تعارف محب کی واپسی

ظفری

لائبریرین
اصل میں تمہارے بہکاوے میں آ کر میں نے بابر کو پانی پت کی لڑائی سے ذرا پہلے جو ابراہیم لودھی کی فوج میں پھیلی ابراہیم لودھی کی تن آسانیوں کی داستان سنا دی تھی اس کی خبر ابراہیم لودھی کو ہو گئی اور پھر تمہیں پتہ ہے نہ وہ کس قدر منتقم مزاج شخص تھا ، اچھا ہی ہوا بابر نے سیدھا کر دیا اسے۔

یاد آیا بابر نے تمہیں انعام میں جو بیلوں کا جوڑا دیا تھا وہ اب بھی کام کا ہے یا بیچ کر پیسے ہضم کر لیے۔

کیا بتاؤں بھائی ۔۔۔۔۔ مسز بیل کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی اور بیل بیچارہ اس کے غم میں شراب نوشی کی طرف مائل ہوگیا ۔ آخر ایک دن دیوداس کی طرح اس کے در پر کُپی کیساتھ کے ٹو کے سُٹے کا کش لگایا اور اس جہانِ فانی کو خیر آباد کہہ دیا ۔ اگر تم صادق آباد سے جنوب کی طرف رحیم یار خاں کی طرف جاؤ تو نہر کے بائیں کنارے اس غریب کا مزار مل جائے گا ۔ جہاں سارے بیل ٹُن پڑے ہوتے ہیں ۔ ;)
 
اب سنجیدگی کی طرف آتے ہوئے تمہارے دھاگے کی مناسبت سے ایک بات یاد آئی کہ کبھی ہم نے ارتقاء پر بحث کی تھی ۔ میں‌ نے اس پر بہت ریسرچ کی ہے اور سائنسی اور مذہبی نکتہ ِ نظر سے کافی باتیں دریافت کی ہیں ۔ تمہارا ابھی بلاگ بھی دیکھا اور اس پر کمنٹس بھی پڑھے ۔ وہاں بہت کچھ کہنا ہے ، اگر موقع ملا تو انشاءاللہ ضرور لکھوں گا ۔

یار میں تو کب سے تمہیں کہہ رہا ہوں کہ بھائی اپنا بلاگ سنجیدگی سے دیکھو اور اس پر ضرور لکھو اس سے بہت سے اور لوگ بھی تبصرہ کریں گے اور کافی اور نئی باتیں اور جہتیں بھی نکل آئیں گی۔

میرا بلاگ تو ہمہ وقت حاضر ہے تمہارے تبصروں اور تجاویز کے لیے۔
 
شمشاد عمر کے بارے میں پنجابی کی ایک کہاوت ہے

دل ہو نہ چاہیے دا اے جوان تے عمراں چے کی رکھیاں اے ;)
 

شمشاد

لائبریرین
کچھ باتیں کہاوتوں تک ہی محدود ہوتی ہیں۔ عملی زندگی میں ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
محفل کے پرانے دن یاد دلا رہے ہو محب اور ظفری اور شمشاد۔۔ چلو اچھا ہوا کہ وہ زمانہ لوٹ آیا۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہم سب چار سال اور ضعیف ہو چکے ہیں۔
 

زین

لائبریرین
بہت اچھا لگا ۔ واپسی بہت بہت مبارک ہو ۔ محب علوی صاحب اور ظفر بھائی آپ دونوں‌کو :)
 

نبیل

تکنیکی معاون
میں تو اتنا خوش ہو کر یہاں آیا تھا لیکن یہاں پتا چلا کہ یہ کسی اور تھریڈ سے علیحدہ کیا ہوا دھاگا ہے۔ :(
میں تو اس وقت خوش ہوں گا جب محب واقعی واپس آئیں گے۔
 

ظفری

لائبریرین
محفل کے پرانے دن یاد دلا رہے ہو محب اور ظفری اور شمشاد۔۔ چلو اچھا ہوا کہ وہ زمانہ لوٹ آیا۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہم سب چار سال اور ضعیف ہو چکے ہیں۔

جی استادِ محترم بجا فرمایا آپ نے ۔۔ محب آیا تو کچھ پرانی یادیں اور پرانی طبعیت بھی لوٹ آئی ۔ اور ہاں ضعیفی پر یاد آیا کہ آپ کیساتھ ہم بھی چار سال ضعیف ہوگئے ۔
 

