’کشمیری کبھی بھی اتنا بدظن نہیں ہوئے‘

اگر کشمیر کے حالات اتنے بھی برے نہیں تو حالیہ واقعات کو آپ کس نگاہ سے دیکھیں گے ؟

یاد رہے کہ یہ رپورٹ بی بی سی کی تیار کردہ ہے جو کسی حد تک غیر جانبدار ادارہ سمجھا جاتا ہے اور دلی میں موجود نامہ نگار نے اسے لکھا ہے۔

اور حالیہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ کئی سالوں سے جاری واقعات کا تسلسل ہے!!
ایسی تحریکیں فوج کو مشتعل اور عوام کو پریشان کرتی ہیں۔

مسئلہ صرف مکالمے سے حل ہو سکتا ہے۔
 
ایسی تحریکیں فوج کو مشتعل اور عوام کو پریشان کرتی ہیں۔

مسئلہ صرف مکالمے سے حل ہو سکتا ہے۔
ستر سال سے مکالمے ہی ہو رہے ہائی کمشنروں کے۔
اگرعالمی طاقتیں مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہوں تو یہ حل ہو سکتا ہے جیسا مشرقی تیمور کو علیحدہ کیا گیا یا سوڈان کو تقسیم اس میں سنجیدگی سے زیادہ عیسائیت کے مفادات کا تحفظ بھی تھا۔
مگر ادھر کسی کی نظر التفات نہیں پڑتی ناں۔
ہم یہی کہہ سکتے لو اب شعر بھی کہیں گم ہو رہا شاید ایسے ہے؛
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

اگر ایسے حل نہ ہو تو اس کا پھر یہی طریقہ ہے کہ جیسے ویت نام نے آزادی حاصل کی۔
تیسرا حل اس کا کوئی نہیں میرے ناقص علم میں۔
 
ستر سال سے مکالمے ہی ہو رہے ہائی کمشنروں کے۔
اگرعالمی طاقتیں مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہوں تو یہ حل ہو سکتا ہے جیسا مشرقی تیمور کو علیحدہ کیا گیا یا سوڈان کو تقسیم اس میں سنجیدگی سے زیادہ عیسائیت کے مفادات کا تحفظ بھی تھا۔
مگر ادھر کسی کی نظر التفات نہیں پڑتی ناں۔
ہم یہی کہہ سکتے لو اب شعر بھی کہیں گم ہو رہا شاید ایسے ہے؛
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

اگر ایسے حل نہ ہو تو اس کا پھر یہی طریقہ ہے کہ جیسے ویت نام نے آزادی حاصل کی۔
تیسرا حل اس کا کوئی نہیں میرے ناقص علم میں۔
میرا تو نہیں خیال کہ پاکستان اور بھارت دونوں خود بھی مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
ہزاروں لوگوں کا روزگار مسئلہ کشمیر سے وابستہ ہے۔
آزاد کشمیر میں کشمیر لبریشن سیل کے نام سے ایک پورا محکمہ ہے جس کا کام صرف تنخواہ لینا ہے۔
 

ربیع م

محفلین
کشمیر میں اخبارات اور ٹی وی پر بھی قدغن
ریاض مسروربی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • 16 جولائ 2016
شیئر
160716082543_kashmir_640x360_facebook_nocredit.jpg
Image copyrightFACEBOOK​
آٹھ روز سے جاری مکمل محاصرے کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اب تک چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ڈیڑھ ہزار زخمی ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

معتبر انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ’سنیچر کی صبح پولیس نے سرینگر سے شائع ہونے والے سبھی بڑے اخبارات کے دفاتر پر چھاپہ مار کر اخبارات کو ضبط اور چھاپہ خانوں کو مقفل کردیا۔ اس دوران کیبل ٹی وی نشریات کو بھی معطل کیا گیا ہے۔ سنیچر کو علی الصبح پولیس نے ہمارے دفتر پر دھاوا بول دیا۔ ہمارے اردو روزنامہ کشمیر عظمی کی پچاس ہزار کاپیاں ضبط کرلیں اور چھاپ خانے کو سیل کردیا، اور گریٹر کشمیر کی چھپائی روک دی۔‘

انگریزی روزنامے رائزنگ کشمیر، کشمیر آبزرور، کشمیر مانیٹر اور دوسرے معتبر اخبارات کے دفاتر پر بھی پولیس نے چھاپے مار کر ان کی اشاعت روک دی ہے۔

