غزل اور اس کی بحر

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
وہ اپ نے چہ رے میں سو آف تاب رکھ تے ہیں
م فا ع لن فع لا تن م فا ع لن فع لن ( سر مجھے "آ" کی سمجھ نہیں آئی)

ا سی ل یئے تو وہ رخ پہ ن قاب رکھ تے ہیں
م فا ع لن فع لا تن م فا ع لن فع لن ( یہاں پر "پہ" رھ گیا ہے)

میرا خیلا ہیکہ مجھ سے تختی میں گڑ بڑ ہو رہی ہے، سر ذرا سمجھائیے گا، کیونکہ میرے حساب سے بحر " مفاعلن فاعلاتن مفاعلن فعلن " آ رہی ہے۔

مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن
مفا و اپ
علن ن چہ
فعلا ر م سو
تن آ
مفا فتا
علن ب رک
فعلن تے ہیں

وہ اپنے چہرے میں سو آفتاب رکھتے ہیں

مفا اسی
علن لیء
فعلا ت و رخ
تن پہ
مفا نقا
علن ب رک
فعلن تے ہیں
اسی لیئے تو وہ رخ پہ نقاب رکھتے ہیں

مفا و پا
علن س بی
فعلا ٹ ت آ
تن تی
مفا ہ دل
علن ربا
فعلن خش بو




اب کیا کہتےہیں راجا صاحب اور سر جی اب تو ٹھیک ہے نا
 

ایم اے راجا

محفلین
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن
مفا و اپ
علن ن چہ
فعلا ر م سو
تن آ
مفا فتا
علن ب رک
فعلن تے ہیں

وہ اپنے چہرے میں سو آفتاب رکھتے ہیں

مفا اسی
علن لیء
فعلا ت و رخ
تن پہ
مفا نقا
علن ب رک
فعلن تے ہیں
اسی لیئے تو وہ رخ پہ نقاب رکھتے ہیں

مفا و پا
علن س بی
فعلا ٹ ت آ
تن تی
مفا ہ دل
علن ربا
فعلن خش بو




اب کیا کہتےہیں راجا صاحب اور سر جی اب تو ٹھیک ہے نا
لیکن شاعر کو اتنے لفظ گرانے کی نوبت کیوں پیش آئی جیسے چہرے کی ے میں کی ی وغیرہ۔
کیا اسکا جواب یہ ہیکہ مفاعلن فاعلاتن مفاعلن فعلن پراپر بحر نہیں اس لیئے یہ غزل لفظ گرا کر فاعلاتن فعلاتن مفاعلن فعلن میں باندھی گئی ہے، یا ابھی اس کی کوئی اور خاص وجہ ہے؟
 

محمد وارث

لائبریرین
راجا صاحب، 'مفاعلن فاعلاتن مفاعلن فعلن' کوئی بحر نہیں ہے کیونکہ اس "کمبی نیشن" میں 'فعلاتن' ہی آ سکتا ہے کیونکہ اس بحر میں جس زحاف کی مدد سے 'فعلاتن' ملتا ہے اسی زحاف سے 'مفاعلن' ملتا ہے۔

اگر 'فاعلاتن' ہی لانا ہے تو پھر مفاعلن کی جگہ 'مستفعلن' لانا پڑے گا، اس بحر (بحر مجتث مثمن) کے اصل افاعیل

'مستفعلن فاعلاتن مستفعلن فاعلاتن' ہیں، اور اسکی شکل "بگاڑ" کر (مخبون محذوف مقطوع کر کے) اسے

'مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن' بنایا گیا ہے۔
 

ایم اے راجا

محفلین
راجا صاحب، 'مفاعلن فاعلاتن مفاعلن فعلن' کوئی بحر نہیں ہے کیونکہ اس "کمبی نیشن" میں 'فعلاتن' ہی آ سکتا ہے کیونکہ اس بحر میں جس زحاف کی مدد سے 'فعلاتن' ملتا ہے اسی زحاف سے 'مفاعلن' ملتا ہے۔

اگر 'فاعلاتن' ہی لانا ہے تو پھر مفاعلن کی جگہ 'مستفعلن' لانا پڑے گا، اس بحر (بحر مجتث مثمن) کے اصل افاعیل

'مستفعلن فاعلاتن مستفعلن فاعلاتن' ہیں، اور اسکی شکل "بگاڑ" کر (مخبون محذوف مقطوع کر کے) اسے

'مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن' بنایا گیا ہے۔
یہ ہوئی نہ بات!
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
بیچ سمندر لے آیا سیلاب اسے
اب لینے آ جائیں گے گرداب اسے

میرا بیٹا میری آنکھ سے دیکھے گا
میں دے دوں گا اپنے سارے خواب اسے

اس کی بحر کیا ہے
 

الف عین

لائبریرین
تقطئع تو دونوں طرح کی جا سکتی ہے، لیکن بحر کے نام کے مطابق شاید فعلن فعلن ہی درست ہے۔ صحیح معلومات کے لئے وارث۔۔۔
 

محمد وارث

لائبریرین
خرم صاحب اسے میر کی بحرِ ہندی بھی کہتے ہیں اور اس میں بہت سارے اوزان آ سکتے ہیں بلکہ بحر میں اراکین بھی شاعر کی مرضی پر ہیں کہ وہ کتنے لاتا ہے لیکن جب ایک دفعہ مطلع میں تعداد متعین ہو جائے تو پھر باقی اشعار میں اتنے ہی لائے جاتے ہیں۔

