مصر اخوان المسلمین کے دھرنوں کا کریک ڈاون، سینکڑوں جاں بحق اور ہزاروں زخمی!

حسینی

محفلین
1101938249-1.gif

http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101938249&Issue=NP_LHE&Date=20130822
 
موجودہ حالات میں صدر مرسی کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے بڑوں کو یک طرفہ طور پر اپنے مطالبات اور اقتدار سے غیر مشروط دستبرداری کا اعلان کرنا چاہیے تا کہ مصر خانہ جنگی کی طرف نہ جا سکے۔

آج کے مصر کو بے امنی اور خانہ جنگی سے بچا لے جانا ہی اصل کام ہے۔ اس کے لیے اقتدار کی قیمت کوئی قیمت نہیں۔

مصر‘ اخوان اور خانہ جنگی

اگرچہ میں اس پورے کالم سے متفق نہیں مگر یہ ایک اچھا پڑھنے والا کالم ہے
 

Fawad -

محفلین
ویسے مفادات بنا پر خارجہ پالیسی کی ترتیب کی بات پر ایک اور نکتہ یاد آیا ہے۔

فواد صاحب کے نزدیک چونکہ امریکہ 'مقدس' ہے اس لیے وہ ہر امریکی پالیسی کا اچھے اچھے الفاظ میں جواز پیش کرتے رہتے ہیں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


ميں نے کبھی بھی امريکی حکومت يا امريکی حکومت کی پاليسيوں کو مقدس نہيں قرار ديا۔ بلکہ ميں نے تو ہميشہ يہ واضح کيا ہے کہ فورمز پر ميری موجودگی کا مقصد ہرگز يہ نہيں ہے کہ ميں اپنی حکومت کی خارجہ پاليسی کے ضمن ميں کيے جانے والوں فيصلوں کے ليے حمايت يا سپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کروں۔ يہ ايک حقيقت ہے کہ تعميری تنقید اور جامع بحث کے مسلسل عمل کے ذريعے ہی بہتر آگہی اور رائے زنی کے عمل کو تقويت ملتی ہے۔ ليکن ميں اس بات پر يقين رکھتا ہوں کہ سطحی جملہ بازی اور بيانات اور تمام اہم عالمی تنازعات کو سازشی کہانيوں کی چھتری کے نيچے کھڑا کر دينے سے مثبت نتائج نہيں نکلتے اور اس سے صرف ذاتی انا کی تسکين اور پوائنٹ سکورنگ کی خواہش ہی پوری کی جا سکتی ہے جس سے حتمی تجزيے ميں کوئ مقصد حاصل نہيں کیا جا سکتا ہے۔


جہاں تک زير بحث موضوع کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں فورمز پر جن بے پناہ درد اور غم وغصے کے جذبات کا اظہار کيا جا رہا ہے، اسے ميں اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ امريکی حکومت نے متعدد بار انسانی زندگی کے زياں پر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کيا ہے اور صدر اوبامہ نے تو خود مصر کے عوام کے تحفظ اور سياسی ريليوں کے آزادانہ انعقاد کو يقینی بنانے کی ضرورت پر زور ديا ہے۔


کچھ رائے دہندگان نے يہ غلط تاثر قائم کر رکھا ہے کہ امريکی حکومت نے مورسی کی حکومت کو برطرف کرنے ميں کوئ کردار ادا کيا ہے۔ حقيقت تو يہ ہے کہ محض چند ماہ قبل تک اپريل 2013 ميں امريکہ کے وزير خارجہ جان کيری نے مصر کا دورہ کيا تھا دونوں ممالک کے مابين دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے ليے کئ ملين ڈالرز کی امداد کا اعلان بھی کيا تھا۔


http://www.foxnews.com/world/2013/0...tian-president-military-chiefs-after-warning/

