ جو حدیث کا انکار کر دے وہ تو کسی دوسری روایت کو پہلے اٹھا کر دیوار سے دے مارے گا تو دلیل اب مجبورا بائبل سے دینی پڑ رہی ہے کیونکہ قرآن کے ترجمے کو تو حضرات نے اپنی اٹکل سے بغیر دیگر مصادر کے مراجعہ کے مرضی کا مطلب پہنانے کی سعی کر ہی دی ہے تو آئیں دیکھتے ہیں)
یاد رہے کہ گوگل سے نکلنے والی ہر سرچ کے نتائج درست یا غلط ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ۔ کیونکہ اکثر و بیشتر یہ آپ کو آپ کے سرچ کرنے کے الفاظ کے قریب ترین مصدر کی طرف لوٹا دیتے ہیں دوسرے الفاظ میں یہ کہ درست یا غلط ہونے کا معیار بابا جی گوگل سرچاندلی مد التکنالوجی العالیہ کے پاس کوئی نہیں ہے۔​
اب لوٹتے ہیں آپ کے سوال کی طرف ۔ تو میرے تئیں تو مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ شریف کی تعمیر کے چالیس برس کے بعد تعمیر فرمائی یہ تب بھی ایک معروف اور مشہور مقام تھا۔اور تب بھی جب اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام پھر ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام فلسطین میں رہتے تھے ۔جب حضرت یوسف علیہ السلام عزیز مصر ہوئے تو انہوں نے اپنے خاندان کو فلسطین سے مصر آنے کے لئے کہا تاکہ وہ اس غربت سے نکل سکیں جو اس وقت فلسطین میں رہتے تھے ۔ یہ تب 33 لوگ تھے اور پھر وہاں خدا کے گھر کی نگہداشت کے لئے کوئی نہ رہا (بائبل :کتاب پیدائش ) اور بائبل میں ہی( کتاب عزرائیل) میں سائرس عظیم سے بھی یروشلم میں عبادت گاہ بنانے اور اس خدا کی عبادت گاہ بنانے کا ذکر ہے جو یہوداہ اور بنیامین کے خاندانوں کے سربراہان کے ذریعے بنوایا گیا۔ اب تاریخی حقائق اور بائبل میں یروشلم میں اللہ کی عبادت کے مقام مبارک کے ہونے اور معروف ہونے کی بات تو یہاں تک ثابت ہوئی۔ آگے چلتے ہیں موجودہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت عمر کے دور میں ہوئی ہو یا بنو امیہ کے دور میں ہوئی ہو وہ کسی حدیث کے انکار کی دلیل نہیں ہو سکتی ۔ بعینہ اسی بنیاد پر جب اللہ تعالیٰ معراج شریف کا ذکر فرما رہے ہیں قرآن کریم میں تو سورۃ بنی اسرائیل (سورۃ اسراء) کی پہلی ہی آیت مبارکہ میں واضح فرما دیا گیا ہے کہ

ترجمہ: وہ پاک ہے جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے والا دیکھنے ولا ہے۔
اب سوال تو یہ ہونا چاہیئے کہ اس آیت پر کفار کے اعتراضات میں یہ اعتراض کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ مسجد اقصیٰ کہاں ہے ۔ فلسطین میں تو ایسی کسی مسجد یا عبادت گاہ کا وجود ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ مقام تو اتنا مجہول کبھی تھا ہی نہیں تھا جب یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں لہذا اس سارے قضیے کے بخیے یہیں ادھڑ جاتے ہیں۔ مسجد اقصی مشہور و معروف مقام تھا ۔ یہ کم و بیش سب جانتے تھے کہ یہ کہاں کس شہر میں موجود ہے۔ ہاں اس کی عمارت کا موجودہ حالت میں ہونا یا اس کی تعمیر نو کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کی خلافت یا بنو امیہ کی بادشاہت میں ہونا ایک الگ موضوع ہے جس کا مسجد اقصیٰ کے وجود اور اس معاملے میں کفار مکہ کا یہ جاننا کہ یہ کہاں ہے سے کوئی تعلق نہ ہے ۔مسجد اقصیٰ کا ذکر ہوا ہے تو وہ کون سی ہے کوئی ایسا سوال ہرگز نہیں ہے جس کا جواب معلوم نہ ہو۔
اب آتے ہیں مسجد قبلتین کی طرف:- سادہ سا جواب اس سوال کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حکم خداوندی وصول ہو جاتا ہے تو اس کی تعمیل میں تاخیر یا منطق ڈھونڈنا کچھ حلقوں کے مطابق منافقوں کا کام ہے ۔ جونہی آیات کا نزول ہوا صحابہ کرام نے منہ پھیر کر مسجد الحرام کی جانب کر لیا ۔ وہ اطاعت الہی میں کرنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے نہ کرنے کے نہیں۔ دوسری بات یہ کہ بالفرض محال محال محال ۔۔اگر انہوں نے دوران نماز ہی قبلہ بدلنے کی غلطی کر لی تھی تو اس وقت نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و السلام کی صورت میں براہ راست الوہی ہدایات ان تک نہ صرف پہنچتی تھیں بلکہ کسی خطا یا غلطی کی صورت میں اللہ کا آخری محبوب نبی ّعلیہ الصلوٰۃ و السلام ان کی اصلاح کے لئے ان میں موجود تھا۔ ہمیں احادیث میں اس پر تادیب کا کوئی واقعہ نظر نہیں آتا بلکہ یہ اتنا پسندیدہ ہوا کہ ایسا نہ کرنے والوں میں سے بہت سے افراد کو امت نے منافقین اور کفار میں گنا۔ اب یہ تحویل قبلہ کا کام تب بھی نہ ہوتا تو تا قیامت دوسرا نبی نہیں آنا تھا لہذا آخری نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے دور میں ہی یہ ممکن تھا۔

