غزل برائے اصلاح

اسلام وعلیکم ایک ادنی سی کاوش اصلاح کی غرض سے حاضر ہے.....
نہ پیچھے کو ہٹنا بغاوت کے بعد
تمھیں حق ملےگا شجاعت کے بعد

ذرا غور سے دیکھنا بھی گنہ ہے
کرے وہ شکایت اطاعت کے بعد

چلی چال سرمایہ داروں نے اب یہ
لڑے عام جنتا ذلالت کے بعد

اگر وقت پر کام آ نہ سکے تو
نظر نا اٹھےگی شخاوت کے بعد

کبھی پیچھے محنت سے ہٹنا نہیں ہے
کہ ہے عین راحت یاں محنت کے بعد

بھلا دشمنی آ رہے ہیں قریب
عنایت یہ انکی عداوت کے بعد

مری ماں نے مجھکو دیا درس یہ بھی
عداوت نہ کرنا ہدایت کے بعد

کہ مصباح اب تو چلا اپنے رستے
جو کہنا تھا کہہ کر خدامت کے بعد
مصباح انصاری
 

عظیم

محفلین
نہ پیچھے کو ہٹنا بغاوت کے بعد
تمھیں حق ملےگا شجاعت کے بعد
۔۔درست

ذرا غور سے دیکھنا بھی گنہ ہے
کرے وہ شکایت اطاعت کے بعد
۔۔۔یہ بھی

چلی چال سرمایہ داروں نے اب یہ
لڑے عام جنتا ذلالت کے بعد
۔۔ 'یہ' مصرع کے اختتام پر آنا اچھا نہیں۔ 'یہ اب' ہو سکتا ہے، دوسرے مصرع میں جنتا کس کے ساتھ لڑے یہ واضح نہیں ہے

اگر وقت پر کام آ نہ سکے تو
نظر نا اٹھےگی شخاوت کے بعد
۔۔۔پہلے میں 'نہ' دو حرفی آیا ہے۔ اسے یک حرفی استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے۔ اور دوسرے میں 'نا' کا غلط استعمال ہے۔ یوں کیا جا سکتا ہے
اگر وقت پر کام آئے نہیں تو
نظر کیا اٹھے گی سخاوت کے بعد

کبھی پیچھے محنت سے ہٹنا نہیں ہے
کہ ہے عین راحت یاں محنت کے بعد
۔۔ 'یاں' اب متروک ہے، الفاظ بدل کر دیکھیں

بھلا دشمنی آ رہے ہیں قریب
عنایت یہ انکی عداوت کے بعد
۔۔پہلا مصرع بے معنی لگ رہا ہے۔ یا شاید کچھ ٹائپو ہو۔ دوسرا بیان کے اعتبار سے نامکمل

مری ماں نے مجھکو دیا درس یہ بھی
عداوت نہ کرنا ہدایت کے بعد
۔۔۔ ہدایت کے بعد کیا کچھ غلط ہوتا ہے؟

کہ مصباح اب تو چلا اپنے رستے
جو کہنا تھا کہہ کر خدامت کے بعد
۔۔'کہ' سے شعر کا آغاز یا پہلے مصرع کا آغاز درست نہیں ہو گا۔
جو مصباح اب تو چلا اپنے رستے
کیا جا سکتا ہے۔ مگر دوسرے میں خدامت؟ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے؟
ایک اور بات بحر کے اعتبار سے کہ مطلع کے علاوہ ہر پہلا مصرع مکمل 'فعولن فعولن فعولن فعولن' بحر میں ہے۔ لیکن دوسرا شارٹ ہو جاتا ہے جو میرا خیال ہے کہ درست یا اچھا نہیں ہو گا۔
 
نہ پیچھے کو ہٹنا بغاوت کے بعد
تمھیں حق ملےگا شجاعت کے بعد
۔۔درست

ذرا غور سے دیکھنا بھی گنہ ہے
کرے وہ شکایت اطاعت کے بعد
۔۔۔یہ بھی

چلی چال سرمایہ داروں نے اب یہ
لڑے عام جنتا ذلالت کے بعد
۔۔ 'یہ' مصرع کے اختتام پر آنا اچھا نہیں۔ 'یہ اب' ہو سکتا ہے، دوسرے مصرع میں جنتا کس کے ساتھ لڑے یہ واضح نہیں ہے

اگر وقت پر کام آ نہ سکے تو
نظر نا اٹھےگی شخاوت کے بعد
۔۔۔پہلے میں 'نہ' دو حرفی آیا ہے۔ اسے یک حرفی استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے۔ اور دوسرے میں 'نا' کا غلط استعمال ہے۔ یوں کیا جا سکتا ہے
اگر وقت پر کام آئے نہیں تو
نظر کیا اٹھے گی سخاوت کے بعد

