عمران خان اک افسانہ کہ حقیقت؟؟

منقب سید

محفلین
اگر آپکا ماننا یہی ہے کہ ہماری بیروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ حقیقی جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو یہی رکاوٹ بھارت جیسے جمہوری ملک میں کیوں فیل ہو گئی؟ بٹوارے سے قبل دونوں ممالک ایک جیسے ہی تو تھے۔
نیز یہ بھی بتائیں کہ آئندہ مستقبل میں ان خفیہ ہاتھوں کو عوام کیسے توڑ سکتی ہے؟ دھرنے تو بظاہر کچھ کر نہیں پارہے جب تک ان خفیہ ہاتھوں کا سایہ دھرنیوں پر نہ ہو۔ :) کچھ سازشیوں کا تو یہاں تک کہنا کہ یہ دھرنے خود اسی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں جو قومی سیاست میں گاہے بگاہے اپنا لچ تلتی رہتی ہے۔ اسبارہ میں بھی اپنی معقول رائے سے نوازیں۔ شکریہ
متفق ! اصل سیاست تو وہی ہوتی ہے جو عوام سے چھپ کر کی جائے۔ جیسے جاوید ہاشمی اور سعد رفیق کے مابین ہونے والے خفیہ ٹیلی فونک روابط جو انکے عمران خان کے بارہ میں ’’انکشافات‘‘ سے قبل وقوع پزیر ہوئے۔
آخر اسٹیبلشمنٹ اور بیروکریسی کو عمران خان سے ایسا کیا اختلاف ہے جو وہ اسکی سیاسی جماعت کو آگے آنے سے مسلسل روکے جا رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ اگر عمران صاف و شفاف انتخابات کروانے میں کامیاب ہو گیا تو انکی سازشیں دھری کی دھری رہ جائیں گی؟ یاد رہے کہ عمران خان پہلے تن تنہا تھا۔ آج اسکے ساتھ کروڑوں ٹائیگرز ہیں جوانوں کی صورت میں۔ اوپر سے آزاد میڈیا کی صبح شام کوریج ۔ ایسے میں روایتی پاور بروکرز کیلئے اقتدار پر کنٹرول خاصا مشکل ہو گیا ہوگا اب جبکہ عمران کے مشکوک حلقے کھلوانے کا مطالبہ بھی منظور ہو چکا ہے۔
آپکے خیال میں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کا ایسا کیا مفاد ہو سکتا ہے جو انہوں نے اس بار تحریک انصاف کو خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے کی اجازت دے دی؟
اگر ان حقیقی چہروں کے نام ہمیں ذاتی پیغام میں بھیج دیں تو ممنون ہوں گا اور پاکستانی سیاست سے ہمیشہ کیلئے توبہ کر لوں گا
آپ آغاز سے ہی اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے کردار کے بارے میں سوالات کرتے آئے ہیں۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کے آج کی سیاست پر ہلکی سی بھی نظر رکھنے والا شخص اس سے نابلد کیوں ہو سکتا ہے؟ ان دونوں کو سیاسی عمل میں گھسیٹنے کی ذمہ داری سابق آمروں اور کچھ ناعاقبت اندیش سیاسی رہنماؤں کی ہے۔ اب ان دونوں کو اقتدار کا نشہ لگ گیا ہے۔ ہر سیاسی یا غیر سیاسی دور حکومت میں ان ہاتھیوں کو حسب ضرورت خوراک اور آزادی دی گئی۔ جہاں کہیں رکاوٹ بنی ان ہاتھیوں نے سب کچھ تہس نہس کر دیا۔ پڑوسی ملک میں سیاست دانوں نے کبھی انہیں اتنا طاقتور ہونے ہی نہیں دیا کہ وہ پلٹ کر انہیں ہی نقصان پہنچا سکیں۔ آئندہ ان کا اثر ختم کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ برسر اقتدار حکمران ان دونوں کی عملداری ختم کرنے کا باقاعدہ کوئی انتظام کریں۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب سپریم کورٹ نے اسٹیبلشمنٹ کے فرشتوں کا اپنے احاطے میں داخلہ بند کیا تھا۔ تب ایک حد تک انہیں نکیل تو پڑی تھی اسی طرح انہیں آگے بھی سنبھالا جاسکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کو ہر اس سیاستدان سے اختلاف ہے جو ان کے مفادات سے متصادم ہے۔ کاش عوامی طاقت اور کروڑوں ٹائیگرزکی کوشیں رنگ لائیں اور کاش خونی انقلاب کے بنا ہی سب بہتر ہو سکے۔ خیبر پختونخواہ میں کامیابی توازن برابر کرنے کے لئے ہضم کی گئی ہے۔ صاحب اقتدار کے گلے میں ہڈی بھی تو پھنسانی تھی نا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خان کے حامی اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں بھی موجود ہوں گے لیکن ان کی تعداد یا طاقت اتنی نہیں کہ وہ دھرنا ارینج کروا سکیں یا اس دھرنے کو بنیاد بنا کر حکومت کو گرا سکیں۔
حقیقی چہروں کا ادراک ان کے براہ راست ہو تو بہتر ہوتا ہے کسی سے سُن کر ادراک نہیں ہوا کرتا۔ آپ سیاست سے تائب نہ ہوں بلکہ اس میدان میں وسعت نظری پیدا کریں۔ اپنا مشاہدہ زمینی حقائق کے پیش نظر کریں اور گھٹیا تنقید یا زبان کے جواب میں مثبت تنقید کا طریقہ ہی اپنائے رکھیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ آج کے دور میں دلائل سے کسی کو بھی مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ مچھلی کے لئے پتھر چاٹنا لازم ہے۔ لہذا بلاوجہ کی بحث سے اجتناب کریں۔ آپ کے دلائل کسی کو انہیں ماننے پر مجبور تو کر سکتے ہیں لیکن ایسا ماننا مستقل نہیں ہوتا۔ مستقل وہی ہوتا ہے جو اپنے مشاہدے سے حقیقت تسلیم کرے۔ یہ برادرانہ نصیحتیں ہیں جن کو ماننا یا نہ ماننا آپ کی اپنی مرضی ہے۔ میں مجبور نہیں کروں گا۔ اگر کچھ بُرا لگا ہو تو معذرت۔
 

منقب سید

محفلین
معزز رکن کھسر پھسر کی تفصیلات جاننا چاہ رہے تھے، اسی لیے قبلہ حامد میر دامت برکاتہم کا نام لیا ;)

ہا ا ۔ا ۔ا۔۔۔۔سٹور سٹاپ۔۔۔ اب توگم ہی ہو گیا ہے۔۔:(
دراصل بڑے آستانے کا ذکر کر دینا مزید وضاحتوں سے بچا دیتا ہے۔
پردہ نشینوں کا نام آپ نے بھی نہ لیا۔ ;)
گم نہیں ہوا 7تھ ایونیو میں دفن ہوگیا۔:(
 

arifkarim

معطل
یہ ایک گمراہ کن نظریہ ہے۔ ایسے نظریات سے عمران قوم کو ابھی تک گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بجلی کے بل نا دینا، ہنڈی کے ذریعے پیسے بھجوانے کا مشورہ دینا، ٹیکس نا دینا وغیرہ سب اس کی سول نا فرمانی تحریک کا حصہ تھا جو بری طرح ناکام ہوا۔ اور عمران سمجھدار لوگوں کی نظروں میں ناقابل بھروسہ بن گیا۔
ٹیکس اور ہنڈی سے خود مجھے بھی اختلاف ہے البتہ بجلی کے ضرورت سے زائد بل (70 ارب) سیدھا سیدھا قوم کیساتھ ڈاکہ ہے جسے بہتر کرنا حکومت کا کام ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اپنی نااہلی یعنی بجلی کی چوری کی قیمت عام عوام دے اور دیتی چلی جائے۔ کسی کو تو اس کھلے عام ڈکیتی پر آواز اٹھانی تھی۔ اور ظاہر ہے یہ کام دیگر حریف جماعتوں کے ڈکیٹ یعنی زرداری اینڈ کمپنی کبھی نہیں کریں گے، فرینڈلی اپوزیشن کی وجہ سے :)

اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کو ہر اس سیاستدان سے اختلاف ہے جو ان کے مفادات سے متصادم ہے۔ کاش عوامی طاقت اور کروڑوں ٹائیگرزکی کوشیں رنگ لائیں اور کاش خونی انقلاب کے بنا ہی سب بہتر ہو سکے۔
بہتر۔ آپکے نزدیک اسٹیبلشمنٹ اور بیروکریسی کو عمران سے اسکے جذباتی پن کے علاوہ اور کیا گلا شکوہ ہو سکتا ہے؟ صاف اور شفاف الیکشن کا مطالبہ اگر منظور ہو گیا تو ان دو اداروں کی ملکی سیاست میں ٹانگ اڑائی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہو نے کا امکان موجود ہے۔
 
آخری تدوین:

منقب سید

محفلین
بہتر۔ آپکے نزدیک اسٹیبلشمنٹ اور بیروکریسی کو عمران سے اسکے جذباتی پن کے علاوہ اور کیا گلا شکوہ ہو سکتا ہے؟ صاف اور شفاف الیکشن کا مطالبہ اگر منظور ہو گیا تو ان دو غدار اداروں کی ملکی سیاست میں ٹانگ اڑائی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہو نے کا امکان موجود ہے۔
حضورآپ کے سوالات کا جواب دینے کے لئے مجھے لگتا ہے اسٹیبلیشمنٹ اور بیوروکریسی سے دوبارہ تعلقات بحال کرنے پڑیں گے۔
"دو غدار ادارے"
clear.png
یہ خطاب میرے نزدیک مناسب نہیں ہے باقی سوچ اپنی اپنی۔
ادارے غدار نہیں نہ ہی ان میں موجود سب لوگ غدار ہیں۔ ان اداروں کے پالیسی میکرز یا ان میں موجود چند با اثر افراد کی وجہ سے پورے ادارے کو غدار نہیں کہہ سکتا میں۔
جمہوریت کے اصولوں کے مطابق مناسب الفاظ میں اختلاف رائے کا جملہ حق سب کیلئے محفوظ ہے۔
 

arifkarim

معطل
حضورآپ کے سوالات کا جواب دینے کے لئے مجھے لگتا ہے اسٹیبلیشمنٹ اور بیوروکریسی سے دوبارہ تعلقات بحال کرنے پڑیں گے۔
"دو غدار ادارے"
clear.png
یہ خطاب میرے نزدیک مناسب نہیں ہے باقی سوچ اپنی اپنی۔
ادارے غدار نہیں نہ ہی ان میں موجود سب لوگ غدار ہیں۔ ان اداروں کے پالیسی میکرز یا ان میں موجود چند با اثر افراد کی وجہ سے پورے ادارے کو غدار نہیں کہہ سکتا میں۔
جمہوریت کے اصولوں کے مطابق مناسب الفاظ میں اختلاف رائے کا جملہ حق سب کیلئے محفوظ ہے۔

جزاک اللہ محترم۔ یقیناً ادارے غدار نہیں ہوتے، وہاں پر کام کرنے والے افسران بالا کے کرتوت انہیں بدنام کرتے ہیں۔ آپکی خوشی کی خاطر اپنی پوسٹ میں تدوین کر دی ہے :)
 
ٹیکس اور ہنڈی سے خود مجھے بھی اختلاف ہے البتہ بجلی کے ضرورت سے زائد بل (70 ارب) سیدھا سیدھا قوم کیساتھ ڈاکہ ہے جسے بہتر کرنا حکومت کا کام ہے۔
سول نافرمانی بنیادی طور پر ہی غلط کام ہے۔ اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ضدی بچہ اپنی ضد منوانے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ :)
 

منقب سید

محفلین
جزاک اللہ محترم۔ یقیناً ادارے غدار نہیں ہوتے، وہاں پر کام کرنے والے افسران بالا کے کرتوت انہیں بدنام کرتے ہیں۔ آپکی خوشی کی خاطر اپنی پوسٹ میں تدوین کر دی ہے :)
تدوین کرنے کا شکریہ برادر۔ جس طرح آپ نے میری خوشی کا احترام کیا اللہ آپ کو بھی خوشیاں عطاء فرمائے آمین۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کردار میں آپ کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے حوالے سے اپنا ذاتی تجزیہ آپ کی اجازت سے پی ایم کروں گا انشا اللہ آج کی رات۔
بلکہ اگر آپ مجھے پی ایم پر اجازت دے دیں تو مجھے زیادہ سہولت ہو گی کیوں کہ محفل میں پی ایم کا طریقہ کار مجھے مل نہیں رہا۔
 

عباس اعوان

محفلین
نونیوں کو ڈر ہے کہ اگر عمران کو اختیارات مل گئے تو انکی سیاسی دکانیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جائیں گی۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں اور تحریک انصاف والے اپنا کام کرتے رہیں گے۔
یہی تو وہ اصل مسئلہ ہے جس وجہ سے یہ لوگ عمران و قادری صاحبان کے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں۔
ویسے قابلِ غور بات یہ ہے کہ "اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی حمایت کروں گا جو عوام کی خواہشات کا مظہر ہے"۔۔۔
یہ فقرہ تو بذاتِ خود پینڈوراباکس ہے :)
یہ آئین ہرگز عوامی خواہشات کا مظہر نہیں ہے، اور نہ ہی یہ آئین اسلامی آئین ہے۔
دیکھیے۔۔۔وہ آئین کی حمایت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو کسی سیاسی سرگرمی میں شریک نہیں کرتے ۔
اسی لیے آج تک اس سلسلے کے کسی بھی گدی نشین نے وزیر اعظم بننے کی کوشش نہیں کی ۔ :cool2:
آئین کی مکمل حمایت اس سے بڑھ کر اور بھلا کیاہوگی :battingeyelashes:
یہ لوگ نہ ہوتے تو اس ملک کا حال بھی دیکھ لیتے آپ لوگ۔
آپکے خیال میں حامد میر پر قاتلانہ حملہ انکے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف زہر اگلنے پر انتقامی کاروائی تھی؟ پھر نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ میں کیا فرق ہوا جب دونوں ایک ہی مٹی سے بنے ہیں؟ :)
کون سا قاتلانہ حملہ ؟؟؟
کراچی کے ٹارگٹ کلرز سے تو نشانہ کبھی خطا نہیں ہوا، اور یہاں جس پر الزام لگایا جا رہا ہے ان کا نشانہ چوک گیا، خوب کہی۔
کیا ن ، کیا ق، کیا آپ کی نیا پاکستان وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔بھائی جان۔۔۔سارے ایک ہی مٹی سے بنے ہوئے ہیں بس ماسک جدا جدا ہے۔
کیا فرشتے ڈاؤن لوڈ کیے جائیں پھر ؟؟؟؟
اسیِ ارضِ پاکستان سے خاکسار تلاشنے کی ضرورت ہے۔
 

عباس اعوان

محفلین
تدوین کرنے کا شکریہ برادر۔ جس طرح آپ نے میری خوشی کا احترام کیا اللہ آپ کو بھی خوشیاں عطاء فرمائے آمین۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کردار میں آپ کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے حوالے سے اپنا ذاتی تجزیہ آپ کی اجازت سے پی ایم کروں گا انشا اللہ آج کی رات۔
بلکہ اگر آپ مجھے پی ایم پر اجازت دے دیں تو مجھے زیادہ سہولت ہو گی کیوں کہ محفل میں پی ایم کا طریقہ کار مجھے مل نہیں رہا۔
اگر ہمیں بھی مکالمے میں شامل رکھیں گے تو بہت بہت نوازش ہو گی۔
 

سید زبیر

محفلین
ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں اندازِ خسروانہ
 
حتی ٰ کہ اس استحصالی نظام سے چھٹکارا پانے کی بات اور کوشش بھی کر سکتا ہے
میرے بھائی جمہوری اور سیاسی جدو جہد قانون کے دائرے میں رہ کرنی چاہئے۔ قانون کے دائرے میں رہ کر بھی حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ اور اپنی بات منوائی جاسکتی ہے۔
مجھے ایک مثال یاد آئی بے نظیر کی وزارت عظمی کے دور میں حکومت نے ناموس رسالت قانون میں ترمیم کا ارادہ ظاہر کیا۔ تو ملی یکجہتی کونسل نے اس قانون میں ترمیم کے خلاف ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دے دی۔ جس کے نتیجے میں ہڑتال اتنی کامیاب ہوئی کہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور قانون کو بدلنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
 
یہ آئین ہرگز عوامی خواہشات کا مظہر نہیں ہے، اور نہ ہی یہ آئین اسلامی آئین ہے۔
ایسا نہیں ہے۔ یہی وہ آئین ہے جس نے سارے انتظامی یونٹوں کو ایک لڑی میں پرو کر رکھا ہوا ہے۔ اب بیک جنبش قلم اسے رد نہیں کر سکتے۔ اگر عوام کی اکثریت اس کے خلاف ہوتی تو یہ کب کا دفن ہو چکا ہوتا۔
یہ لوگ نہ ہوتے تو اس ملک کا حال بھی دیکھ لیتے آپ لوگ۔
ان لوگوں کے ہوتے ہوئے ملک کا جو حال ہے وہ بھی تو ہم ہی دیکھ رہے ہیں۔
ملک کو اس حالت پر پہنچانے والے صرف اکیلے سیاستدان ہی تو نہیں۔ طاقت کے دیگر مراکز بھی اتنے ہی شامل ہیں جتنا کوئی اور
کیا فرشتے ڈاؤن لوڈ کیے جائیں پھر ؟؟؟؟
اسیِ ارضِ پاکستان سے خاکسار تلاشنے کی ضرورت ہے۔
نظام مملکت چلانے کے لیے فرشتے دنیا میں کہیں بھی ڈاؤن لوڈ نہیں کیے جا سکتے۔ ایسی خوائش رکھنی بھی نہیں چاہیے۔
کوئی بھی تبدیلی یکدم نہیں آتی، یہ ایک ارتقائی عمل ہے، دھیرے دھیرے کر کے بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ آپ کسی کی گردن پر چھری رکھ کر اس سے وقتی طور پر بہت کچھ منوا سکتے ہیں، لیکن چھوٹتے ہی وہ اپنا بھی اور آپ کا بھی اس سے بڑا نقصان کر دے گا، جس سے بچنے کے لیے آپ نے اس کی گردن پر چھری رکھی تھی۔ ہمارے یہی موجودہ سیاستدان اور ان کے بعد آنے والے لوگ اس نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے خود بخود مجبور ہوتے جائیں گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انھیں اس ارتقائی عمل سے گزرنے کا موقع دیں۔
 

