ٹیکنالوجی اور ہم۔۔

لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کیئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ھے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے ٹچ(رابطے میں) رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ھے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ھے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ھے۔زمانہ بہت برا آ گیا ھے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ھے جبکہ میں
زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہٹیکنالوجی اور اس کا استعمال کرنے کا طریقہ ھے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ھم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھجیتے تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ھیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ھزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں بار بار اس کا حال پوچھتے ہیں لیکن اپنے بیمار بوڑھے باپ کا حال نہیں پوچھتے جو ہمارے قریب چارپائی پر پڑا کھانس رہا ہوتا ہے
ایک وقت ایسا بھی آئےگا جب آپ اسی طرح اپنے بستر پر تڑپ رہے ہونگے اورآپ کے بچے نیٹ پر اسی طرح مصروف ہونگے۔

تحریر عندلیب راجہ
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت اچھی تحریر لکھی ہے آپ نے۔
لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کیئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ھے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے ٹچ(رابطے میں) رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ھے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ھے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔

دراصل یہ تربیت کی بات ہوتی ہے۔ ماں باپ بچوں کو سکھاتے ہیں (اپنے عمل سے اور اپنی زبان سے ) کہ کسی کی بات کو کتنی اہمیت دینی ہے۔ بڑوں سے کس طرح بات کرنی ہے اور چھوٹوں سے کس طرح پیش آنا ہے۔ مستقل تربیت کے بعد انسان اچھی بات کی طرف مائل ہونے لگتا ہے اور اصلاح کی غرض سے تنقید بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔

لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ھے۔زمانہ بہت برا آ گیا ھے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ھے جبکہ میں
زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے

درست!
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے وہ کہتا ہے ہائے زمانے کی ناکامی پس تم میں سے کوئی یہ نہ کہے ہائے زمانے کی ناکامی کیونکہ میں ہی زمانہ ہوں میں اس رات اور دن کو بدلتا ہوں اور جب میں چاہوں گا ان دونوں کو بند کر دوں گا۔
صحیح مسلم:جلد سوم
عبارت کا ربط

جیسے پہلے عید آتی تھی تو ھم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھجیتے تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ھیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا

عید کارڈ کی روایت اچھی ہے۔ الیکٹرونک مبارکباد تو اسکرین پر چار چھ سیکنڈ ہی دیکھی جا سکتی ہے ۔ جب کہ کارڈ ہمیشہ کے لئے یاد گار رہتا تھا۔

ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ھزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں بار بار اس کا حال پوچھتے ہیں لیکن اپنے بیمار بوڑھے باپ کا حال نہیں پوچھتے جو ہمارے قریب چارپائی پر پڑا کھانس رہا ہوتا ہے

یہاں بھی تربیت کا فقدان ہی نظر آتا ہے۔ بچوں کو ترجیحات کا تعین کرنا سکھانا چاہیے تاکہ وہ ہر چیز کو اتنی ہی اہمیت دیں جتنی کہ اُس کا حق بنتا ہے۔

بہرکیف عمدہ تحریر ۔

لکھتی رہیے۔
 
شکریہ سر اپ کے تبصرے نے میری بہت حوصلہ افزایئ کی ھے۔یہ میری پہلی تحریر ھے۔اس لیے اس مین بہت سی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔
 
اصل وجہ یہئ ھے کہ ہم لوگ بچوں کی تربیت نہیں کر رہے۔سکول کے بعد اکیڈمی ۔۔۔اور زیادہ تر تو وقت وہ باہر گزارتے ہیں۔او انہوں نے ماں باپ سے کیا سیکھنا۔۔
 
عمدہ خیالات ہیں۔
شکریہ سر اپ کے تبصرے نے میری بہت حوصلہ افزایئ کی ھے۔یہ میری پہلی تحریر ھے۔اس لیے اس مین بہت سی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔
املا کے دو مسائل تواتر سے موجود ہیں۔ غالباً کیبورڈ کی وجہ سے۔
ایک نون غنہ "ں" کی جگہ "ن" اور "ہ" کی جگہ "ھ" کا استعمال
 

زیک

مسافر
سوچنے کی بات یہ ھے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔
یہ مفروضہ درست نہیں۔ کیا اورنگزیب جیسے نیک بادشاہ کو اپنے بھائیوں اور باپ سے محبت تھی؟
 

