1. اردو محفل سالگرہ دواز دہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی بارہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

قران کوئز 2017

نبیل نے 'قران فہمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 8, 2017

  1. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    383
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Relaxed
    وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَ۔كِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿الشوریٰ: ٥٢
    اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں، بیشک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں
    ٭ یہاں روح سے مراد روح الامین جبرئیل علیہ السلام ہیں ۔
     
  2. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    383
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Relaxed
    قرآن کریم کی وہ کون سی آیت ہے جس میں قمری اور شمسی سال کا حساب بتایا گیا ہے ؟
     
  3. نبیل

    نبیل منتظم

    مراسلے:
    15,950
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    سورۃ شعراء 26
    آیت 184
    وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ
    یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے

    آیت 185
    نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ
    اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے

    ----------------------

    سورۃ نحل 16، آیت 102
    قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ
    اِن سے کہو کہ اِسے تو روح القدس نے ٹھیک ٹھیک میرے رب کی طرف سے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کرے اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور اُنہیں فلاح و سعادت کی خوش خبری دے

    -----------------------

    سورۃ بقرۃ 2، آیت 97
    قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّ۔هِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
    اِن سے کہو کہ جو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہو، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جبریل نے اللہ کے اِذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. نبیل

    نبیل منتظم

    مراسلے:
    15,950
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed

    سورۃ توبہ 7، آیت 36

    إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّ۔هِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّ۔هِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّ۔هَ مَعَ الْمُتَّقِينَ

    حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    383
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Relaxed
    اس میں تو بارہ مہینوں کا ایک سال بیان ہوا ہے ایک آیت میں قمری اور شمسی دونوں تقویم بتائی گئی ہیں
     
  6. La Alma

    La Alma محفلین

    مراسلے:
    1,225
    سوره یونس کی آیت نمبر 5 میں اس کا ذکر ہے .

    هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاء وَالْقَمَرَ نُوراً وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُواْ عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللّهُ ذَلِكَ إِلاَّ بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.
    وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیات کھول کھول کر بیان فرماتا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    383
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Relaxed
    وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا﴿الکھف:25﴾
    وه لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو سال اور زیاده گزارے۔ (25)

    اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب سے تین سو سال کی تھی اور چاند کے حساب سے تین سو نو سال کی تھی۔ فی الواقع شمسی اور قمری سال میں سو سال پر تین سال کا فرق پڑتا ہے، اسی لیے تین سو الگ بیان کر کے پھر نو الگ بیان کئے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  8. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    3,246
    السلام علیکم ۔
    ایک سوال میری جانب سے بھی ۔

    قرآن میں کس جگہ اللہ نے انسان کو خود کشی کا مشورہ دیا ہے اور کیوں؟
     
  9. نبیل

    نبیل منتظم

    مراسلے:
    15,950
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    سورۃ آل عمران 3، آیت 119


    هَا أَنتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّ۔هَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

    تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کتب آسمانی کو مانتے ہو جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی (تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو) مان لیا ہے، مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں ان سے کہہ دو کہ اپنے غصہ میں آپ جل مرو اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

    یہ سوال غلط تاثر دیتا ہے۔ یہ کوئی مشورہ نہیں ہے اور اللہ تعالی انسانیت سے براہ راست مخاطب نہیں ہے بلکہ نبی صل اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو اسلام کے دشمنوں پر طنز کا کہا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    19,652
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    سورۃ بقرہ کی ایک آیت میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے سے یہودیوں کے ساتھ خطاب ہے کہ اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو۔ (یہودیوں کی اس بات کے جواب میں کہ جنت صرف یہودیوں کے لیے ہے)۔

    آپ کی بات کا دوسرا حصہ بالکل بجا ہے، یہ خود کشی کا مشورہ نہیں ہے!
     
    • متفق متفق × 2
  11. نبیل

    نبیل منتظم

    مراسلے:
    15,950
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    سورۃ بقرۃ 2، آیت 94

    قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِندَ اللَّ۔هِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

    اِن سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے، تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو، اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    3,246
    میرا سوال اس آیت سے متعلق تھا جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے ۔

    جس شخص کو لگتا ہے کہ اللہ اس کی دنیا اور آخرت میں مدد نہیں فرمائے گا اس کو چاہیے کہ آسمان ( یعنی چھت) کی جانب کوئی رسی باندھے اور مر جائے ۔ پھر دیکھے کہ یہ تدبیر اس کے غصے کو کم کرتی ہے یا نہیں ۔

    معذرت یہ سوال صرف یاداشت کی بنیاد پر کیا گیا ہے اگر کوئی دوست اس آیت کو یہاں کاپی کر سکیں تو شاید بات واضح ہو جائے ۔
     
