ايک اور امريکی منصوبہ

Fawad - نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 13, 2014

  1. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,853


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور کی تبادلہ پروگرام میں شرکت کرنےوالےپاکستانی طالبعلموں کومبارکباد
    اسلام آباد (۷ جولائی ، ۲۰۱۷ء)__ امریکی حکومت کی اعانت سےجاری کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچنج اینڈ اسٹڈی پروگرام (یس) کےسابق طالب علموں نے رواں برس یس پروگرام کےتحت امریکہ جانے والے ۷۵ طالب علموں کے ساتھ وہاں اپنے قیام اورامریکی اسکولوں اور ثقافت کےحوالے سے اپنے تجربات بیان کئے ۔ یہ طالب علم ایک سالہ دورانیے کے یس تعلیمی تبادلہ پروگرام میں شرکت کے لیے عنقریب امریکہ روانہ ہوں گے۔

    امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور جوناتھن پریٹ نےاس پروگرام کے سابق اور امسال امریکہ جانے والے طالب علموں کے اعزاز میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سےخطاب کرتے ہوئے تبادلہ پروگرام کے شرکاء کوان کی تعلیمی کامیابیوں پرمبارکباد دی ۔

    امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور نے کہا کہ امریکہ میں غیرملکی طالب علموں کو خوش آ مدید کہناپرانی روایت ہے کیونکہ وہ ہمارے ملک اوروہاں کی درسگاہوں میں تنوع لاتے ہیں۔ امریکی سفارتخانہ مختلف تعلیمی اور پیشہ وارانہ پروگراموں کے تحت ہر سال ایک ہزار کے لگ بھگ پاکستانی طالب علموں کو مختلف امریکی جامعات میں تعلیم کے حصول کیلئے اعانت فراہم کرتا ہے۔

    آئی ای اے آر این کے زیراہتمام ۲۰۰۴ء سےلے کر اب تک ۹۰۰سے زائد پاکستانی طالب علم یوتھ ایکسچنج اینڈ اسٹڈی پروگرام (یس) میں شرکت کر چکے ہیں ۔

    آئی ای اے آر این کی کنٹری ڈائریکٹر فرح کمال نے کہا کہ یس پروگرام کے تحت نوجوان پاکستانی طالب علم قائدانہ صلاحیتوں ، سماجی خدمات کی لگن اورتنقیدی فکر جیسی مہارتوں کی تربیت حاصل کرتے ہیں جومستقبل میں ان کیلئے اور ان کی قوم کیلئے فائدہ مند ثابت ہونگی۔

    دوبارہ داخلے کےسیمیناراورروانگی سے قبل تعارفی تقریب کے دوران ۲۰۱۶ء کے یس پروگرام کے سابق طالب علموں نے ۲۰۱۷ء کے یس پروگرام کےشرکاء سےامریکہ میں اپنےقیام کےتجربات بیان کیےاورطلباء پر زوردیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ میں سماجی خدمات اورغیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

    یوتھ ایکسچنج اینڈ اسٹڈی پروگرام(یس) کی سابقہ شریک درنایاب نے کہا کہ مجھے پروگرام میں شرکت کے بعد بہت اعتماد ملا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام میں شرکت سے قبل میں اتنی پر اعتماد نہیں تھی مگر ابھی میرا اعتماد بہت بڑھا ہے۔ میں اس تبدیلی جس کا ذکر ہمیشہ کیا جاتا ہے کیلئے مکمل طور پر تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہوں جسکا سہرا یوتھ ایکسچنج اینڈ اسٹڈی پروگرام(یس) کو جاتا ہے۔

    تبادلہ پروگرام اور پاکستان میں امریکی سفارتخانہ کی سرگرمیوں کے بارے میں مزیدمعلومات کیلئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کریں:

    http://pk.usembassy.gov.​
    ###​

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  2. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,853


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    امریکی تعاون سے تعمیرکردہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی نئی عمارت کا افتتاح

