1. اردو محفل سالگرہ نہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی نویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

  2. اردو محفل عالمی مشاعرہ 2014

    اردو محفل کی سالگرہ نہم کے موقع پر ایک عالمی مشاعرہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ شعرا کے کلام ملاحظہ فرمائیں۔

  3. اردو محفل نثر پارے 2014

    اردو محفل کی سالگرہ نہم کے موقع پر نثری نشست منعقد کی جا رہی ہے۔ نشست کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں۔

  4. کتب خانوں کی سیر

    اردو محفل کی سالگرہ نہم کے موقع پر دلچسپ مشغلہ، دنیا بھر کے مختلف کتب خانوں کی سیر دیگر محفلین کے ساتھ۔

غزل اور اس کی بحر

خرم شہزاد خرم نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 23, 2008

  1. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    السلام علیکم
    میں آج کچھ شاعری پڑھ رہا تھا اب جب میں شاعری پڑھتا ہوں تو میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں پتہ کروں کے یہ غزل کس بحر میں ہے یا اس کے ارکین کیا ہیں کبھی کبھی تو کامیاب ہو جاتا ہوں لیکن زیادہ تر میں ناکامیاب ہوتا ہوں یہ دھاگہ میں نے اس لے شروع کیا ہے کے آپ یہاں پر غزلیں ارسال کریں اور اس کے ساتھ اس کے اوپر اس کی بحر یا رکن بھی لکھ دیں اس سے مجھے اور نئے لکھنے والوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اور میں وارث صاحب سے درخواست کروں گا کے وہ بحر کے بارے میں تفصیل سے بتاتے جائے تاکہ ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو اور اگر ممکن ہو سکے تو کم از کم ایک شعر کی تقطع بھی کر دیں بہت شکریہ
    خرم شہزاد خرم
    • پسندیدہ پسندیدہ x 9
  2. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    مثال کے طور پر

    بحرِ رمل
    اس بحر کا مختصر تعارف:

    'رمل' کا مطلب ہوتا ہے 'گِھرا ہوا ہونا' اس بحر میں چونکہ رکن 'فاعلاتن' کا وتد 'علا' دو سببوں 'فا' اور 'تن' میں گھرا ہوا ہے، اسی طرح 'فاعلاتن فاعلاتن' میں دو سبب 'تن' اور 'فا' دو وتدوں 'علا' اور 'علا' میں گھرے ہوئے ہیں اس لیئے اسے رمل کہتے ہیں۔

    یہ ایک مفرد بحر ہے (متقارب کی طرح) یعنی اسی میں ایک ہی رکن 'فاعلاتن' کی تکرار ہے۔

    رمل مثمن سالم کا وزن 'فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن' ہے یعنی فاعلاتن چار بار ایک مصرعے میں، لیکن سالم حالت میں یہ بحر مستعمل نہیں ہے، بلکہ مزاحف ہی استعمال ہوتی ہے۔

    مزاحف کا مطلب یہ ہے اس میں کسی 'زحاف' کا استعمال کر کے اس کے رکن کی شکل بدل دی جاتی ہے۔

    زیرِ نظر بحر، رمل مثمن محذوف کا مطلب یہ ہے کہ آخری رکن 'فاعلاتن' میں سے آخری سبب یعنی 'تن' خذف کر دیا گیا ہے، باقی رہا 'فاعلا' تو اس کو 'فاعلن' سے بدل لیا اور یوں اسکا وزن ہوا

    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

    اس بحر میں عمل تسبیغ جائز ہے یعنی 'فاعلن' کو فاعلان یا فاعلات بھی بنا سکتے ہیں۔ اسطرح اس بحر میں یہ دو وزن کسی بھی ایک شعر یا مختلف اشعار کے مختلف مصرعوں میں جمع کیئے جا سکتے ہیں۔


    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلان (یا فاعلات) اس وزن کو رمل مقصور بھی کہتے ہیں۔

    رمل کی کئی مزاحف شکلیں مستعمل ہیں جیسے رمل مثمن مخذوف، مخبون، مقصور، مشکول وغیرہ۔ اسی طرح مسدس اوزان بھی بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں جن میں سب سے مشہور رمل مسدس مخذوف (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) ہے۔

    رمل مثمن مخذوف میں کہی ہوئی غالب کی ایک غزل کی نشاندہی میں کر چکا، مزید کی آپ کریں۔
    بشکریہ محمد وارث صاحب

    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
    2212 2212 2212 212

    غزل

    نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
    کاوکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
    صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
    جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
    سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
    آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
    مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
    بس کہ ہوں غالب، اسیری میں بھی آتش زیِر پا
    موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
    • پسندیدہ پسندیدہ x 8
  3. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جناب محترم آپ بھی تو کوئی غزل اور اس کی بحر کے بارے میں لکھے
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ایم اے راجا

