تعارف ڈبویا مجھ کو ہونے نے۔۔۔۔

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
صاحبو! معاملہ یہ ہے کہ کانوں نے کوئی غلط لفظ یا تلفظ سنا وہیں زبان کھجلائی اور تصحیح کر دی۔ آنکھوں نے کچھ غلط لکھا دیکھا اور ہاتھوں کو تحریک ہوئی اسی وقت درست لکھ دیا یا ٹائپ کر دیا۔
اس عادت نے بہت سے مہربان اور دوست دور کردیے۔ بہت سے لوگ ناراض ہوئے اور کچھ نے تو ہمارے ان خصائص کی بناء پر ہمیں خسیس قرار دیا۔
سو یہ آسان کام یوں کڈھب ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں غلطیاں نظر انداز کرنا اور منہ پھیر کر چل دینا آسان معلوم ہوتا ہے۔
اس آسانی کا کیا فائدہ کہ سامنے والا غلطی ہی کرتا جائے۔
آپ غلط لفظ یا تلفظ کی تصحیح ضرور کیا کیجئے۔
 

رضوان راز

محفلین
خوش آمدید رضوان صاحب! میرا تعلق بھی لاہور سے ہے۔
شکریہ فرخ صاحب۔ آپ کی عنایت ہے۔
یعنی آپ بھی لاہور میں مقیم ہیں۔ اب یہ فرمائیے کہ تقریبِ ملاقات کے لیے خاک سار مصوری سیکھے یا مل بیٹھنے کو آپ دیوانگی پر آمادہ ہوں گے؟
 

فرخ منظور

لائبریرین
شکریہ فرخ صاحب۔ آپ کی عنایت ہے۔
یعنی آپ بھی لاہور میں مقیم ہیں۔ اب یہ فرمائیے کہ تقریبِ ملاقات کے لیے خاک سار مصوری سیکھے یا مل بیٹھنے کو آپ دیوانگی پر آمادہ ہوں گے؟

حضور مصوری تو مہ رخ کے لیے سیکھی جاتی ہے ہم تو صرف فر َخ ہیں۔ :) آپ جب چاہیں ہم حاضر۔ :)
 
آخری تدوین:

رضوان راز

محفلین
آپ کی کرم فرمائی ہے۔ پروردگار آپ کی توقیر فزوں تر فرمائے۔
جناب رضوان کہیے
یا
رضوان صاحب لکھیے
جناب اور صاحب ایک ساتھ لکھنا مناسب نہیں۔
@ گُلِ یاسمیں یہ دیکھیے، آپ کے جرأت آموز مطالبے پر ہم نے کیا گُل کھلایا۔
ابن توقیر صاحب بھی کیا سوچتے ہوں گے کہ خوش آمدید کہنے کا صلہ حرف گیری کی صورت
تقصیر معاف
 

محمداحمد

لائبریرین
جی ہاں، کچھ یوں ہی سمجھیے، بہت محنت سے اس عادت کو ترک کیا تھا۔
شاید سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنا آسان ہو۔
پس نوشت: خاک سار سگریٹ نوش نہیں۔
:) :) :)
جہاں ضروری ہو اصلاح کر دینا اچھی بات ہے۔

البتہ بال کی کھال نکالنے سے لوگ بیزار بھی ہو جاتے ہیں۔ :)

ہماری اصلاح البتہ آپ کر سکتےہیں۔ ہم بھی تا عمر طالب علم ہی رہنا چاہتے ہیں۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔
تو لیجیے اب آپ یوں کیجیے کہ کیجئے کو کیجیے لکھیے گا۔
یہی تو ۔۔۔۔
دیکھ لیجیے کہ ہم نے کوئی اعتراض بھی نہیں کیا اس لیے اب آپ ہماری املا کی غلطیوں پر ہمیں ضرور ٹوکا کیجیے گا۔
اب ٹھیک نا؟
 

زیک

مسافر
روٹس انٹرنیشنل سکول، بحریہ ٹاؤن سکول،ابنِ سینا کالج اور لاہور گرامر سکول سے بہ طور جز وقتی استاد (وزٹنگ فیکلٹی) وابستہ
چار سکولوں میں پڑھانا کیسا لگتا ہے؟ خاصا وقت تو ایک سکول سے دوسرے میں جاتے صرف ہو جاتا ہو گا۔
 

ظفری

لائبریرین
"آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔
تو لیجیے اب آپ یوں کیجیے کہ کیجئے کو کیجیے لکھیے گا۔
میں کراچی میں پروان چڑھا ۔ اور اردو بھی یہیں سیکھی ۔ اگر میں تلفط کی بات کروں تو "کیجئے" کو اگر کیجیے لکھا جائے اور پھر اس کو توڑا جائے تو کچھ اس طرح کا تلفظ بنے گا کہ (کی -جے)۔ جبکہ ہم کراچی میں یہ تلفظ استعمال نہیں کرتے بلکہ "ء " لگا کر "ج " کو کھنچتے ہیں ۔ جس سے ایک نرم تاثر ابھرتا ہے ۔ بلکل اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ "دیکھیئے" یا "سُنیئے"تو اس میں "ء" لگا کر "ے " کو کھینچا جاتا ہے ۔ جس میں ایک نفاست کا احساس ہوتا ہے ۔ "سُنو" یا "سُنیں " کا اگر اس" سُنیئے "سے موازانہ کریں تو کونسا تلفظ کانوں کا بھلا لگے گا ۔اسی طرح "کیجیے" اور "کجیئے "کا بھی تلفظ بھی بلکل مختلف ہوگا ۔
مجھے اردو گرامر کا اتنا علم نہیں ہے ۔ تلفظ کے حوالے سے ایک سوال میرے ذہن میں آیا اور میں نے آپ سے رہنمائی مانگ لی ۔ اُمید آپ رہنمائی فرما دیں گے ۔ شکریہ
 

ابن توقیر

محفلین

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
Top