    اسلام آباد (۱۳ ِجولائی ، ۲۰۱۷ء)__ امریکی سفارتخانے کے شعبہ انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز (آئی این ایل) کے ڈپٹی ڈائر یکٹر مائیک مک کیون نے آئی این ایل کے تعاون سے مکمل ہونیوالے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے سپنہ تھانہ کمپاؤنڈ کی عمارت کے افتتاح کے حوالے سے ایک تقریب میں شرکت کی جس کا اہتمام خیبر پختونخواہ ہاؤس اسلام آباد میں کیا گیا۔ اس موقع پر آئی این ایل کے جانب سے سے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے لئے وردیاں اور زرہ بکتر بھی فراہم کی گئیں۔

    دو اعشاریہ چھ ملین ڈالر سے زائد لاگت سے تعمیرشدہ سپنہ تھانہ کمپاؤنڈ میں۹۰۰ ایف سی اہلکاروں کے لیے دفاتر، رہائشی عمارت، بیرکس، میس ہالز، سنتری پوسٹس، اور چوکیوں کی تعمیر شامل ہے ۔ تقریب کے دوران آئی این ایل کے تعاون سے حال میں ایف سی کو مہیا کی گئی تین ملین ڈالر مالیت کی پندرہ سو حفاظتی جیکٹس اور ہیلمٹ، تیس ہزار وردیاں، پندرہ سو جوتے اور پندرہ ہزاربیلٹس کو بھی سراہا گیا۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر مائیک مک کیون نے حکومتی عملداری اور سیکورٹی کی فراہمی میں اضافے کے لیے ایف سی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کہ سپنہ تھانے کی نو تعمیر شدہ عمارت کوہاٹ، پشاور اور خیبر ایجنسی کے سنگم پر واقع ہے اور یہ آئی این ایل کے تعاون سے دسمبر ۲۰۱۵ء اور مارچ ۲۰۱۶ء میں ایک اعشاریہ نو اور ایک اعشاریہ سات ملین امریکی ڈالر لاگت سے تعمیر ایف سی اور لیوی کمپاؤنڈ کے ساتھ واقع ہے۔

    کمانڈنٹ لیاقت علی خان نے اپنے خطاب میں امریکی حکومت اور آئی این یل کی اعانت اور موثر تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایف سی اور آئی این ایل کے درمیان تعاون جاری رہے گا۔

    ۲۰۱۷ء میں اب تک مہیا کی گئی تین ملین امریکی ڈالر کی اعانت کے علاوہ رواں برس امریکی سفارتخانے کا شعبہ آئی این ایل فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کی حفاظت اور فاٹا میں آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک اعشاریہ پچتھر ملین امریکی ڈالر قیمت کے آرمرڈ پرسنل کیر ئیر بھی مہیا کر یگا۔

    آئی این ایل نوّے سے زائد ممالک میں جرائم، کرپشن، منشیات سے منسلک جرائم کے خاتمے، پولیس کے اداروں کی بہتری، اور ایک شفاف اور جوابدہ نظام کے لیے قوانین اور عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اعانت فراہم کرتا ہے۔

    آئی این ایل سے متعلق مزید جاننے کے لیے ملاحظہ کیجئے:

    Bureau of International Narcotics and Law Enforcement Affairs (INL)

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  3. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,853

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    امریکہ کی جانب سے پاک فوج کو دھماکہ خیز مواد کا پتہ چلانیوالے جدید آلات کی فراہمی

    امریکی سفارتخانہ کے دفتر دفاعی نمائندہ پاکستان نے پاکستان فوج کو دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کرنیوالے پچاس جدید ترین آلات" فیڈو ایکس ۳" فراہم کیے ہیں۔" فیڈو ایکس ۳ " ایک جدید ترین دستی آلہ ہے جس کی مدد سے پاکستانی فوجی دس سکینڈ سے بھی کم وقت میں کسی بھی چیز میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کا پتہ چلاسکیں گے۔ یہ جدید آلات ، پاکستان فوج کو پہلے سے مہیا کیے گئے آلات کے ساتھ استعمال کئے جائیں گے ،جو ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں اور دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کے ذریعے قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے رہےہیں۔

