دنیا کی سب سے بڑی دولت کیا ھے؟؟؟

اس لڑی میں دنیا کی سب سے بڑی دولت کے بارے میں بات کریں گے. کچھ لوگوں کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی دولت علم ھے کیونکہ اس کو نہ تو کوئی چوری کر سکتا ھے اور نہ ہی استعمال ہونے سے کم ہوتا ھے. کچھ کے نزدیک پیسہ ھے کیونکہ پیسے سے دنیا کی ہر چیز خریدی جا سکتی ھے. کچھ کے نزدیک نیک بیوی ھے کیونکہ وہ پوری نسل کو سنوارتی ھے. اس کے علاوہ اور بھی بہت سے چیزیں ہیں جن کو ہم دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھتے ہیں. میرے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی دولت صحت ھے. آپ کے پاس صحت ھے تو اپ ہر کام کر سکتے ہیں.
آپ اپنی زندگی میں کسی چیز کو دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھتے ہیں ؟؟؟
 
دولت ، سب سے بڑی دولت تو علم ہی ہے ، علمِ حقیقی۔ اس لحاظ سے میں انتہائی غریب ہوں۔ نیز بحیثیت قوم بھی ہم شرمناک حد تک غریب ہیں۔
بجا کہا اپ نے
لیکن مجھے ہر دفعہ صحت کی دولت ہر چیز پر حاوی نظر آتی ھے
اگر اپ کے پاس صحت ھے تو اپ حاصل کردہ علم کو بروےکار لا سکتے ہیں.
 

نسیم زہرہ

محفلین
اس لڑی میں دنیا کی سب سے بڑی دولت کے بارے میں بات کریں گے. کچھ لوگوں کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی دولت علم ھے کیونکہ اس کو نہ تو کوئی چوری کر سکتا ھے اور نہ ہی استعمال ہونے سے کم ہوتا ھے. کچھ کے نزدیک پیسہ ھے کیونکہ پیسے سے دنیا کی ہر چیز خریدی جا سکتی ھے. کچھ کے نزدیک نیک بیوی ھے کیونکہ وہ پوری نسل کو سنوارتی ھے. اس کے علاوہ اور بھی بہت سے چیزیں ہیں جن کو ہم دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھتے ہیں. میرے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی دولت صحت ھے. آپ کے پاس صحت ھے تو اپ ہر کام کر سکتے ہیں.
آپ اپنی زندگی میں کسی چیز کو دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھتے ہیں ؟؟؟
ماشااللہ
بہت خوب
میری سوچ کے مطابق
انسان کے اعمال (نیک / خیر) وہ واحد دولت ہیں جن کا منافع صرف اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ منافع در منافع آخرت میں بھی ہماری سب سے بڑی جمع پونجی ہونگے
 
ماشااللہ
بہت خوب
میری سوچ کے مطابق
انسان کے اعمال (نیک / خیر) وہ واحد دولت ہیں جن کا منافع صرف اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ منافع در منافع آخرت میں بھی ہماری سب سے بڑی جمع پونجی ہونگے
بہت اچھے پواہنٹ کی طرف اپ نے نشاندہی کی۔۔
 