کچھ ماہرين اور رائے دہنگان کے غلط دعوؤں کے مطابق اگر امريکی حکومت واقی مورسی حکومت کے خاتے کے درپے تھی تو پھر ہم مالی امداد اور عالمی قرضوں کی فراہمی کے اعلانات اور فيصلے کيوں کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ محض چند ماہ قبل تک مورسی حکومت کے اعلی عہديداران سے طويل المدت تعلقات استوار کرنے کے ليے کی جانے والی ملاقاتوں اور کوششوں کو آپ کيا کہيں گے؟ دانش کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ضمن ميں اپنی رائے قائم کريں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 
موجودہ حالات میں صدر مرسی کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے بڑوں کو یک طرفہ طور پر اپنے مطالبات اور اقتدار سے غیر مشروط دستبرداری کا اعلان کرنا چاہیے تا کہ مصر خانہ جنگی کی طرف نہ جا سکے۔

آج کے مصر کو بے امنی اور خانہ جنگی سے بچا لے جانا ہی اصل کام ہے۔ اس کے لیے اقتدار کی قیمت کوئی قیمت نہیں۔

مصر‘ اخوان اور خانہ جنگی

اگرچہ میں اس پورے کالم سے متفق نہیں مگر یہ ایک اچھا پڑھنے والا کالم ہے
یہ حق اور باطل کی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے اب ۔
 
2013-07-23 - بوقت: 14:16​

عرب حکمرانوں کی موقع پرستی اور خانہ جنگی کی طرف بڑھتے مصر کے حالات​

Comments : 0
23/جولائی تیشہ فکر عابد انور
مصر میں جو کچھ ہوا ہے اور جو کچھ ہورہا ہے نہ صرف خلاف شرع ہے بلکہ عالمی قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔جمہوریت پر شب خون ہے اور اسی طرح کا واقعہ نوے کی دہائی میں الجزائر میں پیش آیا تھا جب اسلام پسند پارٹی کی فتح کو فوج نے تسلیم نہ کرتے ہوئے اقتدار سونپنے سے انکار کردیاتھا۔ مباحثوں، مذاکروں، تقاریر اور مضامین میں تخریبی عناصر ، اسلام دشمن طاقتوں اور عالمی سامراجیت کے خلاف دل کھول کر بھڑاس نکالا جاتا ہے مگرعالمی سطح پر اور اپنے ارد گرد پھیلے ان چہروں سے ہمیشہ چشم پوشی اور آنکھ موند کر اسے بے داغ قرار دینے کا رویہ اپنایا جاتاہے جبکہ ضرورت اس بات کی بھی تھی کہ ہم اپنے درمیان ان تخریب کاروں کا قلع قمع کرتے جو کھلم کھلا بدترین دشمن سے بھی ہمارے لئے زیادہ خطرناک ہیں۔ عالم اسلام پر جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے توہم آستین چڑھاکر مغرب کو پانی پی پی کر کوستے ہیں اور تمام مسائل کے لئے مغرب کو ذمہ دار گردانتے ہیں لیکن عالم اسلام میں موجود یہود و نصاری کی خصلت والے حکمرانوں پر ہماری نظر کبھی نہیں جاتی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کے لئے صرف امریکہ، اسرائیل ہی ذمہ دار ہیں کیا عالم اسلام بھی اتناہی گنہ گار نہیں ہے ؟فلسطین پر آج جتنے فضائی یا زمینی حملے ہوئے اس میں عرب حکمرانوں کی مرضی شامل نہیں رہی ہے؟یہ عرب حکمراں لباس کے اعتبار سے جتنے سفید نظر آتے مسلم مسائل اور فلسطین کے تئیں ان کا نظریہ اتنا ہی سیاہ ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ مسئلہ فلسطین اب تک کیوں حل نہیں ہوا۔ شام میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کا قتل عام ہوچکا ہے اور اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر ماہ کم از کم پانچ ہزار مسلمان اسد حامی فوج کے شکار بن رہے ہیں۔ چن چن کر سنی خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی جارہی ہے۔ بوسنیا ہرزے گووینیا اور سربیا کے بارے میں تو انتہائی حساس ہیں اور مخالفت میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں مگر روح کو ریزہ ریز کرنے والا یہی وحشیانہ حرکت شام میں ہورہی ہے تو ہم نے لب سی لئے ہیں۔ کیا واقعتاَ ہم مسلمان ہیں جس کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ایک مسلمان کو تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرا مسلمان ٹرپ اٹھتا ہے۔ تڑپنا تو دور کی بات ہم مسلمانوں کی تکلیف کے بارے میں سو چ بھی نہیں رہے ہیں۔ چہ جائے کہ ہم ان کی حمایت میں سڑکوں پر اتریں۔ مصر میں اپوزیشن کے گروپ اور تمرد کے ارکان مصری خواتین کی اجتماعی آبروریزی کرتے رہے لیکن مصری فوج اور عرب حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ تمرد کے ارکان شاہراہوں پر لوٹ مار کرتے رہے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جدید فکر کے حامل محمد البرداعی اور عرب لیگ کے سابق جنرل سکریٹری اورفرعون وقت حسنی مبارک کے دور میں وزیر خارجہ رہ چکے عمر وموسی نے اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لئے ایک منتخب حکومت کے خلاف سازش رچی لیکن کسی نے ان کے اقدام کی مذمت نہیں کی ۔ ہندوستانی مسلمان جو معمولی سی معمولی بات پر تن کر احتجاج کرتے ہیں شام اور مصر کے معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ علمائے کرام اگر ان کا کسی روز اخبار میں بیان شائع نہ ہوتو بدہضمی کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے ،مصر اور شام کے بارے میں زبان پر تالا لگا ہوا ہے۔ کیا ہندوستانی مسلمانوں نے اللہ سے ڈرنے کے بجائے مغرب اور عرب حکمرانوں سے ڈرنا شروع کردیا ہے۔ جیسے کچھ علماء عمرہ کرنے کے لئے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر جاتے ہیں کیا اسی طرح نعوذ بااللہ قبلہ و کعبہ بھی تبدیل ہونے والا ہے ۔ مادیت پرستی مذہبی رہنماؤں پر اس قدر حاوی ہے کہ حق و باطل کے درمیان تمیز کرنے کا مادہ بھی ختم ہوگیاہے۔ اسرائیل کے حق میں اگر کوئی بولتا ہے تواسے لعن و طعن کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی جاتی لیکن جب کوئی حکومت اسرائیل کے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے ایک اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے اپنے خزانہ کا دہانہ کھول دیتی ہے تو ہم اس کی مذمت تک نہیں کرتے آخر یہ کون سا پیمانہ ہے۔ شام کی طرح مصر میں مظاہرین پر گولیاں برسائی جارہی ہیں ، احتجاجی خواتین پر خنجر سے حملہ کیا جارہا ہے ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے پھر بھی مسلمان خاموش ہیں۔