    امریکی سفارتخانہ کے دفتر دفاعی نمائندہ پاکستان کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل کینتھ ایکمن نے دہشتگری کے خاتمے ، بالخصوص پاک۔افغان سرحدی علاقوں میں امریکہ اور پاک فوج میں اشتراک ِ کار کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی دھماکہ خیز مواد کو غلط ہاتھوں سے دُور رکھنا سب کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ امریکی حکومت نے پاکستانی فوج کو بین الاقوامی معیار کی ٹیکنالوجی کے حامل یہ آلات فراہم کیے ہیں ۔ بم کو روکنے کا ایک بنیادی راستہ یہ ہے کہ بم بنانے والے شخص یا حملہ آور کو بم نصب کرنے سے قبل ہی پکڑلیا جائے۔ یہ آلات عوام کی حفاظت کے لیے پاکستان فوج کی جانب سےاستعمال کئےجانے والے پہلے سے موجود نظام میں مزید بہتری لائیں گے۔

    فیڈو آلات کی فراہمی امریکی حکومت کی جانب سے پاکستانی فوج کو مہیا کی جانے والی ایک سو اٹھائیس ملین امریکی ڈالر کی اعانت کے پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصدغیر قانونی دھماکہ خیز مواد کا تدارک ہے۔ دھماکہ خیز مواد کے خلاف پاکستان امریکہ پارٹنر شپ پروگرام میں ان آلات کے علاوہ بکتر بندگاڑیاں، بم ڈسپوزل روبوٹس، تربیت اور دھماکہ خیز مواد کے نمونو ں کے تفصیلی تجزئیے کے لیے ایک تجربہ گاہ کاقیام بھی شامل ہے۔

    فرائض کی انجام دہی کے دوران پاکستانی فوج کے اہلکاروں کی جانب سے پیش کی جانیوالی قربانیوں کے اعتراف میں پاکستان اور امریکہ اعضاء سے محروم ہونے والے افراد کی معاونت کےپروگرام میں بھی شراکت دار ہیں ۔ اس شراکت کے نتیجے میں جدید طبی سازوسامان اور تربیت کی فراہمی سےپاک فوج کےمیڈیکل ٹیکنیثنز مصنوعی اعضاء کی تیار ی کے ذریعے معذور ہونے والےافراد کی زندگی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
    ###​

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  4. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,853
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    [​IMG]


    یوایس ایڈ کی جانب سے آم کے پاکستانی برآمدکنندگان کو عالمی مسابقت کیلئے اعانت

    اسلا م آباد (۲۴ ِجولائی، ۲۰۱۷ء) __ یوایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر جیری بسن اور چیئرمین پاکستان زرعی ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) ڈاکٹر یوسف ظفر نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) میں ۲۴ جولائی کو منعقدہ "مینگو گالا" کے موقع پر ۱۳ کاشتکاروں کو آم کی درجہ بندی کرنے کے لیے ساڑھے سات لاکھ ڈالر مالیت کے مینگو گریڈرزحاصل کرنے کی راہ ہموار کی جس سے پاکستان میں آم کی پیداوار اور برآمد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

    نیپال کی سفیر سیوا لمسال ادھیکاری نے بھی آم کے پاکستانی شعبے کے بارے میں مزید جاننے کیلئے اسلا م آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہ اس تقریب میں شرکت کی ۔

    "مینگو گالا" کا انعقاد آم کے پاکستانی شعبے کے حوالے سے امریکہ کی وابستگی کی غمازی کرتا ہے۔ یہ تقریب سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے متعلقہ فریقوں کو قریب لانے میں معاون ثابت ہو ا تاکہ آم کی برآمد کے حوالے سے رجحانات اور نئے مواقع پر بات چیت کی جاسکے۔ صف اول کے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان نے پاکستان میں پیدا ہونے والے آموں کی متعدد اقسام کی نمائش کی۔

    یوایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر جیری بسن نے کہا کہ حکومت ِامریکہ یوایس ایڈ کی وساطت سےبین الاقوامی معیار اور برآمدی ضوابط کی تعمیل کو یقینی بناتے ہوئے آم کے پاکستانی کاشتکاروں کی نئی منڈیوں تک رسائی کو فروغ دینے کیلئے پُرعزم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی آم کو زیادہ سے زیادہ مسابقت کے قابل بنانا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ہم پُر اعتماد ہیں کہ ہماری شراکت داری سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی ، جدید ٹیکنالوجی اور منڈیوں میں مواقع کے ذریعے آم کی برآمد بڑھے گی ، جس سے پاکستانی کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔

    چیئرمین پاکستان زرعی ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) ڈاکٹر یوسف ظفر نےبھی پاکستان کی زرعی صنعت کے اس شعبےکیلئےامریکہ کی جانب سےفراخدلانہ اعانت فراہم کرنے کو سراہا۔

    یوایس ایڈ نے عالمی اور قومی منڈیوں میں تجارتی پیمانے پر پاکستان کی زراعت اور لائیواسٹاک کے شعبوں کی چاراشیاء گوشت، قیمتی اور بے موسمی سبزیوں، آموں اور سنگترے کی مسابقتی صلاحیت کو بڑھانے کی غرض سے ۲۰۱۵ء میں یوایس –پاکستان پارٹنرشپ فار ایگریکلچرل مارکیٹ ڈیویلپمنٹ کا آغاز کیا۔ یہ شراکت داری ترقی اور سرمایہ کاری کیلئے عمل انگیز کا کردار ادا کررہی ہے اور پاکستان کی زرعی اجناس کے کا شتکاروں، انھیں مصنوعات کی شکل دینے والوں، برآمدکنندگان اور صارفین کے درمیان تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔

    یوایس ایڈ نے گرانٹ کے حوالے سےاس منصوبے کے تحت جاری پروگرام
    کےذریعے۱۳جدیداور خودکار مینگو گریڈر فراہم کئے ہیں۔یہ گریڈر اِمسال پہلی بار برآمد کی غرض سے آموں کی درجہ بندی کرنے کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں۔

    یوایس ایڈ نے ۲۰۰۹ء سے لے کر اب تک آم کے کاشتکاروں کو اس پھل کو پراسیس کرنے اور برآمدی پیمانے پر پورا اترنے کیلئے اعانت فراہم کی ہے۔ان ابتدائی کوششوں کو مزیدآگے بڑھاتے ہوئے یو ایس ایڈ آم کی برآمد کو توسیع دینے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ یوایس ایڈ پاکستانی حکومت اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے کاشتکاروں کے ساتھ مل کر آم کی فروخت بڑھانے کیلئے بھی کام کررہی ہے۔

    پاکستان میں یوایس ایڈ کے پروگراموں کے بارے میں مزید معلومات کیلئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کریں:

    www.usaid.gov/pakistan/economic-growth-agriculture

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  5. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,853
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    زمین کی زرخیزی کا اٹلس پنجاب میں زرعی ترقی کی راہ ہموار کرے گا: سربراہ یو ایس ایڈ
    _پاکستان اور امریکہ کی حکومتوں نے صوبہ پنجاب میں زمین کی زرخیزی کے اٹلس کی رونمائی کی ہے جس کا مقصد زمین کی زرخیزی کی دیکھ بھال اور برقرار رکھنے کے ساتھ زرعی شعبے کو مضبوط بنانا ہے۔

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ڈائریکٹر جیری بسن ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سکندر حیات خان بوسن اور چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقا تی کونسل ڈاکٹر یوسف ظفر نے آج قومی زرعی تحقیقاتی کونسل اسلام آباد میں صوبہ پنجاب کی زمین کی زرخیزی کے بارے میں اٹلس کی رونمائی کی ۔

