آ کے مرے تُو سامنے مجھ سے نگاہیں چار کر---برائے اصلاح

الف عین
عظیم اللہ قریشی
خلیل الرحمن
----------
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
-------
آ کے مرے تُو سامنے مجھ سے نگاہیں چار کر
تجھ سے کروں گا پیار میں تھوڑا سا انتظار کر
------------
یہ ہیں وفا کے راستے سہنا پڑیں گے غم ہمیں
اپنی سنا کے داستاں مجھ کو نہ اشکبار کر
--------
عشق مجھے سکھا دیا تیری نگاہِ ناز نے
کہتی ہے مجھ سے رابطے تُو بھی تو استوار کر
------------
آؤ کہیں پہ بیتھ کر باتیں کریں گے پیار کی
دل میں ترے جو خوف ہے مجھ پہ بھی آشکار کر
------------
پیار بھری نگاہ نے جینا مجھے سکھا دیا
دیکھا مجھے یوں پیار سے کہتی ہو جیسے پیار کر
-------------
جینا جہاں میں اس طرح تجھ سے سبھی کو پیار ہو
کرتے ہیں تجھ سے پیار جو ان سے تو بے شمار کر
---------------
راہِ وفا پہ چل کے ہی ملتی ہے دل کو تازگی
چل کے وفا کی راہ پر خود کو بھی باوقار کر
--------------
 

عظیم

محفلین
آ کے مرے تُو سامنے مجھ سے نگاہیں چار کر
تجھ سے کروں گا پیار میں تھوڑا سا انتظار کر
------------ 'آ کے مرے' کی بہ نسبت 'آ کر تو میرے' بہتر نہیں؟
باقی ٹھیک لگتا ہے

یہ ہیں وفا کے راستے سہنا پڑیں گے غم ہمیں
اپنی سنا کے داستاں مجھ کو نہ اشکبار کر
-------- دوسرا مصرع بیان کے اعتبار سے نا مکمل لگتا ہے۔ اپنی غموں سے بھری داستاں شاید مکمل بیان ہوتا
اس کے علاوہ پہلے میں غم سہنا عجیب لگتا ہے۔ غم اٹھانا شاید بہتر ہوتا

عشق مجھے سکھا دیا تیری نگاہِ ناز نے
کہتی ہے مجھ سے رابطے تُو بھی تو استوار کر
------------ پہلا بحر سے خارج؟

آؤ کہیں پہ بیتھ کر باتیں کریں گے پیار کی
دل میں ترے جو خوف ہے مجھ پہ بھی آشکار کر
------------ دوسرے میں الفاظ کی ترتیب جو آپ اکثر آگے پیچھے کر جاتے ہیں، مثلاً 'دل میں ترے جو' کی بجائے 'دل میں جو تیرے' درست ہوتا ہے۔ اور 'مجھ پہ' کی جگہ بھی 'مجھ پر' استعمال کر سکتے ہیں؟

پیار بھری نگاہ نے جینا مجھے سکھا دیا
دیکھا مجھے یوں پیار سے کہتی ہو جیسے پیار کر
------------- پہلا مصرع بحر میں نہیں! نگاہ کہتی ہے کہ مجھ سے پیار کر؟

جینا جہاں میں اس طرح تجھ سے سبھی کو پیار ہو
کرتے ہیں تجھ سے پیار جو ان سے تو بے شمار کر
--------------- جینا کی بجائے 'رہنا' بہتر رہے گا۔
'ان سے تو بے شمار کر' سے یہ ظاہر نہیں کہ پیار ہی بے شمار کر۔ اور الفاظ کی ضرورت ہے

راہِ وفا پہ چل کے ہی ملتی ہے دل کو تازگی
چل کے وفا کی راہ پر خود کو بھی باوقار کر
-------------- 'چل کے' کی جگہ 'چل کر' بہتر لگتا ہے۔ 'وقار' میں میرا خیال ہے کہ ق پر شدہ ہے
 

الف عین

لائبریرین
دونوں مصرعوں میں بحر درست ہے جسے خارج کہہ گئے ہیں عظیم
مطلع میں بھی کئی بہتر صورتیں ہیں
آکے تو میرے سامنے
سامنے آ کے تو مرے
سامنے میرے آ کے تو
وغیرہ
یہی اس کا ثبوت ہے کہ زیر اصلاح شعراء کو چاہیے کہ الفاظ بدل بدل کر خود ہی بہترین صورت منتخب کیا کریں
 
Top