فرعون وقت حسنی مبارک کے زوال کے بعد مرسی حکومت کا ایک سال پورا ہی ہوا تھا کہ مصری فوج کے سربراہ نے بزور بازو منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ایسی کون سی آفت آگئی تھی کہ ایک منتخب حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنا پڑا سوائے اس حکومت کے قیام سے مغربی مفاد پر زبردست ضر ب لگی تھی۔ مرسی کی حکومت سے سب سے زیادہ پریشان اسرائیل تھا۔ مصری حکومت کی حمایت کی وجہ سے حماس2012 کی جنگ میں کامیاب ہوسکا اور اگر آج اسرائیل امن مذاکرات کا خیرمقدم کر رہاہے تو اس کی وجہ مرسی کی حکومت تھی۔ مرسی حکومت کے خلاف پورے سال احتجاج چلتا رہا لیکن ہلاکت کے واقعات نہ کے برابر پیش آئے لیکن اخوانی حکومت کی معزولی کے بعد اب تک سیکڑوں اخوانی رہنما اور کارکنوں کوفوج نے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیاہے اس کے باوجود اخوانی کارکنان مصری فوج کو افطار کے وقت کھجور کے پیکٹ پیش کررہے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ اخلاق حسنہ کے کس مدارج پر ہیں۔ مرسی حکومت نے اپوزیشن ، امریکی، سعودی ،ایرانی اور یہودی دلال احتجاجیوں کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ احتجاج ان کا ہے اس کے برعکس مرسی حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی حکومت کے سربراہ عدلی منصور جو آئینی عدالت کے سربراہ بھی ہیں، نے دیکھ لینے تک کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ انہوں نے مصری عوام سے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ تشدد اور افراتفری پھیلانے والے عناصر سے ملک کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور وہ مصر میں امن قائم کرنے کے لئے پْر عزم ہیں۔ ‘ہم ایک کٹھن دور سے گزر رہے ہیں اور بعض افراد ہمیں بدنظمی کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ہم استحکام کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہم امن کی یہ جنگ آخر تک لڑیں گے اور اپنے انقلاب کو تباہی سے دور رکھیں گے۔ فوج کے مطابق حکومت کے خلاف مظاہروں اور عوام کی خواہشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں اخوان المسلمین کے حامیوں نے صدر محمد مرسی کی بحالی کے لئے جمعہ کو ایک بڑی ریلی نکالی تھی ۔ اخوان المسلمین کے حامی محمد مرسی کو بحال کرنے کے لئے احتجاج کر رہے ہیں اور مظاہرین دارالحکومت قاہرہ کی سڑکوں پر موجود ہیں اور مصر کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔اسی کے ساتھ اخوان المسلمین نے مصر میں عبوری کابینہ کویہ کہتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ ‘یہ غیر قانونی حکومت ہے اور وہ غیر قانونی وزیراعظم اور کابینہ کو تسلیم نہیں کرتے ۔