    یو ایس ایڈ کے ڈائر یکٹر جیری بسن نے اس موقع پر کہا کہ آج جس اٹلس کی ہم رونمائی کر رہے ہیں یہ زرعی اعتبار سے پاکستان کے سب اہم صوبے پنجاب ، جو پاکستان کی کُل زرعی پیداوار کا ساٹھ فیصدپیدا ہوتا ہے، میں زمین کی زرخیزی اور زراعت کے پائیداری کے نظام کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان میں زرعی شعبےکی ترقی کے لیے کئی سالوں سے جاری امریکی اعانت پر فخر ہے اور ہمیں امید ہے کہ دیگر متعلقہ فریق ان کوششوں کو جاری رکھیں گے۔

    وفاقی وزیر سکندر بوسن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ زمین کی زرخیزی کے اٹلس سے زمین زرخیزی کے لیے درکار زراعت کی پائیداری کے نظام کو تشکیل دینے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ کسان، زرعی اور ماحولیاتی ماہرین ، معیشت دان اور سرکاری اور نجی شعبے میں فیصلہ سازی سے وابستہ افراد اس اٹلس سے استفادہ کریں گے۔

    یہ پروگرام اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت ، وزرات قومی غذائی تحفظ و تحقیق ، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ، امریکہ ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی اور امریکی حکومت کے محکمہ زراعت کی باہمی اشتراک کا نتیجہ ہے۔ یہ اٹلس زمین کی مختلف اقسام، ان کی زرخیزی کے معیار، پنجاب میں مقامی سطح پر بہترانتظام کےمروجہ طریقوں، کھاد کے چناؤ اور زمین کی زرخیزی سے متعلق کسانوں کی رہنمائی اور زیادہ سے زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے مقداراور وقت کے انتخاب پر ایک جامع تفصیل فراہم کرتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی نمائندہ مینا ڈاولتچاحی نے کہا کہ یہ پراجیکٹ زرعی طور طریقوں پر عملدارآمد کے ذریعے زمین کے تحفظ اور پاکستان میں زرعی پیداوار کے اضافے، غذائی عدم تحفظ اور بھوک کے خاتمے کی کوششوں میں اہم پیشرفت ہے ۔

    یہ اٹلس زرعی اعدادو شمار، وفاقی اور صوبائی محکموں اور اداروں کے حقیقی تخمینوں کی بنیاد پرتشکیل دیا گیا ہے۔ اٹلس کی تکمیل کے لیے صوبہ پنجاب میں مختلف مقامات پر گندم، چاول، کپاس، مکئی اور گنے کے کاشتکاروں سے معلومات کے لیے اُن کے ساتھ مشاورت کے سلسلے میں ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اٹلس عام لوگوں اورحکومتی زرعی اداروں کے لیے دستیاب ہو گا،اورکسانوں کو غیر ضروری کھادوں کے استعمال کو کم کرنے اور اخراجات میں بچت سے فصلوں کی پیداوار میں اضافےمیں معاون ثابت ہوگا۔

    پاکستان میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے پروگراموں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے وزٹ کریں۔

    www.usaid.gov/pakistan/economic-growth-agriculture

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  6. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,853
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    امریکہ اور عورت فاؤنڈیشن کی جانب سےصنفی مساوات کے پروگرام کی کامیابیوں کے حوالے سے تقریب

    اسلام آباد (۳ ِاگست ، ۲۰۱۷ء)__ امریکہ اور عورت فاؤنڈیشن نے پاکستان میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے سلسلے میں اپنی کامیابیوں کے سات سال مکمل ہونے کے موقع پر پروگرام برائے صنفی مساوات(جی ای پی) کی اختتامی تقریب منعقد کی ۔

    جی ای پی، جسے حکومت امریکہ نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی وساطت سے عملی جامہ پہنایا،۷۰ سال قبل قیام پاکستان سے لے کر اب تک اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پروگرام تھا۔

