برائے اصلاح

فلسفی

محفلین
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذراش۔

ہجر کاٹا رات بھر، وصل تو اک خواب تھا
جو گزرنے کے لیے، اس قدر بیتاب تھا

دشتِ حسرت میں پھرے، دھول چاٹی عمر بھر
خشک آنکھوں میں مگر، آس کا سیلاب تھا

ساقی اب تُو ہی بتا، رند بے بس کیا کریں
میکدے کے ظرف میں، مے نہیں تھی آب تھا

یاس کا کیا فائدہ، نا خدا! ناؤ سنبھال
پھنس نہ جائے یہ کہیں، دامنِ گرداب تھا

بے رخی کی وجہ سے، کھو دیا میں نے جسے
اب کہاں ڈھونڈوں اسے، دوست جو نایاب تھا

روز ملنے کے لیے، وہ مجھے آتی وہاں
جس گلی کے سامنے، چھوٹا سا تالاب تھا

میں فراقِ یار میں، مر گیا ہوتا مگر
زہر کھانے کے لیے، شہر میں کم یاب تھا

دیکھ آنکھیں کھول کر، عمرِ رفتہ کی طرف
چار دن کی زندگی، مختصر سا خواب تھا​
 

الف عین

لائبریرین
ساقی اب تُو ہی بتا، رند بے بس کیا کریں
میں ساقی کی ی کا اسقاط پسند نہیں آیا
ساقیا تو ہی بتا..

یاس کا کیا فائدہ، نا خدا! ناؤ سنبھال
.. ناؤ کی جگہ کشتی استعمال کریں، ناؤ، داؤ فاع کے وزن پر اچھے لگتے ہیں
ان کے علاوہ کہیں لگتا ہے کہ تھا کی جگہ 'ہے' ردیف ہو تو کیا کچھ اشعار بہتر محسوس ہوتے ہیں؟
 

فلسفی

محفلین
شکریہ سر

ساقی اب تُو ہی بتا، رند بے بس کیا کریں
میں ساقی کی ی کا اسقاط پسند نہیں آیا
ساقیا تو ہی بتا..
ساقیا ذہن میں آیا تھا لیکن سوچا کہ ساقی زیادہ مناسب لگے گا۔ آپ نے جس طرف توجہ دلائی ہے آئندہ اس کا خیال رکھوں گا۔
یاس کا کیا فائدہ، نا خدا! ناؤ سنبھال
.. ناؤ کی جگہ کشتی استعمال کریں، ناؤ، داؤ فاع کے وزن پر اچھے لگتے ہیں
ٹھیک ہے سر آئندہ خیال رکھوں گا۔ دوسرا مصرع غلط لکھا گیا تھا اس کو تبدیل کیا۔اس پر آپ کی رائے چاہیے۔
ان کے علاوہ کہیں لگتا ہے کہ تھا کی جگہ 'ہے' ردیف ہو تو کیا کچھ اشعار بہتر محسوس ہوتے ہیں؟
جی سر "ہے" سے اشعار زیادہ اچھے لگ رہے ہیں۔

پوری غزل اصلاح کے بعد حاضر ہے

ہجر کاٹا رات بھر، وصل تو اک خواب ہے
جو گزرنے کے لیے، اس قدر بیتاب ہے

دشتِ حسرت میں پھرے، دھول چاٹی عمر بھر
خشک آنکھوں میں مگر، آس کا سیلاب ہے

ساقیا! تُو ہی بتا، رند بے بس کیا کریں
میکدے کے ظرف میں، مے نہیں ہے آب ہے

یاس کا کیا فائدہ، نا خدا! کشتی سنبھال
سامنے پھیلا ہوا دامنِ گرداب ہے / ہاتھ پھیلائے ہوئے دامنِ گرداب ہے

بے رخی کی وجہ سے، کھو دیا میں نے جسے
اب کہاں ڈھونڈوں اسے، دوست جو نایاب ہے

روز ملنے کے لیے، وہ مجھے آتی وہاں
جس گلی کے سامنے، چھوٹا سا تالاب ہے

میں فراقِ یار میں، مر گیا ہوتا مگر
زہر کھانے کے لیے، شہر میں کم یاب ہے

دیکھ آنکھیں کھول کر، عمرِ رفتہ کی طرف
چار دن کی زندگی، مختصر سا خواب ہے​
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
اب اور اچھی لگ رہی ہے غزل
کشتی والے شعر میں دوسرا متبادل بہتر ہے یعنی ہاتھ پھیلانے.. الخ
 
فلسفی بھائی السلام علیکم۔۔ ماشاءاللہ بہت اچھی غزل ہے بلکہ آپ کی ہر غزل بہت اچھی ہوتی ہے۔ آپ تخلّص کے مطابق واقعی فلسفیانہ خیالات رکھتے ہیں۔ میرے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو بھی ایک نظر دیکھ لیاکریں اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیں۔الریاض میں کہاں ہوتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔میں بھی ریاض میں 77 سے 86 تک رہا ہوں ۔ آپ کے کوائف دیکھے تو ریاض یاد آ گیا ۔ کوئی بات بُری لگے تو معاف کردیں ۔
 

فلسفی

محفلین
فلسفی بھائی السلام علیکم۔۔ ماشاءاللہ بہت اچھی غزل ہے بلکہ آپ کی ہر غزل بہت اچھی ہوتی ہے۔ آپ تخلّص کے مطابق واقعی فلسفیانہ خیالات رکھتے ہیں
جزاک الله ارشد بھائی۔ ڈھیروں خون بڑھ گیا، آپ کے الفاظ سے۔
میرے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو بھی ایک نظر دیکھ لیاکریں اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیں
ارشد بھائی شعر کہنا اور بات ہے اس پر تنقید کرنا اور۔ تنقید کے لیے صاحب علم اور فنی مہارت ضروری ہے جس سے عاجز بالکل عاری ہے۔ میں نے بس چند اصول شاعری کے سیکھے ہیں اس کی بنیاد پر اپنی سوچ کے الفاظ کو ترتیب دے کر یہاں پیش کر دیتا ہوں۔ ورنہ تو حقیقت میں اپنے دامن میں اس ضمن میں سوائے جہالت کے اور کچھ نہیں، تو دوسروں کے کلام پر تنقید کیسی۔

دوسری بات یہ ہے کہ عام طور پر تنقید بڑوں یعنی اساتذہ کی زبان سے بہتر لگتی ہے۔ ہم جماعت ایک دوسرے پر تنقید کریں تو شاید تلخیاں پیدا ہوں۔

یاسر شاہ صاحب کے اکسانے :) پر کبھی کبھار کسی کے کلام پر محتاط انداز میں کلام کرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ صاحب کلام کے علاوہ استاذہ کی طبع ناز پر گراں نہ گزرے کیونکہ میری نظر میں اہل علم اس معاملے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ بس یہی وجہ ہے کہ تنقید سے ذرا اجتباب ہی کرتا ہوں۔
کوئی بات بُری لگے تو معاف کردیں ۔
کوئی خبطی آپ کے الفاظ کا برا منائے تو منائے، فلسفی نہیں مناتا بلکہ میں تو آپ کے پیار برے الفاظ کا مشکور ہوں۔
 
آخری تدوین:
Top