حسان خان

لائبریرین
مجھے ذرا بتائیے کہ کہاں عورت کو پردے پر مجبور کیا گیا

محترم یہاں ایسے بھی گھر ہیں جہاں لڑکیوں کو پردے پر مجبور کیا جاتا ہے، لڑکیوں اپنی مرضی سے پردہ نہیں کرتیں۔ میری ایک ہم جماعت گھر سے عبائے میں آتی ہے، مگر جیسے ہی وہ ڈیپارٹمنٹ میں قدم رکھتی ہے، اس کا عبایا 'گرلز کامن روم' کے لاکر میں بند ہو جاتا ہے۔ اگر اُس سے پوچھا جائے تو یقینا وہ یہی کہے گی کہ مجھے حجاب کا کوئی شوق نہیں، صرف گھر والوں کے دباؤ سے اس کا تکلف کرنا پڑتا ہے۔ ایسی اور کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
ذرا یہ بھی بتادیں کہ تھوپنا کیا ہوتا ہے

تھوپنا یہ ہے کہ ہم آپسی فرق کا احترام کرنے کے بجائے اپنا نظریۂ زندگی دوسروں پر زبردستی مسلط کرنے لگیں۔ مثلا، مجھے برقعہ پسند نہیں، اور میری خواہش ہے کہ یہ رسم پاکستان سے جلد از جلد ختم ہو جائے۔ پر یہ صرف میرا ذاتی نظریہ ہے اور مجھے کوئی حق نہیں کہ میں اپنا نظریہ دوسروں پر زبردستی لادنے کی کوشش کروں، نہ ہی میرا حق ہے کہ میں برقعہ پہننے والی عورت کی شخصی آزادی میں رکاوٹ ڈالوں۔

اسی طرح مذہبی طبقے کو بھی یہ سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں ایک آبادی غیر مذہبی سیکولر لوگوں کی بھی آباد ہے اور ان پر زبردستی اسلام یا شریعت نہیں لادی جا سکتی، کم سے کم اس دور میں تو نہیں۔ جس طرح میں برقعہ پہننے والی عورت کی شخصی آزادی کا احترام کرتا ہوں، اسی طرح مذہبی طبقے کو بھی چاہیے کہ بے حجاب عورتوں کی شخصی آزادی کا احترام کرے۔
 

