دیدارِ فئیری میڈوز و نانگا پربت کا احوال

اپریل کے شروع ہوتے بلکہ یوں کہیں کہ گزشتہ برس
درہ خنجراب کے سفر کا حال سے واپسی سے اگلے ٹور پر غور و خوض جاری تھا-

اس سلسلے میں کئی مقامات زیر غور تھے جن میں اولین ترجیح راکاپوشی بیس کیمپ تھا پھر یاز بھائی کے مشورے سے کرومبر جھیل کو بھی زیر غور لایا گیا- وادی سوات بالخصوص کمراٹ ویلی کو بھی زیر غور لایا گیا اور اس واقعہ
نانگا پربت ریسکیو مشن
کے بعد سے نانگا پربت دیکھنے کا بھی من شدت سے کر رہا تھا- کافی سوچ و بچار کے بعد آخری کار قرعہ فئیری میڈوز اور بیال بیس کیمپ نانگا پربت کے نام نکلا-
مئی کے شروع ہوتے ہی دوستوں سے رابطے کئے کہ کون کون جانا چاہتا ہے پہلے پہل تو کافی دوست تیار ہو گئے تاہم بعد ازاں ہم وہی تین رہ گئے جو گزشتہ برس خنجراب گئے تھے-
 
محل وقوع:

فئیری میڈوز گلگت بلتستان کے ضلع دیا میر میں تقریباً 11000 فٹ بُلندی پر واقع ہے-
جبکہ بیال بیس کیمپ 14500 فُٹ بُلندی پر ہے-
فئیری میڈوز سے قریب ترین شہر چلاس ہے جو کہ تقریباً 80 کلومیٹر کا فاصلہ ہے جبکہ اسکی بیس اب رائکوٹ پُل بنائی جاتی ہے کہ وہاں ہوٹلز اور پارکنگ وغیرہ کی سہولیات دستیاب ہیں- نیز عین اس مقام سے جیب ٹریک شروع ہوتا ہے-

جانے کا طریقہ کار اور قیام و طعام:

پنڈی سے رائکوٹ پُل تک نیٹکو بس سروس (سکردو، گلگت، ہنزہ کسی بھی سمت جانے والی) ، کوسٹر وغیرہ یا پھر کرائے کی کار وغیرہ اور سب سے بہتر اپنی سواری ہے- رائکوٹ پُل سے جیپ ٹریک جو کہ 10-12 کلومیٹر ہے اور ڈیڑھ سے 2 گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے- جیب آپکو تاتو ویلج جیپ سٹاپ اتار دے گی- یہاں ایک ہوٹل بن گیا ہے اور مزید تیار کر رہے ہیں- یہاں بھی کھانا دستیاب ہے جو کہ مری سے کچھ سستا البتہ تازہ ہوتا ہے-
یہاں سے آگے 3-4 کلومیٹر کی ہائک ہے جو کہ 2 سے 3 گھنٹے میں کی جا سکتی ہے-
فئیری میڈوز پر لکڑی کے بنے ہوٹلز بھی دستیاب ہیں اور ٹینٹ بھی آپ اپنی مرضی سے انتخاب کر لیں- نیز آپا کیمپ وغیرہ بھی لیجا سکتے ہیں- آپکو پورٹر بھی با آسانی مل جاتا ہے-
فئیری میڈوز سے بیال بیس کیمپ تک کی مزید ٹریکنگ 2-3 گھنٹے کی ہے- جس میں آپکو رائکوٹ گلیشئیر پاٹنا پڑتا ہے- البتہ یہ ٹریکنگ فئیری میڈوز کی نسبت آسان ہے- اگر بیال کیمپ میں رات بسر کرنی ہے تو اپنا بوریا بستر ساتھ ہی لانا ہوگا یا پھر فئیری میڈوز سے کرائے پر لیا جا سکتا ہے-
 
آخری تدوین:
ہمارے سفر کا حال :

