کیا اسلامی جمیعت طلبا دہشت گرد تنظیم ہے؟

یوسف-2

محفلین
اسلامی جمعیت طلبہ غالباً وہ واحد طلبہ تنظیم ہے جو تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ محلہ محلہ میں بھی اپنا وجود رکھتی ہے۔ یہاں یہ عموماً مساجد میں اپنی دینی، علمی و فلاحی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ ٹیوشن سینٹرز چلاتے ہیں، معیاری نوٹس دیتے ہیں۔ ضرورتمند طلباء کو اسکالرشپ، ان کی فیسیں اور درسی کتب مفر فراہم کرتے ہیں۔ اور کبھی کبھار مثبت تفریح جیسے پکنک، اسپورٹس وغیرہ میں بھی سرگرم ہوتے ہیں۔
 
پتہ نہیں ہمارے محلے کے لڑکے بہت شریف لڑکے کہلائے جاتے، صرف اپنی اسٹیڈی اور مسجد سے تعلق رہتا تھا چونکہ میں بھی بچپن سے نمازی تھا تو انہوں نے کافی مدد کی۔
جیسے کسی مضمون کو سمجھنے میں مدد، مسئلے کا حل وغیرہ۔
میرے نزدیگ انکے لئے مثبت اثرات ہیں باقی جہاں کے لوگ جو چاہے سمجھیں
بات یہیں تک محدود رہے تو کس کافر کو اعتراض ہوسکتا ہے لیکن کیا کیجئے کہ "وتعاونوا علی البر والتقویٰ" کی بجائے لوگوں پر کنٹرول، غلبہ اور تسلط حاصل کرکے "دین" کو ان پر نافذ کرنے کے عزم کے ساتھ تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردیاں کی جاتی ہیں۔۔۔۔اور میں یہ سنی سنائی بات نہیں کر رہا بلکہ پانچ سال تک کالج لائف میں اس بات کا مشاہدہ کیا ہے تو بات کر رہا ہوں :)
 
تمام تعلیمی اداروں میں ہر قسم کی سیاسی جماعت اور انکی بغل بچہ تنظیموں پر پابندی لاگادینی چاہئیے۔۔۔جس کو سیاست کا شوق ہے وہ تعلیمی ادارے سے باہر اپنا شوق پورا کرے۔
 

عؔلی خان

محفلین
"۔۔۔۔قادیانی مخالف فسادات کی وجہ سے شہر لاہور میں پہلی بار مارشل لا لگا۔۔۔۔"

قادیانی، احمدی یا لاہوری گروپ اسلام سے خارج ہیں کیونکہ وہ ختمِ نبوّت پر مکمّل یقین نہیں رکھتے۔ شکریہ-
 
آخری تدوین:

عؔلی خان

محفلین
یہاں دیکھئے- شکریہ-
کی اآپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ چونکہ قادیانی و لاہوری گروپ اسلام سے خارج ہیں، اسلئیے انکے خلاف فسادات ہونے چاہئیں؟ اور اس حد تک بات بڑھ جانی چاہئیے کہ فوج کو مارشل لاء نافذ کردینا پڑے؟
 

عؔلی خان

محفلین
کی اآپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ چونکہ قادیانی و لاہوری گروپ اسلام سے خارج ہیں، اسلئیے انکے خلاف فسادات ہونے چاہئیں؟ اور اس حد تک بات بڑھ جانی چاہئیے کہ فوج کو مارشل لاء نافذ کردینا پڑے؟

میں نے وہ سطر کیوں لکھی اور کن الفاظ کے جواب میں لکھی میں نے واضح کردیا ہے۔ باقی آپ اپنی صوابدید کے مطابق اس کا جیسے جی چاہیں "ترجمہ" کریں میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شکریہ-
 
میں نے وہ سطر کیوں لکھی اور کن الفاظ کے جواب میں لکھی میں نے واضح کردیا ہے۔ باقی آپ اپنی صوابدید کے مطابق اس کا جیسے جی چاہیں "ترجمہ" کریں میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شکریہ-
یعنی آپ نے سوال گندم کے جواب میں جواب چنا پیش فرمایا۔۔۔ٹھیک ہے:D
 

x boy

محفلین
اب یہاں قادیانیوں کی بات کہاں سے آگئی،، وہ تو اقلیت غیر مسلم ہیں۔ جیسے یہودی نصرانی ہندو سکھ زرتش وغیرہ۔
 