عباس اعوان

محفلین
میرے بھائی جمہوری اور سیاسی جدو جہد قانون کے دائرے میں رہ کرنی چاہئے۔ قانون کے دائرے میں رہ کر بھی حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ اور اپنی بات منوائی جاسکتی ہے۔
مجھے ایک مثال یاد آئی بے نظیر کی وزارت عظمی کے دور میں حکومت نے ناموس رسالت قانون میں ترمیم کا ارادہ ظاہر کیا۔ تو ملی یکجہتی کونسل نے اس قانون میں ترمیم کے خلاف ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دے دی۔ جس کے نتیجے میں ہڑتال اتنی کامیاب ہوئی کہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور قانون کو بدلنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
کونسا قانون، جس میں آمنہ کو انصاف نہ ملے تو وہ خود کو آگ لگا کر خود کشی کر لے ؟ کون سا قانون، جس میں طاقتور ڈرا دھمکا کر ایف آئی آر واپس لینے پر مجبور کردے ؟ کونسا قانون جس میں بغیر پاوے کے آپ اپنی موٹر سائیکل چوری کی ایف آئی آر تک نہیں درج کروا سکتے ؟ کون سا قانون جس میں بیکری نہ کھولنے پر گارڈز سے مار کھلا کر ہڈیاں توڑ دیں، کون سا قانون جس میں ایک بندے کے لیے اڑھائی سو مسافروں کے جہاز کو گھنٹوں لیٹ کر دیا جائے ؟ کونسا قانون جس میں آپ وزیرِ اعظم تو دور کی بات ہے آپ کسی مشیر وغیرہ سے نہیں مل سکتے۔ کونسا قانون جس میں دادا کا شروع کیا ہوا مقدمہ پوتے بھگتیں۔ کونسا قانون جسے کے تحت غریبوں کے بچے بغیر چار دیواری اور ٹاٹ کے سکولوں میں پڑھیں اور امیروں کے بیکن ہاؤس میں۔ کون سا قانون جس کی وجہ سے آج اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کو نسا قانون جو ملک کے لیے کالاباغ جیسا اہم ڈیم بنانے پر کسی حکومت کو مجبور نہیں کر سکتا۔ ملک گیر پہیہ جام ہڑتال جو لاکھوں کروڑوں کی دیہاڑی کو داؤ پر لگا دے، وہ تو جمہوری ہے لیکن ایک شہر کے ایک چھوٹے سے حصے میں دھرنا غیر جمہوری ہے ؟؟
اور کون سے جمہوریت کو آپ بچانے کی بات کر رہے ہیں ؟؟ وہ جمہوریت جس میں جمہور تو کہیں موجود ہے ہی نہیں۔ بس بادشاہت ہی بادشاہت ہے۔
 

عباس اعوان

محفلین
ایسا نہیں ہے۔ یہی وہ آئین ہے جس نے سارے انتظامی یونٹوں کو ایک لڑی میں پرو کر رکھا ہوا ہے۔ اب بیک جنبش قلم اسے رد نہیں کر سکتے۔ اگر عوام کی اکثریت اس کے خلاف ہوتی تو یہ کب کا دفن ہو چکا ہوتا۔
عوام کی اکثریت کو تو یہ بھی نہیں معلوم کے آئین میں شقیں کتنی ہیں، آئین کا کیا خاک علم ہو گا۔ 280 کے قریب جو شقیں آئین میں موجود ہیں، ان کی اکثریت تو صرف یہ بتاتی ہے کہ کون کیسے الیکٹ یا سلیکٹ ہو گا، کس کا تقرر کون اور کیسے کرے گا۔ سارے حکومت بنانے اور حکومت میں رہنے کے گرُ ہیں۔ عوام کے حقوق تو برائے نام ہیں، اور ان پر بھی پورے کا پورا عمل نہیں ہوتا، بلکہ اکثر پر عمل نہیں ہوتا۔
ان لوگوں کے ہوتے ہوئے ملک کا جو حال ہے وہ بھی تو ہم ہی دیکھ رہے ہیں۔
ملک کو اس حالت پر پہنچانے والے صرف اکیلے سیاستدان ہی تو نہیں۔ طاقت کے دیگر مراکز بھی اتنے ہی شامل ہیں جتنا کوئی اور
اگر ہم ان لوگوں اور سیاستدانوں کا اتنا ہی حصہ ڈالیں تو یہ پچاس پچا س فیصد ہوا، ملک کو یہاں تک پہنچانے میں۔
اب ذرا ترقی دلانے والے منصوبے اور پالیسیز کا بھی بتا دیں کہ "ان" لوگوں نے کتنا حصہ ڈالا اور آپ کے سیاستدانوں نے کتنا حصہ ڈالا ؟
نظام مملکت چلانے کے لیے فرشتے دنیا میں کہیں بھی ڈاؤن لوڈ نہیں کیے جا سکتے۔ ایسی خوائش رکھنی بھی نہیں چاہیے۔
کوئی بھی تبدیلی یکدم نہیں آتی، یہ ایک ارتقائی عمل ہے، دھیرے دھیرے کر کے بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ آپ کسی کی گردن پر چھری رکھ کر اس سے وقتی طور پر بہت کچھ منوا سکتے ہیں، لیکن چھوٹتے ہی وہ اپنا بھی اور آپ کا بھی اس سے بڑا نقصان کر دے گا، جس سے بچنے کے لیے آپ نے اس کی گردن پر چھری رکھی تھی۔ ہمارے یہی موجودہ سیاستدان اور ان کے بعد آنے والے لوگ اس نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے خود بخود مجبور ہوتے جائیں گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انھیں اس ارتقائی عمل سے گزرنے کا موقع دیں۔
بھائی اور کتنا دھیرج رکھیں، میاں برادران کو قریباً سات مواقع دے چکے پنجاب اور مرکز میں، ان سے زیادہ کام تو ایک باری میں پرویز الہٰی نے پنجاب میں کر دیا تھا۔ کیا آپ کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ اگر انہوں نے تبدیلی لانی ہوتی تو اب تک لا چکے ہوتے۔ موجود ہ حکومت کا کوئی ایک ہی بڑا کارنامہ بتا دیں، اب یہ نہ کہیے گا کہ دھرنے کی وجہ سے موقع نہیں ملا ورنہ ڈیم بنادیتے۔
 

ابن رضا

لائبریرین
کونسا قانون،۔۔۔۔۔۔ملک گیر پہیہ جام ہڑتال جو لاکھوں کروڑوں کی دیہاڑی کو داؤ پر لگا دے، وہ تو جمہوری ہے لیکن ایک شہر کے ایک چھوٹے سے حصے میں دھرنا غیر جمہوری ہے ؟؟
اور کون سے جمہوریت کو آپ بچانے کی بات کر رہے ہیں ؟؟ وہ جمہوریت جس میں جمہور تو کہیں موجود ہے ہی نہیں۔ بس بادشاہت ہی بادشاہت ہے۔
متفق۔۔۔اِنہی جذبات سے لبریز ایک تحریر نظر سے گزری تو سوچا یہیں شریک کردوں۔۔