گیارہ مئی ( یہ غالباً حسین اتفاق ہی ہے گزشتہ برس بھی ہم 11 مئی کو ہی نکلے تھے سفر پر) کو تقریباً 5 بجے میں اور دوست شیخوپورہ سے براستہ کامونکی گوجرانوالہ کو نکلے کہ وہاں سے دوست کو لینا تھا- گوجرانوالہ پہنچ کر اور وہاں سے نکلتے 8 بج گئے- گوجرانوالہ سے براستہ جی ٹی روڈ ہی اسلام آباد کو ہو لئیے-
ابھی شہر سے باہر نکلے ہی تھے ایک شنواری ہوٹل جہاں جسے دیکھ کر بھوک چمک اٹھی- لہذا گوجرانوالہ دوست جو گھر سے چاول لیا تھا ان پر ہاتھ صاف کیا گیا اور چائے نوش کی گئی- یعنی کافی وقت یہاں ہی ضائع ہو چُکا تھا کہ ہمارا ارادہ شام تک اسلام آباد پہنچنا تھا لیکن 10 بجے تک ہم گوجرانوالہ میں پھر رہے تھے-
خیر یہاں سے نکلے تو جی ٹی روڈ کے بادشاھو یعنی ٹرکوں کے پیچھے لگ گئے اور اسلام آباد پہنچے تقریباً 1 بجے-
اسلام آباد سے ایبٹ آباد کے لئے 2 رستے تھے ایک تو براستہ مری لیکن ہم نے بائیکاٹ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے موٹروے سے جانا بہتر سمجھا- کشمیر ہائی وے سے ہوتے ہوئے ایم 1 پر انٹر ہوئے اور حسن ابدال سے اتر کر براستہ ہری پور ایبٹ آباد مانسہرہ تقریباً صبح کے 4 بجے پہنچ گئے-
یہاں ہم نے گاڑی دوست کے حوالے کی اور خود پچھلی سیٹ پر جا کر سو رہے- کچھ پیچھے سے بارش شروع ہو چُکی تھی جس نے ہمارا ساتھ رائکوٹ پُل تک دیا-
داسو جا کر واپس گاڑی ہمارے ہتھے چڑھ گئی اور یہاں سے سڑک کی حالت کافی خستہ ہے- پہلے تو بارش اور ہیوی ٹریفک کی وجہ سے داسو شہر میں ٹریفک میں پھنسے رہے پھر رستے میں سڑک کام ہونے اوپر سے بارش اور پھسلن کی وجہ سے یہی کوئی چار ساڑھے چار کے قریب چلاس پہنچ گئے- یہاں رُک پٹرول وغیرہ ڈلوایا اور پھر سے چل پڑے منزل کو مزید ڈیڑھ سے دو گھنٹے کے سفر کے بعد 6 بجے کے قریب رائکوٹ پُل تک پہنچے - جو اول اولین پروگرام یعنی اگر شیخوپورہ سے ہی 12 بجے نکلتے تو صبح 8-9 تک پہنچ جانا چاہئیے تھا اور سلام آباد سے رات 1 بجے نکلے بعد بھی 3-4 بجے کے قریب پہنچ ہی جانا چاہئیے تھا لیکن سڑک کی خستہ خالی اور اوپر سے مسلسل بارش کی وجہ سے کہیں بھی سپیڈ مارنے سے گریز کیا گیا کہ یہ پہاڑی علاقے میں پہلی ڈرائیو بھی تھی- یعنی ہم مطلوبہ ٹارگٹ سے 5 گھنٹے لیٹ تھے جو کہ ہمارے ٹور کے لئے کافی نقصاندہ رہے-

اندھیرا پھیل رہا تھا خدشہ تھا کہ شائد اب جیب نہ جائے- لیکن جیب والا راضی ہو گیا کہ ہاں ابھی جایا جا سکتا ہے البتہ زیادہ دیر نہ لگائیں جو سامان لینا ہے لیں اور 15 سے 20 منٹ میں جیپ میں ہوں ورنہ صبح ہی جانا ہوگا- لہذا فوراً جیپ پکڑی کو اور تاتو ویلج جا رُکے- اب یہاں سے اپنا تو ارادہ تھا کہ ابھی ہائک کر کہ فئیری میڈوز پہنچا جائے تاہم پھر تاتو سٹاپ پر ہی رات گزارانے کا فیصلہ لیا-
(جاری ہے)
بور ہو جائیں تو بتا دیجئیے گا
 