    قائم مقام نائب امریکی سفیر کرسٹینا ٹوملنسن نے اِس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے خواتین کی انصاف تک رسائی بڑھانے اور ان کے حقوق اور مواقع میں اضافہ کے ذریعہ ان کو بااختیا ربنانے، صنفی بنیاد پر تشدد میں کمی اور صنفی مساوات کی وکالت کیلئے پاکستانی تنظیموں کی استعداد ِکارکو بہتربنانے ایسے اقدامات کے لیے جانفشانی کا مظاہرہ کرنے پر جی ای پی کے شرکاء کو مبارکباد دی۔

    کرسٹینا ٹوملنسن نے کہا کہ معاشروں کی ترقی کیلئے عورتوں اور لڑکیوں کو تعلیم ،صحت عامہ اور ٹیکنالوجی تک رسائی کے مواقع میسر ہونے چاہیئں، انھیں وسائل، زمین اور منڈیوں تک رسائی حاصل ہو اور انھیں رہنمائی کرنے، امن وآشتی کے فروغ اور روزی کمانے کے قابل بنانے کیلئے مساوی حقوق اور مواقع فراہم کئے جائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ صنفی مساوات اور عورتوں کوبااختیا ر بنانا محض ترقی کے عمل کا حصہ ہی نہیں ، بلکہ ترقی کے عمل کا مرکزومحور ہو۔ عالمی سطح پر عورتوں اور لڑکیوں کے مرتبہ میں اضافہ نہ صرف یہ کہ درست ،بلکہ قابل ستائش کام ہے۔

    عورت فاؤنڈیشن کے قائم مقام ایگزیکٹو نعیم مرزا نے پروگرام کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں ، سرکاری جامعات، بارکونسلوں اور جوڈیشل اکیڈیمیوں میں صنفی مسائل کے حوالے سے پروگرام متعارف کروا نے سے ملک بھر کے اداروں اور پاکستانی عورتوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئی ہے۔ اس پروگرام میں صنفی مساوات کے فروغ کے ذریعہ سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کی استعداد بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ نعیم مرزا نے پاکستان میں صنفی مساوات کےفروغ کیلئے مسلسل اعانت فراہم کرنے پر حکومت امریکہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    تقریب میں اس پروگرام سے مستفید ہونے والوں کو اپنے کام کے بارے میں آگہی فراہم کرنے کا موقع بھی ملا، جس میں فاروق قیصر نے "انکل سرگم "کے روپ میں اس پروگرام کی کامیابیوں اور ملک میں عورتوں کو درپیش مسائل کو اُجاگرکیا۔

    حکومت امریکہ ،پاکستانی حکومت کےاشتراک سے ان پروگراموں کےذریعے صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے تدارک ، خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور اُنھیں بااختیار بنانے، سیاسی عمل میں اُن کی شرکت اورانھیں معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک رسائی کیلئے اعانت فراہم کرتی ہے۔

    صنفی پروگرام کے بارے میں مزیدجاننے کیلئے مندرجہ ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کریں:


    ###​


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  7. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,853

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    [​IMG]


    امریکہ کا پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی میں اضافے کے لئے عزم کااظہار

    اسلا م آباد (۱۰ ِاگست، ۲۰۱۷ء) __ حکومتِ امریکہ نے تعلیم، معاشی سرگرمیوں میں شرکت اور صنفی مساوات کے متعلق ایک پینل مباحثے کے دوران پاکستانی خواتین کے لئے ترقی کے مواقع بڑھانے کے عزم کا اظہارکیا۔