ابن عادل

محفلین
م
محترم یہاں ایسے بھی گھر ہیں جہاں لڑکیوں کو پردے پر مجبور کیا جاتا ہے، لڑکیوں اپنی مرضی سے پردہ نہیں کرتیں۔ میری ایک ہم جماعت گھر سے عبائے میں آتی ہے، مگر جیسے ہی وہ ڈیپارٹمنٹ میں قدم رکھتی ہے، اس کا عبایا 'گرلز کامن روم' کے لاکر میں بند ہو جاتا ہے۔ اگر اُس سے پوچھا جائے تو یقینا وہ یہی کہے گی کہ مجھے حجاب کا کوئی شوق نہیں، صرف گھر والوں کے دباؤ سے اس کا تکلف کرنا پڑتا ہے۔ ایسی اور کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
محترم یہ آپ کا خیال ہے میری ہم کلیہ بھی کچھ اسی طرح میں نے دیکھیں ۔ لیکن کیا یہ ملا کی کرامات ہیں ؟؟ کیا مولوی صاحب نے انہیں مجبور کیا ہے کہ وہ اس طرز عمل کا مظاہرہ کریں ؟؟؟یا راستے میں انہیں طالبان کے کسی گڑھ سے گذرنا پڑتا ہے ؟؟؟ اور اگر ایسا نہیں ہے اور واقعتا ایسا نہیں تو لازما اس کی وجہ ان کے والدین ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے والدین اپنی اولاد کے ساتھ ظلم کررہے ہیں ۔ ؟؟؟ اگر آپ کے خیال میں ایسا ہے تو پھر آپ کو ایک مہم چلانی چاہیے کہ اس طرح کا رویہ صنف نازک پر ظلم ہے اور والدین کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی جوان اولاد پر قدغن لگائے لہذا بلوغت کے بعد ہر ایک کو اپنا طرززندگی خود اپنانے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ یقین جانیے اس مہم کے نتیجے میں آپ نسل نو کے نجات دہندہ کا وہ عنوان بن جائیں گے کہ میڈیا جس کے جمال کو وہ صورت عطا کرے گا کہ کتنوں کا ملال اس کے سامنے ہیچ نظر آئے گا ۔
برادر محترم ! بات صرف پسند ناپسند کی نہیں بلکہ صحیح رویہ اپنانےکی ہے ۔ سوال یہ ہے اس حوالے سے ہمارا رویہ اور اصول کیا ہے؟ قطع نظر اس کے کہ وہ درست ہے کہ نہیں ۔ کیوں کہ پسند ناپسند تو مختلف ادوار ، حالات ،کیفیات اور صورتحال میں بدلتی رہتی ہے لیکن اصولوں کو برقرار رکھا جاتا ہے ۔ ہمیں مغرب سے لاکھ اختلاف سہی انہوں نے سیکولر ازم کا جو اصول بنایا اس کی آڑ لے کر اسکارف ( برقع نہیں ) پر پابندی لگا دی جو کہ سیکولر ازم کی رو سے غلط تھی ۔ لیکن بہر حال ان کا ایک طرز زندگی ہے انہوں نے اس پر کوئی سمجھوتہ نہ بلکہ غلطی پر اڑے رہے ۔
بات وہیں آجاتی ہے کہ کیا موجودہ بے راہ روی ہمارا کلچر ہے ؟ میڈیا ہماری تہذیب کو پروان چڑھا رہا ہے ؟ اگر نہیں تو ہمیں اس سے اختلاف ہے ۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہے ۔ اصولوں کی رو سے یہ غلط ہے اور غلط ہی رہے گا ۔ چاہے وہ میری پسند کے مطابق ہو یا نہ ہو۔
 

باباجی

محفلین
تھوپنا یہ ہے کہ ہم آپسی فرق کا احترام کرنے کے بجائے اپنا نظریۂ زندگی دوسروں پر زبردستی مسلط کرنے لگیں۔ مثلا، مجھے برقعہ پسند نہیں، اور میری خواہش ہے کہ یہ رسم پاکستان سے جلد از جلد ختم ہو جائے۔ پر یہ صرف میرا ذاتی نظریہ ہے اور مجھے کوئی حق نہیں کہ میں اپنا نظریہ دوسروں پر زبردستی لادنے کی کوشش کروں، نہ ہی میرا حق ہے کہ میں برقعہ پہننے والی عورت کی شخصی آزادی میں رکاوٹ ڈالوں۔

اسی طرح مذہبی طبقے کو بھی یہ سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں ایک آبادی غیر مذہبی سیکولر لوگوں کی بھی آباد ہے اور ان پر زبردستی اسلام یا شریعت نہیں لادی جا سکتی، کم سے کم اس دور میں تو نہیں۔ جس طرح میں برقعہ پہننے والی عورت کی شخصی آزادی کا احترام کرتا ہوں، اسی طرح مذہبی طبقے کو بھی چاہیے کہ بے حجاب عورتوں کی شخصی آزادی کا احترام کرے۔
آپ نے بہت اچھی بات کی حسان خان بھائی

لیکن یہ بات بھی آپ مانیں گے کہ ہمارے معاشرے میں حجاب کرنے والی خواتین کو تحقیر سے دیکھا جاتا ہے
اور بے حجاب خواتین سماجی اور معاشرتی طور پر قابلِ عزت سمجھی جاتی ہیں