سین خے

محفلین
عندلیب راجہ اچھی کوشش ہے :) پر آپ سے اختلاف کی جسارت کروں گی۔ جسے اپنے ماں باپ کی پروا نہیں ہوتی ہے، وہ ذبردستی اپنی بات منوائے گا، انکی مشکلات کا خیال نہیں کرے گا اور ان کی استطاعت سے بڑھ کر ان سے قربانی مانگے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی اس صدی کی پیداوار ہے یا ہزار سال پہلے اس دنیا میں تشریف لایا تھا۔

ہم کسی کی زندگیوں میں نہیں جھانک سکتے کہ کون اپنے ماں باپ کی خاطر کتنی قربانی دیتا ہے :) ہو سکتا ہے کہ کوئی اپنی سخت زندگی کی تھوڑی سی تھکن اتارنے یہاں "نیٹ" پر آجاتا ہو :) پرانے وقتوں میں لوگ اپنے دوست احباب کے ساتھ گلی کے نکڑ پر بیٹھ کر گپ شپ لگاتے تھےاور خواتین محلے میں ایک دوسرے کے گھر باتیں کرنے جاتی تھیں :) بچے باہر کھیلنے نکل جاتے تھے۔ جس کو ماں باپ کو نظر انداز کرنا ہوگا، وہ ہر حال میں کر لے گا۔ نظر انداز کرنے کے ہزار مواقع ہمیشہ میسر رہے ہیں :)
 
آخری تدوین:

یاز

محفلین
میری رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن میں تو موبائل فون اور ٹیکنالوجی کو غنیمت سمجھتا ہوں کہ ماضی میں جب بھی لوگ فارغ ہوتے تو دوسروں کے معاملات میں خواہ مخواہ دخل اندازی کرتے یا مل بیٹھ کے دوسروں کی غیبتیں کرتے۔
 

زیک

مسافر
میری رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن میں تو موبائل فون اور ٹیکنالوجی کو غنیمت سمجھتا ہوں کہ ماضی میں جب بھی لوگ فارغ ہوتے تو دوسروں کے معاملات میں خواہ مخواہ دخل اندازی کرتے یا مل بیٹھ کے دوسروں کی غیبتیں کرتے۔
آجکل یہ کام واٹس ایپ پر ہوتا ہے۔

انسان انسان ہے کسی بھی دور کا ہو۔ نہ ماضی کوئی سنہرا دور تھا اور نہ Whig view of history کہ وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بہتری آتی رہی ہے۔
 

جان

محفلین
لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کیئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ھے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے ٹچ(رابطے میں) رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ھے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ھے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ھے۔زمانہ بہت برا آ گیا ھے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ھے جبکہ میں
زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہٹیکنالوجی اور اس کا استعمال کرنے کا طریقہ ھے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ھم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھجیتے تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ھیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ھزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں بار بار اس کا حال پوچھتے ہیں لیکن اپنے بیمار بوڑھے باپ کا حال نہیں پوچھتے جو ہمارے قریب چارپائی پر پڑا کھانس رہا ہوتا ہے
ایک وقت ایسا بھی آئےگا جب آپ اسی طرح اپنے بستر پر تڑپ رہے ہونگے اورآپ کے بچے نیٹ پر اسی طرح مصروف ہونگے۔

تحریر عندلیب راجہ
اچھی تحریر ہے۔ ویسے تو انسان ازل سے ہی مادہ پرست ہے لیکن ٹیکنالوجی نے اس مادہ پرستی میں قدرے اضافہ کیا ہے۔ اول قصور وار تو بہر حال انسان ہی ہے۔
 
اور یہ بھی ایک مفروضہ ہے کہ
ہمارے دور میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔
لیکن میرے چھوٹے ہوتےتو ایسا ہوتا تھا۔میرے ابو کے اکثر رشتےدار آتے تھے اور بہت دن رہتے بھی تھے۔میرے ابو کے ماموں اور ان کے بچے وغیرہ وغیرہ۔۔اب تو کوہی آہے بھی تو دو گھنٹے کے بعد چلے جاتے ہیں
 

زیک

مسافر
لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کیئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ھے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے ٹچ(رابطے میں) رہتے ہیں۔
زیادہ پرانی بات نہیں۔ میرے بچپن کی بات ہے۔ ہم طرابلس میں تھے اور میرے دادا دادی نانا نانی ہزاروں میل دور پاکستان اور برطانیہ میں۔ خط لکھ کر مہینہ بعد جواب ملتا تھا۔ کبھی کبھی انتہائی ضرورت کی صورت میں ٹیلی گرام اور فون کا استعمال ہوتا تھا۔

لیکن اتنی دور کیوں جائیں۔ بیس پچیس سال پہلے جب میں امریکہ آیا تو ای میل بھی تھی اور انٹرنیشنل فون بھی۔ پھر بھی آج کی نسبت رابطہ رکھنا اتنا آسان نہ تھا۔
 
