ایک جانب چاندنی - احمد فواد

سندباد

لائبریرین


جس کو اپنانے میں اک عرصہ لگا
اجنبی ہونے میں بس لمحہ لگا

لوگ تو پہلے سے تھے ناآشنا
آج آئینہ بھی بیگانہ لگا

اس لئے دل میں بلایا ہے تجھے
اپنا اپنا سا تیرا چہرہ لگا

ٹھیک ہے سب کچھ مگر اس کے بغیر
یہ جہاں مجھ کو تو ویرانہ لگا

سہمی سہمی جارہی ہے چاندنی
پیچھے پیچھے ہے وہی لڑکا لگا

سب کو دریا کے حوالہ کردیا
پھر کنارہ سے سفینہ آلگا

پہلے صحرا پر ہوا گھر کا گماں
رفتہ رفتہ گھر بھی اک صحرا لگا

کب اٹھالے ہاتھ سر سے آسماں
ہے زمیں کو رات دن دھڑکا لگا

اس قدر کھائے ہیں وعدوں سے فریب
اب ترا آنا بھی اک دھوکہ لگا

بارشوں کے بعد اُجلا آسماں
تیری آنکھوں میں بہت اچھا لگا

دیکھنے والوں کی حالت غیر ہے
اور ان آنکھوں میں مت سرمہ لگا

حسن ہو تو چاھنے والے بہت
عاشقوں کا ہے یہاں میلہ لگا

وہ جو پھولوں سے بھی نازک ہے اُسے
چومنے میں جان کا خطرہ لگا

چاندنی کے دیس سے آیا ہوا
اجنبی تھا وہ مگر اپنا لگا

اتنی آہیں اتنے آنسو چل بسے
اس محبت پر بڑا پیسہ لگا

عمر بھر کی ناتمامی کا صلہ
ہے یہ اُس کو دیکھ کے ایسا لگا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


نہیں قبول مجھے آفتاب کی مرضی
مری زمیں پہ چلے گی جناب کی مرضی

یہ خودکشی نہیں تاثیر ہے محبت کی
خود اپنا خون کرے گر گلاب کی مرضی

اٹھا کے رات کی باھوں میں اُس کو ڈال دیا
کسی نے پوچھی نہیں ماھتاب کی مرضی

ہر ایک لفظ مقفل ہر ایک حرف خموش
کسی پہ کیسے کھلے دل کتاب کی مرضی

ہمیں تو پینے سے مطلب ہے خوب پیتے ہیں
اثر کرے نہ کرے اب شراب کی مرضی

سب آسمان و زمیں درد سے ہوئے بوجھل
فضا میں پھیل گئی ہے رباب کی مرضی

ہمیشہ دل کے خیالات کی حمایت کی
کبھی نہ مانی گناہ و ثواب کی مرضی

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


یہاں ہر وقت یہ میلہ رہے گا
مگر یہ دل یونہی تنہا رہے گا

جلیں گے جب تلک یہ چاند تارے
ہمارے عشق کا چرچا رہے گا

یہ دل بھی ڈوب جائے گا کسی دن
چڑھا جب حُسن کا دریا رہے گا

خلاؤں میں زمیں گم ہو گئی ہے
اکیلا آسماں روتا رہے گا

تجھے یوں بھولنا ممکن نہیں ہے
ابھی دل میں تِرا سودا رہے گا

خوشی کی لاش کاندھوں پر اٹھائے
یہ دکھ کا کارواں چلتا رہے گا

ترے آنے کی کیا خوشیاں منائیں
لگا جانے کا جب دھڑکا رہے گا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


محبت پر یہاں پہرہ رہے گا
تو اس دنیا میں کوئی کیا رہے گا

تری محفل سے اٹھ کر جارہے ہیں
نہ ہم ہوں گے نہ یہ جھگڑا رہے گا

رہے آنکھوں کی یہ جوڑی سلامت
ہمیشہ دل میں یہ مجمع رہے گا

بچھڑنا تیرا ایسا سانحہ ہے
سدا ہونٹوں پہ یہ قصّہ رہے گا

سدا اغیار کی باتیں سنیں گے
سدا احباب سے ملنا رہے گا

نہیں ہے وہ تو اُس کو بھول جاؤ
کہاں تک ہاتھ یوں ملتا رہے گا

تمہارا خوبصورت ہنستا چہرہ
مرا قبلہ مرا کعبہ رہے گا

اگر اس کے یہی لچھّن رہیں گے
تو دل کا حال یہ ہوتا رہے گا

نہ یہ جنگل نہ یہ صحرا رہیں گے
یہاں باقی ترا چہرہ رہے گا

ملیں گے خاک میں سب پست و بالا
تمہارا نام بس اونچا رہے گا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