بات شخصی آزادی کی نہیں نظریات کی ہے
میں ذاتی طور پر حجاب اور بے حجابی کے خلاف نہیں ہوں
میں اُس بے حجابی کے خلاف ہوں جو جسمانی نمائش کے قریب ہو

اور اکثر یہ تجربہ ہوتا رہتا ہےکہ
بے حجاب خواتین کی بے حجابی میں بھی حجاب ہوتا ہے
اور کبھی حجاب والی خواتین بے حجابی کو بھی کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیتی ہیں

بہرحال یہ ان کا ذاتی فعل ہے
 

عسکری

معطل
عورت کے لئے مرد (شوہر ) سب کچھ ہے اگر غلط لے جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی مرد پر ہے اگر اچھائی کی طرف لے جاتا ہے تو اس کا اجر بھی ملے گا۔
یہ لا ل رنگ کو جملہ ہے اس میں بیوی تمہارے لیے حرام ہوجائے گی۔
اگر کچھ پڑھ لیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔
اور کوئی نئی تازی سنائیں :grin:
 

حسان خان

لائبریرین
کسی کو حجاب کی بنیاد پر تحقیر یا تضحیک کا نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے۔ پر دوسرا طبقہ بھی انتہا پسندی کا اظہار کرتے ہوئے ہر بے حجاب عورت کو بازارو اور بدحیا سمجھ بیٹھتا ہے، چاہے وہ بے حجاب عورت کتنی ہی پاکباز اور باحیا کیوں نہ ہو۔

میں اُس بے حجابی کے خلاف ہوں جو جسمانی نمائش کے قریب ہو

اور کبھی حجاب والی خواتین بے حجابی کو بھی کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیتی ہیں

یہ صرف ایک فیصد طبقۂ امرا کی خصوصیات ہیں۔ اس طبقے سے تو مجھے بھی بے حد چڑ ہے۔

میں اُن عام خواتین کی بات کر رہا ہوں جو حجاب نہیں کرتیں یا کرنا نہیں چاہتیں، پر مہذب پاکستانی لباس پہنتی ہیں۔
 

عسکری

معطل
عسکری صاحب آپ کیا دکھانا چاہتے ہیں ۔ جناب مجھے نہیں معلوم کہ آپ شاید طالبان کے افغانستان میں رہتے ہیں یا پھر بیٹی جیسی رحمت سے محروم ہیں ۔ جناب من اس وقت دنیا کو مولوی سے نہیں سیکولر ازم سے خطرہ ہے ۔ مجھے ذرا بتائیے کہ کہاں عورت کو پردے پر مجبور کیا گیا ۔ میں کراچی میں رہتا ہوں اور میرے علم میں آج تک ایسا واقعہ نہیں آیا جب کہ اسی شہر کراچی میں بیسیوں ایسے واقعات ہیں کہ ایک طالبہ کو اسکارف کی وجہ سے نوٹس مل گیا ۔ اور تو چھوڑیے انصار عباسی صاحب کو کہ دیا گیا کہ آپ کی بیگم کا نقاب ہمارے لیے مسئلہ ہے ۔
جناب عریانی کا سیلاب ایک مسئلہ ہے ۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آئندہ نسل کے نزدیک ستر پوشی کا مفہوم کیا ہوگا ۔ میڈیا پر جوبیہودگی دکھائی جاتی ہے اسے تو تسلیم کیجیے ۔ کیا یہ ہمارا کلچر ہے ؟ کیا یہ ہماری تہذیب ہے ؟ کیا طبقۂ امراء کی مادر پدر آزاد زندگی دکھانا معاشرے کی عکاسی ہے ؟
میڈیا کو دیکھیے اور پھر اپنے معاشرے کا جائزہ لیجیے کیا دونوں کے درمیان کوئی نقطۂ اتصال محسوس ہوتا ہے ۔ ؟؟؟؟
آپ نا دیکھیں کیو ٹی وی پر سیٹ کر کے ریموٹ توڑ دیں :laugh:
 

