تو نے مٹی پہ خدا ! نقش ابھارے کیا کیا !

مطلع مرے اللہ جی کی نذر <3

تیرے صدقے بھلا ناچیز یہ وارے کیا کیا؟
تو نے دھرتی پہ اتارے ہیں ستارے کیا کیا

اس شرافت کو لگے آگ سمجھ ہی نہ سکے
ورنہ ملتے رہے ہم کو بھی اشارے کیا کیا

تجھ سے وابستہ محبت کو قرار آنے لگا
ہم نے دیکھے تری قربت میں خسارے کیا کیا

ایک لمحے کو ہوا خود پہ حقیقت کا گماں !
تو نے مٹی پہ خدا ! نقش ابھارے کیا کیا !

ہجر پر اس نے مجھے راضی کیے رکھا ہے
اور اشعار مرے دل پہ اتارے کیا کیا !

ایک مدت رہے شیدائی کنارے کیا کیا !
اب تو آنکھوں سے رواں ہوتے ہیں دھارے کیا کیا
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے۔ اوراس اعتماد پر مجھے خوشی ہے کہ ’آپ کی شاعری‘ کے تحت پوسٹ کی گئی ہے۔ پھر بھی میں اصلاح کے طور پر ایک مشورہ تو دے ہی دوں!

ایک مدت رہے شیدائی کنارے کیا کیا !
اب تو آنکھوں سے رواں ہوتے ہیں دھارے کیا کیا
مطلب واضح نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ دونوں مصرعوں میں ’کیا کیا‘ کے الفاظ کا استعمال مستحسن نہیں
 
اچھی غزل ہے۔ اوراس اعتماد پر مجھے خوشی ہے کہ ’آپ کی شاعری‘ کے تحت پوسٹ کی گئی ہے۔ پھر بھی میں اصلاح کے طور پر ایک مشورہ تو دے ہی دوں!

ایک مدت رہے شیدائی کنارے کیا کیا !
اب تو آنکھوں سے رواں ہوتے ہیں دھارے کیا کیا
مطلب واضح نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ دونوں مصرعوں میں ’کیا کیا‘ کے الفاظ کا استعمال مستحسن نہیں
اس کو اگر مطلع ثانی کر دیاجائے تو؟
کناروں کا کام پانی کو اپنی حدود میں رکھنا ہےنا۔تو میں شعر میں یہ کہنا چاہتی ہوں اک مدت تک بڑے بڑے کنارے ہماری آنکھوں کے معترف رہے کہ انھوں نے آنسوؤں کو باہر نہیں آنے دیا لیکن اب ایسا نہیں ہے ۔
 

الف عین

لائبریرین
اس کو اگر مطلع ثانی کر دیاجائے تو؟
کناروں کا کام پانی کو اپنی حدود میں رکھنا ہےنا۔تو میں شعر میں یہ کہنا چاہتی ہوں اک مدت تک بڑے بڑے کنارے ہماری آنکھوں کے معترف رہے کہ انھوں نے آنسوؤں کو باہر نہیں آنے دیا لیکن اب ایسا نہیں ہے ۔
لیکن شیدائئ سے تو یہ مطلب ظاہر نہیں ہوتا!
 
Top