محمد وارث

لائبریرین
اہلی کدورتے کہ تو داری ز خامی است
عاشق شو و چو شمع بسوز و صفا ببیں


اہلی شیرازی

اے اہلی تیرے دل میں جو کدورتیں (اور میل) ہیں وہ تیری خامی (نا پختگی) کی وجہ سے ہیں، عاشق ہو جا اور شمع کی طرح جل جا اور پھر صفائی اور شفاف پن دیکھ۔
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
گر جان روَدم ز تن، نخواهم مُردن
ور خاک شود بدن، نخواهم مُردن
گویند: علی قُلی بِمُرد! این غلط است
اوهامِ تو مُرد، من نخواهم مُردن
(علی قُلی خان واله داغستانی)

اگرچہ میرے تن سے جان چلی جائے، میں نہیں مروں گا۔۔۔ اور اگرچہ میرا بدن خاک ہو جائے، میں نہیں مروں گا۔۔۔ کہیں گے: "علی قُلی مر گیا!" یہ غلط ہے۔۔۔۔ تمہارا وہم مرا ہے، میں نہیں مروں گا۔
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
غیر از دلِ شوریده که غم‌خوارِ من است
بر هر سرِ گُل که پا نهم خارِ من است
ای کاش به خوابِ جاودان می‌رفتم
بیداریِ من مایهٔ آزارِ من است
(محمد مهدی فولادوَند)

[میرے] دلِ شوریدہ کے بجز، کہ جو میرا غمخوار ہے، میں جس بھی گُل کے سر پر پاؤں رکھوں، میرے لیے [مثلِ] خار ہے؛ اے کاش میں ابدی نیند میں چلا جاتا۔۔۔ میری بیداری میرے لیے مایۂ آزار ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
آخر به که گویم غمِ حیرانیِ خویش
درماندگیِ حال و پریشانیِ خویش
هرچند که دانشم فزون‌تر گردید
آگاه شدم بیش به نادانیِ خویش
(محمد مهدی فولادوَند)
آخر میں کس سے خود کی حیرانی کا غم کہوں؟۔۔۔ [اور کس سے] خود کی کی درماندگی اور خود کی پریشانی [کہوں؟]۔۔۔۔ ہرچند کہ میری دانش میں اضافہ ہو گیا [لیکن] میں خود کی نادانی سے مزید آگاہ ہو گیا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
بر بربطِ شکستهٔ من نغمه‌ای نمانْد
ای دستِ روزگار دگر سِیلی‌ام مزن
(محمد مهدی فولادوَند)
میری بربطِ شکستہ پر کوئی نغمہ [باقی] نہیں رہا؛ اے دستِ زمانہ! مجھے اب مزید طمانچہ مت مارو۔
× بَربَط = ایک ساز کا نام
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
شاعر نبُود اجیرِ فرمانِ کسی
آزاده کجاست زیرِ فرمانِ کسی!
آن کس که امیر است در اقلیمِ خیال
هرگز نبُوَد اسیرِ فرمانِ کسی!
(محمد مهدی فولادوَند)

شاعر کسی کے فرمان کا اُجرت خور نہیں ہوتا۔۔۔ [شخصِ] آزادہ کہاں کسی کے زیرِ فرمان ہوتا ہے! جو شخص قلمروِ خیال میں فرماں روا ہے، وہ ہرگز کسی کے فرمان کا اسیر نہیں ہوتا!
 

حسان خان

لائبریرین
'تصویرِ نو' و 'وزنِ کهن'، 'معنیِ باریک'
این هر سه اگر جمع کنی شاعرِ عصری!
(محمد مهدی فولادوَند)

'تصویرِ نو'، 'وزنِ کُہن'، اور 'معنیِ باریک'۔۔۔ اگر تم اِن ہر تین [چیزوں] کو جمع کر لو تو شاعرِ عصر ہو!
 

حسان خان

لائبریرین
شعرِ 'باقی' دگر و قصهٔ فانی دگر است
هان مپِندار که هر یاوه‌سرایی هنر است
(محمد مهدی فولادوَند)

شعرِ 'جاوداں' دیگر اور قصۂ فانی دیگر ہے۔۔۔ ہاں یہ گمان مت کرو کہ ہر یاوہ سرائی ہُنر ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
از خمارِ زُہد و تقویٰ سر مرا باشد تہی
من کہ از خمخانۂ وحدت ہمی نوشم شراب


شیخ شرف الدین پانی پتی
(معروف بہ بُو علی قلندر)

میرا سر زُہد اور تقوے کے خمار سے خالی ہے، کیونکہ میں خمخانۂ وحدت سے شراب پیتا ہوں۔
 