جانتا ہوں میں یہ سورج کا دیا بجھ جائے گا
ہر طرف پھر رات کا آنچل کوئی لہرائے گا

پھر مرے دل میں کھلیں گے زرد لمحوں کے گلاب
بے طرح پھرسے وہی ظالم مجھے یاد آئے گا

آسمانوں سے پرے منزل بلاتی ہے کوئی
تو مجھے کب تک یہاں اس خاک میں بہلائے گا

دل کو ان باتوں سے کوئی فرق تو پڑتا نہیں
شوق سے کل پھر وہاں جائے گا جوتے کھائے گا

ٹوٹ کر آیا ہے اس ظالم یہ کہتے ہیں شباب
اب تو اُس کو دیکھ کے دل اور بھی للچائے گا

ہر حسیں چہرہ پہ مرمٹنے کی عادت چھوڑ دے
دل کو لیکن کیسے کوئی بات یہ سمجھائے گا

وصل کا یہ لمحہ دل میں باندھ رکھونگا کہیں
پھر ابد تک یہ مری تنہائیاں مہکائے گا

میری آنکھیں بند ہونے کا ہے شاید منتظر
رات دن پھر گیت میرے یہ زمانہ گائے گا

تجھ سے کج رفتار پہلے بھی کئی آئے گئے
آسماں اک روز تیرا دور بھی لد جائے گا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

دل کہاں جائے بچارہ زندگی مشکل میں ہے
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

چاہنے والے پریشاں ہیں کہ کس کا ساتھ دیں
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

اس لئے دل چسپ لگتی ہے محبت کی کتاب
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

خود کو پاگل پن سے کیسے دور رکھ سکتا ہوں میں
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

مجھ پہ تیرے حُسن کا سب راز آخر کھل گیا
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

جانے اس کم بخت دل کو اور اب کیا چاہئے
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

تیرا چہرہ حیرتوں کا اک طلسمی باب ہے
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

تیرے ہونے کا یہاں کیا اور مانگیں گے ثبوت
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

چاند تارے ناچتے ہیں دف بجا کر خواب میں
یوں وہ سینہ سے لگا ہے مسکرا کر خواب میں

جاگتے میں جس کو چھونا بھی نہیں ممکن مجھے
چوم لیتا ہوں میں اُس کو روز جاکر خواب میں

کیسی کیسی اونچی دیواروں کا پہرہ توڑ کر
اُس کو لایا ہوں زبردستی اٹھا کر خواب میں

وہ جو دن کی روشنی میں سامنے آتا نہیں
بیٹھ جاتا ہے وہ میرے ساتھ آکر خواب میں

اب نہیں اٹھے گی اس جانب کوئی میلی نظر
میں نے رکھا ہے اُسے سب سے چھپا کر خواب میں

آنسوؤں کی داستانیں قہقہوں کے رتجگے
سب کہوں گا تجھ سے پہلو میں بٹھا کر خواب میں

نیند سے رہتا ہوں میں دست و گریباں رات دن
جب چلا جاتا ہے تو صورت دکھا کر خواب میں

دو قدم بھی ساتھ چلنے سے جو گھبراتا تھا میں
آج اُسے لایا ہوں باتوں میں لگاکر خواب میں

تجھ سے کب کہتا ہوں ظالم ساتھ رہنے کے لئے
یونہی آکے ایک دو بوسے دیا کر خواب میں

جس کی جانب دیکھنا بھی ان دنوں ممنوع ہے
اس کو میں ہر رات لاتا ہوں بھگا کر خواب میں

وہ جو کوشش سے بھی ہونٹوں پر کبھی آتی نہیں
قید سے اُن ساری باتوں کو رِہا کر خواب میں

دن میں جن سے بات کرنے کی تجھے مہلت نہیں
ایک دو پل کے لئے اُن سے ملا کر خواب مں

جس سے ملنے کا کوئی امکاں کوئی صورت نہ ہو
اُس کو لے آتا ہوں میں اپنا بنا کر خواب میں

جانے کیسے دھول وہ آنکھوں میں سب کی جھونک کر
ہونٹ رکھ دیتا ہے ان ہونٹوں پہ آکر خواب میں

