کیا اسلامی جمیعت طلبا دہشت گرد تنظیم ہے؟

x boy

محفلین
ویسے کوئی کسی کو ڈنڈے کے زور پر کچھ نہیں کراسکتا، باپ بھی بیٹے کو نماز نہیں پڑھا سکتا ، اسکول نہیں بھجواسکتا، اگر زبردستی بجھوادیا تو کلاس یا ٹائم کو بنگ کریگا۔ اگر جمیعیت پر جرم عائد ہے تو وہ قابل مذمت ہے کیونکہ اللہ تعالی نے انسان کو دونوں راستے دئے ہیں بدی اور صراط المستقیم کا۔
جیسے یہاں دبئی میں ہوٹیل کے سامنے مسجد ہے جس کا جی چاہے مے خانہ میں جام اورشباب میں تسکین لے یا مسجد جاکر اللہ پاک کی عزت کی گواہی دے۔
 

کاشفی

محفلین
اسلامی جمعیت طلبہ نے پنجاب یونیورسٹی کوالقاعدہ اوردیگرکالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کاگڑھ بنانا شروع کردیاہے۔ محترمہ طاہرہ آصف،رکن قومی اسمبلی متحدہ قومی موومنٹ
mqm-Tahira-Asif-031013.jpg

اسلامی جمعیت طلبہ نے پنجاب یونیورسٹی کوالقاعدہ اوردیگرکالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کاگڑھ بنانا شروع کردیاہے۔ محترمہ طاہرہ آصف،رکن قومی اسمبلی متحدہ قومی موومنٹ

پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے جمعیت کے عہدیدارکے کمرے سے القاعدہ کا دہشت گرد اسلحہ سمیت گرفتار ہوچکاہے۔ اس سے قبل بھی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے گھروں سے القاعدہ کے انتہائی خطرناک دہشت گردگرفتارہوچکے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے حکومت کولکھے گئے مراسلوں میں صاف الفاظ میں کہاگیاہے کہ جمعیت
کے کئی کارکنان کے دہشت گردوں سے رابطے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کودہشت گردگروہوں کاگڑھ بننے سے بچایا جائے ، یونیورسٹی کودہشت گردوں سے پاک کیاجائے۔


لاہور ۔۔۔ 3 اکتوبر2013ء
پنجاب سے متحدہ قومی موومنٹ کی رکن قومی اسمبلی محترمہ طاہرہ آصف نے وفاقی اور حکومت پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ پنجاب یونیورسٹی کو دہشت گردوں سے پاک کیاجائے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے گزشتہ کئی دہائیوں سے پنجاب یونیورسٹی میں دہشتگردی کابازارگرم کررکھاہے،اس کے ارکان گن پوائنٹ پر مخالف طلبہ حتیٰ کہ اساتذہ کرام تک کو دہشت گردی کانشانہ بناتے ہیں اوراب جمعیت نے پنجاب یونیورسٹی کوالقاعدہ اوردیگرکالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کاگڑھ بنانا شروع کردیاہے۔چندروزقبل پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک عہدیدارکے کمرے سے القاعدہ کاایک خطرناک دہشت گرد اسلحہ سمیت گرفتاربھی ہوچکاہے۔طاہرہ آصف نے کہاکہ پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے حکومت کولکھے گئے مراسلوں میں صاف الفاظ میں کہاگیاہے کہ جمعیت کے ارکان نے القاعدہ کے دہشت گردوں کویونیورسٹی کے ہاسٹل میں پناہ دی اور اسکے کئی کارکنان کے دہشت گردوں سے رابطے ہیں۔ طاہرہ آصف نے کہاکہ اس سے قبل بھی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے گھروں سے القاعدہ کے انتہائی خطرناک دہشت گردگرفتارہوچکے ہیں اوراب اسکی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کو جس طرح بین الاقوامی دہشت گردگروہوں کی پناہ گاہیں بنارہی ہے اس سے ثابت ہوتاہے کہ جماعت اسلامی اوراسلامی جمعیت طلبہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے پاکستان کونقصان پہنچانے والے دہشت گردوں کی معاونت کررہی ہے اورانکی کارروائیوں میں برابرکی شریک ہے۔ محترمہ طاہرہ آصف نے وفاقی اورصوبائی حکومت سے مطالبہ کیاکہ پنجاب یونیورسٹی کوبین الاقوامی دہشت گردگروہوں کاگڑھ بننے سے بچایا جائے اوریونیورسٹی کودہشت گردوں سے پاک کیاجائے اوردہشت گردوں سے معاونت کرنے پرانکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
 

imzeee

محفلین
میں چونکہ خود جمعیت کا حصہ رہ چکا ہوں اس لیے بغیر کسی بحث و تمحیص کے یہ کہوں گا کہ:
1 - جمعیت والوں نے خود کو یا اپنے سے منسلک لوگوں کا کبھی بھی فرشتہ ہونے کا دعوی نہیں کیا۔
2 - زیادہ تر انفرادی واقعات بیان کر کے جمعیت کو ایک منفی تنظیم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بطور تنظیم جمعیت کا کردار انتہائی مثبت اور تعمیری ہے۔ انفرادی معاملات میں غلطیاں کوتاہیاں کس نے نہیں ہوتیں؟ کم از کم جمعیت کسی کی ایجنٹ نہیں ہے۔ ورنہ ہمارے ایسے لیڈران بھی پائے جاتے ہیں جو غیر ملکی حکومتوں کو خط لکھ کر پاکستان میں جاسوسی کی پیشکش کرتے ہیں اور بالفعل ان کے جاسوس کا کردار ہی ادا کرتے ہیں۔
3 - جمعیت میں میرے جیسے کمزور علم اور کردار کے لوگ شامل ہوتے ہیں اور جمعیت کے ماحول میں اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں اور اپنے کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