(قبل از تحریر عرض کردوں کہ اسے مذہنی منافرت میں شمار نہ کیا جائے بلکہ میرے اور محض میرےہی جذبات وتاثرات تک محدود رکھا جائے۔)
ایک بار بطور ٹرینر مجھے کچھ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سلسلہ کئی شہروں پر پھیلا تھا، ٹریننگ دینے کے لیے لمبا شیڈول ڈیزائن کیا گیا تھا اور ماسٹر ٹرینر کی حیثیت سے مجھے ہی یہ فرائض سر انجام دینے تھے۔ وہاں مجھے عجیب سی بو محسوس ہوئی جو اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے تقریباً ہر شخص سے آرہی تھی۔ میں ان کے جتنے بڑے مذہبی رہنما سے ملا مجھے اس قدر ہی اس بو کی شدت کا احساس ہوا۔اس سے قبل نہ تو مجھے اس مخصوص بو کا کوئی تجربہ تھا اور نہ ہی کوئی ایسی پس منظری تعلیمات تھیں جو میرے لاشعور کو شعور کے آئینے میں لاکھڑا کرتیں۔ میں اس بوکی نسبت سے اس قدر متفکر تھا کہ میں نے باقاعدہ اپنے ایک دوست سے مشورہ بھی کیا۔ اس نے مجھے اس کمیونٹی کے حوالے سے کہا کہ یہ ان کی مخصوص بو ہے جو سبھی سے آتی ہے۔ مجھے یقین نہ ہوا لیکن یہ تجربہ کئی بار ہوا کہ جب بھی وہاں سے لوٹتا تو راستے میں وہ بو محسوس نہ ہوتی البتہ ان کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے یا ان کے ساتھ موجود ہوتے مجھے وہی بو محسوس ہونے لگتی ۔ یہاں تک کہ میں گھر واپسی پر اپنی یونیفارم بھی دیگر کپڑوں سے بالکل الگ دھلواتا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ کوئی روحانیات کا چکر ہے کہ جو لوگ کلمہ گو ہیں ان میں سے کسی میں سے ایسی بو محسوس نہیں ہوتی جب کہ نہایت صاف ستھرے لباس میں موجود اس مخصوص کمیونٹی میں سے آتی رہتی ہے اور اگر ان میں سے کوئی کلمہ پڑھ لے تو رحمتِ خدا وندی کا کیسا زندہ کرشمہ ہے کہ اس میں سے وہ بو نہیں آتی ۔ اس وقت مجھے شدت سے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کا احساس ہوا اور ایمان کی دولت پر فخر بھی ۔ چند دن دینی زندگی کی پابندیاں بھی جاری رہیں لیکن پھر سے وہی دنیا داری دامن گیر ہوگئی۔ اس بات پر اب بھی افسوس ہوتا ہے کہ ایمان کی دولت اللہ تعالیٰ نے گھر ہی سے دے دی لیکن ہم لوگ فرقوں میں بٹے ایک دوسرے کے ایمان خراب کر رہے ہیں۔ بہرحال میرے لیے تو سب سے بڑی دولت کا احساس جو بڑی شدت سے دامن گیر رہا وہ ایمان کی دولت ہی تھی۔
 