صبح دم ظالم سے جاکر داد کا طالب ہوا
رات اُس کو یہ غزل اپنی سنا کر خواب میں

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


سوال ایک تھا لیکن ملے جواب بہت
پڑھی ہے میں نے محبت کی یہ کتاب بہت

گئی بہار تو پھر کون حال پوچھے گا
کرو نہ چاھنے والوں سے اجتناب بہت

یہ آسمان و زمیں سب تمہیں مبارک ہوں
مرے لئے ہے یہ ٹوٹا ہوا رباب بہت

یہاں پہ دیکھو ذرا احتیاط سے رہنا
ملے ہیں پہلے بھی اس خاک میں گلاب بہت

میں جانتا ہوں انہیں وقت کے حواری ہیں
جو لوگ خود کو سمجھتے ہیں کامیاب بہت

رہِ جنوں میں اکیلا نہیں میں خوار و زبوں
مری طرح سے ہوئے ہیں یہاں خراب بہت

کسی نے کاسۂ سائل میں کچھ نہیں ڈالا
سمندروں سے میں کرتا رہا خطاب بہت

کھلی ہوئی ہیں دکانیں کئی نگاہوں کی
طلب ہو دل میں تو پینے کو ہے شراب بہت

خدا کرے وہ مرا آفتاب آنکلے
دلوں میں آگ لگاتا ہے ماھتاب بہت

سنا کے قصّہ تمہیں کس لئے اداس کریں
کہ ہم پہ ٹوٹے ہیں اس طرح کے عذاب بہت

تلاشِ یار میں نکلے تھے جاں سے ہار گئے
خبر نہ تھی کہ وہ ظالم ہے دیر یاب بہت

کبھی وہ بھول کے بھی اس طرف نہیں آیا
اگر چہ آتے ہیں آنکھوں میں اُس کے خواب بہت

اسی لئے ترے کوچہ میں اب وہ بھیڑ نہیں
کہ لطف کم ہے تری آنکھ میں عتاب بہت

یہاں رہے گا ترے اقتدار کو خطرہ
کہ آتے رہتے ہیں اس دل میں انقلاب بہت

کسی کو بھیج کے احوال تو کیا معلوم
مرے لئے تو یہی لطف ہے جناب بہت

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

میں سوچتا تھا کسی دن تجھے بھلا دوں گا
یہ انتظار کے سارے دئے بجھا دوں گا

تمہارے بعد بھی رونق لگی ہوئی ہے یہاں
ذلیل شہر کو اب آگ میں لگا دوں گا

ہمیشہ آتے ہیں اس سے مری زمیں پہ عذاب
اس آسماں کو یہاں سے کہیں ہٹا دوں گا

ہمارے بیچ زمانہ اگر کبھی آیا
یہاں پہ خون کی میں ندیاں بہا دوں گا

دھواں یہ دھول یہ ہر سمت منہ بسورتے لوگ
تمہیں یہاں سے میں جانے کا مشورہ دوں گا

غرور حسن تمہارا ہو یا انا میری
یہ ساری بیچ کی دیواریں میں گرادوں گا

مری طرح سے اُسے تم بھی بھول جاؤ گے
ملول مت ہو وہ نسخہ تمہیں بتا دوں گا

یہ دل کی ساری زمیں اب تری امانت ہے
یہاں جو نقش ہیں تیرے سوا مٹا دوں گا

تری تلاش رہے گی میں اب رہوں نہ رہوں
حدودِ جاں سے نکل کر تجھے صدا دوں گا

نہیں سنوں گا میں اس دل کی اور بات کوئی
گراب یہ بولا تو اُس کا گلا دبا دوں گا

یہ خود سے آگ میں جلنا ہے سوچ لو پیارے
میں شاعری کے طریقے تمہیں سکھا دوں گا

فقیرِ حُسن ہوں کچھ دے دلا کے رخصت کر
ہر ایک بوسہ پہ دل کھول کے دعا دوں گا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