مجرمانہ خاموشی
ایک دلگداز تحریر
وہ شخص مفتی صاحب کے کمرے میں داخل ہوا سلام کیا اور مفتی صاحب کے سامنے بیٹھ گیا، مفتی صاحب میرے دو بچے ہیں بیوی ہے اور میں ہوں،یہ مختصر سا کنبہ ہے میرا، کرائے کے گھر میں رہتا ہوں، حالات بہت خراب ہیں بہت تنگدستی ہے مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں کسی طور بھی گھر کا خرچہ پورا نہیں ھوتا رہنمائی فرمائیے کیا کروں؟۔
مفتی صاحب نے روایتی لائن دوھرائی، عیاشیاں ختم کرو اخراجات پر کنٹرول کرو تقویٰ اختیار کرو اور اپنی آمدنی بڑھانے کے لئیے جدوجہد کرو معاملات بہتر ھوجائیں گے انشاءاللہ۔
مفتی صاحب یہاں جائز خواہشات دم توڑ چکی ہیں آپ عیاشی کی بات کر رہے ہیں، اخراجات صرف اتنے ہیں کے روح سے سانس کا رشتہ قائم رہے، میرے گھر میں بھوک ناچ رہی ہے آپ کہہ رہے ہیں کہ میں تقویٰ اختیار کروں، تقویٰ اختیار کرنے کے لئیے پلے کچھہ ھونا ضروری ھوتا ہے کہ میرے پاس ہیں تو دنیا بھر کی نعمتیں مگر میں تقویٰ اختیار کرتے ہوئے انتہائی سادہ زندگی بسر کروں، میرے پاس تو تقویٰ اختیار کرنے کے لئیے بھی کچھہ نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ کا قول ہے کے مفلسی کفر تک لے جاتی ہے۔ بھوکے آدمی کا کوئی مذہب ہی نہیں ھوتا اور آپ مجہے تقوئے کا درس دے رہے ہیں.
صبح منہ اندھیرئے گھر سے نکلتا ہوں اور رات اندھیرئے میں ہی گھر لوٹتا ہوں، سارے دن کی مشقت اس قابل نہیں چھوڑتی کہ کوئی اور کام کر سکوں اور نہ ہی وقت بچتا ہے کسی دوسرے کام کے لئیے، معاشرئے میں بیروزگاری اتنی پھیل چکی ہے کہ مالک سے تنخواہ بڑھانے کے لئیے کہتا ہوں تو وہ کہتا ہے زیادہ نخرئے نہ دکھاو تم سے بھی کم تنخواہ میں لوگ کام کرنے کے لئیے تیار ہیں۔
گورنمنٹ نے کم از کم تنخواہ سات ہزار روپے رکھی ہے مجھے تو پھر بھی دس ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے میں سوچتا ہوں کے جب میرا دس ہزار میں گزارا ممکن نہیں تو سات ہزار روپے ماہوار کمانے والے شخص کے لئیے کیسے ممکن ھوسکتا ہے؟۔ ایک کچی بستی میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، چار ہزار مکان کا کرایہ ہے، بجلی کا کم از کم بل دو ہزار روپے آتا ہے، گیس اور پانی کی مد میں پانچ سو روپے خرچ ھوجاتے ہیں، صرف انتہائی ضروری اشیاء خورد و نوش مہینے کے راشن میں شامل ہوتی ہیں جو کم از کم تین ہزار میں آتی ہیں، ناشتے میں مکھن ڈبل روٹی جیم وغیرہ کھائے ہوئے تو مدت ھوگئی بلکے مجہے اور میری بیوی کو تو اب ذائقہ بھی یاد نہیں کے مکھن اور جیم کا زائقہ کیسا ھوتا ہے، جبکہ مکھن جیم جیلی وغیرہ جیسی پر تعیش چیزیں تو میرئے بچوں نے صرف ٹی وی پر ہی دیکھی ہیں وہ بھی پڑوسی کے گھر میں کہ ٹی وی خریدنے کی میری حیثیت نہیں۔
رات کی باسی روٹی چائے میں ڈبو کر کھا لیتے ہیں دودھہ چینی چائے کی پتی اتنی مہنگی ھوچکی ہیں کے صرف چائے کا وجود ناشتے میں شامل کرنے کے لئیے پندرہ سو روپے ماہوار خرچ کرنا پڑتے ہیں، گھر سے فیکڑی تک جانے میں بس کے کرائے کی مد میں ہر روز پچاس روپے خرچ ھوتے ہیں جو کے تقریباَ پندرہ سو روپے ماہوار بنتے ہیں، پان سگریٹ یا کوئی اور نشہ میں نہیں کرتا۔
(حدیث کا مفہوم ہے کہ) کوئی تمہیں دعوت دے تو تم ضرور جاو، مگر میں تو اس سعادت سے بھی محروم رہتا ہوں کہ کہیں شادی بیاہ میں جاوں تو عزت کا بھرم رکھنے کے لئیے کچھ نہ کچھ تو دینا پڑتا ہے جبکہ میرے پاس دینے کے لئیے صرف دعائیں ہوتی ہیں جو کے آج کے دور میں عزت بچانے کے لئیے ناکافی ہیں۔ مشقت اور مالی پریشانیوں کے باعث ہر وقت ڈپریشن میں رہتا ہوں جس کی وجہ سے شوگر کا مرض ھوگیا ہے جسکا علاج کم از کم دو ہزار روپے مہینہ نگل جاتا ہے۔
حدیث ہے کہ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے، مگر میں تو بچوں کو گلی کے نکڑ والے اسکول میں پڑھاتا ھوں اسکی بھی فیس ماہوار پانچ سو روپے فی بچہ بنتی ہے دو بچوں کے ہزار روپے ماہوار، نصاب اور یونیفارم کا خرچہ الگ ہے، گونمنٹ کے اسکولوں میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی نیت سے بھیجنا بلکل ایسا ہی ہے جیسے بیل سے دودھہ نکالنا، کے وہاں سے بچہ اور تو بہت کچھہ حاصل کرسکتا ہے مگر تعلیم نہیں۔
عید کے عید اپنے بیوی کے اور بچوں کے کپڑے بناتا ہوں کے ہر ماہ یا ہر دو تین ماہ بعد کپڑے خریدنا میری جیسی آمدنی والے کے لئیے عیاشی کے مترادف ہے، موبائل فون میرے پاس نہیں ہے کہ میری دسترس میں ہی نہیں ہے ویسے بھی مجھے اسکی ضرورت محسوس نہیں ھوتی کیوں کے میرے جیسے حالات رکھنے والوں کی خیریت دریافت کرنا کوئی گوارہ نہیں کرتا نہ ہی کسی کو مجھہ سے کوئی کام پڑتا ہے۔ پھل صرف بازاروں میں ہی دیکھتے ہیں ہم، دودھہ جیسی اللہ کی نعمت صرف چائے کے لئیے ہی استعمال کرتے ہیں، گوشت ہمیں صرف بقراء عید کے دنوں میں ہی میسر آتا ہے، بکرے کو تو کبھی بغیر کھال کے دیکھا ہی نہیں میرے بچوں نے۔ دال اور سبزیاں بھی اتنی مہنگی ھوچکی ہیں کے اب تو وہ بھی عیاشی کے زمرے میں آچکی ہیں۔ روز مرہ کے اخراجات جیسے کے سبزی وغیرہ کے لئیے سو روپے روز خرچ ھوجاتے ہیں جو کے مہینے کے تین ہزار بنتے ہیں۔
مفتی صاحب اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کے میرے ان اخراجات میں اصراف کہاں ہے؟ عیاشی کہاں ہے؟ کہاں کا تقویٰ کیسی قناعت؟ ان سارے اخراجات میں ناجائز کیا ہے؟ مفتی صاحب، میری تنخواہ دس ہزار ہے اور یہ جو میں نے آپکو انتہائی جائز اخراجات گنوائے ہیں سالانہ اور ماہوار ملا کر اوسطاَ بیس ہزار روپے مہینہ بنتا ہے جبکہ میری آمدنی دس ہزار روپے مہینہ ہے یعنی ہر ماہ دس ہزار روپے کا فرق، بتائیے یہ فرق کیسے مٹایا جائے؟، آپ نائب رسول ہیں امت کی ذمہداری ہے آپ پر، میں آپ سے سوال کرتا ہوں کے ان حالات میں کیا حکم ہے اسلام کا میرے لئیے؟ اور ان حالات میں بہ حیثیت مذہبی رہنما کیا ذمہ داری بنتی ہے آپکی؟۔
میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اسلامی حدود کب اور کس معاشرے پر نافذ ھوتی ہیں؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ جنکا معاشی نظام آج بیشتر کفار ممالک میں نافذ ہے وہ نظام جس میں انسان تو انسان درختوں تک کا وظیفہ مقرر تھا، وہ نطام تو ہمیں بتاتا ہے کہ حکومت کی ذمہداری ہے کہ اپنے شہری کی جان، مال، عزت، روٹی، روزی، تعلیم، صحت، یعنی تمام بنیادی ضرورتیں انشور کرئے، مگر مجہے گورنمنٹ سے ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نہیں مل رہی۔ قحط کے دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ نے ہاتھ کاٹنے کی سزا معاف کر دی تھی فرمایا کہ جب میں لوگوں کو روٹی نہیں دے سکتا تو مجھے انہیں سزا دینے کا بھی حق نہیں ہے۔ تو اگر ایسے معاشرے میں، میں اپنی جائز ضروریات پوری کرنے کے لئیے یہ دس ہزار روپے ماہوار کا یہ فرق مٹانے کے لئیے کوئی ناجائز زریعہ استعمال کرتا ھوں تو آپ مجھے بتائیں کے اسلام کا کیا حکم ہے میرے لئیے؟ اور بہ حیثیت نائب رسول آپکی کیا ذمہ داری ہےِ؟۔