(قبل از تحریر عرض کردوں کہ اسے مذہنی منافرت میں شمار نہ کیا جائے بلکہ میرے اور محض میرےہی جذبات وتاثرات تک محدود رکھا جائے۔)
ایک بار بطور ٹرینر مجھے کچھ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سلسلہ کئی شہروں پر پھیلا تھا، ٹریننگ دینے کے لیے لمبا شیڈول ڈیزائن کیا گیا تھا اور ماسٹر ٹرینر کی حیثیت سے مجھے ہی یہ فرائض سر انجام دینے تھے۔ وہاں مجھے عجیب سی بو محسوس ہوئی جو اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے تقریباً ہر شخص سے آرہی تھی۔ میں ان کے جتنے بڑے مذہبی رہنما سے ملا مجھے اس قدر ہی اس بو کی شدت کا احساس ہوا۔اس سے قبل نہ تو مجھے اس مخصوص بو کا کوئی تجربہ تھا اور نہ ہی کوئی ایسی پس منظری تعلیمات تھیں جو میرے لاشعور کو شعور کے آئینے میں لاکھڑا کرتیں۔ میں اس بوکی نسبت سے اس قدر متفکر تھا کہ میں نے باقاعدہ اپنے ایک دوست سے مشورہ بھی کیا۔ اس نے مجھے اس کمیونٹی کے حوالے سے کہا کہ یہ ان کی مخصوص بو ہے جو سبھی سے آتی ہے۔ مجھے یقین نہ ہوا لیکن یہ تجربہ کئی بار ہوا کہ جب بھی وہاں سے لوٹتا تو راستے میں وہ بو محسوس نہ ہوتی البتہ ان کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے یا ان کے ساتھ موجود ہوتے مجھے وہی بو محسوس ہونے لگتی ۔ یہاں تک کہ میں گھر واپسی پر اپنی یونیفارم بھی دیگر کپڑوں سے بالکل الگ دھلواتا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ کوئی روحانیات کا چکر ہے کہ جو لوگ کلمہ گو ہیں ان میں سے کسی میں سے ایسی بو محسوس نہیں ہوتی جب کہ نہایت صاف ستھرے لباس میں موجود اس مخصوص کمیونٹی میں سے آتی رہتی ہے اور اگر ان میں سے کوئی کلمہ پڑھ لے تو رحمتِ خدا وندی کا کیسا زندہ کرشمہ ہے کہ اس میں سے وہ بو نہیں آتی ۔ اس وقت مجھے شدت سے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کا احساس ہوا اور ایمان کی دولت پر فخر بھی ۔ چند دن دینی زندگی کی پابندیاں بھی جاری رہیں لیکن پھر سے وہی دنیا داری دامن گیر ہوگئی۔ اس بات پر اب بھی افسوس ہوتا ہے کہ ایمان کی دولت اللہ تعالیٰ نے گھر ہی سے دے دی لیکن ہم لوگ فرقوں میں بٹے ایک دوسرے کے ایمان خراب کر رہے ہیں۔ بہرحال میرے لیے تو سب سے بڑی دولت کا احساس جو بڑی شدت سے دامن گیر رہا وہ ایمان کی دولت ہی تھی۔
ہمارے ہاں کچھ بہاولپور کے غریب لوگ مزدوری کے لیے آتے رہتے ہیں۔ان میں سے بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو پہلا کلمہ بھی نہیں آتا۔ان کے پاس سے بھی عجیب سی بو آتی ھے۔ہیں تو وہ مسلمان۔پھر ایسا کیوں ھے؟
 

عرفان سعید

محفلین
میری رائے اس معاملے میں بدلتی رہی ہے۔
آج کل انسان کی قوت متخیلہ اور تخیل کی انتہائی حدوں کو چھو لینے کی استطاعت کو سب سے بڑی دولت خیال کرتا ہوں۔
 

نسیم زہرہ

محفلین
ہمارے ہاں کچھ بہاولپور کے غریب لوگ مزدوری کے لیے آتے رہتے ہیں۔ان میں سے بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو پہلا کلمہ بھی نہیں آتا۔ان کے پاس سے بھی عجیب سی بو آتی ھے۔ہیں تو وہ مسلمان۔پھر ایسا کیوں ھے؟

آج کا بہت بڑا المیہ ہے یہ
لیکن اس کے زمہ دار ہم بھی ہیں، جیسا کہ ایک امیر و کبیر کی دولت و امارت اس کا امتحان ہے کہ اس نے اس میں سے مخلوقِ خدا کی فلاح و بہبود کے لیئے کیا خرچ کیا اسی طرح جن کو کچھ نہیں معلوم وہ زمہ داری ہیں ان کی جنہیں کچھ نہ کچھ تو معلوم ہے (کسی عالم کے دستیاب نہ ہونے کی صورت میں)
 

ہادیہ

محفلین
اگر علم سب سے بڑی دولت ہے تو جو لوگ یہ دولت حاصل کرلیتےہیں وہ جاہل کے جاہل کیوں رہتے ہیں۔۔ ایک اصطلاع تو سنی ہی ہوگی۔۔۔پڑھے لکھے جاہل؟
 

نسیم زہرہ

محفلین
رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
" أَفْضَلُهُ لِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَقَلْبٌ شَاكِرٌ، وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ" (ترمذی :3094)
"سب سے بڑی دولت تین چیزیں ہیں : ذکر کرنے والی زبان ، شکر کرنے والا دل اور ایمان کے معاملے میں مدد کرنے والی مومن بیوی"
 