چھپا ملا تھا جو اک خواب کی رداؤں میں
وہ شہر میں نظر آیا کہیں نہ گاؤں میں

الم نصیبو! یہ دکھ سارے بھول جاؤگے
بڑا سکوں ہے محبت کی ٹھنڈی چھاؤں میں

کہیں پہ دھوپ میں صورت تری نظر آئی
جھلک ملی ہے کبھی بھاگتی گھٹاؤں میں

نہ اب وہ گالوں میں ہنستے ہوئے گلاب رہے
نہ اب وہ کاٹ رہی ہے تری اداؤں میں

مری طرح کے جنوں پیشہ بھی ہوئے نایاب
تری طرح بھی نہیں کوئی دلرباؤں میں

یہ کس نے شہر میں تنہائیاں بچھا دی ہیں
یہ کس کو ڈھونڈنے آئے ہیں لوگ گاؤں میں

خود اٹھ کے ساتھ چلا آئے وصل کا سورج
ہو کوئی بات بھی اب ھجر کی دعاؤں میں

ملا ہے آج جو اک اجنبی کی صورت میں
یہ شخص تھا کبھی اس دل کے آشناؤں میں

ذلیل کرکے جنہیں آپ نے نکال دیا
وہ اپنا نام چلے لکھنے پارساؤں میں

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


دریاؤں کی گپ شپ کا نشہ ایسا چڑھا ہے
سنتا نہیں اب کوئی سمندر کی کہانی

لے ڈوبی یہ سورج سے ملاقات کی خواہش
دوپل میں ہوئی ختم گلِ تر کی کہانی

یہ ہنستی حکایت تو زمانہ کے لئے ہے
تم آؤ سنو اب مرے اندر کی کہانی

یوں ناز سے اس خاک پہ چلنا نہیں اچھا
تم نے بھی سُنی ہوگی سکندر کی کہانی

مہتاب کی وادی سے نئے پھول چرا کر
لکھوں گا کسی دن رخ انور کی کہانی

تاریخ ہے اک چشمِ جفا کار کی یارو
تلوار کا قصّہ ہے نہ خنجر کی کہانی

شاہوں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رکھا
لکھی ہے ہمیشہ دل ابتر کی کہانی

