بحر ہزج مثمن سالم میں تازہ کلام اصلاح اور تنقید کے لیے

استاد محترم
جناب محترم محمد یعقوب آسی صاحب
جناب محترم الف عین صاحب
جناب محمد اسامہ سرسری صاحب اور اساتذہ و احباب ....
بحر ہزج مثمن سالم میں تازہ کلام اصلاح اور تنقید کے لیے پیش ہے ...
آپ کی پر شفقت توجہ کا طالب ہوں ....
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
---------------------------------
ترے جلووں کی حدت سے ، چمن ہر دل کا جلتا ہے
تغافل بھی رکھے گر تو، نظر سے تیر چلتا ہے

اسے جب دیکھتا ہوں میں، یہ حالت دل کی ہوتی ہے
یہ اک نو مشق بچے کی طرح، گرتا، سنبھلتا ہے

تری چاہت کے برسیں رنگ، سادہ پر کشش، ہر دم
مہربانی عنایت کا فسوں اک، دل پہ چلتا ہے

برستی بارشیں، چھت پر، نہاتے دوڑتے بچے
تری قربت کی رم جھم میں، مرا دل یوں مچلتا ہے

مرے سینے پہ سر رکھ دے، ذرا آواز تو سن لے
تری الفت کا دریا کیا مچلتا ہے، اچھلتا ہے!

لب تحسیں سے نکلے لفظ، رنگوں میں پرو ڈالیں
کہ جوں، قوس و قزح، گرتے ہوئے جھرنے پہ ڈھلتا ہے

وہ میرا اشکِ خوں، یعنی وہ تیرے پیار کا موتی
نظر سے نوکِ مژگاں سا، وہ رس رس کے نکلتا ہے

کئی انداز سے سوچا ، بہت آہنگ میں پرکھا
فسانہ کیا ہے یہ کاشف، سنورتا ہے نہ ڈھلتا ہے

سید کاشف
 
تری چاہت کے برسیں رنگ، سادہ پر کشش، ہر دم
مہربانی عنایت کا فسوں اک، دل پہ چلتا ہے
اساتذہ بہتر اصلاح کرسکتے ہیں لیکن جانے کیوں ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ +پ نے لفظ کو مِہِر بانی باندھاہے ہ کو کسرہ کے ساتھ جبکہ ہ پر جزم ہے۔

لب تحسیں سے نکلے لفظ، رنگوں میں پرو ڈالیں
کہ جوں، قوس و قزح، گرتے ہوئے جھرنے پہ ڈھلتا ہے


سید کاشف
ٹائپو ہے درست کرلیجے۔ قوسِ قزح
 
اساتذہ بہتر اصلاح کرسکتے ہیں لیکن جانے کیوں ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ +پ نے لفظ کو مِہِر بانی باندھاہے ہ کو کسرہ کے ساتھ جبکہ ہ پر جزم ہے۔


ٹائپو ہے درست کرلیجے۔ قوسِ قزح
بجا ارشاد جناب محمد خلیل الرحمٰن صاحب۔

’’مہربانی‘‘ کا درست عروضی وزن ’’فاعلاتن‘‘ ہے۔
’’قوسِ قُزح‘‘ میں سین مکسور ہے، یہاں عطف درست نہیں۔ اردو شعر میں نشست کے مقابق ’’قزح‘‘ کو وتد مجموع (فعو) اور وتد مفروق (فاع) دونوں طرح باندھ سکتے ہیں۔ اصل میں ’’ز‘‘ مجزوم ہے۔
۔۔۔۔۔
 
ترے جلووں کی حدت سے ، چمن ہر دل کا جلتا ہے
تغافل بھی رکھے گر تو، نظر سے تیر چلتا ہے

مطلع میں دونوں مصرعوں کا مضمون الگ الگ ہو گیا، اور مطلع کمزور پڑ گیا۔
پہلے مصرعے میں جلوے، حدت، چمن، دل، جلنا؛ رعایا تو پوری ہو گئیں، پر بات ایک بیان سے آگے نہ بڑھی۔ دوسرے مصرعے میں اس کو محسوسات سے جوڑا جاتا تو شعر بن جاتا۔ دوسرے مصرعے میں تغافل رکھنا (تغافل کرنا تو معروف ہے، تغافل رکھنا کہاں تک جائز ہے جناب الف عین سے پوچھتے ہیں)، نظر، تیر (نظر کا تیر؟ یا نظر سے تیر)؛ مراعات یہاں بھی پوری ہیں۔ مگر بات وہی ہے، دو کیفیات کو اکٹھا بیان کر دیا، قاری کے ساتھ سانجھ مضبوط نہیں ہو سکی۔ مطلع تو چاہئے کہ قاری کو گرفت میں لے لے۔
 
