انٹرویو انٹرویو وِد فرحت کیانی

فرحت کیانی

لائبریرین
وہ اس لئے کہ میں صدر ہوں گا تو آپ تعلیمی اصلاحات سہولت سے نافذ کرسکتی ہیں اور یہ ڈر نہیں ہوگا کہ صدر آپ کو کرسی سے اتار کر گھر بھیج دے گا! :)
اچھا ۔ پھر ٹھیک ہے۔ لیکن میں نے وزیرِ اعظم نہیں بننا۔ ایسے ہی ہر کوئی اٹھ کر آپ کا مذاق اڑانا شروع کر دیتا ہے :nottalking:۔ :openmouthed:
 

فرحت کیانی

لائبریرین
مجھے ابھی ابھی اندازہ ہوا ہے کہ کتنا بولتی ہوں ۔ اب میں نے کچھ دیر کے لئے بالکل چُپ ہو کر بیٹھنا ہے۔ :donttellanyone2:
 

مہ جبین

محفلین
مجھے ابھی ابھی اندازہ ہوا ہے کہ کتنا بولتی ہوں ۔ اب میں نے کچھ دیر کے لئے بالکل چُپ ہو کر بیٹھنا ہے۔ :donttellanyone2:
بالکل غیر متفق فرحت
اسکی بالکل بھی اجازت نہیں دی جائے گی ، کان کھول کر سن لو
ورنہ ہم سب یہاں احتجاجی بینر لیکر کھڑے ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئی سمجھ؟؟؟؟
 

باباجی

محفلین
تاخیر سے جواب لکھنے کے بہت معذرت ، فراز۔
میں اپنی رائے لکھ رہی ہوں۔



انگریزی کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ یہ بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے۔ ہمارے یہاں اس کو پڑھے لکھے ہونے سے شاید اس لئے بھی جوڑا جاتا ہے کہ ہماری زیادہ تر اعلیٰ تعلیم کا نصاب انگریزی میں ہے اور انگریزی عام بول چال کا حصہ نہیں ہے۔ اس لئے اگر کوئی انگریزی بول سکتا ہے تو اس کو پڑھا لکھا سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن انگریزی بولنا کسی طرح بھی پڑھے لکھے یا معقول ہونے کی نشانی نہیں ہے۔ وہ لوگ جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں اور وہ یورپ یا کسی بھی ایسے ملک میں، جہاں انگریزی بولی جاتی ہے، جا کر ٹیکسی چلاتے یا مزدوری کرتے ہیں ، ان کا لہجہ بہت سے انگریزوں سے بھی بہتر ہوتا ہے کیونکہ انگریزی بولنا اور سمجھنا ان کی مجبوری ہے ورنہ وہ وہاں گزارہ نہیں کر پائیں گے۔ عرب ممالک میں رہنے والے روانی سے عربی بول سکتے ہیں اور جرمنی، سپین میں رہنے والے جرمن اور ہسپانوی زبان۔ ایک نئی زبان سیکھنا اور بولنا واقعی بہت بڑی بات ہے لیکن صرف انگریزی ہی کو کامیابی کی کنجی بنا دینے کا رویہ درست نہیں۔
میرے خیال میں اس میں معاشرتی رویوں کا زیادہ ہاتھ ہے۔ جب ہم چیزوں کو سطحی انداز میں دیکھنے کے عادی ہو جائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ تعلیم اس چیز کی ذمہ دار اس لئے ہے کہ ہم روایتی رٹا نما تعلیم کے عادی ہیں۔ پرکھنے کی صلاحیت جو علم کی بنیادی خصوصیت ہوتی ہے ، ہمیں سکھائی نہیں جاتی۔ اسی لئے ہم ہر چیز کو سطحی انداز میں دیکھتے ہیں اور مرعوب ہو ہو کر تھکتے بھی نہیں ہیں۔ کسی کا رنگ سفید ہے تو اس سے مرعوب چاہے اس کا دل کتنا ہی سیاہ کیوں نہ ہو، کوئی بہت بڑی گاڑی سے اتر رہا ہے تو اس سے متاثر چاہے اس کا کردار کتنا چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ کوئی انگریزی بول رہا ہے تو اس سے شدید متاثر چاہے وہ 'چھوٹی سی دنیا کے کردار جانو جرمن' جیسی ہی انگریزی کیوں نہ بول رہا ہے۔


