قران کوئز 2017

squarened

معطل
بہتر ہوگا کہ قران کی اصطلاحات استعمال کریں کیونکہ یہ قران کوئز ہے۔ جنرل کوئز کے لیے الگ سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

ایلاء اگرچہ بطور مصدر قرآن کریم میں نہیں آیا ہے مگر بطور فعل دوسرے مقام پر آیا ہے اس لیے اسے غیر قرآنی اصطلاح نہیں کہہ سکتے
لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ ۚ فَاِنْ فَاۗءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ بقرۂ : ٢٢٦
 

رانا

محفلین
قرآن میں ایک شخص کا ذکر ہے کہ قریب تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے روحانی رفعتیں عطا کردیتا لیکن اس نے اپنے لئے گمراہی پسند کرلی۔ اس شخص کا نام بتائیں۔ اور قرآنی حوالہ بھی۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
سورۃ اعراف 7
آیت 175

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ

اور اے محمدؐ، اِن کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا آخرکار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا

آیت 176

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَ۔ٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

اگر ہم چاہتے تو اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے یہی مثال ہے اُن لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں تم یہ حکایات اِن کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں

نام کا قران میں ذکر نہیں ہے البتہ بعض جگہ پر برصیصہ مذکور ہے۔
 
آخری تدوین:

نبیل

تکنیکی معاون
یہ بتائیں کہ قران میں لفظ قرین کس سیاق میں استعمال ہوا ہے اور اس کا ذکر کہاں موجود ہے؟
 

سید عاطف علی

لائبریرین
آپ کا سوال ہے کہ قرآن کی تلاوت کے بارے میں کتنی آیات نازل ہوئی ہیں۔
آپ کا جواب بھی نامکمل ہے۔
آداب تلاوت کے سلسلے میں دیگر آیات بھی موجود ہیں جیسا کہ :
(فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ) [النحل: 98]،
کاپی پیسٹ اتنا بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ کوئی بھی یہاں پیدائشی عالم نہیں سبھی نے کہیں نا کہیں سے نقل کیا ہے یا اپنے استاد سے یا کسی کتاب سے یا کسی ویب سائٹ سے۔
مسئلہ اس کاپی پیسٹ کا ہوتا ہے جس کا صحیح جواب نا اس جگہ پر ذکر ہوتا ہے اور نا ہی آپ کو معلوم ہوتا ہے۔
سورہ قیامۃ میں مندر جہ ذیل کی ایک آیت بھی تلاوت کے بارے میں کہی جاسکتی ہے ۔
لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرانہ فاذا قرا نا ک فا تبع قرانہ ثم ان علینا بیانہ۔
کسی آیت کے نزول کے وقت آپ اس آیت کو جلدی جلدی پڑھتے تھے کہ اچھی طرح یاد رہے اور محفوظ ہوجائے ۔تو یہ ایت اس لیے نازل ہوئی کہ آپ اپنی زبان کو جلدی جلدی حرکت نہ دیں ۔ بلکہ قراں کو محفوظ رکھنا اور بیان کروانا ہمارے ذمہ ہے۔ سو اس طرح ترتیل کی ایک تاکید اس میں مذکور ہو گئی۔
 

رانا

محفلین
سورۃ اعراف 7
آیت 175

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ

اور اے محمدؐ، اِن کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا آخرکار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا

آیت 176

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَ۔ٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

اگر ہم چاہتے تو اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے یہی مثال ہے اُن لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں تم یہ حکایات اِن کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں

نام کا قران میں ذکر نہیں ہے البتہ بعض جگہ پر برصیصہ مذکور ہے۔
درست۔ نام کا ذکر واقعی قرآن میں نہیں ہے۔ البتہ برصیصہ میرے علم میں اضافے کا باعث ہے کہ اس سے قبل اس طرح کا واقعہ تو سنا تھا لیکن اس کی تاریخی حیثیت کا علم نہ تھا۔
البتہ اس آیت میں مذکور شخص کا نام بعض روایات میں بلعم باعور بیان ہوا ہے۔ شائد بائبل سے یہ نام لیا گیا ہو۔ بہرحال نام کا ذکر کیونکہ قرآن میں نہیں ہے اس لئے اسے سوال سے حذف سمجھا جائے۔ باقی سوال اور آپ کا جواب درست ہے۔
 