کلیدی وزن 'فعلن' (فع لن) یا 2 2 ہے۔

اب فعلن ایک غزل میں چار یا چھ یا آٹھ بار بھی آ سکتا ہے۔ اور انکے ساتھ فع بھی آ سکتا ہے۔ مذکورہ اشعار

بیچ سمندر لے آیا سیلاب اسے
اب لینے آ جائیں گے گرداب اسے

میرا بیٹا میری آنکھ سے دیکھے گا
میں دے دوں گا اپنے سارے خواب اسے


میں پانچ بار فعلن اور ایک فع ہے۔

لیکن ہر فعلن کے آخری سبب خفیف کو آپ سببِ ثقیل میں بدل کر وزن فعل فعولن لا سکتے ہیں

یعنی

فعلن فعلن کو

فعل نفعلن بنایا اور اسکو

فعل فعولن سے بدل دیا۔

اسکو یاد رکھنے کا آسان طریقہ 22 کا سٹم ہے۔

یعنی ہر جفت 2 کو 11 میں بدلا جا سکتا ہے، اگر وزن یہ ہے

2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2

تو ہر جفت 2 (یعنی دوسرا، چوتھا، چھٹا، آٹھواں، دسواں 2 کو آپ 11 سے بدل سکتے ہیں جو عروض کی اصلاح میں فعل فعولن بن جائے گا یعنی

2 2 2 2 2 2 2 2 2 2 2

کے ساتھ یہ اوزان جمع ہو سکتے ہیں

2 11 2 2 2 2 2 2 2 2 2
2 2 2 11 2 2 2 2 2 2 2
2 2 2 2 2 11 2 2 2 2 2
2 2 2 2 2 2 2 11 2 2 2
2 2 2 2 2 2 2 2 2 11 2
2 11 2 11 2 2 2 2 2 2 2
2 11 2 2 2 11 2 2 2 2 2
2 11 2 2 2 2 2 11 2 2 2
2 11 2 2 2 2 2 2 2 11 2

اور اسطرح اس میں مزید کئی اور اوزان آ سکتے ہیں اور اس کی آخری صورت یہ ہوگی:

2 11 2 11 2 11 2 11 2 11 2

اس وزن میں آپ دیکھیں کہ ہر جفت 2 کو 11 میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔

اس بحر کی اگر سمجھ آ جائے تو اس میں بہت مہارت کے ساتھ خوبصورت غزلیں کہی جا سکتی ہیں کہ اوزان میں بہت زیادہ لچک ہے۔

اوپر والے اشعار کی تقطیع کرنے کی خود کوشش کریں، وہ اوپر دیے گئے وزن میں ہی ہے!
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
فعل ، فعو لن ، فعلن، فعلن ،فعل ، فعو

بی چ ، سمن در ، لے آ ، یا سی ،لاب، اسے



فعلن ، فعلن ، فعلن ، فعلن، فعل ، فعو
اب لی، نے آ ، جا ئیں ، گے گر ،داب، اسے


فعلن، فعلن، فعلن، فعل، فعولن، فع
می را، بی ٹا، می ری، آ نکھ ، س دی کھے ،گا

فعلن ، فعلن ، فعلن ، فعلن ، فعل ، فعو
میں دے، دوں گا ، اپ نے ، سارے ، خواب، اسے


سر اس کو دیکھ لے کیا اب ٹھیک ہے یہ
 

محمد وارث

لائبریرین
ہاں صحیح ہے اور یہ نوٹ کریں کہ شاعر نے مہارت کے ساتھ اس غزل میں مختلف اوزان کا استعمال کیا ہے، اگر اس غزل کے مزید اشعار ملیں تو انکی بھی تقطیع کریں!
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
ہاں صحیح ہے اور یہ نوٹ کریں کہ شاعر نے مہارت کے ساتھ اس غزل میں مختلف اوزان کا استعمال کیا ہے، اگر اس غزل کے مزید اشعار ملیں تو انکی بھی تقطیع کریں!



جی بہت شکریہ ٹھیک ہے وارث صاحب میں اس غزل کو تلاش کرتا ہوں اور پھر اس غزل کی مکمل تقطع کرتا ہوں آپ کی مہربانی سے مجھے کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہو گی ہے بہت شکریہ اس محبت کا میرا خیال ہے اب میں اس بحرپر کام کرنا شروع کر دوں اگر آپ کی اجازت ہوتو
 

محمد نعمان

محفلین
یہاں بھی دیر سے پہونچا۔۔۔۔۔۔
خرم بھائی بڑا ہی زبردست سلسلہ شروع کیا ہے اپ نے بہت بہت بہت شکریہ اور مبارکباد۔۔۔۔
اور کیا کہوں کہ الفاظ میں اپنے جذبات نہیں بیان کر سکتا۔۔۔۔۔
وارث بھائی آپ کی عنایات کا کیا مول ہے کہ اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ ہی ایجاد نہیں ہوئے۔۔۔وارث بھائی اگر اراکین بحر کے نام کے ساتھ ساتھ وزن کو کلیدی طور یعنی حسابی الفاظ 1 ، 2 ، وغیرہ بھی لکھیں تو مجھ جیسوں کا بھی بھلا ہو جائے۔۔۔۔
اعجاز صاحب محترم استاد جی ، کا بھی ازحد شکریہ۔۔۔
راجا بھائی آپ کا بھی بہت شکریہ۔۔۔۔۔
 

محمد نعمان

محفلین
جی خرم بھیا میں بھی اپنا حصہ ضرورو ڈالوں گا۔۔۔۔۔کیوں کہ یہ دھاگہ کھول کر آپ نے بحور کو سیکھنے کا رستہ آسان کر دیا ہے۔۔۔۔
 
Top