اسے جب دیکھتا ہوں میں، یہ حالت دل کی ہوتی ہے
یہ اک نو مشق بچے کی طرح، گرتا، سنبھلتا ہے

پہلے مصرع میں ضمیر متکلم (مَیں) کو لفظاً لانا بہت ضروری نہیں تھا کہ فعل (ہُوں) ضمیر متکلم سے خاص ہے۔ کفایتِ لفظی کی اہمیت سے تو آپ واقف ہی ہیں۔ ’’نومشق‘‘ کی بجائے اگر لبھانے والی کوئی صفت لائیں تو شعر کی چاشنی بڑھ سکتی ہے۔ کہ اک ننھے سے بچے کی طرح ۔۔ ۔۔ یا کچھ اور ۔۔۔
 
تری چاہت کے برسیں رنگ، سادہ پر کشش، ہر دم
مہربانی عنایت کا فسوں اک، دل پہ چلتا ہے

’’مہربانی‘‘ پر بات ہو چکی۔ یہاں ویسے بھی لفظ ’’عنایت‘‘ موجود ہے، تکرار لفظی معنوی اگر حسن پیدا نہیں کرتی تو بجائے خود عیب قرار پاتی ہے۔ ہاں حسن پیدا کرے تو یہی خوبی بن جائے گی۔ محسوسات کی سانجھ بڑھ جائے اگر اس مصرعے کا ’’اِک‘‘ جو بظاہر پاسنگ لگتا ہے، بدل کر ’’اس دل پہ چلتا ہے‘‘ بنا دے۔
پہلا مصرع تصنع کی خبر دے رہا ہے۔ غزل تو کہی جاتی ہے، بنائی نہیں جاتی! اور اگر بنائی جاتی ہے تو ایسے بنائی جاتی ہے کہ بنائی ہوئی لگے نہیں، بنی بنائی لگے۔
 
آخری تدوین:
برستی بارشیں، چھت پر، نہاتے دوڑتے بچے
تری قربت کی رم جھم میں، مرا دل یوں مچلتا ہے

تعقیدِ لفظی ۔ بیک وقت شعر گوئی کی ضرورت بھی ہے، حسن بھی ہے اور نقص بھی ہے! ہے نا عجیب بات! پہلے مصرعے کو دو طرح سے پڑھا جا سکتا ہے:
برستی بارشیں چھت پر، نہاتے دوڑتے بچے (تو کیا چھت کے علاوہ کہیں بارش نہیں ہو رہی؟ یہ تخصیص کیوں ضروری ہے؟)
برستی بارشیں، چھت پر نہاتے دوڑتے بچے (ایک صورت بنتی تو ہے نا، یہاں!)
دوسرے مصرعے میں یوں ہے تو پہلے میں جوں آ جائے تو علت معلول یا تشبیہ بہ سہولت پوری ہو جائے۔
برستی بارشوں میں جوں نہاتے دوڑتے بچے
تری قربت کی رم جھم میں، مرا دل یوں مچلتا ہے
بہ این ہمہ ’’برستی بارشیں‘‘ پر انگشت نمائی ہو سکتی ہے۔ برستا ساون، بادل، گھٹا، وغیرہ ۔۔۔ یا پھر بارش کا کوئی وصف بیان ہو: شدید بارش، ڈراتی ہوئی، مہکاتی ہوئی، چھیڑتی ہوئی، نرم نرم؟ ۔۔ کہ شعر میں حسن پیدا ہو۔
 
آخری تدوین:
مرے سینے پہ سر رکھ دے، ذرا آواز تو سن لے
تری الفت کا دریا کیا مچلتا ہے، اچھلتا ہے!

پہلی بات تو خیال ہے صاحب۔ گستاخی معاف بہت عامیانہ سا خیال ہے اور بہت بار بہت انداز میں بیان بھی ہو چکا! اب یا تو اس میں کوئی نئی بات لائیے یا کسی طور عامیانہ کو خاصانہ بنائیے تب بات بنے۔
 
لب تحسیں سے نکلے لفظ، رنگوں میں پرو ڈالیں
کہ جوں، قوس و قزح، گرتے ہوئے جھرنے پہ ڈھلتا ہے