رانا

محفلین
یہ بتائیں کہ قران میں لفظ قرین کس سیاق میں استعمال ہوا ہے اور اس کا ذکر کہاں موجود ہے؟
دوجگہ استعمال ہوا ہے اور دونوں جگہ بُرے ساتھی کے لئے استعمال ہوا ہے۔

قَالَ قَآٮِٕلٌ مِّنۡهُمۡ اِنِّىۡ كَانَ لِىۡ قَرِيۡنٌۙ (سورہ الصافات آیت 51)
ترجمہ: ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ہم نیشن تھا۔
سیاق و سباق: جب جنتی ایک دوسرے سے باتیں کررہے ہوں گے تو ایک جنتی کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا جو بعث بعد الموت پر ایمان نہیں لاتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے دکھائے گا کہ وہ عین دوزخ کے درمیان میں پڑا ہوا ہے۔

وَمَنۡ يَّعۡشُ عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَيِّضۡ لَهٗ شَيۡطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيۡنٌ (سورہ الزخرف آیت 36)
ترجمہ: اور جو کوئی رحمٰن (خدا) کے ذکر سے منہ موڑ لیتا ہے ہم اس پر ایک شیطانی خصلت وجود کو مستولی کردیتے ہیں اور وہ اس کا ہر وقت کا ساتھی ہوجاتا ہے۔
 
آخری تدوین:

رانا

محفلین
متقیوں کے قرآن شریف میں بہت سے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ متقیوں کے کس وصف کا قرآن شریف نے سب سے پہلے ذکر کیا ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں متقی کی سب سے پہلی نشانی قرآن شریف نے کیا بیان کی ہے؟
 
متقیوں کے قرآن شریف میں بہت سے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ متقیوں کے کس وصف کا قرآن شریف نے سب سے پہلے ذکر کیا ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں متقی کی سب سے پہلی نشانی قرآن شریف نے کیا بیان کی ہے؟
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (3) البقرۃ
 

نبیل

تکنیکی معاون
دوجگہ استعمال ہوا ہے اور دونوں جگہ بُرے ساتھی کے لئے استعمال ہوا ہے۔

مزید جگہ بھی ذکر ہے۔

سورۃ فصلت 41، آیت 25

وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوا۟ لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ فِىٓ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ خَ۔ٰسِرِينَ

ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کر دکھاتے تھے، آخر کار اُن پر بھی وہی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناً وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے

سورۃ ق 50، آیت 23

وَقَالَ قَرِينُهُۥ هَ۔ٰذَا مَا لَدَىَّ عَتِيدٌ

اُس کے ساتھی نے عرض کیا یہ جو میری سپردگی میں تھا حاضر ہے

اس کے علاوہ سورۃ ق کی آیت 28 میں بھی ذکر ہے۔
 

squarened

معطل
اگلا سوال ٖقرآن میں کتنے بتوں کا ذکر ہے نام بتائیں اور
سب سے پہلے کس بنی کی قوم ان کی پوجا کرتی تھی ؟؟؟

وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ۙ وَّ لَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا‌ۚ‏ ﴿۲۳﴾ سورہ نوح
اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا ﴿۲۳﴾
ود،سواع، یغوث، یعقوق،نسر پانچ مشہور پُرانے بت قوم نوح علیہ السلام نے سب سے پہلے پوجا شروع کی تھی

سوال اور جواب میں مطابقت نہیں ہے،بلکہ سوال ہی ٹھیک طرح سے نہیں پوچھا ہے۔ جواب میں صرف حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بتوں کا ذکر ہے نہ کہ قرآن کریم میں مذکور تمام بتوں کا اور سوال کا دوسرا جزء عجیب ہی ہے اس سے لگ رہا ہے کہ کوئی متفقہ بت تھے جن کی تمام اقوام نے پوجا کی اور سب سے پہلے پوجا کرنے والی قوم نوح تھی
 