آپ جیسے سارے مذہبی اکابرین پاکستان کے مختلف شہروں میں ہر سال لاکھوں لوگوں کا اجتماع کرتے ہیں جس میں آپ بعد از مرگ کی زندگی کے بارے میں لوگوں کو بہت تفصیل سے بتاتے ہیں قبر کے عذاب کے بارے میں بتانے ہیں جہنم سے ڈراتے ہیں، مگر یہ جو اٹھارہ کروڑ میں سے 16 کروڑ لوگ زندگی میں جہنم جھیل رہے ہیں انہیں آپ انکے جائز حقوق کے بارے میں آگہی کیوں نہیں دیتے؟ اسلام نے شہری کے لئیے کیا حقوق وضع کیئے ہیں یہ آپ لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے؟ لوگ آپ کے منہ سے نکلی بات کو اہمیت دیتے ہیں اسے اپنے ایمان کا حصہ بناتے ہیں، (سلمان تاثیر کا قاتل ممتاز قادری اسکی زندہ مثال ہے) عوام کے اس اہم مسلے پر جس مسلے پر صحیح معنوں میں ایک عام آدمی کی جنت اور دوزخ کا دارومدار ہے، اس اہم مسلے پر آخر آپ گورنمنٹ کو کوئی ڈیڈ لائن کیوں نہیں دیتے کہ یا تو عوام کو اسلام کے مطابق بنیادی حقوق دو ورنہ ہم ان لاکھوں لوگوں کو لے کر حکومتی اعوانوں میں گھس جائیں گے، میں نہیں مانتا کے آپ سے اتنی محبت کرنے والے لوگ آپکی اس آواز حق پر لبیک نہیں کہیں گے۔
میرا ایمان ہے کے ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں کی مثال سب کے سامنے ہے کے عوام کی بغاوت کے خوف سے کیسے ان ریاستوں کے حکمرانوں نے اپنے عوام کو اربوں ڈالر کے پیکج دئیے ہیں، مجھے پورا یقین ہے کے علماء برادری کا دیا ہوا فتویٰ اور الٹی میٹم ہی کافی ہونگے ان بزدل حکمرانوں کے لئیے۔
کیا آپکی ذمہ داری نہیں بنتی کے آپ حکومت وقت سے مطالبہ کریں کے اسلام کے مطابق کم از کم تنخواہ دس گرام سونے کے برابر ھونی چاہیے، چلیں دس گرام نہیں تو پانچ گرام سونے کے مساوی تنخواہ کا مطالبہ کردیں۔ کیا آپکی ذمہداری نہیں بنتی کہ آپ فتویٰ دیں کے پاکستان جیسے معاشرے میں حدود نافظ العمل نہیں ہیں۔
میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں مفتی صاحب یہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ لوگوں میں سے 16 کروڑ لوگوں کا مسلہ ہے اس پر اپکی یہ مجرمانہ خاموشی آپ کی ذات پر اور آپ کے منصب پر سوالیہ نشان ہے، میں وہ مفلس ہوں جسکے لئیے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ نے فرمایا ہے کہ مفلسی کفر تک لے جاتی ہے، آپ جیسے علماء کے پیچہے کروڑوں لوگ چلتے ہیں آپ کی بات سنتے ہیں اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں لوگوں کا حق بنتا ہے آپ پر کہ آپ لوگوں کے اس بنیادی مسلے پر لب کشائی کریں فتویٰ دیں اور ان حالات میں اگر کوئی اپنی جائز ضروریات پوری کرنے کے لئیے کوئی ناجائز ذریعہ استعمال کرتا ہے تو بتائیں لوگوں کو کے اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟.
یہ سب کہنے کے بعد وہ شخص خاموش ھوگیا اور مفتی صاحب کی طرف دیکھنے لگا، مفتی صاحب بولے تمہاری ہر بات ٹھیک ہے لیکن اب تم مجھ سے کیا چاہتے ھو؟ میں آپ سے فتویٰ چاہتا ہوں کہ ایسے معاشرے میں حدود نافظ نہیں ھوتیں۔ یا تو گورنمنٹ پہلے عام آدمی کو اسلام کے مطابق تمام بنیادی سہولتوں سے آراستہ کرے پھر اگر وہ روزی کمانے کا کوئی ناجائز ذریعہ استعمال کرتا ہے تو اسے سزا کا مرتکب ٹھرائے۔ اگر گورنمنٹ ایسا نہیں کرتی تو عام آدمی اپنی جائز ضروریات پوری کرنے کے لئیے آزاد ہے کے وہ جو بھی زریعہ چاہے استعمال کرے، مفتی صاحب بولے میں ایسا نہیں کرسکتا اسطرح تو معاشرے میں انتشار پھیل جائے گا سارا نظام دھرم بھرم ھوجائے گا انارکی پھیل جائے گی۔
وہ شخص بولا مفتی صاحب 16 کروڑ لوگوں کی زندگی تو اس وقت بھی انتشار کا شکار ہے، انکی زندگی میں انارکی تو اس وقت بھی پھیلی ہوئی ہے، آپ کے فتوے سے تو صرف دس پرسنٹ لوگوں کی زندگی میں انتشار پھیلے گا اور یہ وہ ہی دس پرسنٹ لوگ ہیں جو نوے پرسنٹ کا حق مار رہے ہیں تو اگر آپ کے فتوے سے دس پرسنٹ کی زندگی میں انارکی پھیلتی ہے تو اسکا فائدہ تو نوے پرسنٹ لوگوں کو ملے گا یہ تو گھاٹے کا سودا نہیں ہے، اور ویسے بھی آپکا کام نفع نقصان دیکھنا نہیں، آپکا کام حق اور صحیح کی حمایت کرنا ہے کیا آپکو نہیں لگتا کے آپ کے اور آپ جیسے تمام علماء اور مفتی حضرات کی خاموشی کا فائدہ لٹیروں کو مل رہا ہے؟۔
عام آدمی تو مسلسل تنزلی کا شکار ہورہا ہے وہ نہ دین کا رہا نہ دنیا کا، کبھی غور کیا آپ نے کہ ایک عام پاکستانی کی زندگی کا مقصد ہی صرف دو وقت کی روٹی کا حصول بن چکا ہے، زندگی جیسی قیمتی چیز کو لوگ موت کے حوالے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، سوچیں اس ماں کی ذہنی کیفیت کیا ہوتی ہوگی جو اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو موت کی نیند سلانے پر مجبور ہورہی ہے، عزت دار گھر کی لڑکیاں عصمت فروشی پر مجبور ہوگئی ہیں، جن ننہے ننہے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہییں ان ہاتھوں میں گاڑی کی ونڈ اسکرین صاف کرنے والا وائپر ہے، آپکا سینہ اس وقت غم سے کیوں نہیں پھٹتا جب سخت سرد رات میں دس سال کا معصوم بچہ ابلے ہوئے انڈے بیچ رہا ہوتا ہے؟ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں موبائل فون کی سم فری اور روٹی سات روپے کی ہے، کیا یہ انتشار نہیں ہے؟ کیا یہ انارکی نہیں ہے؟ کیا یہ سب ننگے حقائق آپکا دل دھلانے کے لئیے کافی نہیں ہیں؟ کیا بہ روز حشر آپ اللہ تعالی سے بھی یہ ہی کہیں گے کہ میں نے حق بات اسلئیے نہیں کہی کہ دس پرسنٹ لٹیروں کا نظام زندگی دھرم بھرم ہوجاتا انکی عیاشیاں ختم ہوجاتیں، دے سکیں گے آپ اللہ کے حضور یہ دلیل؟.
میں آپ کے آگے ہاتھہ جوڑ کے التجا کرتا ہوں کے آپ اور آپ جیسے تمام علماء اکرام مفتی حضرات جب سلمان تاثیر کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں، جب سنی حضرات شیعہ حضرات کے خلاف اور شیعہ حضرات سنی حضرات کے خلاف کفر کا فتویٰ دے سکتے ہیں، جب فرقے اور مسلک کے نام پر فتویٰ دے سکتے ہیں، جب فون پر سلام کے بجائے ہیلو کہنے پر فتویٰ دے سکتے ہیں، جب کسی اداکار یا کسی اداکارہ کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں، تو پھر 16 کروڑ لوگوں کے جائز حقوق کے لئیے فتویٰ کیوں نہیں دیا جاسکتا ؟۔
مفتی صاحب بت بنے اسکی باتیں سنتے رہے اس اثناء میں وہ شخص جانے کے لئیے کھڑا ہوگیا اور بولا میرے ہر سوال کا جواب آپکی مجرمانہ خاموشی میں پنہاں ہے۔ بس اب آپ سے اور آپکی علماء برادری سے آخری بات یہ ہی کہوں گا کہ اب بھی اگر آپ لوگوں نے 16 کروڑ عوام کے اس مسلے پر مسجد کے منبر سے آواز حق بلند نہ کی تو ثابت ہوجائے گا کے آپ اور آپکی پوری علماء برادری بھی 16 کروڑ عوام کی تباہی میں برابر کے شریک ہیں آپ بھی ان ہی دس پرسنٹ لٹیروں میں شامل ہیں، آپکو اور آپکی علماء برادری کو بھی 16 کروڑ عوام کے اس اہم اور بنیادی مسلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر برابر کا حصہ مل رہا ہے۔
یاد رکھئیے گا میری بات جس دن بھی عوام کے اندر پکا ہوا یہ لاوا پھٹا اس روز ان دس پرسنٹ مراعات یافتہ لوگوں کے ساتھ ساتھ عوام آپکی بھی پگڑیاں نہیں، سر اچھالے گی۔ اس سے پہلے کہ مفتی صاحب مزید کچھ کہتے وہ شخص کمرے سے جاچکا تھا۔
 