پہلا مصرع: اظہار میں جدت لانے کی کوشش بار آور نہیں ہو پائی۔ حرفِ تحسین کی بجائے لبِ تحسین کہا جا سکتا ہے۔ رنگوں میں پرو لیں، اور پرو ڈالیں: بہت فرق آ جاتا ہے۔ ہمیں شعر میں اور خاص طور پر غزل کے شعر میں محض لغوی معانی نہیں نبھانے ہوتے، ان میں کوئی کیفیت سمونی ہوتی ہے۔
دوسرا مصرع: کہ جوں؟ جیسے؟ قوسِ قزح (لفظ پر بات ہو چکی: اردو میں ہم اس کو مؤنث مانتے ہیں) تو ظاہر ہوتی ہے اور بلندی پر ہوتی ہے، جھرنوں سے کہیں بلند تر! ہاں، رعایت بن سکتی تھی۔ اس کو ڈھالئے نہیں، اس کو جھکائیے! جھرنا حرفِ تحسین کی طرف استعارہ ہے مگر بہت دور جا پڑا۔
یہاں ایک بات اور بھی! ۔۔ جھرنے، قوسِ قزح، جھکنا یا ڈھلنا جو بھی ہے، اس پورے نظام میں ’’تحسین‘‘ کافی نہیں؛ کوئی قلبی واردات بیان ہو تو شعر میں لطف پیدا ہو۔
 
وہ میرا اشکِ خوں، یعنی وہ تیرے پیار کا موتی
نظر سے نوکِ مژگاں سا، وہ رس رس کے نکلتا ہے

اس پورے نظام میں نوکِ مژگاں مجھے کچھ اجنبی سا لگا۔ نوکِ مژگاں تو ایک دم چبھتی ہے اور دل میں اتر جاتی ہے، اسے رِسنے سے کیا لینا دینا! موتی بھی نہیں رِسا کرتا وہ تو گرا کرتا ہے، یا دمکا کرتا ہے۔ اشکِ خون کے ساتھ رِسنے کے حوالے سے مراعات بھی ویسی ہونی چاہئیں، یا پھر اس رِسنے کو ہٹا دیجئے۔
 
کئی انداز سے سوچا ، بہت آہنگ میں پرکھا
فسانہ کیا ہے یہ کاشف، سنورتا ہے نہ ڈھلتا ہے
بہت آہنگ میں پرکھا: یہاں کئی آہنگ میں پرکھا ہوتا تو وہی تکرار یہاں حسن پیدا کر جاتی۔ دوسرے مصرعے میں فسانہ کے لئے سنورنا یا ڈھلنا؟ فسانے کو یا تو مُک جانا چاہئے یا چلنا چاہئے۔
 
مجموعی طور پر اس غزل میں مجھے جو محسوس ہوا، کہ تصنع اور لفظیات مفاہیم اور محسوسات پر غالب ہیں۔ غزل میں ملائمت کا عنصر میری ترجیح ہے، ضروری نہیں کہ آپ کی بھی ہو، تاہم غزل کے شعر میں (خاص طور پر جب اس کے مضامین رومان یا تعلقِ خاطر پر مشتمل ہوں) کچھ نہ کچھ چھیڑ دینے والی بات ضرور ہو کہ قاری اس کے پیچھے نہیں دوڑتا نہ دوڑے، دیکھے تو سہی کہ اس تتلی کے رنگ اور اُڑان کیسی ہے۔
 
یہاں میرے لئے اطمینان اور مسرت کی خاص بات ہے جناب الف عین کا میری ان جسارتوں پر "متفق" کا بٹن دبانا۔
حضرت! کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ آپ میری گوشمالی بھی کیجئے، اور میں دیکھوں کہ آپ کی محبت کا وہ رنگ کیسا ہوتا ہے۔ ایک غزل کسی اور جگہ آپ کی توجہ کی منتظر ہے۔
:bee:
 

ابن رضا

لائبریرین
یہاں میرے لئے اطمینان اور مسرت کی خاص بات ہے جناب الف عین کا میری ان جسارتوں پر "متفق" کا بٹن دبانا۔
حضرت! کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ آپ میری گوشمالی بھی کیجئے، اور میں دیکھوں کہ آپ کی محبت کا وہ رنگ کیسا ہوتا ہے۔ ایک غزل کسی اور جگہ آپ کی توجہ کی منتظر ہے۔
:bee:
استادجی ربط یہ رہا

http://www.urduweb.org/mehfil/threads/نقد-و-نظر.78618/#post-1627485
 
بہت بہت شکریہ استاد محترم
اس بار تو لگتا ہے کہ تصحیح میں کئی دن لگ جائیں گے ۔
ایک تو میری غلطیوں کا انبار اور پھر آج کل بے انتہا مصروفیت کی وجہ سے وقت کی قلت۔
ان شا اللہ دوبارہ حاضر ہوتا ہوں، اصلاح کے ساتھ۔
خاکسار دعاؤں کا طالب ہے۔
 
Top