    ایم اے راجا محفلین

    مراسلے:
    2,915
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت اچھا موضوع شروع کیا ہے، بہت خوب خرم بھائی،
    کیا ہم اسمیں ایسی پسندیدہ غزل بھی ارسال کرسکتے ہیں جسکی بحر کے بارے میں جاننا مقصود ہو؟
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    25,423
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    sunshine
    مکمل غزل کی ضرورت نہیں۔ دو چار اشعار ہی کافی ہیں۔ ازور پسندیدہ کی شرط بھی نہیہں ہے۔ نا پسندیدہ اشعار بھی پوسٹ کریں، مقصد محض تقطیع کی مشق کرنا ہے نا، وہ جس طرح بھی ممکن ہو سکے۔
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  6. ایم اے راجا

    ایم اے راجا محفلین

    مراسلے:
    2,915
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    یہ مطلع اور شعر جو کہ کہیں پر لکھا ہوا ملا ہے کس بحر میں ہے،
    غمِ عشق سے غمِ افلاس بڑا ہے
    ہمیں اس کی محبت کا پاس بڑا ہے

    گھر ہے میرا جو خالی تو کیا ہے
    جینے کو یہاں اس کا احساس بڑا ہے
    اگر کسی صاحب کو شاعر کا پتہ ہو تو وہ بھی بتا دیں۔ شکریہ۔
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    25,423
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    sunshine
    یہ اشعار نہیں تک بندی ہے، کہ کسی وزن میں بظاہر نہیں ۔ یعنی کسی مستعمل بحر میں نہیں ہیں۔
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  8. ایم اے راجا

    ایم اے راجا محفلین

    مراسلے:
    2,915
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ استادِ محترم
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. ایم اے راجا

    ایم اے راجا محفلین

    مراسلے:
    2,915
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
    قسمت میں مری' صلہ نہیں ہے


    مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے ، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

    مندرجہ بالا دونوں مطلع پروین شاکر مرحومہ کی دو خوبصورت غزلوں کے ہیں، کس بحر میں ہیں، انکا وزن کیا ہے؟
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. محمد وارث

    محمد وارث منتظم

    مراسلے:
    14,158
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بحر: ہزج مسدس اخرب مقبوض مخذوف

    وزن: مفعول مفاعلن فعولن (اس بحر میں دیگر وزن بھی آ سکتے ہیں، جیسے تسکینِ اوسط کے زخاف کی مدد سے مفعولن فاعلن فعولن)۔

    تقطیع:

    تجھ سے تُ - مفعول
    کُ ئی گلہ - مفاعلن
    نہیں ہے - فعولن

    قسمت مِ - مفعول
    مری صلہ - مفاعلن
    نہیں ہے - فعولن

    اسی بحر میں دیگر اشعار: ریاض خیر آبادی کی مشہور غزل

    جس دن سے حرام ہو گئی ہے
    مے خلد مقام ہو گئی ہے




    بحر: رمل مثمن مخبون مخذوف مقطوع

    وزن: فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فعلن (اس بحر میں دیگر وزن بھی آ سکتے ہیں، جیسے فاعلاتن کی جگہ فعِلاتن، اور فعلن کی جگہ فَعِلن اور فعِلان اور فعلان، گویا اس بحر میں آٹھ وزن جمع ہو سکتے ہیں)

    تقطیع:


    مر بِ جاؤں - فاعلاتن
    تُ کہاں لو - فعلاتن
    گ بھلا ہی - فعلاتن
    دیں گے - فعلن

    لفظ میرے - فاعلاتن
    مِ رِ ہونے - فعلاتن
    کِ گواہی - فعلاتن
    دیں گے - فعلن

    اسی بحر میں دیگر اشعار: فراز کی مشہور غزل

    دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
    وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
    • پسندیدہ پسندیدہ x 8
    • زبردست زبردست x 1
  11. عاشق چانگ

    عاشق چانگ محفلین

    مراسلے:
    88
    وارث جی بڑا مشکل کم ہے، راجا صاب اسی لیے ساری رات سوتے نی اور دفتر بی دیر سے آتے ہیں
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  12. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    غم ہے یا خوشی ہے تو
    میری زندگی ہے تو

    میں تو وہ نہیں‌رہا
    ہاں مگر وہی ہے تو


    سر جی اس کی بحر بھی بتا دیں شکریہ
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  13. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ادھر سے گزرا تھا ملکِ سخن کا شہزادہ
    کوئی نا جان سکا ساز و رخت ایسا تھا


    شکیب صاحب کا شعر ہے اس کی بھی تقطع کر دیں شکریہ
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. ایم اے راجا

    ایم اے راجا محفلین

    مراسلے:
    2,915
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    عاشق صاحب عاشق بننا تو آسان ہے پر نبھانا بہت مشکل ہے
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    25,423
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    sunshine
    غم ہے یا خوشی ہے تو
    میری زندگی ہے تو
    بحر کا نام تو میں نہیں بتا سکتا۔ اپنے وارث ہی ہیں بحر الفساحت کے حافظ!!
    یہ بحر ویسے
    فاعلن مفاعیلن
    ہے۔
    ادھر سے گزرا تھا ملکِ سخن کا شہزادہ
    کوئی نا جان سکا ساز و رخت ایسا تھا

