ہمارا بکرا خواب میں

ہمارا بکرا خواب میں
محمد خلیل الرحمٰن
( علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)

میں سویا جو اِک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جِس سے مِرا اضطراب

یہ دیکھا کہ میں جا رہا ہوں کہیں
چلا آتا ہے ایک ریوڑ وہیں

عجب تھا تقدس عجب نور تھا
ہر اِک جانور ایسے مخمور تھا

جو کچھ حوصلہ پاکے آگے بڑھا
تو دیکھا کہ ریوڑ یہ بکروں کا تھا

زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
گلے میں تھے مالا سی ڈالے ہوئے

مجھے یاد اب پچھلی عید آگئی
جو مجھ سے بھی قربانی کرواگئی

یہ رب کی رضا کا تھے ساماں ہوئے
یہ بکرے وہی تھے جو قرباں ہوئے

اسی سوچ میں تھا کہ بکرا مِرا
اچانک مجھے یوں نظر آگیا


وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
وہ آدھا تھا بس، باقی آدھا نہ تھا

کہا میں نے پہچان کر میری جاں
مجھے چھوڑ کر آگئے تم کہاں


جدائی میں رہتا ہوں میں بے قرار
پروتا ہوں ہر روز اشکوں کے ہار

نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ اچھی وفا تم نے کی


جو بکرے نے دیکھا مِرا پیچ و تاب
دیا اُس نے منہ پھیر کر یوں جواب

رُلاتی ہے تُجھ کو جدائی مِری
نہیں اِس میں کچھ بھی بھلائی مِری

یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چُپ رہا

دھڑ اپنا دِکھا کر یہ کہنے لگا

سمجھتا ہے تُو ہوگیا کیا اِسے
تِرےہی فریزر نے کھایا اِسے

اِسی دَم مجھے یاد بھی آگئیں
وہ بکرے کی رانیں جو فریزر میں تھیں

جنہیں میں نے رکھّا بچا کر وہاں
بچا کر کہوں یا چھپا کر وہاں​
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
بہت خوب
بس یہ شعر بدل دیں
اسی سوچ میں تھا کہ میرا بکر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
ایک تو بکر بجائے بکرا ور دوسرے جماعت
اسی سوچ میں تھا کہ بکرا مرا
اچانک مجھے وہ نظر آ گیا
قسم کے شعر سے بدل دیں
 
بہت خوب
بس یہ شعر بدل دیں
اسی سوچ میں تھا کہ میرا بکر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
ایک تو بکر بجائے بکرا ور دوسرے جماعت
اسی سوچ میں تھا کہ بکرا مرا
اچانک مجھے وہ نظر آ گیا
قسم کے شعر سے بدل دیں
آپ کی اصلاح کی روشنی میں تبدیلی کردی ہے استادِ محترم۔
 
Top