برادر مزمل ۔ فاعلتن بھی کوئی حصہ ہوتا ہے کیا ؟
شاید کہیں یاد پڑتا ہے۔ نہ جانے کہاں ۔۔۔ کوئی وضاحت اگر ہو تو خوب ہو ۔مثلا"
گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ
وائے وہ رہرو کہ ہے ، منتظرِ راحلہ
فاعلتن فاعلن ۔ فاعلتن فاعلن

جی یہ بھی رکن ہے۔ البتہ عروض میں اسے فاعلتن نہیں بلکہ مُفتَعِلُن لکھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ رمل سے نہیں بلکہ رجز سے آیا ہے۔
غالب کی ایک بہت ہی مشہور غزل:
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
روئیں گے ہم ہزار بار۔۔۔۔الخ
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
 
جی یہ بھی رکن ہے۔ البتہ عروض میں اسے فاعلتن نہیں بلکہ مُفتَعِلُن لکھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ رمل سے نہیں بلکہ رجز سے آیا ہے۔
غالب کی ایک بہت ہی مشہور غزل:
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
روئیں گے ہم ہزار بار۔۔۔ ۔الخ
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
یہ تو چھ حرفی کہلائے گا یا سات حرفی رکن میں کاٹ پیٹ ہوئی ہے؟
 
مزمل شیخ بسمل بھائی! براہِ مہربانی مثنوی اور قطعہ کی تعریف آسان انداز میں بتائیے، مجھے شوقِ شاعری میں شامل کرنی ہے۔ جزاکم اللہ خیرا۔

مختصر اور آسان عرض کروں تو:
مثنوی ایسی نظم یا ایسے اشعار ہیں جس کے دو مصرعے ہم قافیہ ہوں۔ ہر شعر کا اپنا قافیہ ہو اور ہر شعر کا قافیہ دوسرے سے جدا ہو۔

قطعہ سے مراد وہ دو، یا چند اشعار جو ایک مکمل مطلب رکھتے ہوں۔ یعنی بغیر مکمل قطعہ پڑھے ایک شعر کا مطلب سمجھ نہ آسکے، ایسے اشعار قطعہ کہلاتے ہیں۔
قطعہ کا مفہوم آجکل تھوڑا بدل گیا ہے، گو کہ پہلے کچھ اور تھا۔ پہلے قطعہ کی شرط یہ تھی کہ اس میں مطلع نہیں ہوگا، قطعہ غزل کے درمیان یا اس کا حصہ نہیں ہوگا۔ وغیرہ۔ لیکن اب قطعہ غزل کے درمیان بھی ہوتا ہے، اس میں مطلع بھی آ جاتا ہے۔ اور آج قطعہ کو صرف چار مصرعوں تک محدود کردیا گیا ہے جبکہ پہلے ایسی کوئی شرط نہیں تھی۔ سیکڑوں اشعار بھی قطعہ ہوتے تھے۔ مختصر یہ کہ ایک سے زائد ایسے اشعار جو مکمل پابند نظم تو نہ ہوں مگر ایک دوسرے سے ایسا تعلق رکھتے ہوں کے ایک شعر سے مطلب واضح نہ ہوتا ہو، بلکہ آدھی بات ایک شعر میں، اور آدھی دوسرے شعر میں کہی گئی ہو۔ ایسے اشعار قطعہ کہلاتے ہیں۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
پورا شعر اور شاعر کا نام درکار ہے؟
مزمل شیخ بسمل
مہدی نقوی حجاز
سید عاطف علی
وہ آئے بزم میں ،اتنا تو میر نے دیکھا۔۔۔
میر کا پورا نا م بتاؤں؟۔ویسے اس کا کوئی حوالہ فراہم نہیں کر سکتا۔ محض یاد داشت کی بیناد پر لکھ دیا۔آداب۔
 
وہ آئے بزم میں ،اتنا تو میر نے دیکھا۔۔۔
میر کا پورا نا م بتاؤں؟۔ویسے اس کا کوئی حوالہ فراہم نہیں کر سکتا۔ محض یاد داشت کی بیناد پر لکھ دیا۔آداب۔
وہ آئے بزم میں اتنا تو برقؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
برقؔ لکھنوی
مدرک کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا! :)
ائمۂ ثلاثہ کے اقوالِ ثلاثہ۔:)
 
ویسے اگر دو ائمہ کا اختلاف محض تخلص پر ہی ہے تو پھر یہ اختلاف مٹانے کے لیے تیسرا حقیر اس شعر کو یوں کر دیتا ہے:
وہ آئے بزم میں اتنا حجازؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
:) :)
اب پتا نہیں برقِ میر حجاز پر گری ہے یا برق میرِ حجاز بنا تھا۔:)
 

سید عاطف علی

لائبریرین
قطعہ تو عموماً غزل (یا قصیدے ) کا حصہ (قطعہ) ہوتا ہے جس میں غزل کی پوری شروط نہ پائی جائیں۔ لیکن جزوی پائی جایئں۔مثلاً مطلع مقطع نہ ہونا وغیرہ ۔
جبکہ رباعی کی شروط میں ہے کے پہلا دورسرا اور چوتھا مصرع میں قافیہ اور ردیف بھی پابند ہو۔۔اکثر ماہرین کے نزدیک اوزان بھی متعین ہیں جن کی تعداد میں کل چوبیس ہیں جو ایک ہی رباعی میں جمع کیے جاسکتے ہیں۔
ان ہی ماہرین کی نظر میں ان چوبیس بحور کے علاوہ کہی گئی رباعی در حقیقت رباعی ہی نہیں۔اسن بحور او راوزان کی کی بحث قدرے پیچیدہ ہے ۔اور سب لاحول ولا قوۃ الا باللہ کےقریب قریب ہیں۔
 
Top