پاکستانی قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق 'ہر وہ فرد جو کوئی تحریر اور لکھ سکتا ہے ، پڑھا لکھا ہے۔'
بین الاقوامی سطح پر پڑھے لکھے ہونے کی مختلف تعریفیں ہیں لیکن بنیادی بات ایک ہی ہے کہ 'ایک پڑھا لکھا انسان وہ ہے جو بول اور لکھ کر اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہو، دوسروں کی رائے کو پڑھ اور سُن سکتا ہو، چیزوں کو منطقی انداز میں پرکھ سکتا ہو اور اس پرکھ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو'۔ یعنی تعلیم اس کو یہ سب کرنے کا ہُنر سکھاتی ہے۔
پاکستان میں عمومی معاشرتی رویوں کو دیکھیں تو جس نے ذرا اچھے کپڑے پہن لئے اور دو چار لفظ انگریزی کے سیکھ لئے وہ پڑھا لکھا ہے۔
اور اگر بغور جائزہ لیں تو شاید ہمارے یہاں پڑھے لکھے ہونے کا معیار یہی سمجھا جاتا ہے کہ آپ ایک ادارے سے ڈگری یافتہ ہیں۔ وہ ڈگری کہاں سے ملی ، کیسے ملی اور اس میں آپ کی کارکردگی کیسی ہے، عموماً اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔


مجھے پاکستان کے قومی نصاب میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ قومی نصاب وہ آؤٹ لائن ہوتی ہے جو درجہ بدرجہ مختلف تعلیمی مدارج اور مضامین کے لئے ایک بنیاد فراہم کرتی ہے کہ اس تعلیمی درجے میں اس عمر کے بچوں کو کیا کیا سیکھنا چاہئیے، کون کون سے مضامین پڑھنے چاہئیں اور ان میں کیا کیا نظریات اور تھیمز شامل ہونے چاہئیں۔ پاکستانی قومی نصاب جدید بنیادوں پر استوار ہے۔ لیکن:
  • جب اس نصاب کو درسی کتابوں میں لایا جاتا ہے تو اس میں جدید تحقیق اور ضروریات کو سامنے نہیں رکھا جاتا۔ نتیجتاً درسی کتب میں کمی رہ جاتی ہے جو تعلیمی معیار کو بُری طرح متاثر کرتی ہے۔
  • طریقہ تدریس سے تو خیر میں بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں۔ روایتی طریقہ تدریس کبھی بھی ہمیں قومی نصاب کے مقاصد حاصل کرنے اور کامیاب و مہذب شہری پیدا کرنے میں مدد نہیں دے سکتا۔
بہت خوب جوابات دیئے آپ نے
طریقہ تدریس اور نصاب ہمارے ہاں آجکل حسب استطاعت ہوگیا ہے جس کی جتنی ہمت ہے خرچ کرنے کی وہ اتنا پڑھتا ہے اور آجکل کے والدین
اپنے سر سے بوجھ اتارنے کے لیئے بچوں کو کم عمری سے ہی اتنا مصروف کردیتے ہیں کہ بڑا ہونے پر وہ بچہ ہر وقت مصروف رہتا ہے اور والدین پھر
اپنے بچے کی مصروفیت کا رونا روتے ہیں کہ ان کے لیئے وقت نہیں ہے بچے کے پاس
اسی طرح ہمارا ایک المیہ یہ ہے کہ یہاں جتنا بڑا اور معروف تعلیمی ادارہ ہوگا اس طالب علم کو اتنی ہی کم محنت کرنی پڑے گی کام حاصل کرنے کے لیئے۔
 