کبھی پیچھے محنت سے ہٹنا نہیں ہے
کہ ہے عین راحت یاں محنت کے بعد
۔۔ 'یاں' اب متروک ہے، الفاظ بدل کر دیکھیں

بھلا دشمنی آ رہے ہیں قریب
عنایت یہ انکی عداوت کے بعد
۔۔پہلا مصرع بے معنی لگ رہا ہے۔ یا شاید کچھ ٹائپو ہو۔ دوسرا بیان کے اعتبار سے نامکمل

مری ماں نے مجھکو دیا درس یہ بھی
عداوت نہ کرنا ہدایت کے بعد
۔۔۔ ہدایت کے بعد کیا کچھ غلط ہوتا ہے؟

کہ مصباح اب تو چلا اپنے رستے
جو کہنا تھا کہہ کر خدامت کے بعد
۔۔'کہ' سے شعر کا آغاز یا پہلے مصرع کا آغاز درست نہیں ہو گا۔
جو مصباح اب تو چلا اپنے رستے
کیا جا سکتا ہے۔ مگر دوسرے میں خدامت؟ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے؟
ایک اور بات بحر کے اعتبار سے کہ مطلع کے علاوہ ہر پہلا مصرع مکمل 'فعولن فعولن فعولن فعولن' بحر میں ہے۔ لیکن دوسرا شارٹ ہو جاتا ہے جو میرا خیال ہے کہ درست یا اچھا نہیں ہو گا۔
بہت بہت شکریہ....
 

الف عین

لائبریرین
مطلع کے علاوہ دونوں مصرعوں کی بحر بدل گئی ہے۔ یعنی آخری رکن پہلے میں فعولن اور دوسرے میں فعول ہے۔ عظیم کی نظر نہیں پڑی اس طرف شاید
 
اسلام وعلیکم ایک ادنی سی کاوش اصلاح کی غرض سے حاضر ہے.....
نہ پیچھے کو ہٹنا بغاوت کے بعد
تمھیں حق ملےگا شجاعت کے بعد

ذرا غور سے دیکھنا بھی گنہ ہے
کرے وہ شکایت اطاعت کے بعد

چلی چال سرمایہ داروں نے اب یہ
لڑے عام جنتا ذلالت کے بعد

اگر وقت پر کام آ نہ سکے تو
نظر نا اٹھےگی شخاوت کے بعد

کبھی پیچھے محنت سے ہٹنا نہیں ہے
کہ ہے عین راحت یاں محنت کے بعد

بھلا دشمنی آ رہے ہیں قریب
عنایت یہ انکی عداوت کے بعد

مری ماں نے مجھکو دیا درس یہ بھی
عداوت نہ کرنا ہدایت کے بعد

کہ مصباح اب تو چلا اپنے رستے
جو کہنا تھا کہہ کر خدامت کے بعد
مصباح انصاری

ہماری صلاح:

صرف ہر پہلے مصرع سے بھرتی کا ایک ایک حرف نکال دیا جائے تو غزل درست بحر میں آسکتی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے:

ذرا غور سے دیکھنا بھی گنہ
کرے وہ شکایت اطاعت کے بعد

چلی چال سرمایہ داروں نے یہ
لڑے عام جنتا ذلالت کے بعد

اگر وقت پر کام آ نہ سکے
نظر نا اٹھےگی شخاوت کے بعد

کبھی پیچھے محنت سے ہٹنا نہیں
کہ ہے عین راحت یاں محنت کے بعد

بھلا دشمنی آ رہے ہیں قریب
عنایت یہ انکی عداوت کے بعد

مری ماں نے مجھکو دیا درس یہ
عداوت نہ کرنا ہدایت کے بعد

کہ مصباح اب تو چلا راستے
جو کہنا تھا کہہ کر خدامت کے بعد
 
ہماری صلاح:

صرف ہر پہلے مصرع سے بھرتی کا ایک ایک حرف نکال دیا جائے تو غزل درست بحر میں آسکتی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے:

ذرا غور سے دیکھنا بھی گنہ
کرے وہ شکایت اطاعت کے بعد

چلی چال سرمایہ داروں نے یہ
لڑے عام جنتا ذلالت کے بعد

اگر وقت پر کام آ نہ سکے
نظر نا اٹھےگی شخاوت کے بعد

کبھی پیچھے محنت سے ہٹنا نہیں
کہ ہے عین راحت یاں محنت کے بعد

بھلا دشمنی آ رہے ہیں قریب
عنایت یہ انکی عداوت کے بعد

مری ماں نے مجھکو دیا درس یہ
عداوت نہ کرنا ہدایت کے بعد

کہ مصباح اب تو چلا راستے
جو کہنا تھا کہہ کر خدامت کے بعد
شکریہ محترم
 
Top