محسن حجازی

محفلین
بچپن میں سکول کے باہر جہاں اور بہت کچھ ملتا تھا وہاں بہت چھوٹی سی ننھی منی کہانیوں کی کتابیں بھی ملا کرتی تھیں جو پچاس پیسے کی ایک ہوا کرتی تھی۔ ان میں اکثر ایک کہانی کا عنوان ہوا کرتا تھا ٹارزن کی واپسی۔ تو بس آج وہ دور یاد آ گیا :grin:
ویسے ہم شروع سے ہی مطالعے کے معاملے میں سبک رو تھے سو ایسی کہانیاں ہم نے کبھی خریدنے کا نہیں سوچا۔ یاد پڑتا ہے کہ ایک دفہ ایک دوست پانچ سات کہانیاں پکڑا کر پانی پینے گيا اور اس کے آنے تک ہم ساتوں کی ساتوں پڑھ چکے تھے :grin:

عمرو عیار کی زنبیل
بنگلے کا راز
جاسوس کی موت
ٹارزن کی واپسی

وغیرہ وغیرہ۔
 

ظفری

لائبریرین
محسن بھائی ۔۔۔ یہ ساری کہانیاں میں نے بھی پڑھی ہوئی ہیں اور واقعی کم قیمت میں ملتیں تھیں ۔ اس کے علاوہ محمود ، فرزانہ ، فاروق کے جاسوسی ناول بھی اس وقت بہت عام تھے ۔
 

محسن حجازی

محفلین
ظفری بھائی لد گئے وہ زمانے۔ اب پاکستان کے حالات بہت ابتر ہیں۔ میں بات کر رہا ہوں 1992 کی۔ تب میں لاہور میں فیروزپور روڈ پر ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھتا تھا۔ علی المراد ہائی سکول۔ اب بھی اس کی عمارت وہاں موجود ہے بلکہ اب تو بہت پھیل گیا ہے۔ تب بازاروں میں نصرت فتح علی اور سجاد علی کے گیت چلا کرتے تھے۔ یہی اس وقت کہہ لیجئے کہ جدید ترین تھے۔ ایک روپے کا بسکٹ کا پیکٹ۔ چار روپے کی بوتل تھی شاید۔ پانچ روپے کا جوس کا پیکٹ۔ ایک روپے کی دو پوریاں۔ اخبار کی قیمت یا دنہیں۔ بھلے دور تھے۔
2002 تک بھی ٹھیک تھا لیکن اس کے بعد جو لوٹ مچی ہے۔ اب تو حالاب بہت خراب ہیں۔
 

ظفری

لائبریرین
سچ کہتے ہیں آپ ۔۔۔۔ میں ‌2006 میں آخری بار پاکستان گیا تھا تو بہت اندھیر دیکھی ۔ والد صاحب کی وفات پر دل بہت غم زدہ تھا وہاں کے حالات دیکھ کر اور بھی افسردہ ہوا ۔ لوگوں کے چہرے پر وہ رونق نہیں دیکھی جو 1992 میں پاکستان چھوڑ کر آیا تھا ۔ رابطے کے لیئے گو کہ ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل فون دیکھے ۔ مگر اندر سے لوگوں کے درمیان محبت کا بے ساختہ رویہ ختم نظر آیا ۔
میں‌ نے یہ کہانیاں اور کتابیں 1987 سے لیکر 1991 تک پڑھیں تھیں اور وہ بھی چھپ چھپ کر کہ والد صاحب کو پسند نہیں تھا ۔ گھر میں صرف ہمدرد " نونہال " کی اجازت تھی ۔ جو میرے اور میری بہن کے درمیان " پہلے میں پڑھوں گا ۔۔۔ پہلے میں پڑھوں گی " کی جھڑپ سے تنگ آکر ابو کے ہاتھ سے کئی حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے ۔ :grin:
 

محمد وارث

لائبریرین
محب مبارک ہو واپسی، خوشی ہوئی تمھیں دوبارہ سے محفل پر دیکھ کر!

اور یہ اکیلے ٹارزن یعنی تمھاری ہی واپسی نہیں ہے بلکہ "خان صاحب" کی بھی واپسی ہے، ظفری بھائی بھی کافی دنوں بعد محفل پر نظر بلکہ "خوش خوش" نظر آئے ہیں، اللہ ان کو مزید "خوشی" دے :)
 

محمد وارث

لائبریرین
شمشاد بھائی یہ وہ خوشی ہے جس کی تلاش میں ساری زندگی انسان خوشی خوشی مارا مارا پھرتا ہے :)
 

مغزل

محفلین
میں تو بھول ہی گیا تھا کہ کوئی محب علوی بھی یہاں ہوتے ہیں ۔ انہوں نے توکوئی خبر نہ دی ۔ اب جاکر یہ لڑی نظر آئی ۔ کہاں ہیں جناب ؟؟
 
Top