باباجی

محفلین
اتنی طویل تقریر لکھی ہے میں نے فراز پھر بھی :idontknow2:۔
اگر آپ کوئی اشارہ دے سکیں پلیز تو مجھے جواب لکھنے میں آسانی ہو گی۔ :)
آپ نے اپنے جواب میں میرا خیال ہے والدین کی ذمہ داریوں سے پوری طرح انصاف نہیں کیا فرحت ۔
ایک نظر اور ڈال لیں کیوں کہ ماں کی زمہ داری آپ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتی ہیں
اگر نہیں تو مطمئن ہوجائیں کہ آپ کا جواب تسلی بخش ہے :)
 

باباجی

محفلین
جی اب ہو جائیں کچھ کوئسچنز آپ سے فرحت آپی :rolleyes:
1۔ آپ کی سب سے بہترین کامیابی کون سی ہے جو ابھی تک بھی آپ کے لیئے ایک آنر ہے ؟
2۔آپکو کبھی وہم ہوا؟ اگر ہوا تو اسے کیسے دور کرتی ہیں ؟
3۔کوئی ایسی بات یا چیز جو آپکو بہت جزباتی کر دے ؟پھر کیا کرتی ہیں آپ اگر ایسا ہو تو ؟
4۔ کوئی ایسی تاریخی پرسنالٹی جس سے آپ ملنا چاہتی ہیں اور کیوں ؟
5۔ہمارے ملک میں یا آپ کے آراونڈ کون سی ایسی چیز ہے جیسے آپ دیکھ کر بہت زادا ڈیپریسڈ ہو جاتی ہیں ؟
ابھی کے لیئے اتنے پھر اور سوچتی ہوں :):):)
واہ مانو بلی کیا "رومن انگلش" لکھی ہے ویری گڈ
آئی رئیلی لائیک اٹ(y)
 
میرے خیال میں اس میں معاشرتی رویوں کا زیادہ ہاتھ ہے۔ جب ہم چیزوں کو سطحی انداز میں دیکھنے کے عادی ہو جائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ تعلیم اس چیز کی ذمہ دار اس لئے ہے کہ ہم روایتی رٹا نما تعلیم کے عادی ہیں۔ پرکھنے کی صلاحیت جو علم کی بنیادی خصوصیت ہوتی ہے ، ہمیں سکھائی نہیں جاتی۔ اسی لئے ہم ہر چیز کو سطحی انداز میں دیکھتے ہیں اور مرعوب ہو ہو کر تھکتے بھی نہیں ہیں۔ کسی کا رنگ سفید ہے تو اس سے مرعوب چاہے اس کا دل کتنا ہی سیاہ کیوں نہ ہو، کوئی بہت بڑی گاڑی سے اتر رہا ہے تو اس سے متاثر چاہے اس کا کردار کتنا چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ کوئی انگریزی بول رہا ہے تو اس سے شدید متاثر چاہے وہ 'چھوٹی سی دنیا کے کردار جانو جرمن' جیسی ہی انگریزی کیوں نہ بول رہا ہے۔

فرحت ، یہ باتیں پاکستان کی حد تک رہتی تو مجھے یہ اطمینان ہوتا کہ شاید باہر منطر بدل جاتا ہے مگر امریکہ میں بھی سفید رنگ ہی مرعوب کرتا ہے ۔
بڑی گاڑی ہی متاثر کرتی ہے۔ اب اس کا کیا حل کیا جائے ؟

تعلیم سے زیادہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی خوبیاں نہیں کیا ؟
 