دنیا میں حسینوں کی کمی اب بھی نہیں ہے
لکھی ہے ہمیشہ اسی دلبر کی کہانی

کب تک یہ زمیں گھومے گی اس طرح خلا میں
کب تک میں سناؤں گا ستمگر کی کہانی

پاگل ہوا جس کے لئے اک رات سمندر
لکھنی ہے اُسی چاند سے پیکر کی کہانی

سننی ہے تو اس فن میں قلم طاق ہے میرا
شعلوں کی زباں میں کسی اخگر کی کہانی

دل کیسے ہوا سُن کے یہ آمادئہ وحشت
صحرا کا بیاں ہے نہ مرے گھر کی کہانی

جیتے ہوئے لوگوں نے کیا اور بھی مایوس
سنتا کسی ہارے ہوئے لشکر کی کہانی

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

مٹی سے اٹھا کر مجھے خورشید بنایا
گو اہل نہ تھی اس کی کسی طور مری خاک

تم روزِ ازل دے کے وچن بھول گئے ہو
سہتی ہے ابھی تک ستم و جور مری خاک

اس قید کی لعنت سے نکل جاؤں کسی طور
دن رات لگاتی ہے بڑا زور مری خاک

یہ وسعتِ افلاک تو میں ناپ چکا ہوں
اب ڈھونڈنے جائے گی کہاں اور میری خاک

یوں خاک میں تنہا وہ مجھے چھوڑ گیا ہے
اس بات یہ کرتی ہے بہت شور مری خاک

دیکھا ہے یہاں چاروں طرف ایک خلا ہے
حیراں ہوں میں اب جائے گی کس اور مری خاک

یہ پیار سے تکتی ہوئی آنکھیں نہ رہیں گی
آجاؤ کہ پہنچی ہے لبِ گور مری خاک

توتازہ جھانوں میں کہیں اپنے مگن ہے
پھرتی ہے یہاں اب بھی کریکور* مری خاک

میں کس کے لئے گھر سے یہاں دور پڑا ہوں
کرتی نہیں اس بات پہ کیوں غور مری خاک

جب چاروں طرف تیرے سوا کوئی نہیں تھا
پھر ڈھونڈتی پھرتی ہے وہی دور مری خاک

مجبور ہے مقہور ہے مردود ہے لیکن
ہاتھوں سے نہ چھوڑے گی تری ڈور مری خاک

واں سے تو دیا تو نے مجھے دیس نکالا
اب یاں سے نہ لیجائے کوئی چور مری خاک

یوں میری نگاہوں سے اگر دور رہو گے
اس طرح تو بھٹکے گی یہاں اور مری خاک

آوارہ ستاروں کی طرح کیسے رہوں گا
پابندِ محبت ہے بہر طور مری خاک

بادل سے سنوں گا کوئی بارش کی کہانی
ہو جائے گی پھر اُس سے شرابور مری خاک

میں رفعتِ افلاک سے مرعوب نہیں ہوں
کنعاں ہے مدائن ہے کہیں ثور مری خاک​

* کَرِیکور پشتو لفظ ہے جس کا مطلب ہے در بدر

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


نکلو گے مرے دل سے تو جل جاؤ گے فوراً
اس دھوپ کی بستی میں کہاں چاند کا مسکن

تم اٹھ کے ستاروں سے کہاں لڑنے چلے ہو
میں نے تو کہی تھی فقط اک بات مذاقاً

جس بات پہ کل دیدہ و دل ایک ہوئے تھے
دونوں میں ہوئی آج اُسی بات پہ اَن بَن

دنیا میں بھی اب چین سے رہنے نہیں دیتا
جنّت سے بھی اک روز نکالا مجھے جبراً

آنکھوں سے نہ ہونٹوں سے نہ ہاتھوں سے کُھلا تو
سورج کا ہے دالان کہ مہتاب کا آنگن

مل جائے گا آجاؤ تمہیں بھی کوئی گوشہ
دل اتنی تمنّاؤں کا پہلے سے ہے مدفن

تاروں کی طرح آؤ کرو تم بھی تماشہ
پھر رات ہوئی آیا ہے پھر درد پہ جوبن

یہ سوچ کے اب کوئی شکایت نہیں کرتا
دنیا میں محبت پہ ہمیشہ سے ہے قدغن

اب آکے ترے سامنے مبہوت کھڑا ہوں
حیراں ہوں میں انگشت بدنداں ہے مرا فن

مشکل ہے بتانا بھی چھپانا بھی ہے مشکل
ٹوٹا ہے کچھ اس طور سے وہ پیار کا بندھن

اس دل کا کوئی ٹھیک نہیں اتنا نہ پھولو
تم پر بھی کسی روز چڑھا لائے گا سو تن

معلوم ہے اب سارے زمانہ کو پتہ ہے
ہاں تم سے تو کہتا نہیں یہ بات میں قصداً

میں نے بھی بہت اچھی طرح سوچ لیا ہے
اب تم پہ لُٹا دوں گا کسی روز یہ تن من

یہ سارا تو اک عمرِ گذشتہ کا ہے قصہ
اب اُس سے مرا کوئی تعلق نہیں قطعاً

رو رو کے اُسے ہم نے کئی بار بلایا
پھر لوٹ کے آیا نہیں اکبار بھی بچپن

مجھ پر وہ کبھی جان کے یہ ظلم نہ کرتا
معلوم ہے مجھ کو وہ بڑا نیک ہے طبعاً

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین
[align=justify:5902375a94]

تمہارے لئےدل میں اب بھی جگہ ہے تمہیں کیاپتہ ہے تمہیں کیا خبر
ابھی مجھ پہ طاری وہی اک نشہ ہے تمہیں کیاپتہ ہے تمہیں کیا خبر

تمہیں قہقہوں کی کہانی سے مطلب ہے ہنستے رہو گے
کہاں آنسوؤں کا چلا قافلہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

کوئی آسماں پر ستاروں کی شمعیں لئے منتظر ہے
اکیلا نہ جانے وہ کب سے کھڑا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

ہر اک سانس میری شرابور آتی ہے خوشبو میں تیری
یہ کیسی جدائی یہ کیا فاصلہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

زمیں آسماں جیل خانہ ہے تیرا میں سب جانتا ہوں
یہ جینانہیں ہے فقط اک سزاہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیاخبر ہے

اذیت کے صحرا میں جل کر بھسم ہو گئی روح میری
کوئی شعرجب مجھ پہ نازل ہواہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

یہ سورج یہ سب چاند تارے پہنچ کے وہاں کھو گئے ہیں
مرے دل میں اتنا بڑا اک خلا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

کہاں جائیں کس سے شکستہ دلی کو دلاسہ ملے گا
کہ دشمن یہاںساری آب و ہوا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

زمانہ کے پہلو میں چلتے ہوئے تم نے دیکھا نہیں اس طرف
ابھی تک مرے دلمیں اسکا گلہ ہے تمہیں کیا پتہ ہےتمہیں کیا خبر
۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ [/align:5902375a94]
 

