آیے مستقبل تلاشیں ۔

نور وجدان

لائبریرین
انتہاؤں کی عجیب فطرت ہے کہ وہ کسی بھی سمت میں چلی جائیں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی دردِ مشترک ڈھونڈ ہی لیتی ہیں۔
مشترک میں یاس کا دھواں نہیں ہوتا
مستقبل تلاشنے سے بہتر ہے کہ مستقبل تراشا جائے۔
باقی خواہشات سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا، وہ فطرتِ انسانی میں ہے۔
لیکن جب بھی کبھی کوئی خواہش کوشش کے باوجود پوری نہ ہو سکی، اس پر دکھ تو ہوا مگر اللہ کی رضا سمجھ کر آگے بڑھ گیا۔
درست فرمایا ہے۔۔۔۔ تراش خواہش کا ایندھن ہے ۔ بس اس کا کیسے حاصل کرنا ہے کچھ عرض کیا ہے ۔ خواہش کا تعلق روح سے ہے ، روح اللہ تعالیٰ کا ٹرانسمیٹر ہے ۔ اللہ نے خواہشات کے ساتھ بھیجا ہے ، اختیار دے کر بھیجا ۔ جب ناکام ہوجائے تو سمجھے ہمارے سگنل گڑبڑ ہوگئے ۔

نہیں آپ ہر کام یہ سوچ کر ہی ترک کرتے ہیں کہ میں جیسا ہوں اُس سے الگ کُچھ کیوں کروں :)
واہ ! ایسا ہی ارادہ ہے ۔ یہ کام جو لکھا ہے اس کو شاید خیال ہی ہونا ہے اور جو خیال میں ہے ابھی تک سوچ تک محدود ہے کہ پایہ تکمیل کو پہنچے
 

نور وجدان

لائبریرین
خواہشات فراموش نہیں ہوئیں۔ البتہ ایک خواہش پر باقی ساری خواہشیں قربان کر دی گئی ہیں۔۔۔ اگر آپ غور کریں تو اُس قطعے کے ہر مصرع میں ایک لطیف سی خواہش کو موجود پائیں گی۔۔۔:)
بہت شکریہ جناب وضاحت کا۔۔۔ آپ نے ہمیں اپنی پیاری سی خواہش کا تو بتایا ہے ۔ آپ اس خواہش کی تکمیل یا اس خواہش تک پہنچنے کے بارے میں جو سوچتے ہیں ۔ براہ مہربانی آگاہ کیجئے ۔ بہت سوں کا بھلا ہوجائے گا۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے
مرزا غالب کے شعر کو جگجیت سنگھ نے بہت اچھے انداز میں پڑھا ہے۔ آپ کے پاس وقت ہو تو یوٹیوب پر سنیے گا۔

اس کو آپ نے کہا تو سنوں گی کہ جگجیت کی آواز میں سب کچھ سننے کو دل کرتا ہے ۔ یہ شعر تو ارتقاء سے ہے کہ سوچ کا زاویہ تو بدلتا رہتا ہے ۔ جیسے ارمان شاخیں ہیں اور کچھ ہری بھری ہیں اور کچھ پر پت جھڑ ہے ۔انسان تو بہار میں اچھا لگتا ہے اور جچتا بھی خوب ہے ! آپ کیا کہتے ہیں ؟
 

عمر سیف

محفلین
ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔ کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔۔۔

ہماری بھی ایک خواہش ہے ، جو پوری ہوتی نظر نہیں آتی ۔۔۔ :D:D
 

آوازِ دوست

محفلین
آپ کے خیال میں انسان حقیقت کو تلاش کرنے کی خواہش بھی نہیں رکھے تو معرفت نفس ، معرفت الہی ، معرفت آخرت کیا ہے ؟ یہ خواہشیں نہیں ہیں ؟
معرفت علم ہے اور علم خواہش نہیں ہے۔ خواہشیں اولاد کی طرح ہیں ہم انہیں پال سکتے ہیں یہ جائز ہوں تو کوئی معیوب بات نہیں ہے لیکن میدانِ حشر کی طرح جہاں اِن کی ضرورت ہی نہیں وہاں یہ آپ کا سہارا کیا بنیں گی۔
 

آوازِ دوست

محفلین
انتہاؤں کی عجیب فطرت ہے کہ وہ کسی بھی سمت میں چلی جائیں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی دردِ مشترک ڈھونڈ ہی لیتی ہیں۔
مشترک میں یاس کا دھواں نہیں ہوتا
کونسیپٹ سمپل ہے سادہ سی مثال دوں گا " ایکسیس آف ایوری تھنگ از بیڈ"
 

