حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
آن کس که اسیرِ ننگ و نام است هنوز
اندر رهِ عشق ناتمام است هنوز
دردا که مرا دلی‌ست کز آتشِ عشق
عمری‌ست که می‌سوزد و خام است هنوز
(شیخ ابوالوفا خوارَزمی)

جو شخص ہنوز عزت و آبرو کا اسیر ہے، وہ راہِ عشق میں ہنوز ناتمام ہے؛ افسوس! کہ میرا دل ایسا ہے کہ جسے آتشِ عشق سے جلتے ہوئے ایک عمر ہو گئی ہے لیکن وہ ہنوز خام ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
از عمر چو خواهی که شوی برخوردار
زنهار فرایض و سُنَن را مگذار
با خلقِ خداوند گَرت افتد کار
کس را مکن ای یار به ناحق آزار
(شیخ ابوالوفا خوارَزمی)

اگر تم زندگی سے بہرہ مند ہونا چاہو تو خبردار فریضوں اور سنتوں کو مت چھوڑنا؛ [اور] اگر خلقِ خدا کے ساتھ تمہیں کام پڑ جائے تو اے یار کسی کو ناحق آزار مت دینا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
مرا در سر است این که در پات میرم
گدا بین که دارد تمنایِ شاهی
(کمال خُجندی)

میرے سر میں یہ ہے کہ میں تمہارے پیروں میں جان دے دوں؛ گدا کو دیکھو کہ اُسے شاہی کی تمنا ہے۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
کشتنم را دلبرا ایں چینِ ابرویت بس است
اینقدر آتش مزاجی با خس و خاشاک چیست


شاہزادی زیب النسا مخفی (دختر اورنگ زیب عالمگیر)

اے دلبر، میرے مارنے کے لیے تو تیرا یہ پیشانی پر بل ڈالنا ہی کافی ہے، پھر (مجھ) خس و خاشاک کے ساتھ تیری اس قدر آتش مزاجی کیا ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
یوسفِ حُسنِ رُخت گر مجلس‌آرایی کند
مجمعِ آشفتگان عشقِ زلیخایی کند
(ملّا وجهی)

اگر تمہارے چہرے کے حُسن کا یوسف مجلس آرائی کرے تو [تمہارے] آشفتگاں کا مجمع زلیخائی عشق کرنے لگے۔
شرح: محبوب کے چہرے کے حسُن کو حضرت یوسف سے تشبیہ دے کر یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ کسی مجلس میں جلوہ نما ہو کر مجلس کی آرائش کا سبب بن جائے تو اُسے دیکھ کر اُس کے عاشقوں کی انجمن اُسی طرح دل باختہ و شیفتہ ہو جائے جس طرح زلیخا حضرت یوسف کی دل باختہ تھی۔
 
آخری تدوین:

ضیاءالقمر

محفلین
بر نمی آید ز چشم از جوش حیرانی مرا
شدنگہ زنار تسبیح سلیمانی مرا
دامن افشاندم بجیب و ماندہ در بند تنم
وحشتے کوتا بروں آرد ز عریانی مرا

غالبؔ
میں نے اپنا دامن جھٹک کر اپنے گریباں پر ڈال لیا۔اور چاک گریباں کوڈھانپ لیا۔لیکن ابھی جسم کی عریانی کو ڈھانپنے کی فکر میں ہوں۔وحشت جنوں کہاں ہے جو آکر میری عریانی سے مجھے باہر لے آئے۔
انسان میں جب تک بلند اخلاق اور روحانی صفات پیدا نہ ہوں اُس کی زندگی ،ایک عریاں جسم کی طرح ہوتی ہے ایک زی ہوش انسان ،اپنی اس عریانی کے احساس سے باہر نہیں آسکتا، ہاں دیوانگی ہی اس احساس کو ختم کر دیتی ہے۔
(مترجم و شارح :صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
درخوردِ ثنایِ تو ندارم دهنی
لایق به کمالِ تو ندارم سخنی
بی اذنِ تو ای مُنزّه از نام و نشان
چون یاد کند همچو تویی را چو منی
(شیخ ابوالوفا خوارَزمی)

میرے پاس کوئی ایسا دہن نہیں ہے جو تیری ثنا کے شایاں ہو؛ میرے پاس کوئی ایسا سخن نہیں ہے جو تیرے کمال کے لائق ہو؛ اے نام و نشاں سے پاک [ذاتِ حق]! تیرے اذن کے بغیر کسی تجھ جیسے کو کوئی مجھ جیسا کیسے یاد کرے؟
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
خاموش نشین و گفت و گو را بگذار
کز راهِ سخن به دل درآیند اغیار
دل خانهٔ حق است نگاهش می‌دار
تا غیرِ خدا در او نباشد دیّار
(شیخ ابوالوفا خوارَزمی)

خاموش بیٹھو اور گفتگو کو ترک کر دو، کہ سخن کی راہ سے دل میں اغیار در آتے ہیں؛ دل خانۂ حق تعالیٰ ہے، اُس کی حفاظت کرتے رہو؛ تاکہ اُس میں خدا کے سوا کوئی نہ ہو۔
 

ضیاءالقمر

محفلین
من سُوی او بہ بینم، داند زبی حیائی است
اُو سُوی من نہ بیند، دانم ز شرمگینی است

غالبؔ
میں اُس کی طرف دیکھتا ہوں تو وہ اسے گستاخی اور بے حیائی خیال کرتا ہے وہ میری طرف نہیں دیکھتا،میں سمجھتا ہوں یہ اس کی شرم و حیا کی وجہ سے ہے۔
(مترجم و شارح :صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
 
آخری تدوین:

ضیاءالقمر

محفلین
واے ز دل مردگی خوے بد انگیختن
آہ ز افسردگی روے دژم داشتن

غالبؔ
افسوس اُس حالت پر کہ مردہ دلی کے عالم میں انسان بد مزاج ہو جائے اور افسردگی میں چہرہ اُترا ہوا بنا لے۔
(مترجم و شارح :صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
به هر مجلس که بنشینی تویی در چشم من زیرا
که چون تو مجلس‌آرایی نمی‌بینم، نمی‌بینم
(خاقانی شروانی)

تم جس مجلس میں بھی بیٹھو، میری چشم میں تم ہوتے ہو؛ کیونکہ مجھے تم جیسا کوئی مجلس آرا نظر نہیں آتا، نظر نہیں آتا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
عاشقان جامِ فرح آن گه کَشند
که به دستِ خویش خوبانْشان کُشند
(مولانا جلال‌الدین رومی)

"عاشقان زمانی جامِ شادمانی سر می‌کَشند، که معشوقانِ آنان ایشان را به دستِ خود بکُشند. یعنی آنان را از هستیِ موهوم برهانند."
ترجمہ: "عاشقاں اُس وقت جامِ شادمانی نوش کرتے ہیں کہ جب اُن کے معشوقاں اُن کو اپنے دست سے قتل کر دیں۔ یعنی اُن کو ہستیِ موہوم سے رہائی دلا دیں۔"
[شارح: سیّد یونس اِستَرَوشنی]
ماخذ

"عشاق تو اُس وقت خوش ہوتے ہیں کہ اُن کے معشوق اپنے ہاتھ سے اُن کو قتل کر ڈالیں (مطلب یہ کہ طالبانِ الٰہی اُس وقت مسرور ہوتے ہیں جبکہ شیوخِ کاملین کہ اُن کے محبوب ہیں ریاضتِ شاقّہ بتلا کر اُن کے نفسانی تقاضوں کو فنا کر ڈالیں)۔"
[مترجم و شارح: مولانا اشرف علی تھانوی]
 
آخری تدوین:

ضیاءالقمر

محفلین
من از رنگ صلاح آندم بخون دل بشستم دست
كه چشم باده پيمايش صلا بر هوشياران زد
حافظ محمد شیرازی
میں نے نیکی کے رنگ سے دل کے خون سے اس وقت ہاتھ دھویا جبکہ اس کی بادہ پیما آنکھ نے ہوشیاروں پر آوازہ کسا
(محبوب کی نگاہ نے جب ہوشیاروں پر آوازہ کسا تو میں نیکی سےہاتھ دھو بیٹھا۔)
مترجم :مولاناقاضی سجاد حسین صاحب
 

حسان خان

لائبریرین
زین معمّا دل به خون افتاد و معنی وا نشد
کز چه رو این گوشهٔ ویرانه شد زندانِ ما
(حاجی حُسین کنگُورتی)

اِس معمّا سے دل خون ہو گیا لیکن معنی روشن نہ ہوا کہ [آخر] کس لیے یہ گوشۂ ویرانہ ہمارا زندان ہوا ہے؟
 
آخری تدوین:

ضیاءالقمر

محفلین
خرد کردہ عنوان بینش درست
رقم سنجئے آفرینش درست

غالبؔ
عقل ہے جو نگاہ کا زاویہ درست کرتی ہے،(اور بصیرت کی راہیں کھول دیتی ہے)اور عالم آفرینش،یعنی کائنات کی تحریر میں درستی پیدا کرتی ہے
 

محمد وارث

لائبریرین
ز دردِ دل بر آں بُت شکایت آوردم
شنید و گفت کہ ایں از خداست من چکنم


واقف لاہوری (بٹالوی)

اُس (سنگ دل) محبوب کے سامنے میں نے اپنے دردِ دل کی شکایت کی، اُس نے میری شکایت سنی اور (بے نیازی سے) کہا کہ یہ تو خدا کی طرف سے ہے، میں کیا کروں؟
 

حسان خان

لائبریرین
این عجب بر کُلبهٔ غم‌منصبان گر نگذری
پرتوِ مِهر است یکسان بر همه اشیا، بیا
(حاجی حُسین کنگُورتی)

اگر تم غم منصبوں کے کُلبے پر نہ گذرو تو یہ تعجب کی بات ہے؛ خورشید کا پرتَو تمام چیزوں پر یکساں ہوتا ہے، آ جاؤ۔
× غم منصب = وہ شخص جس کا منصب غم ہو
× کُلبہ = جھونپڑی
 

حسان خان

لائبریرین
حاجی، به طوافِ حرمِ محترمِ دل
زادی به بغل از جگرِ ریش، برون آ
(حاجی حُسین کنگُورتی)

اے حاجی! دل کے حرمِ محترم کے طواف کے لیے بغل میں [اپنے] زخمی جگر پر مشتمل زادِ سفر کو تھامے بیرون آ جاؤ۔
 
آخری تدوین:

ضیاءالقمر

محفلین
بے دوست ز بس خاک فشاندیم بسر بر
صہ چشمہ رواں است بداں رہگزر بر
غالبؔ
دوست کے بغیر ہم نے بہت خاک سر پر ڈالی۔اس راہگزر میں کئی چشمے رواں ہیں ہمیں وہاں لے چلو ۔
(مترجم و شارح :صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
 

حسان خان

لائبریرین
ملامت‌گویِ عاشق را چه گوید مردُمِ دانا
که حالِ غرقه در دریا نداند خُفته بر ساحل
(سعدی شیرازی)

عاشق کے ملامت گو کو دانا انسان کیا کہے؟ کہ دریا میں غرق [شخص] کا حال ساحل پر سویا ہوا [شخص] نہیں جانتا۔
 
Top