عرفان سعید

محفلین
(قبل از تحریر عرض کردوں کہ اسے مذہنی منافرت میں شمار نہ کیا جائے بلکہ میرے اور محض میرےہی جذبات وتاثرات تک محدود رکھا جائے۔)
ایک بار بطور ٹرینر مجھے کچھ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سلسلہ کئی شہروں پر پھیلا تھا، ٹریننگ دینے کے لیے لمبا شیڈول ڈیزائن کیا گیا تھا اور ماسٹر ٹرینر کی حیثیت سے مجھے ہی یہ فرائض سر انجام دینے تھے۔ وہاں مجھے عجیب سی بو محسوس ہوئی جو اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے تقریباً ہر شخص سے آرہی تھی۔ میں ان کے جتنے بڑے مذہبی رہنما سے ملا مجھے اس قدر ہی اس بو کی شدت کا احساس ہوا۔اس سے قبل نہ تو مجھے اس مخصوص بو کا کوئی تجربہ تھا اور نہ ہی کوئی ایسی پس منظری تعلیمات تھیں جو میرے لاشعور کو شعور کے آئینے میں لاکھڑا کرتیں۔ میں اس بوکی نسبت سے اس قدر متفکر تھا کہ میں نے باقاعدہ اپنے ایک دوست سے مشورہ بھی کیا۔ اس نے مجھے اس کمیونٹی کے حوالے سے کہا کہ یہ ان کی مخصوص بو ہے جو سبھی سے آتی ہے۔ مجھے یقین نہ ہوا لیکن یہ تجربہ کئی بار ہوا کہ جب بھی وہاں سے لوٹتا تو راستے میں وہ بو محسوس نہ ہوتی البتہ ان کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے یا ان کے ساتھ موجود ہوتے مجھے وہی بو محسوس ہونے لگتی ۔ یہاں تک کہ میں گھر واپسی پر اپنی یونیفارم بھی دیگر کپڑوں سے بالکل الگ دھلواتا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ کوئی روحانیات کا چکر ہے کہ جو لوگ کلمہ گو ہیں ان میں سے کسی میں سے ایسی بو محسوس نہیں ہوتی جب کہ نہایت صاف ستھرے لباس میں موجود اس مخصوص کمیونٹی میں سے آتی رہتی ہے اور اگر ان میں سے کوئی کلمہ پڑھ لے تو رحمتِ خدا وندی کا کیسا زندہ کرشمہ ہے کہ اس میں سے وہ بو نہیں آتی ۔ اس وقت مجھے شدت سے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کا احساس ہوا اور ایمان کی دولت پر فخر بھی ۔ چند دن دینی زندگی کی پابندیاں بھی جاری رہیں لیکن پھر سے وہی دنیا داری دامن گیر ہوگئی۔ اس بات پر اب بھی افسوس ہوتا ہے کہ ایمان کی دولت اللہ تعالیٰ نے گھر ہی سے دے دی لیکن ہم لوگ فرقوں میں بٹے ایک دوسرے کے ایمان خراب کر رہے ہیں۔ بہرحال میرے لیے تو سب سے بڑی دولت کا احساس جو بڑی شدت سے دامن گیر رہا وہ ایمان کی دولت ہی تھی۔

ہمارے ہاں کچھ بہاولپور کے غریب لوگ مزدوری کے لیے آتے رہتے ہیں۔ان میں سے بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو پہلا کلمہ بھی نہیں آتا۔ان کے پاس سے بھی عجیب سی بو آتی ھے۔ہیں تو وہ مسلمان۔پھر ایسا کیوں ھے؟
پچھلے ٘پندرہ سالوں میں جاپان، جرمنی اور فن لینڈ میں رہنے کے باوجود اس "بو" سے میری جان ابھی نہیں نکلی۔
 
Top