عؔلی خان

محفلین
یعنی آپ نے سوال گندم کے جواب میں جواب چنا پیش فرمایا۔۔۔ ٹھیک ہے:D

اگر اسلامی جمیعت طلبہ کی لڑی میں "قادیانی مخالف فسادات" کو لایا جا سکتا ہے تو اس کے جوب میں اگر میں نے اپنا "چنا" پیش کردیا ہے اور اگراس پر آپ کو یا کسی اور کو اعتراض ہے تو میری بلا سے ہے۔ شکریہ-
 

حسینی

محفلین
اللہ ہم پاکستانیوں کو عقل سلیم دے۔ منکرین جہاد کو ایمان کی توفیق دے۔ اپنے محسن افغان مجاہدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے اور سابقہ محسن کشی کا کفارہ ادا کرنے کا موقع دے۔ تاکہ ہم اپنی دینا و آخرت دونوں بچا سکیں۔ وگرنہ ہماری دنیا تو خراب ہو ہی رہی ہے، امریکہ کافر کے ساتھ مل کر مسلم افغانیوں سے جنگ کرتے ہوئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہماری آنکھیں بند ہوں اور ہم اللہ کے حضور پہنچیں تو ہمارا حشر بھی انہی کفار کے ساتھ نہ ہو، جن کے ساتھ اور جن کے لئے ہم اپنے مسلمانوں کا خون بہارہے ہیں۔

یوسف بھائی!
جہاد کا کوئی انکار نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جہاد کے اپنے قوانین ہیں۔۔۔ اسلام جان اور ناموس کے حوالے سے بہت ہی محتاط ہے۔۔۔
یہ دہشت گرد کون سا جہاد کر رہے ہیں؟؟؟؟؟ کیا جہاد مسلمانوں کے خلاف کیا جاتا ہے؟؟؟؟
کیا جہاد میں اسکولوں ، مساجد، امام بارگاہ، عوامی اجتماع، بازاروں کو بموں سے اڑایا جاتا ہے؟؟
خدا کے لیے جہاد کرنا ہو تو کفار سے جا کر کریں۔۔۔۔۔۔ سارے مسلمان آپ کا ساتھ دیں گے۔۔۔
جس طرح فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کے جہاد کے حق میں دنیا کے سارے مسلمان ساتھ ہیں۔۔۔
لیکن اسلامی ریاست (یا بقول بعض کے اولی الامر) کے خلاف بغاوت کرنے والوں کے لیے نرم گوشہ رکھنا بھی ہرگز درست نہیں۔
 
آخری تدوین:

حسینی

محفلین
میں تو صرف اتنا کہوں گا کہ اگراسلامی جمیت تعلیمی اداروں مین نہ ہوتی تو شریفوں کی بیٹیاں ان اداروں میں تعلیم حاصل نہ کر سکتیں۔جو اسلامی جمیت کو براکہ رہے ہیں ان کی بدمعاشی کے سامنے دیوار ھے۔بھونکنے والے بھونکتے رہے گے۔

باقی تعلیمی اداروں کا تو مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔ لیکن اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی جمعیت کے بارے خوب جانتا ہوں۔۔۔
چونکہ بی اے آنرز یہاں سے ہی کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور زندگی کے چار قیمتی سال یہاں گزارے تھے۔۔۔۔
یہاں جمعیت ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کرتا ہے۔۔۔ حتی ٹیچرز اور فیکلٹی ڈینز تک میں ان کا نفوذ ہے۔۔۔ اور بعض دفعہ امتحانوں میں (اپنے مخصوص طریقوں سے) اپنی خواہش کے مطابق مارکس بآسانی لے لیتے ہیں۔۔۔
باقی بات لڑکیوں کے دفاع کی۔۔۔۔۔۔۔ تو چونکہ اسلامی یونیورسٹی میں کو ایجوکیشن نہیں۔۔۔۔ لیکن ایڈمن بلاک جانے کا راستہ گرلز کیمپس کے پاس سے گزرتا ہے۔۔۔ جہاں جمعیت کے بعض "شریف نوجوان" شریفوں کی لڑکیوں کو بدمعاش لڑکوں کی بری نظروں سے بچانے کی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔۔۔ لیکن ہوتا کیا ہے۔۔۔۔ کئی دفعہ یہی لڑکے مختلف کیسس میں پکڑے گئے۔۔۔ آخر یہ بھی تو انسان ہیں۔۔۔ کبھی کبھار نظریں پھسل ہی جاتی ہیں۔۔۔۔ اور شیطان تو پھر تاک میں ہے ہی۔۔۔
 