ان کے بعد آتے ہیں آپ کے خلاصہ کلام کی جانب:- بیت المقدس کو تقدیس نہ بعد کے کسی دور میں خصوصی طور پر دی گئی نہ ایسی کوئی کوشش کی گئی زمانہ ماقبل نزول القرآن میں بھی یعنی کتب قدیمہ میں اناجیل اور بائبل میں بھی اس شہر کو اور اس میں موجود عبادت گاہ کو تقدیس حاصل تھی اور ما بعد نزول القرآن الکریم بھی اس شہر کو فضائل حاصل ہیں۔ اب یروشلم کی زمین جسے مبارک کہا گیا اس زمیں پر اس ایک خدا کی عبادت گاہ بنی تو اس طرح اسلام کے ہر دور میں خاتم النبیین نبی علیہ الصلوٰۃ السلام تک اس کی اہمیت مسلم ہے اب کوئی فلسفہ جھاڑ کر اسے مشکوک بنانے کی کوشش کرے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن ، حدیث، آثار السلف، کتب سماویہ قدیم سب میں یروشلم میں اللہ کی عبادت گاہ کا ذکر خیر ملتا ہے۔تو جب اسلام ہر نبی ایک ہی لایا تو ایسی بات جو سب میں کتابوں مشترک ہو اس کا انکار چہ معنی دارد اللہ تو خود فرماتا ہے ناں کہ کہہ دیجئے ان سے کہ آؤ اس بات پر جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے
(اے حبیب! تم فرمادو، اے اہلِ کتا ب! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں کوئی ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کو رب نہ بنائے پھر (بھی) اگر وہ منہ پھیریں تو اے مسلمانو! تم کہہ دو : ’’تم گواہ رہو کہ ہم سچے مسلمان ہیں ‘‘۔)​
 
ان نام نہاد دانشوروں اور مفکرین کو ہمیشہ وہ بات سوجھتی ہے اور یہ لوگ وہ اعتراض کرتے ہیں جو ابو جہل بھی نہیں کیا کرتا تھا ۔ وجہ یہ کہ ابوجہل پھر بھی ذرا سمجھ بوجھ سے کام لےلیا کرتا تھا ۔ واقعہ معراج کے بارے میں متعدد احادیث ہیں اور ان میں تفصیلات بھی بیان ہوئی ہیں ۔ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ واقعہ معراج کے بعد مشرکینِ مکہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حطیم میں گھیر لیا اور یہ سمجھا کہ اب وہ محمد کو(نعوذ باللہ) جھوٹا ثابت کرکے رہیں گے ۔ قریش میں سے بہت سارے لوگ یروشلم کی طرف سفر کرچکے تھا چانچہ انہوں نے مسجدِ اقصٰی اور اس کے علاقے کے بارے میں آپ سے متعددسوالات کئے ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شافی جواب پاکر چپ ہوگئے ۔ لیکن اب بنی ابو جہل واقعہ معراج کو غلط ثابت کرنے کے لئے ہر طرح سے زمین ہموار کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔

مسجدِ اقصٰی کے بارے میں بخاری ا ور مسند احمد کی یہ روایات دیکھئے :

مسجد حرام ،مسجد نبوی اوربیت المقدس کے علاوہ تقرب الی اللہ اور حصول ثواب کی نیت سے کسی دوسری جگہ سفر کرکے جانا جائز نہیں ہے ۔ [صحیح بخاری ،فضل الصلوٰۃ :۱۱۸۹]
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرہفتہ کے دن پیدل یاسوار ہوکر مسجد قبا تشریف لے جاتے اوروہاں نماز اداکرتے تھے۔‘‘ [صحیح بخاری ،فضل الصلوٰۃ:۱۱۹۳]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پرعمل کرنے کے لئے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مسجد قبا جایاکرتے تھے۔[صحیح بخاری ، فضل الصلوٰۃ:۱۱۹۴ ]

ابوبصرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین مساجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد کی طرف رخت سفر نہیں باندھنا چاہیے وہ یہ ہیں مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ (مسندامام احمد، ص:۷ج۶)
حضرت ابوسعید رضی اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بایں الفاظ بیان فرمائی: ’’تین مساجد کے علاوہ کسی طرف (تقرب الٰہی کی نیت سے ) سواری کواستعمال نہیں کرناچاہیے ،ان میں سے ایک مسجد حرام، دوسری مسجد مدینہ اورتیسری مسجد اقصیٰ ہے ۔‘‘ [مسندامام احمد، ص ۹۳، ج۳]

مسجد ِ اقصی کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر فرمایا تھا۔ حدیث میں آتا ہے: أنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثَةً: سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأُوتِيَهُ، وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأُوتِيَهُ، وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ فَرَغَ مِنْ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَأْتِيَهُ أَحَدٌ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ فِيهِ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ۔ ترجمہ ٔ حدیث: سلیمان بن داود علیہما السلام نے جب بیت المقدس کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالیٰ سے انہوں نے تین چیزیں مانگیں، اللہ عزوجل سے مانگا کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے ایسے فیصلے کرے جو اس کے فیصلے کے موافق ہوں، تو انہیں یہ چیز دے دی گئی، نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی سلطنت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملی ہو، تو انہیں یہ بھی دے دی گئی، اور جس وقت وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے تو اسے اس کے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے کہ وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ہو۔ (ابن خزیمہ رقم:۹۳۹,ابن حبان رقم:۱۶۳۳,سنن کبری رقم:۷۷۴,۵۱۵۴,سنن نسائی رقم:۶۹۳,مسند أحمد:۶۶۴۴و سندہ صحیح)
 

ابن آدم

محفلین

یہودیوں کا قبلہ؟

قوموں کی طرف ہدایت بھیجی لہٰذا اس میں ان قوموں کے بارے میں معلومات بھی ہے.اگرچہ ان کے واقعات مختصر بیان کیے گئے ہیں لیکن وہ انکی شریعت میں داخل کی گئیں غلطیوں کی نشاندھی کرنے کے لئے کافی ہیں؟ قرآن میں جس قوم کاذکر سب سے زیادہ ہے وہ بنی اسرائیل ہیں. اس میں الله نے ان کے بہت سے واقعات بیان کیے ہیں جن کے ذریعہ ان کے غلط عقائد کی نشاندھی اوران کی تصحیح کی گئی ہے. اگرچہ یہودیوں کےبہت سے غلط عقیدے معلوم ہیں لیکن چند ایک ایسے بھی ہیں جن کی طرف دیہان نہیں کیا گیا.

بنی اسرائیل کی قوم نے ہجرت پہلے کی اور پھر انکو شریعت دی گئی. اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگ جب مصر میں تھے تو وہ مواحد ہی تھے. تو جب یہ لوگ مصر سےنکالے جا رہے تھے تو قرآن بتاتا ہے کہ الله نے ان کو اپنے گھروں میں سےکسی گھر کو قبلہ بنانے اور اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کاحکم دیا.
وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًۭا وَٱجْعَلُوا۟ بُيُوتَكُمْ قِبْلَةًۭ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ (سوره یونس، ٨٧)

اس لئے ان کے ہاں مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کارواج ہے اور کچھ فرقےآج بھی نماز اسی طرح پڑھتے ہیں. کچھ کنیسہ جن کے اثار قدیمہ ملے ہیں ان کارخ مختلف ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسوی شریعت میں کوئی مخصوص قبلہ نہیں تھا.