باباجی

محفلین
کسی کو حجاب کی بنیاد پر تحقیر یا تضحیک کا نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے۔ پر دوسرا طبقہ بھی انتہا پسندی کا اظہار کرتے ہوئے ہر بے حجاب عورت کو بازارو اور بدحیا سمجھ بیٹھتا ہے، چاہے وہ بے حجاب عورت کتنی ہی پاکباز اور باحیا کیوں نہ ہو۔



یہ صرف ایک فیصد طبقۂ امرا کی خصوصیات ہیں۔ اس طبقے سے تو مجھے بھی بے حد چڑ ہے۔

میں اُن عام خواتین کی بات کر رہا ہوں جو حجاب نہیں کرتیں یا کرنا نہیں چاہتیں، پر مہذب پاکستانی لباس پہنتی ہیں۔
یہ خواتین کی اپنی مرضی ہے بھائی
زورزبردستی سے کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی

میں آپ سے متفق ہوں
 
کیا آپ اپنی وضاحت پر مزید روشنی ڈالنا پسند کریں گے۔
ہو سکتا ہے کہ چھٹی جماعت سے لے کر ایم اے تک ہم نے جو کچھ سر سید احمد خان کے بارے میں پڑھا، سنا، وہ غلط ہوں؛ اور آپ صحیح ہوں۔
اور وہ بھی 65 سال بعد میں آپ ہی سے سن رہا ہوں۔
یہ دیکھ لیں
 
قرآن میں میں نے ایک جگہہ پایا تھا وہ آیت یاد تو نہیں لیکن مفہوم یاد ہے
یہ ان سب عالموں کے لئے ہے جو اسلام کو منافقوں ، گمراہوں کی نظر سے ترجمانی کرتے ہیں ہم ڈالروں اور پونڈز پانے والے وفاداران فری میسن سوائے بھینس کے اگے بین بجانے کے کچھ بھی نہیں پاتے۔
وہ مفہوم یہ ہے۔
موٹی موٹی کتابیں گدھوں پر لاد نے سے گدھا عالم نہیں ہوجاتا۔
جزاک اللہ
ھدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اگر ھدایت انسان کے ہاتھ میں ہوتی تو 10 سے 20 ملین پیدائشی کرسچن عربی یہود نصارا سبھی مسلمان ہوتے۔ کیونکہ یہ لوگ قرآن کریم کو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بچوں سے زیادہ اچھی طرح سمجھتے تھی
ان کو صرف جہنمی بنایا ان کے نفس نے یعنی انکے نفس کے غرور نے۔
شاید یہ آیت ہے
.سورة الجمعة​
بسم الله الرحمن الرحيم​
مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاة ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوها كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّه وَاللَّه لاَ يَهدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿5﴾
۔ سورۃ الجمعۃ


اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا


(5) ان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں ، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور دوسری بات میں بھی یہ ابطال ہے کہ (اللہ نے اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا) جس کا کھلا کھلا انکار کیا جا رہا ہے۔ آپ کی بقیہ باتوں پر کان کون دھرے
هوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَه بِالْهدَی وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهرَه عَلَی الدِّينِ كُلِّه وَكَفَی بِاللَّه شَهيدًا ﴿28﴾
(28) وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ
 

Muhammad Qader Ali

محفلین
شاید یہ آیت ہے
.سورة الجمعة​
بسم الله الرحمن الرحيم​
مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاة ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوها كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّه وَاللَّه لاَ يَهدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿5﴾
۔ سورۃ الجمعۃ


اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا


(5) ان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں ، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور دوسری بات میں بھی یہ ابطال ہے کہ (اللہ نے اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا) جس کا کھلا کھلا انکار کیا جا رہا ہے۔ آپ کی بقیہ باتوں پر کان کون دھرے
هوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَه بِالْهدَی وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهرَه عَلَی الدِّينِ كُلِّه وَكَفَی بِاللَّه شَهيدًا ﴿28﴾
( وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ
جزاک اللہ
 
آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ ریسرچ نہیں ۔ یہ وہ قرآن حکیم ہے جس کا پڑھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو پڑھتا ہے جانتا ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان کیا ہے ؟؟؟
سرجی آپ نے کبھی قران حکیم بھی پڑھا ہوتا تو آج یہ مشکل نا ہوتی ۔۔۔ کہ اللہ تعالی کے پیغام کو مستشرق کی باطل تحقیق اور باطل استدلال کہہ کر اپنی ذاتی خواہشوں کی پیروی کی جارہی ہے ؟

اتفاق سے تمام معانی ، مستند پاکستانی مترجمین کے ہیں۔ اور معانوں میں کوئی تبدیلی بھی نہیں کی گئی ہے۔ جوں کا توں معانی فراہم کئے گئے ہیں۔ یہی تو وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے ملاء قرآن حکیم کبھی "مشکل" کہہ کر چھپاتا ہے، کبھی "ہم سے سمجھو" کہہ کر چھپاتا ہے۔

لہذا یہ الزام دینا کہ یہ کسی مستشرق کی باطل تحقیق اور باطل استدلال ہے بالکل درست نہیں۔ مسلمان جس راہ پر چل کر ہندوستان میں ڈوب گیا وہ ایک حقیقت ہے۔ جب مسلمان کو حقیقت کا اندازہ ہوا تو قرآن پر عمل کیا اور تمام لادین ملاء کی راہیں چھوڑ دیں ۔ صرف 65 سال میں پاکستان نے اتنی ترقی کی ہے کہ ملاء حیران و پریشان ہے۔

ملاء اپنے رواج کو قائم رکھنے کے لئے باہمی مشورے کے حکومت، عدلیہ کی جماعت، مقننہ کی جماعت، عورتوں کی تعلیم اور قانون سازی اور عدلیہ میں شرکت کے خلاف ہے ۔ اسی لئے قرآن حکیم کو چھپاتا پھرتا ہے۔۔۔

کوئی وجہ ہی ہوگی کہ آپ نے کہا کہ یہ باطل تحقیق اور باطل استدلال ہے۔

ذرا جلدی سے ہندوستان میں ملاء کی پروردہ حکومت کی قائم کردہ یونیورسٹیوں کی تعداد بتائیے۔
ذرا جلدی سے ہندوستان میں ملاء کی پروردہ حکومت کے قائم کردہ شفاخانوں کی تعداد بتائیے۔
ذرا جلدی سے ہندوستان میں ملاء کی پروردہ حکومت کی بنائی ہوئی سڑکوں کی لمبائی بتائیے۔
ذرا جلدی سے ہندوستان میں ملاء کی پروردہ حکومت کے بنائے ہوئے مالیاتی نظام کی تفصیل بتائیے۔
ذرا جلدی سے ہندوستان میں ملاء کی پروردہ حکومت کے بنائے ہوئے عورتوں کے مدرسے اور یونیورسٹیوں کی تعداد بتائیے۔
ذرا جلدی سے ہندوستان میں ملاء کی پروردہ حکومت کےدور میں ہوئی ایجادات کی تعداد بتائیے۔

ملاء کی پروردہ حکومت نے صرف قلعے بنائے جس میں لوٹ کا مال رکھا، قوموں کی قوموں کو قتل کیا ، عورتوں کو قابو کیا اور ان کو تعلیم سے محروم کیا۔ عورت کو صرف ایک کموڈوٹی کی طرح بیچا اور خریدا اور سربازار نچا کے برا بھلا کہتے رہے ۔

کاریں، کمپیوٹر، سوئی، ہوائی جہاز ، بحری جہاز ، بندوق، ایٹم بم اور انٹرنیٹ بھی ملاء کی پروردہ حکومت کے دور میں ایجاد ہوا تھا کیا۔