1101967183-1.gif
 

یوسف-2

محفلین
یوسف بھائی!
جہاد کا کوئی انکار نہیں کرتا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ لیکن جہاد کے اپنے قوانین ہیں۔۔۔ اسلام جان اور ناموس کے حوالے سے بہت ہی محتاط ہے۔۔۔
  1. یہ دہشت گرد کون سا جہاد کر رہے ہیں؟؟؟؟؟ کیا جہاد مسلمانوں کے خلاف کیا جاتا ہے؟؟؟؟
  2. کیا جہاد میں اسکولوں ، مساجد، امام بارگاہ، عوامی اجتماع، بازاروں کو بموں سے اڑایا جاتا ہے؟؟
  3. خدا کے لیے جہاد کرنا ہو تو کفار سے جا کر کریں۔۔۔ ۔۔۔ سارے مسلمان آپ کا ساتھ دیں گے۔۔۔
  4. جس طرح فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کے جہاد کے حق میں دنیا کے سارے مسلمان ساتھ ہیں۔۔۔
  5. لیکن اسلامی ریاست (یا بقول بعض کے اولی الامر) کے خلاف بغاوت کرنے والوں کے لیے نرم گوشہ رکھنا بھی ہرگز درست نہیں۔
حسینی بھیا! شکر ہے آپ کا شمار ان ”مسلمانوں“ میں نہیں ہے، جو جہاد کے خلاف ہیں۔ اور آپ انسانی جان اور ناموس کے حوالہ سے اسلام کی تعلیمات سےبخوبی ” آگاہ“ ہیں۔
  1. سب سے پہلے تو یہ بتلائیے کہ یہ ”افغان مجاہدین“ دہشت گرد کب بنے یا کب ڈیکلیئر ہوئے؟ جب مسلم افغانستان میں افغانیوں (طالبان) کی حکومت تھی اور ایک کافر امریکہ نے ایک مسلم افغانستان پر حملہ کیا اور کرنے کا ارادہ کیا تو کیا ایک مسلم پاکستانی آرمی اور حکومت (صدر اور آرمی چیف قادیانی سہی) نے کس کا ساتھ دینا تھا۔ حملہ آور کافروں کا یا برادر مسلم ملک افغانستان کا۔ پاکستان نے حملہ آور کافروں کو فوجی اڈے دئے، انہیں سستے داموں ایندھن دیا، راہداری دی تاکہ ایک مسلم ریاست میں لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا جاسکے۔ اور جو افغان مجاہدین بھٹو اور ضیاء الحق کے دور سے حکومت پاکستان کی اجازت سے فاٹا میں مقیم تھے، ان پر پاکستان آرمی نے اوپر سے کارپٹ بمباری کی اور زمین سے گولہ بارود کے ذریعہ ان کے گھروں کو جلایا گیا۔ ان سے بار بار معاہدے کئے اور بار بار معاہدے توڑے۔۔۔ کیا آپ کی عمر اتنی کم ہے کہ ابھی کل کے یہ ”اپنے کارنامے“ بھول گئے۔ جب آپ بلا کسی شرعی اور دنیوی جواز کے لوگوں کا اس طرح قتل عام کریں گے تو جواب میں کیا وہ پھول پیش کریں گے؟؟
  2. بھٹو حکومت کی پالیسی کے تحت افغان مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے۔ اور ضیاء الحق دور میں یہ زیادہ تعداد میں پاکستان میں حکومت کی منشا اور سپورٹ سے پاکستان میں آئے تھے۔ انہیں افغان مجاہدین اور مہمان قرار دیا گیا۔ پھر یکایک حکومت پاکستان اور پاک آرمی نے ان ”مسلمانوں“ کے خلاف ”جہاد“ کیسے شروع کردیا۔ حکومت اور آرمی کی جانب سے ”پہل اور جنگی کاروائیاں“ تو ”تصدیق شدہ، غیر مشکوک اور صاف صاف واضح“ ہیں۔ کوئی عقل کا اندھا بھی قادیانی مشرف کی آرمی اور حکومت کی جنگی پہل سے انکار نہیں کرسکتا۔۔۔۔ جواباً جو بھی کاروائیاں طالبان سے منسوب ہیں، وہ ساری کی ساری اور سو فیصد تصدیق شدہ من جانب طالبان نہیں ہیں۔ اور اس بات کے ”شواہد“ موجود ہیں کہ ان کاروائیوں میں امریکی سی آئی اے، بھارتی راء اور افغان حکومت بھی ملوث ہے۔ بلیک واٹر کے سینکڑوں کارندے تو محض ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے بدلے ”پاکستان بدر “ کئے گئے تھے۔
  3. یہی بات آپ کو پاکستان حکومت اور پاکستان آرمی سے بھی کہنی چایئے تھی، جب وہ امریکہ کافر کے ساتھ مل کر مسلم افغانوں کے ساتھ کر رہی تھی۔ تب پاکستان کے ”سارے مسلمان“کہاں تھے اور خاموش کیوں تھے؟
  4. جہاد کشمیر اور فلسطین میں ہی نہیں افغانستان میں بھی ہورہا ہے۔ جب روس کے خلاف ہورہا تھا تو پاکستان کی حکومت اور عوام نے درست طریقہ سے افغان عوام کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن جب یہی جہاد افغانیوں پر امریکہ اور نیٹو نے مسلط کردیا تب پاکستانی حکومت، آرمی اور عوام نے ”یو ٹرن“ کس اسلامی رول کے تحت لیا۔ اب بھی پاکستانی حکومت اور آرمی کو اپنے اس عظیم گناہ کا کفارہ ادا کرتے ہوئے افغان مجاہدین کا ساتھ دینا چاہئے۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہئے۔ بالخصوص جب کافر امریکہ اپنے زخم چاٹتے ہوئے افغانستان سے راہ فرار اختیار کررہا ہے۔ لیکن امریکی ایجنٹوں اور قادیانیوں کی ملی بھگت ہے کہ پاکستان آرمی اور حکومت اب بھی ان افغانیوں سے مصروف جنگ رہے اور لڑ لڑ کر اتنی کمزور ہوجائے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سمیت پاکستان کی سالمیت کو امریکی پلان کے مطابق نقصان پہنچایا جاسکے۔
  5. اگر آپ کی یاد داشت بہت کمزور بھی ہو تب بھی صرف بارہ تیرہ سال پہلے کی تاریخ کو آپ یوں ”مسخ“ کرنے کی کوشش نہیں کرسکتے، ۔ پاکستانی ریاست کے خلاف افغان مہاجرین نے ”بغاوت“ نہیں کیا تھا بلکہ امریکہ بہادر کے کہنے پر ایک قادیانی آرمی چیف اور صدر نے ان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔ ان پرتو زیادہ سے زیادہ الزام ”جوابی کاروائی“ کا لگ سکتا ہے۔ پاک حکومت اور آرمی اپنے کئے پر شرمندہ ہو، جس طرح ان کے خلاف جنگ کا آغاز خود کیا تھا، اسی طرح خود سیز فائر کر کے اس پر قائم رہنے کا ثبوت دے۔ گرفتار شدہ طالبان کو غیر مشروط رہا کرے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی حکومت یا آرمی کے خلاف کاروائی کرے تب ”بغاوت“ کا الزام لگایا جاسکتا ہے، ویسے نہیں
 