آوازِ دوست

محفلین
خواہشات فراموش نہیں ہوئیں۔ البتہ ایک خواہش پر باقی ساری خواہشیں قربان کر دی گئی ہیں۔۔۔ اگر آپ غور کریں تو اُس قطعے کے ہر مصرع میں ایک لطیف سی خواہش کو موجود پائیں گی۔۔۔
آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو پوری نہ ہو
یہ مصرعہ اِس قطعے میں نئے ہی مفاہیم پیدا کردیتا ہے یہ کہتا ہے کہ دردِ لا دوا کے بیمار طلبِ دوا کے اسیر نہیں :)
 

آوازِ دوست

محفلین
یہاں پر سب خواہشات فراموش کیے بیٹھے ہیں ۔ ایک مجھے ہی خواہش ستا رہی ہے ۔
اَب کیا کہوں کہ میں آپ کو قائل کر سکتا ہوں شائد اِس معاملے پر ساری دُنیا کو بھی قائل کر لوں مگر ابھی تسخیرِذات سے محروم ہوں یقین نہ آئے تو نایاب جی سے پوچھ لیں ۔ ویسے وہ بھی یہ ساری کتھا پڑھ کے ہنستے ہوں گے۔لیکن یہ میرے لیے بھی ڈسکوری ہی ہے جیسے آپ میرے پیغام کو پڑھتی ہیں ایسے ہی اپنی سوچ لکھنے کے بعد میں بھی اپنی تحریر کو کسی اجنبی کی طرح ہی پڑھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ یہ بات مجھے معلوم تھی پر مجھے معلوم نہ تھا :)
 

آوازِ دوست

محفلین
کیا اضطراب کانسٹنٹ ہے ِ؟ دنیا میں اضطراب فرضی ہے کہ اس کی ایک قیمت ہے اس کے بعد خوشی شروع ہوجاتی ہے ۔ آپ کے نزدیک پودے پتھروں کی طرح ہیں ۔ پودے پورا اعصابی نظام رکھتے ہیں جو انسانوں سے قدرے سے مختلف ہے ۔ یہ تو آپ نے زیادتی کردی ہے ۔ مضطرب تو ہر ذی نفس ہے
اضطراب تغیر ہے اور ثبات اِک تغیر کو ہے زمانے میں۔ آپ پتھروں کو کیا سمجھتی ہیں ایک آیت کا مفہوم ہے کہ " پتھروں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جِن میں سے خوفِ اِلہیٰ سے چشمے بہہ نکلتے ہیں" چلیں آپ گوگل پر ہیلنگ سٹونز لکھ کر ریٹرن کی پریس کریں اور تماشا دیکھیں۔ پتھّرو آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو ۔ ۔ ۔ ۔میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خُدا رکھا ہے ۔
ہر ایٹم میں نیوٹران جو کہ ایٹم کے قریبا" کل وزن پر مشتمل ہوتا ہے اِس کے گرد ہمہ وقت طواف پذیر قریبا" بے وزن الیکٹرونز بھی تو جسم و روح کے اضطراب کا ہی ایک رُخ ہیں اَب روح اور ذی روح کاقضیہ کیسے نمٹائیں۔
 

الشفاء

لائبریرین
بہت شکریہ جناب وضاحت کا۔۔۔ آپ نے ہمیں اپنی پیاری سی خواہش کا تو بتایا ہے ۔ آپ اس خواہش کی تکمیل یا اس خواہش تک پہنچنے کے بارے میں جو سوچتے ہیں ۔ براہ مہربانی آگاہ کیجئے ۔ بہت سوں کا بھلا ہوجائے گا۔

اس خنجر تسلیم سے یہ جان حزیں بھی
ہر لحظہ شہادت کے مزے لوٹ رہی ہے
 
آخری تدوین:

آوازِ دوست

محفلین
یہ تو بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔ ہمارے تعلیمی نظام کی بنیاد میں بگاڑ اس سُوچ سے پیدا ہوا ہے ۔ تعلیم چاہے مجاز کی یا حقیقت کی اس کو تخییل چاہیے ، اس کو تخلیق چاہیے ، وہ تخلیقی جس سے انسان کی صلاحیت ابھرتی ہیں ۔ کیمبرج اسکولز میں بچوں کی حسیات تیز کی جاتی ہے تاکہ ان کا تخییل تیز ہو۔ جبکہ حکومتی اداروں میں الفاظ کی پیروی کروائی جاتی ہے ۔ جب تک آپ خود کو پہچان نہیں لیتے ، آپ کامیاب کیسے ہوسکتے ہیں ؟ آپ ہی بتایے اب
مجاز جب تک تمنا کا غلام نہ ہو عبادت جیسا ہی ہےاِس سے آگے پھر راستے جُدا ہو جاتے ہیں۔ مجاز کو تخیل نہیں تخلیق چاہیے ہوتی ہے ۔ حقیقت کو پانے کے لیے خود کو آئینہ بنانے کی بات یوں سمجھیں کہ ہم مجاز میں مطلوب کی اِک جھلک پانے کو بے قرار رہتے ہیں اگر قسمت یاوری کرے تو ہم اُس کے روبرو بیٹھیں اور اُسے اپنا آئینہ بنا لیں اور اُس آئینے میں اُس حُسن کا نظارہ کریں جو دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے ۔ دیکھیں کیسے جمال جمال کو سامنے لاتا ہے۔ اَب کیا رہ گیا سب پا لیا وقت ٹہرے یا گزر جائے، زندگی کا اضافی وزن شانے پہ رہے یا سہل ہو مکاں ہو کہ لا مکانی اَب کسی اور بات کا کسے یارا۔ ہم نے خود کو پہچانا کہ بھُلا دیا کُچھ خبر نہیں مگر ہاں یہی کامیابی تھی یہی کامیابی ہے اور یہی کامیابی ہو گی۔
 

الشفاء

لائبریرین
آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو پوری نہ ہو
یہ مصرعہ اِس قطعے میں نئے ہی مفاہیم پیدا کردیتا ہے یہ کہتا ہے کہ دردِ لا دوا کے بیمار طلبِ دوا کے اسیر نہیں :)
جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے ان کے مرض الموت میں پوچھا گیا کہ طبیب کو بلائیں؟ تو جواب دیا کہ طبیب نے ہی تو بیمار کیا ہے۔۔۔
عشق دے بیماراں نوں دارُو کوئی نئیں چاہی دا
ایہناں دا علاج اے دیدار سوہنے ماہی دا
عشق دے بیماراں نوں شفاواں کدوں ہونیاں
ساڈے ول سوہنیا نگاہواں کدوں ہونیاں
 

فاتح

لائبریرین
کافی لمبا مضمون ہے۔ ذرا فرصت ملے تو پڑھتا ہوں۔ فی الحال تو عنوان پڑھ کر اسی پر تبصرہ کر رہا ہوں۔۔۔
آیے مستقبل تلاشیں ۔
تین الفاظ کے اس عنوان میں دو الفاظ غلط ہیں۔
  1. "آیے" نہیں بلکہ "آئیے"
  2. "تلاشیں" اردو زبان کا تو کوئی لفظ نہیں ، ہاں "تلاش کریں" ضرور اردو ہے۔ :)
باقی مضمون پڑھنے کے بعد
 

نور وجدان

لائبریرین
معرفت علم ہے اور علم خواہش نہیں ہے۔ خواہشیں اولاد کی طرح ہیں ہم انہیں پال سکتے ہیں یہ جائز ہوں تو کوئی معیوب بات نہیں ہے لیکن میدانِ حشر کی طرح جہاں اِن کی ضرورت ہی نہیں وہاں یہ آپ کا سہارا کیا بنیں گی۔

علم ایک جُستجو ہے ۔ جستجو کا تعلق نیت سے ہے ۔ تحقیق کے بغیر انسان کو کُچھ حاصل نہیں ہوتا ہے ۔ علم چاہے نیکی کا ہو یا بدی کا ، اس کی جُستجو کی جاتی ہے ۔ اخلاص دونوں میں یکساں ہوتا ہے ۔ انسان کامیاب ہوجائے جادوئی علم حاصل کرنے میں تو سمجھ لیں اس کے دل پر مہر ثبت کردی گئی ہے ۔ اور وہ اس میں ناکام رہے تو سمجھے اس کی روح کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہے ۔ اس کی طرف کیسے جانا ہے ، کس طرح پہنچنا ہے ، اس بات کا انحصار نیت و اخلاص پر ہے ۔ ارادے کے بغیر معرفت ممکن ہی نہیں ہے ۔

میرا خیال ہے ، خواہش ہوتی ہے تو انسان دُعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے ۔ جو سمجھتا ہے کہ اس میں خواہش نہیں ہے وہ یا تو خود مختار یعنی خُدا ہے یا وہ بہت مایوس ہے ۔ خواہش کی بنا پر حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم دُعا مانگا کرتے تھے، جس کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے، ہم کو ہنساتے جائیں گی ۔

یا
پینے کو تو پی لوں گا پر بات ذرا سی ہے
اجمیر کا ساقی ہو ، بغداد کا میخانہ
بے خود کیے دیتے ہیں انداز حجابانہ
آ دل میں تجھے رکھ لوں ، اے جلوہ جاناں

یہ خواہش ہی تو ہے ۔۔۔
حضور (صلی علیہ والہ وسلم ) ایسا کوئی انتظام ہوجائے
سلام کے لیے حاضر غلام ہوجائے ۔
یہ بھی خواہش ہے