اس معاملے میں یوروپی یونین کا کردار کسی حد ٹھیک رہا ہے لیکن امریکہ کا رول حسب دہرا معیار اور دوغلی پالیسی کا رہاہے۔ امریکہ نے مرسی کی رہائی کا مطالبہ اس وقت کیاجب جرمنی نے مصری فوج کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے مرسی کی رہائی کی اپیل کی۔ جرمنی کے وزیر خارجہ نے مصری حکام سے کہا تھا کہ محمد مرسی کی نظر بندی ختم کی جائے اور ہلالِ احمر جیسے کسی بین الاقوامی ادارے کو اْن تک رسائی دی جائے۔ جب امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جرمنی کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا ‘جی ہاں، ہم اس سے متفق ہیں۔’ اس سے پہلے امریکہ نے مصر کی قیادت سے کہا تھا کہ وہ اخوان المسلمین کے ارکان کی گرفتاریاں روک دے اور کسی بھی ایک گروہ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ دنیا میں کہیں بھی فوجی بغاوت ہوتی ہے تو امریکہ کا سخت بیان آتاہے اور سب سے پہلے وہ امریکی سہولت اورامداد بند کردیتا ہے لیکن مصر کے معاملے میں امریکہ کا دوہرا رویہ ایک بار پھر اجاگر ہوگیا ہے کیوں کہ امریکہ نے اب تک مصری فوج کے تختہ الٹنے کو فوجی بغاوت تسلیم نہیں کیا ہے ۔ اب تک وہ جائزہ لینے کے حصار میں ہی قید ہے۔ امریکی قوانین کے مطابق مصر میں حکومت کی برطرفی کو ‘بغاوت’ قرار دینے پر مصر کو ملنے والی فوجی امداد بند ہو جائے گی۔مصر میں جو کچھ ہوا ہے اس میں امریکی رضامندی شامل تھی۔ اس بغاوت کیلئے امریکہ نے ہر طرح کی مدد فراہم کی ہے۔ مصر کے ان حالات میں امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ مصر کو ایف سولہ جنگی طیارہ فراہم کر رہاہے۔ اس کے علاوہ امریکہ ‘ امدادی پروگرام میں فوری تبدیلی نہیں کی ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ یہ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔امریکہ مصر کو سالانہ تقریبا ایک ارب تیس کروڑ ڈالر مالیت کی عسکری امداد دیتا ہے۔ امریکہ کی فوجی بغاوت میں شمولیت اس کی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ جس میں اس نے اخوان المسملین کی گرفتاری پر بیان دیاہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے سخت تر بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاریاں مصری فوج کی جانب سے تمام عناصر کی شرکت کو یقینی بنانے کی امریکہ کو دی گئی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہیں۔امریکہ مصر سے کس طرح کی ضمانت کی بات کر رہا ہے۔