4 - بعض لوگوں نے مشرقی پاکستان میں البدر اور الشمس کےشاندار کردار کو گہنانے کی کوشش کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی وجہ یا تو لاعلمی ہے یا پاکستان دشمنی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ البدر اور الشمس کے افراد نے پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑی۔ بھارتی ایجنٹوں کو یہ بتا دیا کہ ساری بنگالی قوم بکاؤ نہیں ہے۔ مکتی باہنی جو کہ ایک مسلح گوریلا تنظیم تھی کا ہر سطح پر مقابلہ کیا۔

کوئی بھی دوست جمعیت کے بارے میں بات چیت کرنا چاہیں تو میں حاضر ہوں۔۔
 

اوشو

لائبریرین
جمیعت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ میں خود ایک بڑی طلباء تنظیم "انجمن طلباء اسلام" ATI کا عہدیدار رہ چکا ہوں اور جمیعت کی "خدمات" کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔
 
کراچی میں تو جامعات میں دہشتگردی کی بنیاد ایم کیو ایم نے ڈالی اسکے بعد پی پی پی اور اے این پی بھی شامل ہوئی
انکا دیکھا دیکھی اسلامی جمعیت طلباء والے بھی انکی تقلید کرنے لگے ۔۔۔
اے پی ایم ایس او ، آئی ایس او وغیرہ سب طلباء کو دہشتگردی کی تربیت دینے والی تنظیمیں ہیں ۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
میں چونکہ خود جمعیت کا حصہ رہ چکا ہوں اس لیے بغیر کسی بحث و تمحیص کے یہ کہوں گا کہ:
1 - جمعیت والوں نے خود کو یا اپنے سے منسلک لوگوں کا کبھی بھی فرشتہ ہونے کا دعوی نہیں کیا۔
2 - زیادہ تر انفرادی واقعات بیان کر کے جمعیت کو ایک منفی تنظیم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بطور تنظیم جمعیت کا کردار انتہائی مثبت اور تعمیری ہے۔ انفرادی معاملات میں غلطیاں کوتاہیاں کس نے نہیں ہوتیں؟ کم از کم جمعیت کسی کی ایجنٹ نہیں ہے۔ ورنہ ہمارے ایسے لیڈران بھی پائے جاتے ہیں جو غیر ملکی حکومتوں کو خط لکھ کر پاکستان میں جاسوسی کی پیشکش کرتے ہیں اور بالفعل ان کے جاسوس کا کردار ہی ادا کرتے ہیں۔
3 - جمعیت میں میرے جیسے کمزور علم اور کردار کے لوگ شامل ہوتے ہیں اور جمعیت کے ماحول میں اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں اور اپنے کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

4 - بعض لوگوں نے مشرقی پاکستان میں البدر اور الشمس کےشاندار کردار کو گہنانے کی کوشش کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی وجہ یا تو لاعلمی ہے یا پاکستان دشمنی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ البدر اور الشمس کے افراد نے پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑی۔ بھارتی ایجنٹوں کو یہ بتا دیا کہ ساری بنگالی قوم بکاؤ نہیں ہے۔ مکتی باہنی جو کہ ایک مسلح گوریلا تنظیم تھی کا ہر سطح پر مقابلہ کیا۔

کوئی بھی دوست جمعیت کے بارے میں بات چیت کرنا چاہیں تو میں حاضر ہوں۔۔
imzeee اپنا تعارف تو دیں۔
 

کاشفی

محفلین
پنجاب یونیورسٹی ،اساتذہ پر تشدد کے بعد حالات کشیدہ،ہوسٹل کےطلباء کی واپسی
203132_14221773.jpg

لاہور(دنیا نیوز)پنجاب یونیورسٹی میں اساتذہ پر مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد حالات میں کشیدگی برقرار ہے،ہاسٹلز کے طلبہ کی بڑی تعداد گھروں کو لوٹ گئی۔

پنجاب یونیورسٹی کے دو اساتذہ پر طلبہ کے مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد سے یونیورسٹی میں حالات کشیدہ ہیں،لا کالج کے اساتذہ عمران عالم اور ڈاکٹر نعیم اللہ خان نے الزام عائد کیا تھا کہ طلبا تنظیم کے افراد نے ان پر تشدد کیا،جس پر پچاس طلبا پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔پولیس اب تک دو نامزد طلبہ سمیت تیرہ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔گزشتہ رات پولیس کی جانب سے ہاسٹلز میں آپریشن کی مکمل تیاری کی گئی مگر رات گئے اسے موخر کر دیا گیا۔ہاسٹلز میں مقیم طلبہ کی بڑی تعداد چھٹیوں اور متوقع آپریشن کے خوف کی وجہ سے اپنے گھروں کو لوٹ چکی ہے جس کی وجہ سے ہاسٹلز قدرے ویران ہیں۔
 
جمعیت کی دہشت گردی کا تو الحمدللہ کبھی براہ راست سامنا نہیں کرنا پڑا البتہ کالج کے دور میں ان کی زبردستی کی ہڑتالوں کو ضرور بھگتنا پڑا۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ جمیعت میں عسکریت پسندی کا عنصر خوب تھا اس کا مشاہدہ ضرور کیا۔
 
Top