    یہ بحر ہے
    مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فعلن
    وارث۔ خود تقطیع نہ کریں، مجھ میں تو خیر صبر بھی نہیں ہے، لیکن راجا اور خرم کو کرنے دیں کہ ان کو مشق بہم ہو۔
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  16. محمد وارث

    محمد وارث منتظم

    مراسلے:
    14,158
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یہ بحر ہزج مثمن اشتر مقبوض کی مربع شکل ہے، مربع وہ بحر ہوتی ہے جس کے ایک مصرعے میں دو رکن (شعر میں چار رکن) ہوتے ہیں۔

    مثمن بحر کے افاعیل 'فاعلن مفاعلن فاعلن مفاعلن' ہیں لیکن شاعر نے اسے آدھا کر کے 'فاعلن مفاعلن' وزن استعمال کیا ہے۔

    تقطیع

    غم ہِ یا - فاعلن
    خُ شی ہِ تو - مفاعلن

    مے رِ زِن - فاعلن
    د گی ہِ تو - مفاعلن


    میں تُ وہ - فاعلن
    نہیں رہا - مفاعلن

    ہا مگر - فاعلن
    وہی ہِ تو - مفاعلن

    نا صِ رِس - فاعلن (الفِ وصل کا خوبصورت استعمال نوٹ کریں)
    دیار میں - مفاعلن

    کت نَ اج - فاعلن
    نبی ہِ تو - مفاعلن



    بحر: مجتث مثمن مخبون مخذوف مقطوع

    افاعیل: مَفَاعِلُن فَعِلاتُن مَفَاعِلُن فَعلُن (عین ساکن کے ساتھ) اس بحر کے آخری رکن میں چار وزن آ سکتے ہیں۔ تفصیلات دیکھیئے۔

    ادھر سے گز - مفاعلن
    رَ تَ ملکے - فعلاتن
    سخن کَ شہ - مفاعلن
    زا دہ - فعلن

    کُ ئی نہ جا - مفاعلن
    ن سکا سا - فعلاتن
    ز رخت اے - مفاعلن
    سا تھا - فعلن

    اس بحر میں دیگر اشعار: فراز مرحوم کی خوبصورت غزل

    سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
    تو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  17. محمد وارث

    محمد وارث منتظم

    مراسلے:
    14,158
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    معذرت چاہتا ہوں اعجاز صاحب آپ کا پیغام پہلے نہ دیکھ سکا، میں اس وقت شاید لکھ رہا تھا، آئندہ محتاط رہونگا، یہ بات صحیح ہے کہ افاعیل بتا دیئے جائیں اور تقطیع سوال کرنے والا خود کرے :)
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  18. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت شکریہ چلے اب کے بعد بحر آپ بتایا کریں تقطع ہم خود کیا کریں گے

    بازیجہِ اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے

    غالب

    جہاں تلک یہ صحرا دیکھائی دیتا ہے
    مری طرح اکیلا دیکھائی دیتا ہے

    شکیب

    ابھی تو پڑ بھی نہیں تولتا اوڑان کو میں
    بلا جواز کھٹکتا ہوں آسمان کو میں

    اختر عثمان


    اسلوب و میر و مرزا قیامت سہی مگر
    رہنا ہے گر غزل میں تو لہجہ بنائیں

    اختر رضا سلیمی

    جی سر اب شروع ہو جائے شکری
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    25,423
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    sunshine
    بازیجہِ اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
    پہلی بات۔ بازیچہِ غلط ہے، درست استعمال بازیچۂ ہے
    مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن/فعولان

    غالب

    جہاں تلک یہ صحرا دیکھائی دیتا ہے
    مری طرح اکیلا دیکھائی دیتا ہے
    شعر غلط ہے شکیب کا۔ جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائ دیتا ہے۔۔ مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
    مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فعلن/فعلان

    شکیب

    ابھی تو پڑ (پر( بھی نہیں تولتا اوڑان کو میں
    بلا جواز کھٹکتا ہوں آسمان کو میں
    وہی شکیب کے دکھای دیتا ہے والی بحر ہے۔

    اختر عثمان


    اسلوب و میر و مرزا قیامت سہی مگر
    رہنا ہے گر غزل میں تو لہجہ بنائیں
    دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے، شاید آخر میں ’ہم‘ بھی ہوگا۔ اس صورت میں بحر ہوی
    مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات/ فاعلن

    اختر رضا سلیمی
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  20. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائ دیتا ہے۔۔
    مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے

    مفا علن فَعِلا تن مفا علن فعلن
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اس صفحے کی تشہیر