کیبل ٹی وی کی نشریات بھی بند کردی گئی ہے۔ گذشتہ کئی روز سے بعض بھارتی نیوز چینلز کے خلاف عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ چینلز کشمیر کی خبروں کو توڑ مروڑ کرپیش کرتے ہیں۔ بھارت بھر میں سول سروس امتحانات میں اول درجہ حاصل کرنے والے اعلیٰ افسر شاہ فیصل نے ان چینلز پر تنقید کرتے ہوئے فیس بک پر لکھا ’جب حکومت اپنے ہی شہریوں کو لہولہان کرتی ہو اور ٹی وی چینلز حقائق کو مسخ کرتے ہوں اور حالات بحال کرنے میں مشکلات قدرتی امر ہے۔‘

محکمہ اطلاعات کے سابق سربراہ فاروق رینزو کا کہنا ہے کہ میڈیا، ٹیلی فون سروس اور ٹی نشریات کو معطل کرنے کا مطلب ہے کہ کشمیر میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ ’آئین میں اس سب سے مطلب ہے کہ یہ ایمرجنسی ہے۔ پھر حکومت ایمرجنسی کا اعلان کیوں نہیں کرتی۔‘

موبائل فون اور انٹرنیٹ پر پہلے ہی پابندی ہے اور وادی بھر میں سخت ترین کرفیو نافذ ہے۔ اس وسیع محاصرے کے دوران لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔

160714170000_kashmir_july_2016_640x360_ap_nocredit.jpg
Image copyrightAP؎؎

واضح رہے آٹھ جولائی کی شام کو پولیس نے دعویٰ کیا کہ جنوبی کشمیر کے کوکر ناگ علاقہ میں مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کو دو ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا۔ اس کے فوراً بعد جنوبی کشمیر میں پرتشدد مظاہروں کی لہر پیدا ہوگئی اور جگہ جگہ فورسز کی فائرنگ کے باوجود برہان کے جنازے میں دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔

مظاہروں کی لہر اب سرینگر اور شمالی قصبوں تک پہنچ گئی ہے۔ جمعرات کو شمالی کشمیر کے پٹن اور کپوارہ میں مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد چالیس سے تجاوز کرچکی ہے۔ ڈیڑھ ہزار زخمیوں میں سو سے زائد ایسے افراد ہیں جن کی آنکھوں میں پیلیٹس یعنی چھرّے لگے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے پچاس ہمیشہ کے لئے بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔

حکومت کی ہند کی ہدایت پر تین ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم نے کشمیر کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت سے لگتا ہے کہ کشمیر میں جنگ جیسی صورتحال ہے۔

دریں اثنا حکومت کی بار بار اپیلوں کے باوجود حالات شدت اختیار کررہے ہیں۔ علیحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر اور یاسین ملک نے مشترکہ بیان میں پیر کی شام تک ہڑتال جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

کشمیر کے حالات سے متعلق پاکستان، ایران، امریکہ، اقوام متحدہ اور رابطہ عالم اسلامی نے تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظاہرین کی ہلاکتوں کا سلسلہ بند کرنے کی اپیل کی ہے۔
 
مدیر کی آخری تدوین:
میرا تو نہیں خیال کہ پاکستان اور بھارت دونوں خود بھی مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
ہزاروں لوگوں کا روزگار مسئلہ کشمیر سے وابستہ ہے۔
آزاد کشمیر میں کشمیر لبریشن سیل کے نام سے ایک پورا محکمہ ہے جس کا کام صرف تنخواہ لینا ہے۔

جیسے انڈیا چاہتا ہے وہ حل ہی نہیں ہے تو سنجیدگی والی تو بات ہی بعد کی ہے۔
 

ربیع م

محفلین
واضح رہے آٹھ جولائی کی شام کو پولیس نے دعویٰ کیا کہ جنوبی کشمیر کے کوکر ناگ علاقہ میں مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کو دو ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا۔ اس کے فوراً بعد جنوبی کشمیر میں پرتشدد مظاہروں کی لہر پیدا ہوگئی اور جگہ جگہ فورسز کی فائرنگ کے باوجود برہان کے جنازے میں دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔

ڈیڑھ ہزار زخمیوں میں سو سے زائد ایسے افراد ہیں جن کی آنکھوں میں پیلیٹس یعنی چھرّے لگے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے پچاس ہمیشہ کے لئے بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔

دورے کے دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت سے لگتا ہے کہ کشمیر میں جنگ جیسی صورتحال ہے۔
 

ربیع م

محفلین
یعنی اگر انڈیا چاہے کشمیر ہمارا ہو تو وہ حل نہیں ہے لیکن اگر پاکستان بالکل یہی چاہے تو حل ہے؟

پاکستان کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل چاہتا ہے۔

اگر اہل کشمیر خود مختار کشمیر چاہتے ہیں تو پاکستان کو اس کا احترام کرنا چاہئے ویسے ایک سوال ہے کہ کتنے کشمیری" خود مختار کشمیر" کے حامی ہیں ؟
جتنے بھی مظاہرے ہوتے ہیں جن کی تعداد خود بھارتی میڈیا کے مطابق لاکھوں میں ہوتی ہیں انھوں نے بھارتی فورسز کے سامنے ان کے ظلم و تشدد کے باوجود پاکستانی پرچم اٹھا رکھے ہوتے ہیں۔
 
پاکستان کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل چاہتا ہے۔

اگر اہل کشمیر خود مختار کشمیر چاہتے ہیں تو پاکستان کو اس کا احترام کرنا چاہئے ویسے ایک سوال ہے کہ کتنے کشمیری" خود مختار کشمیر" کے حامی ہیں ؟
جتنے بھی مظاہرے ہوتے ہیں جن کی تعداد خود بھارتی میڈیا کے مطابق لاکھوں میں ہوتی ہیں انھوں نے بھارتی فورسز کے سامنے ان کے ظلم و تشدد کے باوجود پاکستانی پرچم اٹھا رکھے ہوتے ہیں۔
مظاہرے کرنے والے تمام کشمیریوں کے نمائندے نہیں ہیں. انڈیا کہتا ہے کہ زیادہ کشمیری انڈیا کے ساته( اینڈرائڈ کی بورڈ، معذرت ) رہنا چاہتے ہیں.پاکستان کہتا ہے کہ تمام کشمیری پاکستان کے ساته الحاق چاہتے ہیں. خود مختار کشمیر کے حامی دونوں سے تنگ ہیں لیکن اکثریت کس کی ہے ، اس پر کوئی ٹهوس معلومات نہیں ہیں.
 

ربیع م

محفلین
مظاہرے کرنے والے تمام کشمیریوں کے نمائندے نہیں ہیں. انڈیا کہتا ہے کہ زیادہ کشمیری انڈیا کے ساته( اینڈرائڈ کی بورڈ، معذرت ) رہنا چاہتے ہیں.پاکستان کہتا ہے کہ تمام کشمیری پاکستان کے ساته الحاق چاہتے ہیں. خود مختار کشمیر کے حامی دونوں سے تنگ ہیں لیکن اکثریت کس کی ہے ، اس پر کوئی ٹهوس معلومات نہیں ہیں.

یہ بات آپ کو تسلیم کر لینی چاہیے اور اس پر ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں کہ لاکھوں کا مجمع ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کے حق میں نا صرف ریلیاں نکالتا ہے بلکہ دیوانہ وار جانیں بھی پیش کرتا ہے جبکہ ہندوستان یا خود مختار کشمیر کے حق میں ہزاروں کی ریلی بھی دکھا دیجئے۔
خود آپ کے بقول اکثریت کس کی ہے اس بارے میں ٹھوس معلومات دستیاب نہیں ، تو ان مظاہروں ریلیوں اور بے مثال قربانیوں کو ہی قابل اعتبار سمجھ کر بہت کچھ سمجھ آ جانا چاہیے کہ اہل کشمیر کی اکثریت کیا چاہتی ہے۔

باقی انڈین دعوے کو باطل کرنے کیلئے محض دونوں کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات فوج ہی دیکھ لیجئیے ، اس کے باوجود حقائق سے انکار کرنے والے روز روشن کے منکر شخص کی مانند ہی ہیں!
 