آخری تدوین:

یاز

محفلین
زیادہ پرانی بات نہیں۔ میرے بچپن کی بات ہے۔ ہم طرابلس میں تھے اور میرے دادا دادی نانا نانی ہزاروں میل دور۔ خط لکھ کر مہینہ بعد جواب ملتا تھا۔ کبھی کبھی انتہائی ضرورت کی صورت میں ٹیلی گرام اور فون کا استعمال ہوتا تھا۔

لیکن اتنی دور کیوں جائیں۔ بیس پچیس سال پہلے جب میں امریکہ آیا تو ای میل بھی تھی اور انٹرنیشنل فون بھی۔ پھر بھی آج کی نسبت رابطہ رکھنا اتنا آسان نہ تھا۔
میری دادی کی وفات ہوئی تو اس وقت ہم راولپنڈی میں تھے۔ اطلاع کا کوئی ذریعہ نہ تھا تو آدھی رات کو ایک رشتہ دار گجرات سے بسیں بدل بدل کر پنڈی پہنچے اور پانچ چھ گھنٹوں بعد ہم تک پہنچ کر اطلاع دے پائے۔
 

سین خے

محفلین
لیکن میرے چھوٹے ہوتےتو ایسا ہوتا تھا۔میرے ابو کے اکثر رشتےدار آتے تھے اور بہت دن رہتے بھی تھے۔میرے ابو کے ماموں اور ان کے بچے وغیرہ وغیرہ۔۔اب تو کوہی آہے بھی تو دو گھنٹے کے بعد چلے جاتے ہیں

ہمارے غیر ملکی رشتے دار تو جب پاکستان آتے ہیں تو خاندان میں سے ہی کسی کے گھر ٹہرتے ہیں۔ جن کے اپنے یہاں گھر ہیں تو رات گزارنے تو جاتے ہیں پر ما شاء اللہ سے صبح سے کسی کے بھی گھر آجاتے ہیں۔ کھانا پینا تو ہمارے ساتھ ہی رہتا ہے۔

جن کو ملنا ہوتا ہے تو ضرور ملتے ہیں :) اصل دوریاں تو دل برائیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب اپنا اپنے کی کاٹ کرتا ہے۔ جب کوئی بہن بھائی ایک دوسرے کی جائیداد ہڑپ کر جاتا ہے یا کسی بیوہ بھابھی کا حق دبا کر بیٹھ جاتا ہے۔
 
زیادہ پرانی بات نہیں۔ میرے بچپن کی بات ہے۔ ہم طرابلس میں تھے اور میرے دادا دادی نانا نانی ہزاروں میل دور۔ خط لکھ کر مہینہ بعد جواب ملتا تھا۔ کبھی کبھی انتہائی ضرورت کی صورت میں ٹیلی گرام اور فون کا استعمال ہوتا تھا۔

لیکن اتنی دور کیوں جائیں۔ بیس پچیس سال پہلے جب میں امریکہ آیا تو ای میل بھی تھی اور انٹرنیشنل فون بھی۔ پھر بھی آج کی نسبت رابطہ رکھنا اتنا آسان نہ تھا۔
اصل بات رابطہ رہنے کی نہین ھے،اصل بات مبٰت
زیادہ پرانی بات نہیں۔ میرے بچپن کی بات ہے۔ ہم طرابلس میں تھے اور میرے دادا دادی نانا نانی ہزاروں میل دور۔ خط لکھ کر مہینہ بعد جواب ملتا تھا۔ کبھی کبھی انتہائی ضرورت کی صورت میں ٹیلی گرام اور فون کا استعمال ہوتا تھا۔

لیکن اتنی دور کیوں جائیں۔ بیس پچیس سال پہلے جب میں امریکہ آیا تو ای میل بھی تھی اور انٹرنیشنل فون بھی۔ پھر بھی آج کی نسبت رابطہ رکھنا اتنا آسان نہ تھا۔
اصل بات رابطہ رکھنے کی نہیں ھے ۔۔اصل بات دلوں مین مبہت کی ھے۔پہلےاور مہنیوں کے بعد خط آتا تھا ۔لیکن ہر دن شدت سے انتظار رہتا تھا۔اب مین نے اکثر دیکھا ھے اپنی آنکحون سے کہ اپ کا کوہی رشتہ دار باہر رہتا ھے۔اور وہ دن مین تیسری یا چوتھی دفعہ فون کرے تو گھر مین سے کوہی سننا گواراہ نہیں کرتا۔
 
Top