سندباد

لائبریرین


بھولے سے بھی آئے نہ کوئی چاہنے والا
اس شہر میں ہے حسن کا دستور نرالا

اک رات کی دھشت کا ٹھکانہ ہے مرا دل
تم ڈھونڈنے آئے ہو کہاں دن کا اجالا

میرا تو چلو ٹھیک ہے مجرم ہوں تمہارا
ان چاند ستاروں کو یہاں کس نے اچھالا

اس طرح سے ٹوٹیں گے اگر روز یہاں دل
نکلے گا بہت جلد محبت کا دِوالہ

کرتے ہیں بہت آپ حسینوں کی وکالت
اے کاش! پڑے ان سے کبھی آپکو پالا

بس دل پہ حکومت کا طریقہ اسے آئے
محبوب حقیقت میں نہ گورا ہے نہ کالا

ممکن ہی نہ تھی اور ترے ناز کی تردید
میں نے تو بہت چاہا بہت دل کو سنبھالا

نظموں سے تو کھنچتی نہیں اس حسن کی تصویر
لکھوں گا اب اس پر کوئی پُرزور مقالہ

یہ سبزئہ خط حسن کی تنسیخ نہیں ہے
دیکھا نہیں کیا تم نے کبھی چاند کا ھالہ

اس طرح سے رو رو کے نہ کر عشق کی تذلیل
اب جاکے کسی روز اسے گھر سے اٹھالا

دل اٹھ کے ہر اک پیاس کی تردید کرے گا
آئے گا جہاں بھی ترے ہونٹوں کا حوالہ

اب لوٹ کے آنا وہاں اچھا نہیں لگتا
جس گھر سے مجھے تو نے ہے اس طرح نکالا

لگتا ہے یہ دل اب بھی تجھے بھولا نہیں ہے
نکلا ہے تری یاد میں اک اور رسالہ

پھر اٹھ کے یہاں سے وہ کہیں جانہیں سکتا
اکبار جو ہونٹوں سے لگالے یہ پیالہ

اس طرح گنوا ڈالو گے ہر ایک کی توقیر
ہر ایک کی خدمت میں نہ آداب بجالا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

احمق ہیں جو کہتے ہیں محبت کی جگہ ہے
دنیا تو فقط اہلِ تجارت کی جگہ ہے

فرعونوں کی بستی ہے یہاں دب کے نہ رہنا
نخوت کی تکبّر کی رُعونت کی جگہ ہے

ظاہر ہے یہاں تم بھی کبھی خوش نہ رہو گے
اک درد کا مسکن ہے اذیّت کی جگہ ہے

آسانی سے ملتی نہیں جینے کی اجازت
پھر سوچ لو دنیا بڑی ہمّت کی جگہ ہے

اس شہر میں تم خوار و پریشان پھروگے
یہ لوگ کمینے ہیں رِذالت کی جگہ ہے

اے دل تجھے اک بوسہ بھی مشکل سے ملے گا
یہ حسن کا بازار ہے دولت کی جگہ ہے

یہ سوچ کے خاموشی سے ہر ظلم سہا ہے
اپنوں سے نہ غیروں سے شکایت کی جگہ ہے

خود اپنی ہی مخلوق کو برباد کرو گے
افسوس کی یہ بات ہے حیرت کی جگہ ہے

دل میرا کسی حال میں خوش رہ نہیں سکتا
جلوت کا مکاں ہے نہ یہ خلوت کی جگہ ہے

راحت کا یہاں کوئی تصور نہیں ملتا
معلوم ہے سب کو یہ مصیبت کی جگہ ہے

انجام کا سوچوگے تو بے چین پھروگے
آرام سے سوجاؤ یہ غفلت کی جگہ ہے

پاگل ہو جو کرتے ہو یہاں عشق کی تلقین
دنیا تو ہر اک شخص سے نفرت کی جگہ ہے

جاتے ہوئے کہتے ہیں ہر اک بار پرندے
کچھ شرم کرو یہ بھی سکونت کی جگہ ہے

بس شرط ہے یہ دل میں محبت ہو کسی کی
صحرا ہی نہیں شہر بھی وحشت کی جگہ ہے

جانے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں اب
دیکھو یہ زمیں کیسی قیامت کی جگہ ہے