آخری تدوین:
چاچا جی کے سفرنامے پڑھتے پڑھتے لڑکپن سے بڑھکپن تک پہنچ گئے۔ وہ سفر نامہ لکھتے لکھتے، سکہ بند مداریوں اور سنیاسیوں کی طرح ایک نا ایک 'آئٹم سانگ' ساتھ چلائی رکھتے تھے، تاکہ دلچسپی بنی رہے۔;)


اگر ایسا کوئی سلسلہ تحریر میں ساتھ ساتھ نہیں ہے (جو یقیناً ہوا بھی تو بھی نہیں ہوگا) تو پھر بوریت کا ماؤنٹ ایورسٹ ہلائے نا ہلے۔ بصورت دیگر کیمرے کے کمالات کی شراکت داری جلد از جلد شروع کی جاوے۔:)
 
ویسے میرے خیال میں تو رائکوٹ پُل سے آگے کی ہی تصاویر اپلوڈ کرنی چاہئیے کیونکہ ایک تو سید صاب کی لڑی جانا گلگت کو ہمارا میں بھی کم و بیش وہی تصاویر ہیں- دوسرا چونکہ سارے رستے بارش ہوتی رہی تو ہمارا 50 mm کا لینز جو کہ اس قسم کی تصاویر کے لئے موضوع نہیں ہے نے کچھ مناسب تصاویر بھی نہیں اتاری تو اس سے آگے ہی تصاویر پوسٹ کئے دیتے ہیں- کیوں یاز و زیک بھائی کیا خیال ہے؟
 

یاز

محفلین
ویسے میرے خیال میں تو رائکوٹ پُل سے آگے کی ہی تصاویر اپلوڈ کرنی چاہئیے کیونکہ ایک تو سید صاب کی لڑی جانا گلگت کو ہمارا میں بھی کم و بیش وہی تصاویر ہیں- دوسرا چونکہ سارے رستے بارش ہوتی رہی تو ہمارا 50 mm کا لینز جو کہ اس قسم کی تصاویر کے لئے موضوع نہیں ہے نے کچھ مناسب تصاویر بھی نہیں اتاری تو اس سے آگے ہی تصاویر پوسٹ کئے دیتے ہیں- کیوں یاز و زیک بھائی کیا خیال ہے؟
غیرمتفق است۔
ادارہ اپنی مقتبس بالا ٹویٹ کی تنسیخ فرمائے اور شکریہ کا موقع فراہم کرے۔
 
جب سٹیرنگ ہمارے ہاتھ ہوتا تھا تو آئٹم سانگ ہی چلتے تھے- کہیں تو ڈال دیتے ہیں- اصل مقصد خواری بتلانا ہے جو کہ ہم نے اپنی سستیوں کی وجہ سے کاٹی اور جی بھر کر دیدار نانگا پربت سے محظوظ بھی نہ ہو سکے-
خواری کا ذکر ضرور کیجیے, بہتوں کو نصیحت ملتی ہے۔ اور ہاں آئٹم سانگ آئے تو کچھ نیا نیا سا لگے سفرنامہ۔
 
یہاں سے بارش جو شروع ہوئی تو تھمنے کا نام ہی نہیں لیا ۔ہلکی ہلکی کن من مسلسل جبکہ کبھی کبھار پھوار تیز بھی ہو جاتی تھی۔
ایسے میں ہمیں پنجاب کی بارش خوب یاد آئی کہ آئی کہ بس آئی۔ دس ہی منٹ میں سب جھل تھل کیا اور بس۔

42302806202_a2187e51d6_c.jpg
 
Top