محمد مرسی کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ مصر کی اقتصادی حالت کو بہتر کرنے میں ناکام اورلوگوں کو روزگار دینے میں بے بس نظر آئے ۔ سوال یہ ہے کہ ظلم و جبر کے اس طویل دور جس میں بدعنوانی عروج پر تھی، ایک سال کے وقفے میں اس پر قابو پایا جاسکتا ہے؟۔ جو حکمراں چھ سات دہائی میں نہیں کرسکے وہ ایک سال کے مختصر مدت کیسے ممکن ہے اس پر طرہ یہ کہ فوج، عدالت اور مغربی مفادات کے بہی خواہ محمد البرادعی، عمر وموسی اور اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں نے انہیں چین سے حکومت نہیں کرنے دیا۔ اس کے باوجود مرسی حکومت کے ایک سالہ دور کو کامیابی سے پر تسلیم کرتے ہیں۔ الجزیرہ کے معروف میڈیا اہلکار احمد منصور لکھتے ہیں:صدر مرسی نے "روٹی ونان" کے ایشو میں مصر کو امریکہ کی غلامی سے نکالا اور روٹی کے مسئلے کو حل کرتے ہوئے 70 فیصد خود کفالت حاصل کی ۔مرسی نے ایک اور پروجیکٹ کی سرمایہ کاری شروع کی جوکہ بحری جہازوں کی مرمت کے حوالے سے تھا تاکہ دس سال کے اندر اندر مصر کی آمدنی میں 3 ارب سے 100 ارب ڈالر تک سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہو۔یہ ایک ایسا عمل تھا کہ جس نے تل ابیب اور دوبئی والوں کو غضبناک کردیا۔مرسی نے ایک مل ایریا کا افتتاح کیا جوکہ قطر حکومت کے تعاون سے ہوااور دوسرا مل ایریا کا آغاز کیا جو کہ ترک حکومت کے تعاون سے ممکن ہوا۔مرسی نے مارکیٹنگ کے لئے سیمسنگ کمپنی کی کئی برانچ کا افتتاح کیاتاکہ مصریوں کو بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع مل سکیں۔مرسی نے مصری آئی پوڈ کی سرپرستی کی۔ایسا آئی پوڈ جوکہ تمام مصری صنعتی مہارتوں اور خوبیوں سے آراستہ ہو۔مرسی کے صدارت کی کرسی تک پہنچنے قبل یہ حال تھا کہ اندرونی اور بیرونی قرضے 300 سو ارب ٹریلیین پاؤنڈ تک پہنچ چکے تھے اور مرسی کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔مرسی کیلئے کیسے ممکن تھا کہ وہ ایک سال کے عرصے میں وہ اصلاحات کرتے کہ جسے سیکولرحکومت نے 60 سال میں تباہ وبرباد کردیا تھا۔انہوں نے ایک سال میں وہ حاصل کیا جووہ سیکولر فاسد کے کسی دور میں نہیں کیا جاسکا۔مرسی نے قیدخانوں سے قیدیوں کو رہائی دی حالانکہ جیلیں قیدیوں سے پٹی ہوئی تھیں جہاں ظلم اور عذاب کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔

طاغوتی اور فرعونی قوتیں اپنی شکست آسانی سے قبول نہیں کرتیں اور ایک زخم خوردہ سانپ کی طرح سے دائیں اور بائیں جس طرف سے ممکن ہو ڈسنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ بالکل اسی طرح مصر میں موجود نظام کی حامی جماعت، یعنی فوج اور عدلیہ نے اس انقلابی عوامی تبدیلی کو بے اثر اور ناکام بنانے میں اپنی مشترکہ قوت اور سازشوں کے ذریعے جو اقدامات کئے وہ قرآن کریم کی زبان میں کیدالشیطان کی بہترین مثال ہیں۔فوج اخوان المسلمین کا ہمیشہ سے راستے روکنے کی کوشش کی۔مصر میں جب صدارتی الیکشن ہوا نتائج روک کر اپنی پسند کے امیدوار کے فتحیاب کرانے کی حتی المقدر کوشش کی لیکن مرسی حامی کے تحریر چوک پر چٹان کی ثابت قدم رہے۔ مغرب اور خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کی دلی خواہش اور حمایت کے باوجود حسنی مبارک کے سابق وزیراعظم کا، جو فضائیہ کا ریٹائرڈ جنرل تھا، ناکام ہونا بھی ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ آخر وقت تک فوجی کونسل نے پوری کوشش کی کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم انتخابی نتائج میں تاخیر کرکے عوام کو نفسیاتی طور پر پرکھا جائے کہ وہ ان کی دھاندلی کو کہاں تک برداشت کرسکتے ہیں۔ جب تمام ذرائع سے انہیں یہ یقین ہوگیا کہ دھاندلی نہیں چل سکے گی تو مجبوراً ایک معمولی تناسب کے فرق سے محمد مْرسی کو کامیاب قرار دیا گیا لیکن اس انتخاب کو بے اثر بنانے اور فیصلہ کن اختیارات کو اپنے ہاتھ میں رکھے کیوں کہ فوج اور عدلیہ کسی تبدیلی کے لئے تیار نہیں تھی۔فوج نے صدر کے انتخاب کے حتمی اعلان سے قبل موجود نظام کے تحفظ اور اپنی مدافعت کے لئے جو اقدامات کئے ان میں اولاً: بدعنوان عدلیہ کو استعمال کرتے ہوئے عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو اس بنا پر تحلیل کرنا کہ اس کی 3/1نشستوں کے انتخاب میں ان کے خیال میں کوئی بے ضابطگی ہوئی تھی۔ اس پارلیمنٹ میں اخوان المسلمون کو ملک کے 80سالہ دورِآمریت و استبداد میں پہلی مرتبہ 44فی صد سے اکثریت حاصل ہوئی تھی۔