ملاء کان کھول کر سن لے کہ اللہ تعالی نے فرما دیا ہے کہ جب اس نے انسان کو بنایا تو اس کو تمام نام سکھا دیے، ہر طرح کا علم سکھا دیا ، ملاٗ اس علم پر پابندی لگاتا ہے۔ یہ دیکھو۔
2:31 و
عَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا
ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَ۔ؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اور اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو تمام نام سکھا دیئے پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا، اور فرمایا: مجھے ان اشیاء کے نام بتا دو اگر تم (اپنے خیال میں) سچے ہو​


یہ علم تو انسان کے ساتھ ساتھ اس کے ڈی این اے میں پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالی کے حکم سے انسان اس علم کو ریسرچ کرکے حاصل کرتا ہے

ملاء کو اس کی حرکتوں کا خوب لگ پتہ چل جائے گا۔ جب ۔۔۔
39:69
وأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور زمینِ اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور الکتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

اس روز ملاء اس گواہی کو کس طرح رد کرے گا کہ ۔۔۔ ۔ باہمی مشورے ، مقننہ ، عدلیہ اور انتظامیہ کی جماعت ۔۔ عورتوں کی مساوی تعلیم کہ وہ مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ کا مساوی حصہ ہوں ۔۔۔ کا فرمان الہی ، ملاء تک پہنچا دیا گیا تھا۔ اس دن کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اس دن صرف سات سے سترہ نمبروں کے لتروں کی عید ہوگی :)

ابھی ملا آئین اور قوانین کے فرق کو اپنی کتابوں میں دھونڈہی رہا تھا کہ مسلمان نے ملاء کو رد کردیا اور اپنا آئین لکھا کہ اس ملک کے قوانین --- قرآن اور سنت --- کی روشنی میں بنیں گے۔
آج سے 65 سال پہلے مسلمان نے یہ طے کیا کہ اس ملک پاکستان میں مفتی اعظم قانون نہیں بنائے گا ، بلکہ مقننہ ایک جماعت ہوگی
آج سے 65 سال پہلے مسلمان نے یہ طے کر لیا کہ اس ملک پاکستان میں قاضی فیصلہ نہیں کرے گا، بلکہ عدلیہ ایک جماعت ہوگی
آج سے 65 سال پہلے مسلمان نے یہ طے کرلیا کہ انتظامیہ ایک فرد واحد کی حکومت نہیں ہوگی بلکہ انتظامیہ ایک جماعت ہوگی
آج سے 65 سال پہلے مسلمان نے یہ طے کرلیا کہ مسلمان ماں تعلیم حاصل کرے گی اور قانون سازی، عدلیہ ، انتظامیہ میں اپنا مساوی کردار مردوں کے شانہ بشانہ ادا کرے گی ۔

سب سے بڑھ کر مسلمان نے یہ طے کرلیا ہے کہ تمام مسلمانوں کے باہمی مشورے سے یعنی جمہوری نظام کے تحت حکومت کھڑی ہوگی۔

ملاء آج تک اس نظام کو تہہ و بالا کرنے میں مصروف ہے۔

ملاء اس دن سے ڈرے جس دن مسلمان نے اس کو پہچان لیا اس دن ملاء کا ٹھکانہ بحیرہ عرب ہوگا۔ انشاء اللہ ۔
جذبات بہت زیادہ ہیں آپ کے۔ کام کی بات ایک نہیں۔ آپ اپنی ڈیوٹی جاری رکھیں۔ ہم اپنی
 
اسلام کی حدود میں، جو حدوداللہ ہیں۔ مسلمان کو پابندی ہے۔ ذاتی معاملہ کہہ کہلا کر جرائم اور گناہوں کی اجازت اسلام دیتا ہی نہیں