نبیل

تکنیکی معاون
سوال کا دوسرا جزء عجیب ہی ہے اس سے لگ رہا ہے کہ کوئی متفقہ بت تھے جن کی تمام اقوام نے پوجا کی اور سب سے پہلے پوجا کرنے والی قوم نوح تھی

سوال کی نوعیت کے بارے میں غالبا آپ کی بات درست ہے، لیکن کیا یہ درست نہیں ہے کہ بت پرستی کی برائی سب سے پہلے حضرت نوح کی قوم میں شروع ہوئی تھی۔ دوسرے ان بتوں کے ناموں کا ذکر کرنے کا مقصد بھی غالبا یہی ہے کہ قریش کے زمانے میں کعبہ میں انہی ناموں کے بت بھی موجود تھے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
اگلا سوال، قران میں ایک جگہ مذکور ہے کہ اللہ تعالی تقوی کرنے والوں کے اعمال قبول فرماتا ہے۔ کس جگہ؟
 

squarened

معطل
یہ درست نہیں ہے کہ بت پرستی کی برائی سب سے پہلے حضرت نوح کی قوم میں شروع ہوئی تھی۔
جی، یہ بات درست ہے کہ قوم نوح سے بت پرستی کے آغاز کا پتہ چلتا ہے،میں نے اس کا انکار نہیں کیا
دوسرے ان بتوں کے ناموں کا ذکر کرنے کا مقصد بھی غالبا یہی ہے کہ قریش کے زمانے میں کعبہ میں انہی ناموں کے بت بھی موجود تھے۔
قریش کے زمانے میں خانۂ کعبہ میں جن بتوں کا ذکر ملتا ہے ان میں قوم نوح کے بت(ود،سواع، یغوث ،یعوق ،نسر ) میں نے نہیں پڑھے ۔قریش کے مشہور بت ہبل (قرآن میں نام مذکور نہیں،حدیث میں ملتا ہے)۔ لات،منات،عزیٰ (قرآن میں مذکور ہیں) تھے،دیگر ایساف اور نائلہ بھی تھے جو صفا اور مروہ پر رکھے تھے (قرآن میں نام نہیں). اس کے علاوہ ہر قوم کا اپنا بت بھی تھا.٣٦٠ بت تو خانۂ کعبہ میں توڑے گئے تھے

قرآن کریم میں مذکور ایک اور بت کا نام بعل ہے، جسے حضرت الیاس علیہ السلام کی قوم پوجتی تھی

اس لیے صرف قوم نوح کے بت بتا کر اسے "قرآن میں کتنے بتوں کا ذکر ہے" کا جواب نہیں کہا جا سکتا
 

رانا

محفلین
اگلا سوال، قران میں ایک جگہ مذکور ہے کہ اللہ تعالی تقوی کرنے والوں کے اعمال قبول فرماتا ہے۔ کس جگہ؟
کیا اس آیت کا تذکرہ ہے:
وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَخۡشَ اللّٰهَ وَيَتَّقۡهِ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡفَآٮِٕزُوۡنَ‏
(سورہ النور آیت 53)

ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس کا تقویٰ اختیار کرے تو یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
کیا اس آیت کا تذکرہ ہے:
وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَخۡشَ اللّٰهَ وَيَتَّقۡهِ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡفَآٮِٕزُوۡنَ‏
(سورہ النور آیت 53)

ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس کا تقویٰ اختیار کرے تو یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

شکریہ رانا، یقینا کئی جگہ پر یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے۔ میرا اشارہ ذیل کی جانب تھا:


المائدة:27
ہابیل کا قول : إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ
 

رانا

محفلین
قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مثال دو عورتوں سے دی ہے۔ وہ کون سی دو عورتیں ہیں؟ اور یہ ذکر کس جگہ ہے؟
 
Top