فوجی بغاوت مصر کے اقصادی مسائل تو حل نہیں کر سکتی لیکن اس نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے جو مصر کے لئے ہرگز خوش آئند نہیں-جس طرح مظاہرے ہورہے ہیں اس سے ملک خانہ جنگی طرف بڑھ رہاہے۔اخوان المسلمین کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ اگر آج بھی منصفانہ انتخابات ہوجائے تو اخوان المسلمین اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آئے گی۔ اس مرحلے میں مصر کی اسلام کا حامی بھرنے والی پارٹی النور نے جس طرح اخوان المسلمین کے پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے اسے قطعی اسلامی فعل نہیں کہا جاسکتا۔ اس نے سعودی عرب کے اشارے پر جس طرح پنپنے والی اسلامی جمہوریت کو سبوتاژ کیا ہے وہ ہرگز معافی کے قابل نہیں ہے اور اسی کے ساتھ یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اسے اسلام اور اسلامی سیاست سے کتنی دلچسپی ہے۔ سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی و اسلامی ممالک نے مصر میں فوج کا ساتھ دیکر یہٍ ثابت کردیا ہے ان کا اسلام سے کوئی لینا نہیں دینا ہے۔وہ صرف عیاشی کے دلدادہ ہیں۔ یہ اخوان کو ناکام کرنے کی کوشش نہیں بلکہ اسلامی سیاست کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی قیمت ان ممالک جلد یا بدیر چکانی ہوگی۔ عرب نوجوانوں کی خاموشی کو اپنی حمایت تصور کرنے کی حماقت نہ کریں بلکہ ایسا شعلہ ہے جو ایک نہ ایک دن بھڑکے گا اور تمام عرب عیاش حکمرانوں کو طوفان نوح کی طرح بہا لے جائے گا۔ عرب حکمرانوں نے اپنی کرسی بچانے کے لئے صیہونیوں اور نصرانیوں کی حمایت کا طریقہ اپنایا یہ ان کو بہت مہنگا پڑنے والا ہے۔

***
abidanwaruni[@]gmail.com
موبائل : 9810372335
ڈی۔64، فلیٹ نمبر۔ 10 ،ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی۔ 25

عابد انور

Egypt heading to civil war and Arab rulers opportunism. Article: Abid Anwar
 

صرف علی

محفلین
امریکی افواج شام پر حملے کے لیے تیار
امریکی افواج شام پر حملے کے لیے تیار

Saturday 24 August 2013
اے ایف پی
detail-story-font-small.png
detail-story-font-large.png
1
detail-story-comments.png





۔ —. فائل فوٹو اے ایف پی

واشنگٹن: عالمی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ شام میں فوجی کارروائی کے لیے افواج کی پیش قدمی کے حوالے سے پینٹاگون کو صدر بارک اوبامہ کے حکم کا انتظار ہے۔