یوسف-2

محفلین
گفتگو کا آغاز جمیعت کی مبینہ ”دہشت گردی“ سے ہوا۔ جمیعت دہشت گردی میں ملوث ہے یا نہیں، مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ لیکن ”جمیعت دشمنی“ میں پاکستانی کی تاریخ مسخ نہیں کی جاسکتی۔ اور نہ ہی جمیعت کی ”کاروائیوں“کی آڑ میں، امریکی منشا کے مطابق جہاد کو دہشت گردی، اور مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے۔
 

یوسف-2

محفلین
اب یہاں قادیانیوں کی بات کہاں سے آگئی،، وہ تو اقلیت غیر مسلم ہیں۔ جیسے یہودی نصرانی ہندو سکھ زرتش وغیرہ۔
بھیا ایسا نہیں ہے۔
”دیگر غیر مسلموں“ اور ”قادیانی غیر مسلم“ میں ایک بنیادی فرق ہے، جسے آپ نظر انداز کر رہے ہیں۔
  1. ”دیگر غیر مسلم“ خود کو ”مسلمان“ نہیں کہلواتے اور نہ ہی ”دیگر غیر مسلم“ اپنے ”عقائد“ کو اسلام کے نام پر پیش کرکے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو اس طرح مسخ کرتے ہیں
  2. ”دیگر غیر مسلم“ مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والے مسلمانوں کو ”کافر اور غیر مسلم“ قرار نہیں دیتے۔
 
Top