image.png

قرآن اور بنی اسرائیل کی تاریخ بتاتی ہے کہ بیت القدس کی تعمیر حضرت داؤد(ع) نے شروع کی یہاں پریہ بھی یاد رہےکہ حضرت داؤد(ع) کو دی گئی زبور کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہےاور زبور ایک دعاؤں کی کتاب ہے جس کو یہودی بھی مانتے ہیں. توسوره آل عمران میں جب الله نے یہودیوں کے اس سوال کا جواب دیا کہ پھر ان کو کس نے اس قبلہ سے موڑا جس پر حضرت ابرہیم (ع) تھے تو الله نے بکہ کا ذکر کیا
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍۢ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكًۭا وَهُدًۭى لِّلْعَ۔ٰلَمِينَ (سوره آل عمران، ٩٦)
بے شک سب سے پہلی عبادت گا ہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکّہ میں واقع ہے۔ اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیا تھا۔ بکہ کالفظ کیوں استعمال کیا گیا اور اس سے کیا مراد ہے اسکو جاننے کے لئے تاریخ جاننا بھی ضروری ہے. طالوت نے جب جالوت کو ہرا دیا اور اس جنگ میں حضرت داؤد(ع) نے جالوت کو قتل کر دیا تو جہاں حضرت داؤد(ع) کے بہت سے مداح تھے وہاں ان سے حسد کرنے والے بھی بہت سے آگئے. طالوت حضرت داؤد(ع) کو اگلا بادشاہ بنانا چاہتا تھا لیکن اس کی فوج کے بہت سے جرنیل اس پر راضی نہیں تھےاور اس میں حضرت داؤد(ع) کی زندگی کو بھی خطرہ تھا جس کی بنیاد پر وہ چھپ کر بھاگ گئے اور مکہ آئے جہاں پر انھوں نے دعائیں کیں اور اس جگہ کی بےحد تعریفیں کیں.

image.jpeg

اور اسی بکہ کا ذکر زبور میں ہے جس کو قرآن نے پھر سوره ال عمران میں بیان کیا ہے. جس میں ایک پہلو یہ بھی نکلتا ہےکہ حضرت داؤد (ع) کی بھی خواہش تھی کہ بنی اسرائیل کے لیے بھی مکہ کو قبلہ قرار دیا جائے. حضرت داؤد(ع) کو بالاخر بادشاہت جب مل گئی تو انھوں نے پھر مسجد اقصیٰ کی بنیاد رکھی. جس کی تکمیل حضرت سلیمان(ع) کےہاتھوں ہوئی. اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا رخ سیدھا مکہ کی طرف ہے.



Advertisements

REPORT THIS AD



ہیکل سلیمانی /مسجد اقصیٰ بنی اسرائیل کا قبلہ اس لئے بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ جب حضرت سلیمان کے بعد بنی اسرائیل دو گروہوں میں بٹ گیا تب جو ١٠ قبیلے علیحدہ ہوئے انھوں نے ہیکل سلیمانی کو اپنا نہیں کہا بلکہ انھوں نےکوہ گرزیم پراپنی عبادت گاہ بنالی جس کارخ بھی ہیکل سلیمانی کی طرف نہیں تھا. اگر ہیکل سلیمانی /مسجد اقصیٰ کو بنی اسرائیل اپنا قبلہ سمجھ رہے ہوتے تو پھر یقیناً جب ١٠ قبیلوں نے اپنی علیحدہ ریاست بنائی تھی تو وہ کم از کم اپنی عبادت گاہوں کا رخ ہیکل سلیمانی کی طرف رکھتے. لیکن ایسا نہیں دیکھا گیا. لہٰذا یہودی جو فساد مچا رہے وہ ایک غلط چیز اور غلط عقیدے پر ہے.



إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍۢ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكًۭا وَهُدًۭى لِّلْعَ۔ٰلَمِينَ (سوره آل عمران، ٩٦)
یہاں پریہ بھی یادرہےکہ جب الله نےیہودیوں کی توجہ کو بکہ یعنی حضرت داؤد(ع)کی کتاب کی طرف مبذول کرائی تواس آیت میں بکہ کوتمام جہانوں کےلئےہدایت قراردیا ہے. یعنی یہ قبلہ تمام جہانوں کےلئےہے. تویہودیوں نےاپنی طرف سےجو ایک علیحدہ قبلہ بنا لیا ہے اس کی کوئی سند الله کی طرف سے نہیں ملتی
 
Top