آئے ہو تو جاؤگے یہاں بچ نہ سکو گے
یہ موت کی منزل ہے ہلاکت کی جگہ ہے

اے اہل جنوں آؤ یہاں کچھ نہیں رکھا
ناداں ہیں یہ سب لوگ حماقت کی جگہ ہے

کس بات پہ غمگین ہوں کس بات پہ میں خوش
ذلت کی جگہ ہے نہ یہ عزت کی جگہ ہے

صحرا کی طرف اس لئے جاتا ہے مرا دل
دنیا میں یہ دنیا سے بغاوت کی جگہ ہے

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


دنیاکی کسی بات کا قائل تو نہیں ہوں
اب بھی میں تری یاد سے غافل تو نہیں ہوں

مجھ سے تو مناسب نہیں اس طرح کا برتاؤ
عاشق ہوں تمہارا کوئی سائل تو نہیں ہوں

کرلوں گا کسی روز یقینا تجھے تسخیر
میں آج کے حالات سے بد دل تو نہیں ہوں

لوگوں سے تو پہلے بھی تعلق نہیں رکھا
میں آج بھی اس بھیڑ میں شامل تو نہیں ہوں

خورشید کا اک خاک کے ذرّہ سے ہے رشتہ
اس لطف و عنایت کے میں قابل تو نہیں ہوں

کس طرح کا انصاف ہے یہ داور محشر
مقتول ہوں میں حسن کا قاتل تو نہیں ہوں

اس قید سے نکلوں گا تو جاؤں گا بہت دور
رستہ ہوں میں اپنی کوئی منزل تو نہیں ہوں

سکھ چین سے رہنا مری فطرت میں نہیں ہے
دریا ہوں کسی بحر کا ساحل تو نہیں ہوں

دن رات جلوں گا تو شکایت بھی کروں گا
انساں ہوں ترے رخ کا کوئی تل تو نہیں ہوں

چاہو تو سمجھ جاؤگے اک دن مرا مطلب
دشوار سہی اتنا بھی مشکل تو نہیں ہوں

بدلی ہوئی نظروں کی نہ ہوگی مجھے پہچان
ناداں ہوں مگر اتنا بھی جاھل تو نہیں ہوں

کیا سوچ کے تم مجھ سے ہو اس طرح گریزاں
کڑوا ہوں مگر زھرِ ھلاھل تو نہیں ہوں

مجھ سے تو ہر اک طرح کی تقصیر ہوئی ہے
ناقص ہوں بہت میں کوئی کامل تو نہیں ہوں

تو جیت بھی جائے تو کوئی بات نہیں ہے
میں کوئی برابر کا مقابل تو نہیں ہوں

کردوں گا کسی روز یہ جاں تجھ پہ نچھاور
صد شکر کہ دیوانہ ہوں بُزدل تو نہیں ہوں

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

جب اونچے پہاڑوں سے اتر آتے ہیں دریا
کاندھوں پہ سمندر کو اٹھالاتے ہیں دریا

لگتے ہیں مگر ہم سے جنوں پیشہ کہاں ہیں
صحراؤں میں جاتے ہوئے گھبراتے ہیں دریا

سرگوشیاں کرتے ہوئے دن رات اچانک
رستہ میں کوئی آئے تو چلّاتے ہیں دریا

ہر وقت کی اس دوڑ سے تھک ہار کے اک روز
پہلو میں سمندر کے سمٹ جاتے ہیں دریا

معلوم ہے پھینکیں گے یہ سب ان میں غلاظت
شہروں سے یہاں اس لئے کتراتے ہیں دریا

چلتے ہوئے رکتے نہیں اک پل کے لئے بھی
معلوم نہیں ایسا بھی کیا کھاتے ہیں دریا

منزل سے سروکار نہ انجام کا ڈر ہے
ہر راہ پہ بل کھاتے ہیں اٹھلاتے ہیں دریا

اک روز تمہیں ساتھ لئے گھر کو چلیں گے
ہر روز کناروں کو یہ سمجھاتے ہیں دریا

اس طرح بھی پھرتا ہے کوئی اپنی خوشی سے
احکام سمندر کے بجالاتے ہیں دریا

میری تو کوئی لفظ سمجھ میں نہیں آتا
اے کاش بتا دے کوئی کیا گاتے ہیں دریا

لگتا ہے بچاروں کی نظر ٹھیک نہیں ہے
چلتے ہوئے ہر چیز سے ٹکراتے ہیں دریا

جانا ہے کہاں ان کو کوئی کہہ نہیں سکتا