  13. نبیل

    نبیل منتظم

    مراسلے:
    15,950
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    سورۃ حج 22، آیت 15

    مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ اللَّ۔هُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ
    جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دُنیا اور آخرت میں اُس کی کوئی مدد نہ کرے گا اُسے چاہیے کہ ایک رسّی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے، پھر دیکھ لے کہ آیا اُس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کر سکتی ہے جو اس کو ناگوار ہے

    یہاں بھی خودکشی والی بات محض قیاس آرائی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    383
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Relaxed
    نبیل بھائی یہاں ترجمہ کا فرق آرہا ہے ۔ اوپر جو آپ نے ترجمہ دیا ہے وہ جوادی صاحب ، اور موودودی صاحب کا ہے جبکہ طاہر القادری ، جالندھری اور جوناگڑھی کا مندرجہ ذیل ترجمہ ہے
    جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اﷲ اپنے (محبوب و برگزیدہ) رسول کی دنیا و آخرت میں ہرگز مدد نہیں کرے گا اسے چاہئے کہ (گھر کی) چھت سے ایک رسی باندھ کر لٹک جائے پھر (خود کو) پھانسی دے لے پھر دیکھے کیا اس کی یہ تدبیر اس (نصرتِ الٰہی) کو دور کر دیتی ہے جس پر غصہ کھا رہا ہے،
    جبکہ ابن کثیر میں لکھا ہے :

    یعنی جو یہ جان رہا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں وہ یقین مانے کہ اس کا یہ خیال محض خیال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد ہو کر ہی رہے گی چاہے ایسا شخص اپنے غصے میں ہار ہی جائے بلکہ اسے چاہے کہ اپنے مکان کی چھت میں رسی باندھ کر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر اپنے آپ کو ہلاک کر دے۔ ناممکن ہے کہ وہ چیز یعنی اللہ کی مدد اس کے نبی کے لیے نہ آئے گو یہ جل جل کر مرجائیں مگر ان کی خیال آرائیاں غلط ثابت ہو کر رہیں گی “۔

    یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی سمجھ کے خلاف ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ کی امداد آسمان سے نازل ہو گی۔ ہاں اگر اس کے بس میں ہو تو ایک رسی لٹکا کر آسمان پر چڑھ جائے اور اس اترتی ہوئی مدد آسمانی کو کاٹ دے۔

    لیکن پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے اور اس میں ان کی پوری بے بسی اور نامرادی کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے دین کو اپنی کتاب کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ترقی دے گا ہی چونکہ یہ لوگ اسے دیکھ نہیں سکتے اس لیے انہیں چاہیئے کہ یہ مرجائیں، اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔
     
  15. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    3,246
    سروش صاحب کی بات سے متفق ہوں واقعی تراجم کا فرق ہے ۔ نبیل صاحب میرے پاس مولانا فتح محمد جالندھری صاحب کا ترجمہ کیا ہوا قرآن 'پی ڈی ایف' میں موجود ہے وہاں سورۃ حج 22، آیت 15 کا ترجمہ کچھ اس طرح کیا گیا ہے ۔

    "جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ اس کو دنیا و آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیے کہ اوپر کی طرف یعنی اپنے گھر کی چھت میں ایک رسی باندھے پھر اس سے اپنا گلا گھونٹ لے پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کر دیتی ہے "

    والسلام ۔
     
    • متفق متفق × 1
  16. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    118
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
     
  17. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    118
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اور الله ہی کے لیے اچھے نام ہیں ۔ یا الله کے سب نام اچھے ہیں ۔ الله سبحانہ و تعالٰی کے ناموں کا ذکر کن آیات میں ہے ؟
     
  18. La Alma

    La Alma محفلین

    مراسلے:
    1,225
    سورة الإسراء آیت 110

    قُلِ ادۡعُوۡا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوۡا الرَّحۡمٰنَ‌ؕ اَيًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى‌ۚ .
    کہہ دو کہ تم (خدا کو) الله (کے نام سے) پکارو یا رحمٰن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب اچھے نام ہیں۔

    سوره الحشر کی آیت 23 اور 24 میں بھی اسمائے حسنٰی کا بیان ہے.
    هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ
    هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

    وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بادشاہ (حقیقی) پاک ذات (ہر عیب سے) سلامتی امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے.
    وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  19. نبیل

    نبیل منتظم

    مراسلے:
    15,950
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    سورۃ اعراف 7، آیت 180
    وَلِلَّ۔هِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

    اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہو جاتے ہیں جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    3,705
    ایک سوال ہماری طرف سے۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی بات کو بیان کرنے کے لیے کچھ تشبیہات دی ہیں۔ جیسا کہ اس شخص کی مثال ایسی ہے جیسے۔۔۔۔
    یہ تشبیہات کون کون سی ہیں اور کس سورت میں ہیں۔
     

اس صفحے کی تشہیر