یہ بات آپ کو تسلیم کر لینی چاہیے اور اس پر ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں کہ لاکھوں کا مجمع ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کے حق میں نا صرف ریلیاں نکالتا ہے بلکہ دیوانہ وار جانیں بھی پیش کرتا ہے جبکہ ہندوستان یا خود مختار کشمیر کے حق میں ہزاروں کی ریلی بھی دکھا دیجئے۔
خود آپ کے بقول اکثریت کس کی ہے اس بارے میں ٹھوس معلومات دستیاب نہیں ، تو ان مظاہروں ریلیوں اور بے مثال قربانیوں کو ہی قابل اعتبار سمجھ کر بہت کچھ سمجھ آ جانا چاہیے کہ اہل کشمیر کی اکثریت کیا چاہتی ہے۔

باقی انڈین دعوے کو باطل کرنے کیلئے محض دونوں کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات فوج ہی دیکھ لیجئیے ، اس کے باوجود حقائق سے انکار کرنے والے روز روشن کے منکر شخص کی مانند ہی ہیں!
انڈیا کے ساتھ رہنے کے لیے تو کم از کم ریلیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے لاکھوں کا مجمع آپ نے کیسے کہہ دیا؟
کوئی ٹھوس معلومات ہیں آپ کے پاس؟
 
آخری تدوین:

ربیع م

محفلین
انڈیا کے ساتھ رہنے کے لیے تو کم از کم ریلیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے لاکھوں کا مجمع آپ نے کیسے کہہ دیا؟
کوئی ٹھوس معلومات ہیں آپ کے پاس؟
ظاہر ہے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود کشمیریوں کو انڈیا سے الحاق کی خواہش کے اظہار کیلئے مظاہروں اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں موجود اہل کشمیر کو پاکستان کے حمایتی کشمیریوں کا زور توڑنے کیلئے مظاہروں کی ضرورت تو ہے ہی

اور رہی بات لاکھوں کے مجمعے کی تو

شاید آپ نے میری پچھلی پوسٹ نہیں پڑھی جس میں بی بی سی کے حوالے سے لکھا تھا کہ شدید پابندیوں کے باوجود دو لاکھ افراد برھان کے جنازے میں شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ بھی 2008 میں امرناتھ یاترا کے سلسلے میں جاری تحریک اور 2010 میں جاری تحریک میں خود انڈین میڈیا کی زبانی لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
 

جاسمن

لائبریرین
وادی میں گونجتے بین
آمنہ مفتی
میں جب منٹو وغیرہ کے سینتالیس کے تناظر میں لکھے افسانے پڑھتی تھی تو یہ سوچتی تھی کہ یہ دانشورانہ غیر ذمہ داری ہے۔ ایک دانشور کو صورتحال کا منطقی جائزہ لینا چاہیے اور اس پہ مدلل بات کرنی چاہیے۔ اگر افسانہ یا ناول لکھا تو ایسے کیوں لکھا جیسے بین ہو۔
یہ وہ دور تھا جب سقوطِ ڈھاکہ کا زخم چھپا لیا گیا تھا، ہم کسی اور کی جنگ لڑ رہے تھے اور بقول شخصے باس کے خاص آدمی بنے ہوئے تھے۔اس وقت کے ادیب بین نہیں کرتے تھے، بڑی معصوم باتیں کرتے تھے، مزاح اور تصوف سے بھر پور۔ مان لینے والے لوگ تھے اور رونے دھونے، سوال کرنے، بین ڈالنے والے لوگوں سے یقیناً بہتر تھے۔
برہان وانی کو مار دیا گیا، احتجاج کرنے والوں کو بھی مار دیا گیا۔ بہت سوں کو اندھا کر دیا گیا اور پھر ہم لو گوں نے کان سے قلم اتارے، کھنکھارے، آنکھیں ملیں اور اپنے کافوری سروں پہ ہاتھ پھیر کر منطقی تجزیے شروع کر دیے۔ کیا اس قتل و غارت گری سے بچا جا سکتا تھا؟ کیا برہان کا جنازہ جانے دیا جاتا تو یہ سب کچھ نہ ہوتا؟ اگر یہ چھرے والی بندوقیں نہ چلائی جاتیں اور کسی طرح کا ’ہلکا پھلکا تشدد‘ کر لیا جاتا تو یہ لوگ نہ مرتے اور بی جے پی سرکار کی بھد نہ اڑتی، ہندوستانی فوج کو اس طرح کی صورت حال سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی تو یہ سب نہ ہوتا۔