چک ہیگل نے ملائیشیا جاتے ہوئے اپنے طیارے میں موجود میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اس ہفتے شام کی حکومت کے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد فوج کو مداخلت کے لیے کہہ دیا گیا ہے، امریکی کمانڈر اوبامہ کی جانب سے دیے جانے والے کسی بھی آپشن، جس میں دمشق پر حملہ شامل ہے ، کے لیے تیار ہیں۔

لیکن انہوں نے شام میں جاری خانہ جنگی کو ہوا دینے کے حوالے سے امریکی فوجیوں اور اس کے اثاثوں کی پوزیشن کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ”محکمہ دفاع کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صدر کو امکانات کے تمام پہلوؤں کو صدر کے سامنے پیش کردے۔“

ایک دفاعی اہلکار کی حثیت سے انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ نے چوتھے جنگی بیڑے کے ساتھ بحیرہ روم میں اپنی قوت میں اضافہ کردیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ بحری بیڑہ کروز میزائیل سے لیس ہے۔ امریکہ کا چھٹا بحری بیڑی پہلے ہی بحیرہ روم میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوایس ایس ماہن کو ورجینیا سے واپس بلوا کر اس خطے میں اہم ذمہ داری دے دی گئی ہے۔

تین اور تباہ کن بحری بیڑے اس خطے میں تعینات ہیں، جن میں ایک یوایس ایس گریولی، یوایس ایس بیری اور یوایس ایس ریمیج۔ یہ تمام جنگی بحری بیڑے کئی درج ٹام ہاک کروز میزائل سے لیس ہیں۔

اگر اوبامہ فوجی حملے کا حکم دیتے ہیں تو یہ امدادی فوج پینٹاگون کو تیز ترین حملے میں مدد دے گی۔

ہیگل نے بتایا کہ ”صدر نے محکمہ دفاع کو تمام آپشن کا جائزہ لینے کے لیے کہا تھا، اور ہمیشہ کی طرح محکمہ دفاع پوری طرح تیار ہے، اور امریکی صدر کو امکانات کے تمام آپشنز فراہم کیے جاچکے ہیں۔“

پینٹاگون کے سربراہ اور محکمہ دفاع کے دیگر اہلکاروں نے واضح کیا کیا کہ ابھی اس حوالےسے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کی مخالف فورس کے کے حوالے سے کیا اقدام اُٹھایا جائے گا۔

امریکی اخبارات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایک اور امریکی مداخلت کے نتیجے میں سامنے آنے والے ممکنہ خطرات کے حوالے سے امریکی انتظامیہ میں خاصے اختلافات موجود ہیں۔

چک ہیگل نے مشرق بعید کے اپنے ایک ہفتہ طویل دورے سے قبل جمعرات کو ہوائی میں امریکی بحریہ کا وزٹ کیا تھا،اس موقع پر انہوں کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں تیزی سے یہ جائزہ لے رہی ہیں کہ شامی حکومت نے واقعی کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ امریکی حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس معاملے پر غور کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”عالمی برادری یقیناً اس قسم کے معاملے پر ہم آہنگی کے ساتھ کارروائی کرے گی۔“

یاد رہے کہ شام میں بشارالاسد کے مخالفین نے اُن کی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اُس نے دمشق کے مضافاتی علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں سے اپنے مخالفین پر حملہ کیا، جس کے باعث سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مخالفین کے مطابق بدھ کی صبح باغیوں پر ہلاکت خیز کیمیائی بموں کے حملے راکٹوں کے ذریعے دمشق کے ایک علاقے غوتہ پر کیے ۔

اگلے روز اقوامِ متحدہ کے حکام نے بتایا تھا کہ شام میں موجود اُن کے نمائندوں کو دمشق کے اس علاقے تک رسائی کے لیے سفارتی روابط استعمال کیے جارہے ہیں، جہاں بشارالاسد کی فوج نے کیمیائی ہتھیار سے حملہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ شام کے حوالے سے یہ تاثر عام ہے کہ اس کے پاس بھاری مقدار میں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔

اے ایف پی کا کہنا ہے کہ کیمیائی حملوں کا مقصد اِن علاقوں سے باغی فوجیوں کو باہر نکالنا تھا۔
http://urdu.dawn.com/2013/08/24/us-weighs-military-options-for-syria-hagel/
 
Top