برادر محترم،
لیکن ملاء تو حدود اللہ کے معاملے میں عورتوں کے حق میں ہی نہیں ہے ۔ سورۃ طلاق کی آیت نمبر ایک اور آیت نمبر چھ دیکھئے۔ یہ حدود اللہ ہے کہ طلاق دے کر عورت کو باہر نا نکالا جائے اور سابقہ بیوی اور اسکے بچوں کو اسی وسعت سے رکھا جائے جس وسعت سے خود رہتا ہے۔ بچے پالنے کا معاوضہ عطا کرے۔ ملاء اس حدود اللہ کا نام بھی نہیں لیتا ۔ کیوں؟؟؟؟ کیا احکام الہی اس کا ذاتی معاملہ ہے ۔۔۔یہ تو طلاق دو اور روانہ کردو کا حامی ہے۔

65:1 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں:) جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے بعد کوئی نئی صورت پیدا فرما دے​


65:6
أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى
تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اُن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگر وہ تمہاری خاطر (بچے کو) دودھ پلائیں، پالیں تو انہیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں نیک بات کا مشورہ کر لیا کرو، اور اگر تم باہم دشواری محسوس کرو تو اسے دوسری عورت دودھ پلائے​
بہت ہی شرارت سے مذہبی سیاسی بازی گر -- پاکستان کے حدود آرڈی نینس میں یہ حدود اللہ شامل کرنا بھول گئے - کیوں ؟؟؟؟
لگتا ہے کہ ملاء اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کو نبی کا لایا ہوا دین سمجھتے ہیں اور قرآن حکیم کا انکار کرتے ہیں؟؟؟ کیوں؟؟؟
 
حدود آرڈیننس ایک اور پنگا تھا جو مذہب نام ہر حکومت کو طوالت دینے کا ایک ہتھکنڈا تھا ۔
مذہبی سیاسی بازیگروں کی سمجھ میں آج تک آئین اور قوانین کا فرق نہیں آیا۔ یہ آرڈیننس آئین میں شامل کروانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جبکہ آئین قوم کے اصولوں کی ترجمانی کرتا ہے ، تاکہ اس کی روشنی میں قوانین بنائے جاسکیں۔ یہاں مذہبی سیاسی بازیگر آئین میں اصولوں کی جگہ آرڈیننس اور قوانین کی شمولیت کے خواہاں رہے۔
 

عسکری

معطل
مذہبی سیاسی بازیگروں کی سمجھ میں آج تک آئین اور قوانین کا فرق نہیں آیا۔ یہ آرڈیننس آئین میں شامل کروانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جبکہ آئین قوم کے اصولوں کی ترجمانی کرتا ہے ، تاکہ اس کی روشنی میں قوانین بنائے جاسکیں۔ یہاں مذہبی سیاسی بازیگر آئین میں اصولوں کی جگہ آرڈیننس اور قوانین کی شمولیت کے خواہاں رہے۔
ہر سائید سے کھینچا تانی ہے ۔ اصل میں مذہبی لوگوں کی اس کار گزاری کا سب سے بڑا فائدہ پولیس کو ہوا ہے جو ہر جگہ بندے اٹھاتی پھرتی اور لوگوں سے مال بناتی رہی یہ تو قانون بنا کر گھر جا کر سو گئے ۔
 
اوپر والی دو باتوں کا جواب ان شاءاللہ اُدھار رہا
پی۔ٹی۔اے کی نئی پالیسی سے پہلے یہ تحریر لکھی یعنی کہ تقریبا دو ہفتے قبل۔ پرانی کارگردگی کسی حد تک قابل تحسین ہیں۔ لیکن فلٹر مکمل مطلوب ہے
ویسے جناب 1857 کے کچھ کاغذات میرے پاس پڑے ہیں پرانے بکس میں۔ 10 سال سے میں نے بھی نہیں دیکھے۔
اگر وہ اسکین کے لائق بچے ہوں گے تو محفل کی نظر کروں گا۔ اس میں بھی کافی کچھ ہے۔
 
Top