ہم بین کرنے والی نسل نہیں۔ ہم بہت منطقی ہیں اور ہر بات میں دو جمع دو چار نکال لیتے ہیں ہم کوئی منٹو ہیں جو تقسیم کا نوحہ لکھیں گے؟ کشمیر میں 1931 سے جاری یہ تحریک ہمیں نظر نہیں آتی شاید کوئی چھرا اڑ کر سینکڑوں ہزاروں میل کا فا صلہ طے کر کے ہماری آنکھ میں بھی گر گیا ہے۔ خیر اگلی بار ان کو سمجھا دیا جائے گا، وہ ہلکا پھلکا تشدد ہی کریں گے۔
وہ تو جب سمجھیں گے تب سمجھیں گے، ہم اب ’جان کانڑیاں‘ بن چکے ہیں اور ساری دنیا کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں، بھگت سنگھ، منگل پانڈے، سبھاش چندر بوس، چندر شیکھر آزاد، جھانسی کی رانی، لینن، جارج واشنگٹن وغیرہ وغیرہ آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اور کشمیر میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ایک کھلا خط ایک مردہ دہشت گرد کے نام لکھا گیا جس میں اسے صاف سمجھا دیا گیا کہ بیٹا تم ڈاکٹر، انجینیئر کچھ بھی بن سکتے تھے اگر تم آزادی کے لیے آواز نہ اٹھاتے۔
جو فوجی ہتھیار اٹھائے کھڑے ہیں، بننے کو تو وہ بھی ڈاکٹر، انجینیئر سائنسدان بن سکتے تھے لیکن بھئی بات دلیل سے کرو، ان کو بندوق اٹھانی تھی، مادرِ وطن کی حفاظت کی خاطر۔ آخر کو کشمیر کسی کے باپ کا تو ہے نہیں اور حکومت چلانا، اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا کوئی خالہ جی کا واڑہ تو ہے نہیں ۔بات اتنی سی ہے کہ یہ جو ہنگامہ مچا اس کو دبا دو، چپ کرا دو ورنہ بات بہت بڑھ جائے گی
۔ ایک وعدہ تھا، رائے شماری کا تو جناب، ہم نے تو کیا نہیں تھا، جو کر گئے وہ مر چکے ہیں اب مردوں کے عہد و پیماں وہی جانیں۔
آزادی کی جہاں تک بات ہے تو ہندوستان کو دیکھو، پاکستان کو دیکھو۔ آزاد ہو کر کون سے لڈو پیڑے مل گئے۔ جو کام انگریز کر گیا اسی کو بیٹھے چاٹ رہے ہیں۔ ماری غلطیوں سے سبق سیکھو اور چپکے بیٹھے رہو۔ پڑھو لکھو ڈاکٹر بنو، انجینیئر بنو۔اگر آتے جاتے تمہاری تلاشی ہوتی ہے تو کوئی بات نہیں، پاکستان کے ساتھ شا مل ہو کر آخر مل کیا جائے گا؟ وہاں تو جو ہیں وہ بھی روتے رہتے ہیں رونا ہی ہے نا؟ یہاں رو لو۔ کشمیر ہمارا ’اٹوٹ انگ‘ہے ، تمھارا تو نہیں۔ تم بلا وجہ کیوں ہمارے غضب کو للکارتے ہو؟
Image copyrightAP
ہمارے لہجے سے یہ نہ سمجھنا کہ اس میں رعونت ہے۔ ہم تو دلیل کی بات کر رہے ہیں، تم جذباتی ہو، نادان ہو، کم عمر ہو۔ لوگوں کی باتوں میں آ گئے ہو۔ جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے، جو ہم سب کے رائے ہے اس کا احترام کیا جائے اور ہماری رائے سنہ 47 ہی سے یہ تھی۔ فیروز پور، گورداس پور وغیرہ کے جذباتی لوگوں نے ہماری رائے کا احترام نہ کیا۔
خواہ مخواہ امرتا پریتم کو بلھے شاہ کی روح کو تکلیف دینا پڑی اور چناب کے خون سے بھرنے کے بارے میں انٹ شنٹ لکھنا پڑا، خیر وہ تو تھے ہی نوحے لکھنے والے لوگ۔
وادی کی صورتحال کا ایسا منطقی تجزیہ میرے بہت سے دوستوں نے کیا اور یہ سب وہ ہیں جو میرے ساتھ گھنٹوں اعلیٰ انسانی اقدار پہ بات کرتے ہیں۔ امن، محبت، بھائی چارے کے خواب دکھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔ لیکن آج جب وادی میں بین گونج رہے ہیں تو یہ سب اپنی اپنی آستینوں سے نچڑتے لہو سے بے خبر منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے مجھے امن کے سندیسے بھیج رہے ہیں۔
کاش میں منٹو کی موذیل ہوتی اور یہ سندیسے ان کے منہ پہ مارتی اور ان سے کہتی کہ لے جاؤ اپنے اس امن کو اور دوستی کو۔ مجھے بین کرنے ہیں ان سب جواں مرگوں کے جو آزادی کی چاہ میں مارے گئے۔ مجھے منٹو اور امرتا پریتم کی طرح صرف بین کرنے ہیں ، عبداللہ حسین کی طرح ’اداس نسلیں‘ لکھنی ہے۔ رونا ہے اور رلانا ہے۔
آج کی دنیاکا قلم کار صرف یہ ہی کر سکتا ہے، مارنے والوں کے پاس ہمیں پڑھنے کا وقت کہاں اور جو پڑھ رہے ہیں ان کی آواز نہیں اور جو آواز اٹھاتا ہے اسے بھون دیا جاتا۔ اس لیے میں بھی صرف بین کر سکتی ہوں۔
آئیے ان سب لاشوں پہ رو لیں جو خون آشام انسانوں نے کشمیر سے لے کر فرانس تک گرائی ہیں اور جانے کس ڈر سے وہ انہیں کھا نہیں سکتے تو صرف ہونٹوں پہ زبان پھیر کر رہ جاتے ہیں۔ آئیے، پوری دنیا کے مرنے والوں کے آنسو برہان کا نام لے کر بہا دیں۔ اتنا روئیں، اتنا روئیں کہ ساری وادی میں بین ہی بین گونج کر رہ جائیں۔ ان لوگوں کو بین کرنے والوں سے کوئی پرخاش نہیں۔ بس یاد رکھنا سبکیوں، سسکیوں میں کوئی سوال نہ منہ سے پھسل جائے، ورنہ ہم دشت گردوں کے ساتھی بن جائیں گے۔ بس روتے رہیں اور اگلی لاشیں اٹھانے کی ہمت جمع کرتے رہیں۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160716_amna_mufti_wadi_main_goonjtay_bain_hk
 