Гар ғамшарики моӣ, мо низ ғамшарикем
Гар ту ғаме надорӣ, мо низ ғам надорем
(Лоиқ Шералӣ)

گر غم‌شریکِ مایی، ما نیز غم‌شریکیم
گر تو غمی نداری، ما نیز غم نداریم
(لایق شیرعلی)

اگر تو ہمارا غم‌شریک ہے، ہم بھی تیرے غم‌شریک ہیں۔اگر تجھے کوئی غم نہیں ہے، ہمیں بھی کوئی غم نہیں ہے۔
 
مجھے آپ تمام دوستوں کی منتخب کردہ شاعری بہت ہی پسند ہے
پہلے میں یہاں صرف چیدہ چیدہ اشعار کی خاطر آیا کرتا تھا مگر یہاں کے احباب کی ایک دوسرے سے گفتگو بھی بہت پسند آئ اس لئے یہاں کی رکنیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا میں نے
 
مجھے آپ تمام دوستوں کی منتخب کردہ شاعری بہت ہی پسند ہے
پہلے میں یہاں صرف چیدہ چیدہ اشعار کی خاطر آیا کرتا تھا مگر یہاں کے احباب کی ایک دوسرے سے گفتگو بھی بہت پسند آئ اس لئے یہاں کی رکنیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا میں نے
ماشاء اللہ الیاس بھائی۔کلک کریں اور اپنا تعارف محفل میں پیش کریں۔
 

حسان خان

لائبریرین
سُنّی نه‌ای، شیعه نه‌ای، آخر زُبیده تو که‌ای
در حیرتم در جنگِ دین با که شُمارِ تو کنم
(زُبیده صدّیقی)

تم سُنّی نہیں ہو، تم شیعہ نہیں ہو، آخر اے زیبدہ تم کون ہو؟۔۔۔ میں حیرت میں ہوں کہ جنگِ دین میں تمہارا شُمار کس کے ساتھ کروں۔

× شاعرہ کا تعلق پاکستان سے تھا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ز اشکِ بیکسی دریائے رحمت را بجوش آرم
اگر در روزِ محشر درمیاں آید حسابِ من


چندر بھان برہمن

میں اپنی بیکسی کے اشکوں سے رحمت کے دریا کو جوش میں لے آؤں گا، اگر محشر کے دن میرے حساب کتاب کا معاملہ در پیش آیا تو (یعنی اگر حساب سے پہلے ہی نہ بخشا گیا تو)۔
 

حسان خان

لائبریرین
گوشم شنید قصهٔ ایمان و مست شد
کو قِسمِ چشم، صورتِ ایمانم آرزوست
(مولانا جلال‌الدین رومی)
میرے گوش نے ایمان کا قصّہ سنا اور مست ہو گیا۔۔۔ چشم کا حصّہ کہاں ہے؟ مجھے [اب] ایمان کی صورت [دیکھنے] کی آرزو ہے۔۔۔
× گوش = کان
 

حسان خان

لائبریرین
پاکستانی شاعر سید صفی حیدر رضوی 'دانش' اپنی نظم 'خطاب به برادرانِ ایرانی' میں کہتے ہیں:
رومی و فردوسی و خیّام و عطّار و کلیم

قسمتِ ما شد چه گُل‌ها از گلستانِ شما
(سید صفی حیدر رضوی 'دانش')
رومی و فردوسی و خیّام و عطّار و کلیم ۔۔۔ آپ کے گلستان میں سے کیسے کیسے گُل ہمارے نصیب میں آئے ہیں۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
چو بِگْذری قدمی بر دو چشمِ من بِگْذار
قیاس کن که منَت از شُمارِ خاکِ درم
(ادیب پیشاوری)

جب تم گذرو تو میری دو چشموں پر ذرا قدم رکھنا۔۔۔ قیاس کرنا کہ میرا شُمار تمہارے در کی خاک میں ہوتا ہے۔۔۔
 

حسان خان

لائبریرین
گرفت عرصهٔ عالَم جمالِ طلعتِ دوست
به هر کجا که روَم آن جمال می‌نِگَرم
(ادیب پیشاوری)

میدانِ عالَم کو چہرۂ دوست کے جمال نے تصرُّف میں لے لیا۔۔۔ میں جہاں بھی جاؤں، مجھے وہ جمال نظر آتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
بِکُشت غمزهٔ خون‌ریزِ تو مرا صد بار
من از خیالِ لبِ جان‌فزات زنده‌ترم
(ادیب پیشاوری)
تمہارے غمزۂ خوں ریز نے مجھے صد بار قتل کر دیا۔۔۔ [لیکن] میں تمہارے لبِ جاں افزا کے خیال کے سبب زندہ تر ہوں۔
 
آخری تدوین:
Top