جاؤ گی بن کے جوگن سرکار کی گلی میں
واروں گی اپنا تن من سرکار کی گلی میں

یہ بھی خواہش ہے ۔۔۔

یاالہی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو
جب پڑے مشکل ، مشکل کُشا کا ساتھ ہو
یاالٰہی رنگ لائیں جب مری بے باکیاں
ان تبسم ریز ہونٹوں کی دعا کاساتھ ہو

یہ بھی امام زین العابدین کی خواہش ہے
ان الدیارَ الصباء
۔۔۔۔۔
بلغ السلام روضہ تر
فی النبیﷺ المحترم

میرا خیال ہے میدان حشر میں ہماری خواہشات بصورت نامہء اعمال ساتھ ہُوں گی ۔ خواہش و جستجو انسان کی ضرورت ہے جس کی تعبیر ہر انسان کرتا ہے ۔ اس کے بغیر اس کا جینا محال ہے ۔ مسافر اس دنیا میں اور کرنے کیا آیا ہے ؟ مسافر جستجو چھوڑ کے اگر ادھر ادھر کی رونقیں تلاش کرتا رنگینیوں میں کھو جائے اور ان سے استفادہ حاصل نہیں کرپائے تو اس کو ہم تسکین کہیں گے ۔
 

نور وجدان

لائبریرین
کونسیپٹ سمپل ہے سادہ سی مثال دوں گا " ایکسیس آف ایوری تھنگ از بیڈ"

انتہاء ہر چیز کی اگر بُری ہے تو اس آیت کی تشریح کر دیجئے ۔ مجھ پر بھی کچھ واضح ہو جائے

لقَدْ جاءَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ رَؤُفٌ رَحِیم
 

نور وجدان

لائبریرین
آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو پوری نہ ہو
یہ مصرعہ اِس قطعے میں نئے ہی مفاہیم پیدا کردیتا ہے یہ کہتا ہے کہ دردِ لا دوا کے بیمار طلبِ دوا کے اسیر نہیں :)
ایسا ہوتا تو یہ کلام وجود ہی نہیں آتا

یا صاحب الجمال و یا سیدالبشر
من وجھک المنیر لقد نورالقمر
لایمکن الثنا کما کان حقۂ
بعد از خدا بزرگ توئ قصہ مختصر
۔۔۔۔۔۔
بلغ العلي' بكماله
كشف الدجي' بجماله
حسنت جميع خصاله
صلوا عليه و آله
۔۔۔۔۔
''مکھ چن ، بدن شاسانی ہے
متھے چمک دی لاٹ نورانی ہے
کالی زلف تے اکھ مستانی ہے
مخمور اکھی ہن مد بھریاں
اس صورت نوں میں جان آکھاں
جان آکھاں تے جان جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی میں شان آکھاں

۔۔۔۔
زجامِ حب تو مستم، با زنجیر تو دل بستم
نمی گویم کہ من ھستم سخنداں، یا رسول اللہ
آپ کی محبت کے جام سے میں مست ہوں اور میرا دل آپ کی زنجیر سے بندھا ہوا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ میں کوئی سخندان ہوں )یہ سب تو فقط آپ کی محبت سے ہے(۔
 

نور وجدان

لائبریرین
اضطراب تغیر ہے اور ثبات اِک تغیر کو ہے زمانے میں۔ آپ پتھروں کو کیا سمجھتی ہیں ایک آیت کا مفہوم ہے کہ " پتھروں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جِن میں سے خوفِ اِلہیٰ سے چشمے بہہ نکلتے ہیں" چلیں آپ گوگل پر ہیلنگ سٹونز لکھ کر ریٹرن کی پریس کریں اور تماشا دیکھیں۔ پتھّرو آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو ۔ ۔ ۔ ۔میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خُدا رکھا ہے ۔
ہر ایٹم میں نیوٹران جو کہ ایٹم کے قریبا" کل وزن پر مشتمل ہوتا ہے اِس کے گرد ہمہ وقت طواف پذیر قریبا" بے وزن الیکٹرونز بھی تو جسم و روح کے اضطراب کا ہی ایک رُخ ہیں اَب روح اور ذی روح کاقضیہ کیسے نمٹائیں۔
آپ نے اس میں پوزی ٹران اور پروٹان کو نکال دیا ہے ۔ اس کی وضاحت بھی اس فلسفے میں ہوجاتی تو کیا مضائقہ تھا ۔ اضطراب کو پچھلی پوسٹز میں آپ نے مستقل کہ دیا اس کے لیے مصطفی زیدی کی مثال سامنے ہے ۔ مجھے کس بات پر یقین کرنا چاہیے ۔
 
Top