سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کردیا

جاسم محمد

محفلین
سات جرنیلوں کا اکٹھ اور ان کا اعلیٰ عدلیہ میں رسوخ اور ملکی معاملات میں موثر انداز میں دخل کوئی چھوٹا واقعہ نہیں جسے نظرانداز کر دیا جائے۔ ملٹری اسٹیبلشیہ یقینی طور پر مسٹر باجوہ کا فرمان ہی تسلیم کرنے کی پابند ہے تاہم درونِ خانہ یہ ہنگامے، اور یہ سرد جنگ ریاستِ پاکستان کے لیے کسی بہت بڑے خطرے سے کم نہیں۔ ابھی چھ ماہ کی گیم سامنے آئی ہے تاہم یہ جرنیل ممکنہ طور پر نچلے نہیں بیٹھیں گے اور آنے والے مارچ تک مزید ہلچل کا امکان ہے۔
ویسے شیخ رشید بڑے پرعزم ہیں یعنی اندر خانے اپوزیشن سے معاملات ٹھیک ہو گئے ہیں :)

آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا، شیخ رشید
اسٹاف رپورٹر بدھ 4 دسمبر 2019
1905063-shaikhrasheedx-1575473059-958-640x480.jpg

سابق صدر پرویز مشرف کو غدار نہیں سمجھتا، شیخ رشید ۔ فوٹو : فائل


راولپنڈی: وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا، 6 ماہ اس کام کے لئے بہت وقت ہے مگر اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کو غدار نہیں سمجھتا، مجھ سمیت سب نے ان سے حلف لیا ہے، اگر طبی بنیادوں پر مجر م نواز شریف باہر جاسکتا ہے تو ملزم آصف زرداری کا بھی حق ہے کہ وہ باہر جائے، مولانا فضل الرحمان حکومت کے خاتمے کے لیے جس دسمبر کی بات کررہے ہیں وہ 4 سال بعد والا دسمبر ہوگا جب کہ لوکل معاملات اور دھرنے سے مسئلہ کشمیر پیچھے چلا گیا ہے۔

شیخ رشید نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے متعلق کہا کہ بلاول بھٹو راولپنڈی میں جلسہ کریں، جگ جگ جئیں، جم جم آئیں ہم ان کے لیے پلکیں بچھانے کو تیار ہیں۔
 
یہ عدلیہ کی انتظامیہ میں دخل اندازی کا کیس ہے، یہ عدلیہ کا اپنی حدود سے تجاوز کرکے انتظامیہ کے معاملات میں اپنی طاقت کو بے جا اور ناجائز استعمال کرنے کا کیس ہے۔ عدلیہ کے ان ججوں کو اس بے جا دخل اندازی پر معزول کرنا چاہئے۔
 

جاسم محمد

محفلین
یہ عدلیہ کی انتظامیہ میں دخل اندازی کا کیس ہے، یہ عدلیہ کا اپنی حدود سے تجاوز کرکے انتظامیہ کے معاملات میں اپنی طاقت کو بے جا اور ناجائز استعمال کرنے کا کیس ہے۔ عدلیہ کے ان ججوں کو اس بے جا دخل اندازی پر معزول کرنا چاہئے۔
حکومت پہلے ہی بڑے بڑے مافیاز سے ٹکر لے کر منہ کی کھا چکی ہے۔ اب عدلیہ مافیا سے کون لڑے؟
 

جاسم محمد

محفلین
آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے عدالتی فیصلے میں کوتاہیاں ہیں: فواد چوہدری


وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے عدالتی فیصلے میں قانونی سقم اور کوتاہیاں ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت، اپوزیشن، فوج و عدلیہ اپنی حدود متعین کریں ورنہ اختیارات کی جنگ جاری رہے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ فوج چاہتی ہے ان کے احتساب عمل کو نہ چھیڑا جائے اور اس حوالے سے کابینہ میں تجاویز زیر غور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا بھی چاہتا ہے کہ اس پر قدغن نہ ہو، آزاد چھوڑ دیا جائے، اس ساری صورت حال میں پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو رہی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عدلیہ اراکین پارلیمنٹ کا احتساب کرتی ہے لیکن عدلیہ خود پارلیمانی اکاؤنٹس کمیٹی میں احتساب کے لیے آنے کو تیار نہیں ہے، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آرٹیکل 243 کو تو بالکل ختم ہی کر دیتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے یا نا کرنے یا آئین میں مدت کے تعین کا نہیں کہہ سکتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے عدالتی فیصلے میں قانونی سقم اور کوتاہیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو اعلیٰ اور معتبر ادارہ بنائے جانے تک پاکستان آگے نہیں جا سکتا۔

اپوزیشن رہنماؤں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا تھا نواز شریف اور آصف زرداری کو جیل میں رکھنے میں حکومت کو خاص دلچسپی نہیں ہے، عوام کو سروکار یہ ہے کہ بدعنوانی کا پیسہ واپس قومی خزانے میں کیسے لایا جائے؟

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 نومبر کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں مشروط توسیع کرتے ہوئے حکومت کو 6 ماہ میں اس حوالے سے قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطے تیز کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
قانون نا بن سکا تو 6 ماہ بعد آرمی چیف ریٹائر ہو جائیں گے، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق تفصیلی فیصلہ 39 صفحات پر مشتمل ہے جسے جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع دی گئی، وزیراعظم کو ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار حاصل نہیں ہے، 3 سال کی توسیع کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہمارے سامنے مقدمہ تھا کہ کیا آرمی چیف کی مدت ملازمت توسیع کی جاسکتی ہے؟ سماعت کے پہلے روز درخواست گزار عدالت میں پیش نہیں ہوا، درخواست گزار اگلی سماعت پر عدالت میں حاضر ہوا۔



تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ہماری حکومت قوانین کی ہے یا افراد کی، ادارہ جاتی پریکٹس کے تحت ایک جنرل تین سال کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ قانون اور آئین میں مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے، آرمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع کا قانون نہ ہونے سے جنرل کی مدت ملازمت پر غیر یقینی دور کرنے کے لیے ایسی پریکٹس کی جاسکتی ہے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معاملہ قانون سازوں کے بنائے گئے قانون کے تحت ریگولیٹ کیا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر قانون نا بن سکا تو چھ ماہ میں جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائر ہو جائیں گے، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کو بے ضابطہ نہیں چھوڑیں گے، اگر 6 ماہ تک ایسا نا ہو سکا تو صدر نیا آرمی چیف مقرر کریں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
پارلیمان آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا تعین کرے، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ
ویب ڈیسک ایک گھنٹہ پہلے
1918875-supremecourt-1576496026-482-640x480.jpg

منتخب نمائندے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کریں، سپریم کورٹ. فوٹو:فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت سے متعلق کیس میں تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا تعین کرے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے اور اس ضمن میں عدالت عظمیٰ نے اپنا آرڈر جاری کر دیا ہے۔ 43 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا جب کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دو صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ تحریر کیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ متعد دفیصلوں میں کہہ چکی ہے کہ قانونی سازی کرنا پارلیمنٹ کااختیار ہے، کیس کی سماعت کے دوران ہم نے آئین کے آرٹیکل 243 اور آرمی رولز کاجائزہ لیا لیکن پاکستان آرمی ایکٹ کے اندر آرمی جنرل کی مدت اور توسیع کا کوئی ذکر نہیں جب کہ آرٹیکل 243 کے تحت چیف آف آرمی سٹاف کی تنخواہ اور دیگر مراعات کا تعین صدر مملکت کرتے ہیں۔

فیصلے کے مطابق قانون میں جنرل کی ریٹائرمنٹ اورعہدے کی معیاد کا ذکر نہیں جب کہ جنرل کے عہدے میں توسیع کی تسلسل سے روایات بھی نہیں ہیں، اداراتی روایات کے مطابق جنرل 3 سال کی میعاد پوری ہونے پر ریٹائرہو جاتا ہے، اداراتی روایات قوانین کا متبادل نہیں ہو سکتیں ۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اب معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے، پارلیمان آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا تعین کرے، منتخب نمائندےآرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کریں، کیس کا بنیادی سوال قانون کی بالادستی کا تھا، یہ معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے، ارکان پارلیمنٹ نیا قانون بنائیں جس سے ہمیشہ کیلئے آرمی چیف کی پیش گوئی ممکن ہو سکے اور یہ یاد رکھیں کہ ادارے مضبوط ہوں گے تو قوم ترقی کرے گی، اداروں کی مضبوطی میں ہی قوم کا مفاد ہے۔

فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے یقین دلایا کہ آرمی چیف کے تقرر کے عمل کو قانونی شکل دی جائے گی اور وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی تقرری کی قانون سازی کے لئے 6 ماہ مانگے ہیں، وفاقی حکومت آرمی چیف کی سروس سے متعلق قواعد و ضوابط طے کرے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی حکم دیا ہے کہ وفاقی حکومت ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت آرٹیکل 243 کے دائرہ کار کا تعین کرے، جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف نئی تقرری 6 ماہ کے لئے ہوگی اور ان کی موجودہ تقرری بھی مجوزہ قانون سازی سے مشروط ہوگی، جب کہ نئی قانون سازی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت کا تعین کرے گی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے کے آخر میں اضافی نوٹ میں 1616 میں چیف جسٹس آف انگلینڈ کے فیصلے کا ریفرنس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی ملازمت کے قواعد بنانے سے بہت سی تاریخی غلطیوں کو درست کیا جاسکتا ہے، قواعد بنانے سے عوام کے منتخب نمائندوں کا اقتدار اعلیٰ مضبوط ہوگا۔

چیف جسٹس نے اضافے نوٹ میں کہا ہے کہ آپ جس قدر بھی طاقت ور کیوں نہ ہوں قانون آپ سے بالاتر ہے، آرمی چیف کے آئینی عہدے کی مدت کوغیر ریگولیٹڈ نہیں چھوڑا جا سکتا۔
 

جاسم محمد

محفلین
ہن آرام اے؟
'ن لیگ کا آرمی ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کا فیصلہ '
211398_6884685_updates.jpg

— فائل فوٹو
پاکستان مسلم لیگ ن نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق آرمی ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کا فیصلہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کا مؤقف ہے کہ وہ آرمی چیف کے عہدے کو متنازع نہیں بنانا چاہتی اس لیے وہ آرمی ایک میں ترامیم کی حمایت کریں گے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔

یاد رہے کہ حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت پر قانون سازی کے لیے مسلم لیگ (ن) سے حمایت مانگی ہے۔

اس حوالے سے پرویز خٹک، شبلی فراز اور اعظم سواتی پر مشتمل حکومتی وفد اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں گیا جہاں انہوں نے خواجہ آصف، ایاز صادق اور رانا تنویر سمیت دیگر سے ملاقات کی تھی۔
 
Top