آخری تدوین:

عباس اعوان

محفلین
متفق۔۔۔اِنہی جذبات سے لبریز ایک تحریر نظر سے گزری تو سوچا یہیں شریک کردوں۔۔

مجرمانہ خاموشی
ایک دلگداز تحریر
وہ شخص مفتی صاحب کے کمرے میں داخل ہوا سلام کیا اور مفتی صاحب کے سامنے بیٹھ گیا، مفتی صاحب میرے دو بچے ہیں بیوی ہے اور میں ہوں،یہ مختصر سا کنبہ ہے میرا، کرائے کے گھر میں رہتا ہوں، حالات بہت خراب ہیں بہت تنگدستی ہے مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں کسی طور بھی گھر کا خرچہ پورا نہیں ھوتا رہنمائی فرمائیے کیا کروں؟۔
مفتی صاحب نے روایتی لائن دوھرائی، عیاشیاں ختم کرو اخراجات پر کنٹرول کرو تقویٰ اختیار کرو اور اپنی آمدنی بڑھانے کے لئیے جدوجہد کرو معاملات بہتر ھوجائیں گے انشاءاللہ۔
مفتی صاحب یہاں جائز خواہشات دم توڑ چکی ہیں آپ عیاشی کی بات کر رہے ہیں، اخراجات صرف اتنے ہیں کے روح سے سانس کا رشتہ قائم رہے، میرے گھر میں بھوک ناچ رہی ہے آپ کہہ رہے ہیں کہ میں تقویٰ اختیار کروں، تقویٰ اختیار کرنے کے لئیے پلے کچھہ ھونا ضروری ھوتا ہے کہ میرے پاس ہیں تو دنیا بھر کی نعمتیں مگر میں تقویٰ اختیار کرتے ہوئے انتہائی سادہ زندگی بسر کروں، میرے پاس تو تقویٰ اختیار کرنے کے لئیے بھی کچھہ نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ کا قول ہے کے مفلسی کفر تک لے جاتی ہے۔ بھوکے آدمی کا کوئی مذہب ہی نہیں ھوتا اور آپ مجہے تقوئے کا درس دے رہے ہیں.
صبح منہ اندھیرئے گھر سے نکلتا ہوں اور رات اندھیرئے میں ہی گھر لوٹتا ہوں، سارے دن کی مشقت اس قابل نہیں چھوڑتی کہ کوئی اور کام کر سکوں اور نہ ہی وقت بچتا ہے کسی دوسرے کام کے لئیے، معاشرئے میں بیروزگاری اتنی پھیل چکی ہے کہ مالک سے تنخواہ بڑھانے کے لئیے کہتا ہوں تو وہ کہتا ہے زیادہ نخرئے نہ دکھاو تم سے بھی کم تنخواہ میں لوگ کام کرنے کے لئیے تیار ہیں۔
گورنمنٹ نے کم از کم تنخواہ سات ہزار روپے رکھی ہے مجھے تو پھر بھی دس ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے میں سوچتا ہوں کے جب میرا دس ہزار میں گزارا ممکن نہیں تو سات ہزار روپے ماہوار کمانے والے شخص کے لئیے کیسے ممکن ھوسکتا ہے؟۔ ایک کچی بستی میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، چار ہزار مکان کا کرایہ ہے، بجلی کا کم از کم بل دو ہزار روپے آتا ہے، گیس اور پانی کی مد میں پانچ سو روپے خرچ ھوجاتے ہیں، صرف انتہائی ضروری اشیاء خورد و نوش مہینے کے راشن میں شامل ہوتی ہیں جو کم از کم تین ہزار میں آتی ہیں، ناشتے میں مکھن ڈبل روٹی جیم وغیرہ کھائے ہوئے تو مدت ھوگئی بلکے مجہے اور میری بیوی کو تو اب ذائقہ بھی یاد نہیں کے مکھن اور جیم کا زائقہ کیسا ھوتا ہے، جبکہ مکھن جیم جیلی وغیرہ جیسی پر تعیش چیزیں تو میرئے بچوں نے صرف ٹی وی پر ہی دیکھی ہیں وہ بھی پڑوسی کے گھر میں کہ ٹی وی خریدنے کی میری حیثیت نہیں۔
رات کی باسی روٹی چائے میں ڈبو کر کھا لیتے ہیں دودھہ چینی چائے کی پتی اتنی مہنگی ھوچکی ہیں کے صرف چائے کا وجود ناشتے میں شامل کرنے کے لئیے پندرہ سو روپے ماہوار خرچ کرنا پڑتے ہیں، گھر سے فیکڑی تک جانے میں بس کے کرائے کی مد میں ہر روز پچاس روپے خرچ ھوتے ہیں جو کے تقریباَ پندرہ سو روپے ماہوار بنتے ہیں، پان سگریٹ یا کوئی اور نشہ میں نہیں کرتا۔
(حدیث کا مفہوم ہے کہ) کوئی تمہیں دعوت دے تو تم ضرور جاو، مگر میں تو اس سعادت سے بھی محروم رہتا ہوں کہ کہیں شادی بیاہ میں جاوں تو عزت کا بھرم رکھنے کے لئیے کچھ نہ کچھ تو دینا پڑتا ہے جبکہ میرے پاس دینے کے لئیے صرف دعائیں ہوتی ہیں جو کے آج کے دور میں عزت بچانے کے لئیے ناکافی ہیں۔ مشقت اور مالی پریشانیوں کے باعث ہر وقت ڈپریشن میں رہتا ہوں جس کی وجہ سے شوگر کا مرض ھوگیا ہے جسکا علاج کم از کم دو ہزار روپے مہینہ نگل جاتا ہے۔
حدیث ہے کہ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے، مگر میں تو بچوں کو گلی کے نکڑ والے اسکول میں پڑھاتا ھوں اسکی بھی فیس ماہوار پانچ سو روپے فی بچہ بنتی ہے دو بچوں کے ہزار روپے ماہوار، نصاب اور یونیفارم کا خرچہ الگ ہے، گونمنٹ کے اسکولوں میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی نیت سے بھیجنا بلکل ایسا ہی ہے جیسے بیل سے دودھہ نکالنا، کے وہاں سے بچہ اور تو بہت کچھہ حاصل کرسکتا ہے مگر تعلیم نہیں۔
عید کے عید اپنے بیوی کے اور بچوں کے کپڑے بناتا ہوں کے ہر ماہ یا ہر دو تین ماہ بعد کپڑے خریدنا میری جیسی آمدنی والے کے لئیے عیاشی کے مترادف ہے، موبائل فون میرے پاس نہیں ہے کہ میری دسترس میں ہی نہیں ہے ویسے بھی مجھے اسکی ضرورت محسوس نہیں ھوتی کیوں کے میرے جیسے حالات رکھنے والوں کی خیریت دریافت کرنا کوئی گوارہ نہیں کرتا نہ ہی کسی کو مجھہ سے کوئی کام پڑتا ہے۔ پھل صرف بازاروں میں ہی دیکھتے ہیں ہم، دودھہ جیسی اللہ کی نعمت صرف چائے کے لئیے ہی استعمال کرتے ہیں، گوشت ہمیں صرف بقراء عید کے دنوں میں ہی میسر آتا ہے، بکرے کو تو کبھی بغیر کھال کے دیکھا ہی نہیں میرے بچوں نے۔ دال اور سبزیاں بھی اتنی مہنگی ھوچکی ہیں کے اب تو وہ بھی عیاشی کے زمرے میں آچکی ہیں۔ روز مرہ کے اخراجات جیسے کے سبزی وغیرہ کے لئیے سو روپے روز خرچ ھوجاتے ہیں جو کے مہینے کے تین ہزار بنتے ہیں۔
مفتی صاحب اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کے میرے ان اخراجات میں اصراف کہاں ہے؟ عیاشی کہاں ہے؟ کہاں کا تقویٰ کیسی قناعت؟ ان سارے اخراجات میں ناجائز کیا ہے؟ مفتی صاحب، میری تنخواہ دس ہزار ہے اور یہ جو میں نے آپکو انتہائی جائز اخراجات گنوائے ہیں سالانہ اور ماہوار ملا کر اوسطاَ بیس ہزار روپے مہینہ بنتا ہے جبکہ میری آمدنی دس ہزار روپے مہینہ ہے یعنی ہر ماہ دس ہزار روپے کا فرق، بتائیے یہ فرق کیسے مٹایا جائے؟، آپ نائب رسول ہیں امت کی ذمہداری ہے آپ پر، میں آپ سے سوال کرتا ہوں کے ان حالات میں کیا حکم ہے اسلام کا میرے لئیے؟ اور ان حالات میں بہ حیثیت مذہبی رہنما کیا ذمہ داری بنتی ہے آپکی؟۔
میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اسلامی حدود کب اور کس معاشرے پر نافذ ھوتی ہیں؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ جنکا معاشی نظام آج بیشتر کفار ممالک میں نافذ ہے وہ نظام جس میں انسان تو انسان درختوں تک کا وظیفہ مقرر تھا، وہ نطام تو ہمیں بتاتا ہے کہ حکومت کی ذمہداری ہے کہ اپنے شہری کی جان، مال، عزت، روٹی، روزی، تعلیم، صحت، یعنی تمام بنیادی ضرورتیں انشور کرئے، مگر مجہے گورنمنٹ سے ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نہیں مل رہی۔ قحط کے دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ نے ہاتھ کاٹنے کی سزا معاف کر دی تھی فرمایا کہ جب میں لوگوں کو روٹی نہیں دے سکتا تو مجھے انہیں سزا دینے کا بھی حق نہیں ہے۔ تو اگر ایسے معاشرے میں، میں اپنی جائز ضروریات پوری کرنے کے لئیے یہ دس ہزار روپے ماہوار کا یہ فرق مٹانے کے لئیے کوئی ناجائز زریعہ استعمال کرتا ھوں تو آپ مجھے بتائیں کے اسلام کا کیا حکم ہے میرے لئیے؟ اور بہ حیثیت نائب رسول آپکی کیا ذمہ داری ہےِ؟۔