جس سمت بھی دل چاھے نکل جاتے ہیں دریا

ہونٹوں پہ ہے ہر وقت کوئی تازہ کہانی
یا ایک ہی قصہ ہے جو دھراتے ہیں دریا

نزدیک چلے آتے ہیں گھبراکے کنارے
غصّہ میں کچھ اس طرح سے غرّاتے ہیں دریا

پتھر کی ہو تحریر تو شاید سمجھ آئے
مٹی کی تو ہر بات کو ٹھکراتے ہیں دریا

ڈرتے ہیں کہیں آگ نہ لگ جائے انہیں بھی
اس طرح بیابانوں کو ترساتے ہیں دریا

اڑنے کے لئے آج بھی رہتے ہیں پریشاں
بارش کی طرف دیکھ کے للچاتے ہیں دریا

گھر بار کے چکرّ میں کبھی یہ نہیں پڑتے
آوارہ مزاجوں کو بہت بھاتے ہیں دریا

یوں خاک میں منہ اپنا چھپاتے ہیں ہمیشہ
کیا بات ہے کیوں اس طرح شرماتے ہیں دریا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


کہیں پہ جاکے محبت کو دفن کردوں گا
پھر اُس کی قبر کو آہوں سے اپنی بھردوں گا

سب آسمان و زمیں آج سے تمہارے ہیں
یہ کائنات میں اب تیرے نام کردوں گا

خزاں کے ڈر سے یہ چہرہ اگر ملول ہوا
کہیں سے لاکے نئے رنگ اس میں بھردوں گا

جو جل رہا ہوں تری آگ میں یہ کافی ہے
میں خشک پیڑ ہوں کیا پھول کیا ثمر دوں گا

تمہارے ساتھ وہ دل کی اداسیاں بھی گئیں
کہاں سے اپنی دعاؤں کو میں اثر دوں گا

میں جانتا ہوں کٹھن ہے تمہاری راہ بہت
کہیں سے لیکے نئے دل کو بال و پر دوں گا

تمہارے آنے سے دنیا بدل گئی ساری
نئی ہے رات اب اس کو نئی سحر دوں گا

کھلی فضاؤں میں یوں رات بھر بھٹکتے ہیں
میں لیکے چاند ستاروں کو کوئی گھر دوں گا

ہر ایک موڑ پہ بستی ہے سرخ پھولوں کی
اکیلی جان یہ اپنی کدھر کدھر دوں گا

قدم قدم پہ نئے حادثوں سے ملتا ہوں
کہاں سے لاکے میں اچھی کوئی خبر دوں گا

بہت امیر ہوں اس شاعری کی دولت سے
ہر ایک بوسہ پہ تجھ کو یہ مال و زر دوں گا

کوئی نہیں ہے یہاں جس سے دل کی بات کہوں
میں اس جہان کو دیکھو تباہ کر دوں گا

یہ انس و جن و ملائک کریں گے رشک تمام
میں دیکھ لینا کسی دن وہ کام کردوں گا

ملا کے دیکھ لے اس کو تمام حوروں سے
مقابلہ کے لئے تجھ کو اک بشر دوں گا

یہ مانتا ہوں تجھے دیکھنا ہلاکت ہے
میں خود کو دیکھنا اکدن ہلاک کردوں گا

مری طرح سے تجھے تاکہ سارے دیکھ سکیں
میں کچھ دنوں کے لئے سب کو یہ نظر دوں گا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


وہ مہر منور ہے کہ یہ ماہ مبیں ہے
پہلے کی طرح آج بھی تو سب سے حسیں ہے

افلاک سے باقی نہیں اس کا کوئی رشتہ
بس آج سے یہ ساری زمیں میری زمیں ہے

اس ارض و سما پر ہے ہمارا بھی کوئی حق
یہ آپ کے اجداد کی میراث نہیں ہے

فرھاد کے گھر سے نہیں میرا بھی تعلق
تیرا بھی کوئی چال چلن ٹھیک نہیں ہے

اب تجھ سے ملاقات تو آسان ہے لیکن
اب تجھ سے وہ پہلی سی محبت ہی نہیں ہے

یہ وقت کا مرہم بھی میرے کام نہ آیا
وہ درد ترا آج بھی اس دل میں مکیں ہے

دل ٹوٹ نہ جائے ترے برتاؤ سے دیکھو
دنیا میں یہی آج محبت کا امیں ہے

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 
Top