ظاہر ہے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود کشمیریوں کو انڈیا سے الحاق کی خواہش کے اظہار کیلئے مظاہروں اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں موجود اہل کشمیر کو پاکستان کے حمایتی کشمیریوں کا زور توڑنے کیلئے مظاہروں کی ضرورت تو ہے ہی

اور رہی بات لاکھوں کے مجمعے کی تو

شاید آپ نے میری پچھلی پوسٹ نہیں پڑھی جس میں بی بی سی کے حوالے سے لکھا تھا کہ شدید پابندیوں کے باوجود دو لاکھ افراد برھان کے جنازے میں شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ بھی 2008 میں امرناتھ یاترا کے سلسلے میں جاری تحریک اور 2010 میں جاری تحریک میں خود انڈین میڈیا کی زبانی لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
پاکستانی کشمیر تو تنازعہ ہے ہی نہیں۔
اس سے تو دونوں ملک جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
جموں و کشمیر کی ساڑھے بارہ ملین آبادی میں سے اگر لاکھوں ریلیاں نکالیں بھی تب بھی اکثریت کے نمائندے نہیں کہلائے جا سکتے۔ اکثریت امن سے اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
محمد عبد اللہ اور بدر الفاتح نے جو رائے دی وہ بے شک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے حب الوطنی پر مبنی ہے....
کبھی میں بھی یہی سمجھتا تھا اور ہر پاکستانی کی طرح یہی چاہتا تھا کہ کشمیر جلد پاکستان کا حصہ بنے...
لیکن زمینی حقائق جان کرمجھے بھی دھچکالگا اور صدمہ ہوا...
مگر کیا کریں حقائق واقعی وہی ہیں جو ریحان بتا رہا ہے...
واقعہ یہی ہے کہ ہند و پاک کی حکومتیں نہیں چاہتیں کہ یہ مسئلہ حل ہو...
پاکستان کی کشمیر کمیٹی کے ایک ممبر کا کہنا تھا کہ اگر یہ مسئلہ حل ہوگیا تو ہمیں اس مد میں دنیا کی ہمدردی بٹورنے کے عوض لاکھوں ڈالرز ملنا بند ہوجائیں گے...
کشمیر میں پاکستان کے حق میں جو مظاہرے ہوتے ہیں وہ اکثر جماعت اسلامی کے تحت ان کے حامی نکالتے ہیں... لیکن بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو ان کی حامی نہیں اور خود مختار کشمیر چاہتی ہے...
البتہ سارے کشمیری کافر حکومت سے آزادی کے حق میں ضرور ہیں...
ریحان کی پروفائل میں اس کی عمر سولہ سال ظاہر ہورہی ہے... اگر یہ صحیح ہے تو اس عمر میں ایسا تجزیہ قابل صد ستائش و استعجاب ہے!!!
 