فرحت کیانی

لائبریرین
بہت خوب جوابات دیئے آپ نے
طریقہ تدریس اور نصاب ہمارے ہاں آجکل حسب استطاعت ہوگیا ہے جس کی جتنی ہمت ہے خرچ کرنے کی وہ اتنا پڑھتا ہے اور آجکل کے والدین
اپنے سر سے بوجھ اتارنے کے لیئے بچوں کو کم عمری سے ہی اتنا مصروف کردیتے ہیں کہ بڑا ہونے پر وہ بچہ ہر وقت مصروف رہتا ہے اور والدین پھر
اپنے بچے کی مصروفیت کا رونا روتے ہیں کہ ان کے لیئے وقت نہیں ہے بچے کے پاس
اسی طرح ہمارا ایک المیہ یہ ہے کہ یہاں جتنا بڑا اور معروف تعلیمی ادارہ ہوگا اس طالب علم کو اتنی ہی کم محنت کرنی پڑے گی کام حاصل کرنے کے لیئے۔
بڑے تعلیمی اداروں میں کچھ تو واقعی ایسے ہیں کہ طلبا کو نسبتاً کم کھپنا پڑتا ہے کیونکہ ان کے کام کرنے اور پڑھانے کا انداز کچھ مختلف اور طلبا کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ تر بس خانہ پُری ہوتی ہے۔
 
پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ دھاگہ زیادہ دن چلنے والا نہیں مگر میرے اندازے سے ایک ہفتہ اوپر ہو گیا ہے اور یہ دھاگہ مقبولیت کے پچھلے ریکارڈ توڑتا ہوا آگے ہی بڑھتا جا رہا ہے جس میں فرحت ایک مکمل سیانی گیانی اور ماہر علوم کا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں تو اب ہم بھی سوالات لیے حاضر ہیں۔

بائیولوجی اور کیمسڑی میں سے کونسا مضمون زیادہ پسند تھا اور کیا اب کبھی کبھی مالیکیولر بائیولوجی (molecular biology) یا جینیات (genetics) پر کچھ پڑھتے رہنے کا اتفاق ہوتا ہے یا ارادہ ہے؟
کیا نظریہ ارتقا دلچسپی کا باعث رہا ہے ، اگر ہاں تو اب آگے اسے مزید پڑھنے کا ارادہ ہے؟
جہلم کا ماضی ، حال اور مستقبل تعلیمی ، معاشی اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بیان کریں نیز دو تین مثالوں سے جواب کو مزین کریں ؟
بچپن میں کونسی کہانیاں اور کونسے مصنفین پسند تھے ؟

ان سوالات کے جوابات کے بعد اگلے سوالات کا راؤنڈ شروع ہو گا جس میں سیاسیات ، سماجیات اور فلسفیانہ سوالات کی آمیزش ہوگی :LOL:
 

مہ جبین

محفلین
جی آ گئی سمجھ۔ اسی لئے پھر بولنا شروع کر دیا ہے :openmouthed:

:applause:
صرف "بولنا " اور " بولتے چلے جانا " کوئی خوبی یا کمال نہیں
"مثبت بولنا " اور " کمال بولنا " کمال ہے
اور اس کمال میں باکمال ہماری فرحت بی بی
اور کمال بولنے کے ساتھ کمال لکھنا بھی تو ایک کمال ہے :p
 

فرحت کیانی

لائبریرین
آپ نے اپنے جواب میں میرا خیال ہے والدین کی ذمہ داریوں سے پوری طرح انصاف نہیں کیا فرحت ۔
ایک نظر اور ڈال لیں کیوں کہ ماں کی زمہ داری آپ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتی ہیں
اگر نہیں تو مطمئن ہوجائیں کہ آپ کا جواب تسلی بخش ہے :)
بالکل والدین کی ذمہ داریاں یقیناً اس سے کہیں زیادہ ہیں جو ایک تو کیا کئی پوسٹس میں نہیں سما سکتیں۔ اس جواب میں میں نے ایک عام ماں کی بچے کی تعلیم اور عملی تربیت اور وہ بھی زندگی کے ابتدائی برسوں میں ، کی بات کی ہے۔ ویسے بھی جو میں نے لکھا وہ ذاتی مشاہدے اور محدود علم کی بنیاد پر لکھا۔ میرا خیال ہے ایک ماں کی' مکمل ذمہ داری ' کو زیادہ بہتر طور مہ جبین آنٹی بتا پائیں گی۔
اور اگر آپ بھی اس میں اپنا نقطہ نظر شامل کر سکیں تو مزید اچھا ہو جائے گا کیونکہ ایک تو میری وہ پوسٹ تعلیم پر گفتگو کا ایک حصہ تھی اور دوسرا ہر ایک اپنے منفرد انداز میں سوچتا ہے۔ اور سب اپنا اپنا خیال شیئر کرتے ہیں تو زیادہ بہتر چیز سامنے آتی ہے۔
 