آپ جیسے سارے مذہبی اکابرین پاکستان کے مختلف شہروں میں ہر سال لاکھوں لوگوں کا اجتماع کرتے ہیں جس میں آپ بعد از مرگ کی زندگی کے بارے میں لوگوں کو بہت تفصیل سے بتاتے ہیں قبر کے عذاب کے بارے میں بتانے ہیں جہنم سے ڈراتے ہیں، مگر یہ جو اٹھارہ کروڑ میں سے 16 کروڑ لوگ زندگی میں جہنم جھیل رہے ہیں انہیں آپ انکے جائز حقوق کے بارے میں آگہی کیوں نہیں دیتے؟ اسلام نے شہری کے لئیے کیا حقوق وضع کیئے ہیں یہ آپ لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے؟ لوگ آپ کے منہ سے نکلی بات کو اہمیت دیتے ہیں اسے اپنے ایمان کا حصہ بناتے ہیں، (سلمان تاثیر کا قاتل ممتاز قادری اسکی زندہ مثال ہے) عوام کے اس اہم مسلے پر جس مسلے پر صحیح معنوں میں ایک عام آدمی کی جنت اور دوزخ کا دارومدار ہے، اس اہم مسلے پر آخر آپ گورنمنٹ کو کوئی ڈیڈ لائن کیوں نہیں دیتے کہ یا تو عوام کو اسلام کے مطابق بنیادی حقوق دو ورنہ ہم ان لاکھوں لوگوں کو لے کر حکومتی اعوانوں میں گھس جائیں گے، میں نہیں مانتا کے آپ سے اتنی محبت کرنے والے لوگ آپکی اس آواز حق پر لبیک نہیں کہیں گے۔
میرا ایمان ہے کے ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں کی مثال سب کے سامنے ہے کے عوام کی بغاوت کے خوف سے کیسے ان ریاستوں کے حکمرانوں نے اپنے عوام کو اربوں ڈالر کے پیکج دئیے ہیں، مجھے پورا یقین ہے کے علماء برادری کا دیا ہوا فتویٰ اور الٹی میٹم ہی کافی ہونگے ان بزدل حکمرانوں کے لئیے۔
کیا آپکی ذمہ داری نہیں بنتی کے آپ حکومت وقت سے مطالبہ کریں کے اسلام کے مطابق کم از کم تنخواہ دس گرام سونے کے برابر ھونی چاہیے، چلیں دس گرام نہیں تو پانچ گرام سونے کے مساوی تنخواہ کا مطالبہ کردیں۔ کیا آپکی ذمہداری نہیں بنتی کہ آپ فتویٰ دیں کے پاکستان جیسے معاشرے میں حدود نافظ العمل نہیں ہیں۔
میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں مفتی صاحب یہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ لوگوں میں سے 16 کروڑ لوگوں کا مسلہ ہے اس پر اپکی یہ مجرمانہ خاموشی آپ کی ذات پر اور آپ کے منصب پر سوالیہ نشان ہے، میں وہ مفلس ہوں جسکے لئیے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ نے فرمایا ہے کہ مفلسی کفر تک لے جاتی ہے، آپ جیسے علماء کے پیچہے کروڑوں لوگ چلتے ہیں آپ کی بات سنتے ہیں اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں لوگوں کا حق بنتا ہے آپ پر کہ آپ لوگوں کے اس بنیادی مسلے پر لب کشائی کریں فتویٰ دیں اور ان حالات میں اگر کوئی اپنی جائز ضروریات پوری کرنے کے لئیے کوئی ناجائز ذریعہ استعمال کرتا ہے تو بتائیں لوگوں کو کے اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟.
یہ سب کہنے کے بعد وہ شخص خاموش ھوگیا اور مفتی صاحب کی طرف دیکھنے لگا، مفتی صاحب بولے تمہاری ہر بات ٹھیک ہے لیکن اب تم مجھ سے کیا چاہتے ھو؟ میں آپ سے فتویٰ چاہتا ہوں کہ ایسے معاشرے میں حدود نافظ نہیں ھوتیں۔ یا تو گورنمنٹ پہلے عام آدمی کو اسلام کے مطابق تمام بنیادی سہولتوں سے آراستہ کرے پھر اگر وہ روزی کمانے کا کوئی ناجائز ذریعہ استعمال کرتا ہے تو اسے سزا کا مرتکب ٹھرائے۔ اگر گورنمنٹ ایسا نہیں کرتی تو عام آدمی اپنی جائز ضروریات پوری کرنے کے لئیے آزاد ہے کے وہ جو بھی زریعہ چاہے استعمال کرے، مفتی صاحب بولے میں ایسا نہیں کرسکتا اسطرح تو معاشرے میں انتشار پھیل جائے گا سارا نظام دھرم بھرم ھوجائے گا انارکی پھیل جائے گی۔
وہ شخص بولا مفتی صاحب 16 کروڑ لوگوں کی زندگی تو اس وقت بھی انتشار کا شکار ہے، انکی زندگی میں انارکی تو اس وقت بھی پھیلی ہوئی ہے، آپ کے فتوے سے تو صرف دس پرسنٹ لوگوں کی زندگی میں انتشار پھیلے گا اور یہ وہ ہی دس پرسنٹ لوگ ہیں جو نوے پرسنٹ کا حق مار رہے ہیں تو اگر آپ کے فتوے سے دس پرسنٹ کی زندگی میں انارکی پھیلتی ہے تو اسکا فائدہ تو نوے پرسنٹ لوگوں کو ملے گا یہ تو گھاٹے کا سودا نہیں ہے، اور ویسے بھی آپکا کام نفع نقصان دیکھنا نہیں، آپکا کام حق اور صحیح کی حمایت کرنا ہے کیا آپکو نہیں لگتا کے آپ کے اور آپ جیسے تمام علماء اور مفتی حضرات کی خاموشی کا فائدہ لٹیروں کو مل رہا ہے؟۔
عام آدمی تو مسلسل تنزلی کا شکار ہورہا ہے وہ نہ دین کا رہا نہ دنیا کا، کبھی غور کیا آپ نے کہ ایک عام پاکستانی کی زندگی کا مقصد ہی صرف دو وقت کی روٹی کا حصول بن چکا ہے، زندگی جیسی قیمتی چیز کو لوگ موت کے حوالے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، سوچیں اس ماں کی ذہنی کیفیت کیا ہوتی ہوگی جو اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو موت کی نیند سلانے پر مجبور ہورہی ہے، عزت دار گھر کی لڑکیاں عصمت فروشی پر مجبور ہوگئی ہیں، جن ننہے ننہے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہییں ان ہاتھوں میں گاڑی کی ونڈ اسکرین صاف کرنے والا وائپر ہے، آپکا سینہ اس وقت غم سے کیوں نہیں پھٹتا جب سخت سرد رات میں دس سال کا معصوم بچہ ابلے ہوئے انڈے بیچ رہا ہوتا ہے؟ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں موبائل فون کی سم فری اور روٹی سات روپے کی ہے، کیا یہ انتشار نہیں ہے؟ کیا یہ انارکی نہیں ہے؟ کیا یہ سب ننگے حقائق آپکا دل دھلانے کے لئیے کافی نہیں ہیں؟ کیا بہ روز حشر آپ اللہ تعالی سے بھی یہ ہی کہیں گے کہ میں نے حق بات اسلئیے نہیں کہی کہ دس پرسنٹ لٹیروں کا نظام زندگی دھرم بھرم ہوجاتا انکی عیاشیاں ختم ہوجاتیں، دے سکیں گے آپ اللہ کے حضور یہ دلیل؟.
میں آپ کے آگے ہاتھہ جوڑ کے التجا کرتا ہوں کے آپ اور آپ جیسے تمام علماء اکرام مفتی حضرات جب سلمان تاثیر کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں، جب سنی حضرات شیعہ حضرات کے خلاف اور شیعہ حضرات سنی حضرات کے خلاف کفر کا فتویٰ دے سکتے ہیں، جب فرقے اور مسلک کے نام پر فتویٰ دے سکتے ہیں، جب فون پر سلام کے بجائے ہیلو کہنے پر فتویٰ دے سکتے ہیں، جب کسی اداکار یا کسی اداکارہ کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں، تو پھر 16 کروڑ لوگوں کے جائز حقوق کے لئیے فتویٰ کیوں نہیں دیا جاسکتا ؟۔
مفتی صاحب بت بنے اسکی باتیں سنتے رہے اس اثناء میں وہ شخص جانے کے لئیے کھڑا ہوگیا اور بولا میرے ہر سوال کا جواب آپکی مجرمانہ خاموشی میں پنہاں ہے۔ بس اب آپ سے اور آپکی علماء برادری سے آخری بات یہ ہی کہوں گا کہ اب بھی اگر آپ لوگوں نے 16 کروڑ عوام کے اس مسلے پر مسجد کے منبر سے آواز حق بلند نہ کی تو ثابت ہوجائے گا کے آپ اور آپکی پوری علماء برادری بھی 16 کروڑ عوام کی تباہی میں برابر کے شریک ہیں آپ بھی ان ہی دس پرسنٹ لٹیروں میں شامل ہیں، آپکو اور آپکی علماء برادری کو بھی 16 کروڑ عوام کے اس اہم اور بنیادی مسلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر برابر کا حصہ مل رہا ہے۔
یاد رکھئیے گا میری بات جس دن بھی عوام کے اندر پکا ہوا یہ لاوا پھٹا اس روز ان دس پرسنٹ مراعات یافتہ لوگوں کے ساتھ ساتھ عوام آپکی بھی پگڑیاں نہیں، سر اچھالے گی۔ اس سے پہلے کہ مفتی صاحب مزید کچھ کہتے وہ شخص کمرے سے جاچکا تھا۔
چند جُملے انتہائی تلخ تھے، مگر حقیقت بھی ان سے قریب ہی ہے
ایک چشم کشا تحریر، اشتراک کا بہت بہت شکریہ برادر
 