آخری تدوین:

ربیع م

محفلین
محمد عبد اللہ اور بدر الفاتح نے جو رائے دی وہ بے شک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے حب الوطنی پر مبنی ہے....
کبھی میں بھی یہی سمجھتا تھا اور ہر پاکستانی کی طرح یہی چاہتا تھا کہ کشمیر جلد پاکستان کا حصہ بنے...
لیکن زمینی حقائق جان کرمجھے بھی دھچکالگا اور صدمہ ہوا...
مگر کیا کریں حقائق واقعی وہی ہیں جو ریحان بتا رہا ہے...
واقعہ یہی ہے کہ ہند و پاک کی حکومتیں نہیں چاہتیں کہ یہ مسئلہ حل ہو...
پاکستان کی کشمیر کمیٹی کے ایک ممبر کا کہنا تھا کہ اگر یہ مسئلہ حل ہوگیا تو ہمیں اس مد میں دنیا کی ہمدردی بٹورنے کے عوض لاکھوں ڈالرز ملنا بند ہوجائیں گے...
کشمیر میں پاکستان کے حق میں جو مظاہرے ہوتے ہیں وہ اکثر جماعت اسلامی کے تحت ان کے حامی نکالتے ہیں... لیکن بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو ان کی حامی نہیں اور خود مختار کشمیر چاہتی ہے...
البتہ سارے کشمیری کافر حکومت سے آزادی کے حق میں ضرور ہیں...
ریحان کی پروفائل میں اس کی عمر سولہ سال ظاہر ہورہی ہے... اگر یہ صحیح ہے تو اس عمر میں ایسا تجزیہ قابل صد ستائش و استعجاب ہے!!!

بھائی جان حکومت کی تو ہم نے بات ہی نہیں کی اور نہ ہی اس حکومت سے کوئی خیر کی توقع کی جا سکتی ہے۔

بہرحال اصل موضوع اہل کشمیر پر ہونے والے حالیہ بھارتی مظالم سے پردہ اٹھانا ہے۔۔

اور اس کے ساتھ اگر اہل کشمیر خود مختار کشمیر چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی خواہش کا احترام کرنا چاہئے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ مستقبل قریب میں کم از کم اقوام متحدہ کے در پر بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔
 

سید عمران

محفلین
بھائی جان حکومت کی تو ہم نے بات ہی نہیں کی اور نہ ہی اس حکومت سے کوئی خیر کی توقع کی جا سکتی ہے۔

بہرحال اصل موضوع اہل کشمیر پر ہونے والے حالیہ بھارتی مظالم سے پردہ اٹھانا ہے۔۔

اور اس کے ساتھ اگر اہل کشمیر خود مختار کشمیر چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی خواہش کا احترام کرنا چاہئے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ مستقبل قریب میں کم از کم اقوام متحدہ کے در پر بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔
جب دونوں حکومتیں ہی حل نہیں چاہتیں تو اقوام متحدہ تو کیا دنیا کی کوئی طاقت اسے حل نہیں کرسکتی...
 

ربیع م

محفلین
جب دونوں حکومتیں ہی حل نہیں چاہتیں تو اقوام متحدہ تو کیا دنیا کی کوئی طاقت اسے حل نہیں کرسکتی...

دونوں حکومتوں سے پہلے اقوام متحدہ نہیں چاہتی۔

باقی بھارت اور پاکستان دونوں کو ایک پلڑے میں رکھنا بالکل بھی قرین انصاف نہیں

پاکستانی کشمیر تو تنازعہ ہے ہی نہیں۔
اس سے تو دونوں ملک جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
جموں و کشمیر کی ساڑھے بارہ ملین آبادی میں سے اگر لاکھوں ریلیاں نکالیں بھی تب بھی اکثریت کے نمائندے نہیں کہلائے جا سکتے۔ اکثریت امن سے اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔

شاید آپ بے خبر ہیں ،ہندوستان پاکستانی کشمیر پر اسی شدت سے اپنا حق جتلاتا ہے جس شدت سے وہ اپنے مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔
 
Top