عشقیہ کہانی از سید مہدی بخاری

زیک

مسافر
بلاشبہ ایسا ہی تھا۔
میں پنجم یا ششم میں پڑھتا تھا جب ابا جی کی ترقی ہوئی اور ہمارے گھر میں سرکاری ٹیلیفون لگ گیا۔ بس پھر کیا تھا، جب کبھی موقع ملنا ہم نے کوئی نا کوئی نمبر گھما دینا۔ ایک دو بار یہ ابزرویشن والے الاہمے بھی آئے لیکن عموماً تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ کہ جس کا اثر ایک آدھ دن ہی ہوتا تھا، ہم۔۔۔۔۔ پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں، پھر وہی زندگی ہماری ہے۔ :cool2:
وہ بھی کیا دن تھے جب تین ہندسوں کا فون نمبر ہوتا تھا۔
 

زیک

مسافر
Top