کونسا قانون، جس میں آمنہ کو انصاف نہ ملے تو وہ خود کو آگ لگا کر خود کشی کر لے ؟ کون سا قانون، جس میں طاقتور ڈرا دھمکا کر ایف آئی آر واپس لینے پر مجبور کردے ؟ کونسا قانون جس میں بغیر پاوے کے آپ اپنی موٹر سائیکل چوری کی ایف آئی آر تک نہیں درج کروا سکتے ؟ کون سا قانون جس میں بیکری نہ کھولنے پر گارڈز سے مار کھلا کر ہڈیاں توڑ دیں، کون سا قانون جس میں ایک بندے کے لیے اڑھائی سو مسافروں کے جہاز کو گھنٹوں لیٹ کر دیا جائے ؟ کونسا قانون جس میں آپ وزیرِ اعظم تو دور کی بات ہے آپ کسی مشیر وغیرہ سے نہیں مل سکتے۔ کونسا قانون جس میں دادا کا شروع کیا ہوا مقدمہ پوتے بھگتیں۔ کونسا قانون جسے کے تحت غریبوں کے بچے بغیر چار دیواری اور ٹاٹ کے سکولوں میں پڑھیں اور امیروں کے بیکن ہاؤس میں۔ کون سا قانون جس کی وجہ سے آج اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کو نسا قانون جو ملک کے لیے کالاباغ جیسا اہم ڈیم بنانے پر کسی حکومت کو مجبور نہیں کر سکتا۔
اور کون سے جمہوریت کو آپ بچانے کی بات کر رہے ہیں ؟؟ وہ جمہوریت جس میں جمہور تو کہیں موجود ہے ہی نہیں۔ بس بادشاہت ہی بادشاہت ہے۔
جو خرابیاں آپ نے گنوائی ہیں وہ نظام کی خرابیاں ہیں۔ نظام کو نواز نے سوا سال میں خراب نہیں کیا البتہ اس نظام کی اصلاح حکومت کا فرض ضرور ہے۔
نطام کی اصلاح آپ مزید لاقانونیت پھیلا کر نہیں کر سکتے۔ اس سے محض انارکی میں اضافہ ہوگا میرے بھائی فائدہ کچھ بھی نہیں۔
ملک گیر پہیہ جام ہڑتال جو لاکھوں کروڑوں کی دیہاڑی کو داؤ پر لگا دے، وہ تو جمہوری ہے لیکن ایک شہر کے ایک چھوٹے سے حصے میں دھرنا غیر جمہوری ہے ؟؟
وہ ہڑتال جس میں لوگ اپنی مرضی سے شرکت کریں وہ غیر قانونی نہیں ہوتی۔ دھرنا غیر قانونی نہیں مگر سول نافرمانی کی تحریک غیر قانونی ہے۔ ایسے ہی ریاستی اداروں پر حملہ غیرقانونی ۔
 

عباس اعوان

محفلین
جو خرابیاں آپ نے گنوائی ہیں وہ نظام کی خرابیاں ہیں۔ نظام کو نواز نے سوا سال میں خراب نہیں کیا البتہ اس نظام کی اصلاح حکومت کا فرض ضرور ہے۔
نطام کی اصلاح آپ مزید لاقانونیت پھیلا کر نہیں کر سکتے۔ اس سے محض انارکی میں اضافہ ہوگا میرے بھائی فائدہ کچھ بھی نہیں۔
سات باریوں میں نظام کی اصلاح نہیں کر سکے تو یہ لوگ آئند ہ کب کریں گے ؟ نجانے آپ یہ بات کب جانیں گے کہ اس نظام کی اصلاح ہو بھی جائے تو کوئی بہت بڑا فائدہ نہیں ہے۔
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/ﮐﻠﻤﮧ-ﭘﮍﮬﺎ-ﮨﻮﺍ-ﮨﮯ.78573/
چلیں تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ دھرنا صحیح طریقہ نہیں ہے نظام کی اصلاح کا، آپ یہ بتا دیں کہ پی پی اور ن لیگ کے پاس کون سی گیڈر سنگھی ہے جو آپ انہیں باریوں پر باریاں دیے جا رہے ہیں ؟؟؟؟
وہ ہڑتال جس میں لوگ اپنی مرضی سے شرکت کریں وہ غیر قانونی نہیں ہوتی۔ دھرنا غیر قانونی نہیں مگر سول نافرمانی کی تحریک غیر قانونی ہے۔ ایسے ہی ریاستی اداروں پر حملہ غیرقانونی ۔
پی ٹی آئی دھرنے میں کوئی بندوق کے ڈر سے نہیں بیٹھا ہوا، اور نہ ہی لاہور، سرگودھا، میانوالی، ملتان وغیرہ میں آنے والے لوگ جنرل پاشا کے کزن تھے، سب کے سب اپنی مرضی سے آئے اور بیٹھے ہیں۔ آپ ماشا اللہ تعالیٰ بجلی کا بل بخوبی ادا کر سکتے ہیں، اس بیوہ کی خبر سُن کر آپ کو ترس نہیں آیا جس کا بل تیس ہزار روپے آ یا اور وہ خود کُشی کر گئی۔ عمران خان بھی بل ادا کر سکتا ہے، لیکن عوام میں سکت نہیں۔ کس قانون کے تحت آپ سول نافرمانی کو غیر قانونی کہہ رہے ہیں، اوپر میں نے اس قانون کی چند جھلکیاں آپ کو دکھائی ہیں، جو اس وقت ملک میں نافذ ہے۔
ریاستی اداروں پر حملہ بالکل اچھی بات نہیں ہے جیسا کہ ماضی میں سپریم کورٹ پر کیا گیا۔ لیکن یہ ادارے عوام کے لیے بنائے گئے ہیں، عوام کی خدمت نہیں کرتے تو ان کا وجود بے معنی ہے۔
 
آخری تدوین:
Top