باباجی

محفلین
بالکل والدین کی ذمہ داریاں یقیناً اس سے کہیں زیادہ ہیں جو ایک تو کیا کئی پوسٹس میں نہیں سما سکتیں۔ اس جواب میں میں نے ایک عام ماں کی بچے کی تعلیم اور عملی تربیت اور وہ بھی زندگی کے ابتدائی برسوں میں ، کی بات کی ہے۔ ویسے بھی جو میں نے لکھا وہ ذاتی مشاہدے اور محدود علم کی بنیاد پر لکھا۔ میرا خیال ہے ایک ماں کی' مکمل ذمہ داری ' کو زیادہ بہتر طور مہ جبین آنٹی بتا پائیں گی۔
اور اگر آپ بھی اس میں اپنا نقطہ نظر شامل کر سکیں تو مزید اچھا ہو جائے گا کیونکہ ایک تو میری وہ پوسٹ تعلیم پر گفتگو کا ایک حصہ تھی اور دوسرا ہر ایک اپنے منفرد انداز میں سوچتا ہے۔ اور سب اپنا اپنا خیال شیئر کرتے ہیں تو زیادہ بہتر چیز سامنے آتی ہے۔
تو پھر مہ جبین آنٹی سے گزارش ہے کہ اس پر کچھ تفصیلی جواب لکھیں
اور ہر کسی کا ذاتی مشاہدہ الگ ہوتا ہے
میرا مشاہدہ آپ کے مشاہدے سے الگ ہے جس میں مجھے مثبت کم اور منفی پہلو زیادہ نظر آئے
 

فرحت کیانی

لائبریرین
پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ دھاگہ زیادہ دن چلنے والا نہیں مگر میرے اندازے سے ایک ہفتہ اوپر ہو گیا ہے
شکریہ جی۔ آپ نے بالکل درست سوچا تھا لیکن کبھی کبھی معجزے بھی ہوتے ہیں ناں جیسے ان دنوں گھروں میں سوئی گیس بغیر کسی تعطل کے آ رہی ہے۔ اس لئے ایک ہفتہ سے زیادہ ہونے پر حیران نہ ہوں۔:openmouthed:

جس میں فرحت ایک مکمل سیانی گیانی اور ماہر علوم کا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں تو اب ہم بھی سوالات لیے حاضر ہیں۔
حالانکہ ان میں سے کوئی ایک خوبی بھی مجھ میں نہیں پائی جاتی اس آپ نے 'ایکسپریس نیوز' والوں کی طرح سوچا کہ میری قابلیت کا پردہ چاک کر دیں اس لئے ایسے سوالات لے آئے :|۔

ان سوالات کے جوابات کے بعد اگلے سوالات کا راؤنڈ شروع ہو گا جس میں سیاسیات ، سماجیات اور فلسفیانہ سوالات کی آمیزش ہوگی :LOL:
سوالات کے جواب کچھ دیر تک لکھتی ہوں۔
اگلے راؤنڈ میں جو مضامین آپ نے سوچے ہیں ان میں میری مہارت ایسی ہی ہے جیسے موجودہ وفاقی وزیر تعلیم وقاص اکرم صاحب کی انٹر اور بی اے کی تعلیم اور نظامِ تعلیم میں ہے۔ :idontknow:
 
Top