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جیری بسن نے یو ایس ایڈ کے فنڈ سے چلنے والے ٹریننگ فار پاکستان پراجیکٹ کے تعاون سے منعقدہ ایک پروگرام میں تعلیم و تدریس، سرکاری اور نجی شعبے اور سماجی بہبود کے اداروں سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ سو شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے لئے ایک واضح راستے کے بغیر لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ تعلیم اُن کے مستقبل کے لئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریننگ فار پاکستان منصوبے کے ذریعے یو ایس ایڈ لڑکیوں اور خواتین کے لئے تعلیم اور کام کے مساوی مواقع کی فراہمی کے لئے کام کررہا ہے۔

    پینل مباحثے کی میزبانی کے فرائض یو ایس ایڈ کے تعاون سے چلنے والے پاتھ ویز ٹو سکسیس نیشنل مینٹورنگ پروگرام کی رابطہ کار منیزہ ہاشمی نے کی جبکہ پینل کے شرکاء میں معروف مصور اور فنکار سلیم ہاشمی، مقرر اور پریزنٹر تنزیلہ خان، ٹی وی فنکارہ سیمی راحیل، سماجی کارکن اور بیوٹیشن مسرت مصباح اور ماہر قانون و انسانی حقوق کی کارکن رخشندہ ناز شامل تھیں۔

    ٹریننگ فار پاکستان منصوبہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے انہیں مارکیٹ کی مناسبت سے مہارتوں کے حصول، کام کے مقامات کے لئے انہیں تیار کرنےاور کاروبار و روزگار سے متعلق کوششوں میں تعاون کے ذریعے رسمی و غیر رسمی فنی و تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لئے خیبرپختونخوااور سندھ میں تین ہزار سے زائد خواتین کے ساتھ ملکر کام کررہا ہے۔

    اطلاعات ٹیکنالوجی، کاروبار، قانون، مائیکرو فائنانس، بینکنگ، درس و تدریس، فنون، کھیلوں اور ذرائع ابلاغ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی تیس سے زائد کامیاب اور معروف خواتین نے یو ایس ایڈ کے تعاون سے جاری رہنمائی پروگرام کے تحت تین سو لڑکیوں کے لئے ایک قومی رہنمائی نیٹ ورک میں شرکت کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والی یہ خواتین کامیابی کی راہ میں حائل مشکلات پر قابو پانے اور پیشہ ورانہ ترقی کی راہ ہموار کرنے سے متعلق رہنمائی کے لئے ایک ماہ میں کم از کم دو مرتبہ لڑکیوں اور اُن کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرتی ہیں ۔

    ٹریننگ فار پاکستان منصوبہ ایک کثیر سالہ پروگرام ہے جس کا مقصد تعلیم، توانائی، معاشی ترقی و زراعت، صحت و استحکام اور نظم و نسق کے شعبوں میں تربیت فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت حکومتِ پاکستان کے ترقیاتی اہداف کے مطابق یو ایس ایڈ کے اشتراک ِ کاروں کی صلاحیت میں بہتری لاتے ہوئے تربیت کے وسیع وسائل کو بروئے کار لایاجاتا ہے۔

    یو ایس ایڈ اور پاکستان میں اس کے پروگراموں کے بارے میں مزید جاننے کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے۔

    www.usaid.gov/pakistan

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  8. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,853

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    امریکی سفارتخانے کی جانب سے معذور افراد کےلیے ٹیک کیمپ کا انعقاد

    اسلام آباد (۱۰ ِاگست ، ۲۰۱۷ء)__ امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے آج معذورافراد کے لیے منعقدہ ٹیک کیمپ میں شرکت کی ، جس میں یہ خصوصی افراد اپنی روزمرہ زندگی میں ٹیکنالوجی کےاستعمال کے متعلق سیکھ رہے ہیں ۔ امریکی سفارتخانے اور اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام (اسٹیپ) کے اشتراک سے منعقدہ اس دو روزہ کیمپ میں ذرائع آمدن اور آگاہی میں اضافے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال، وڈیو فلمسازی اور تدوین ، اور معذور افراد کے لیے تیار کی گئی موبائل ایپس کے استعمال پر مختلف نشستیں منعقد کی گئیں۔

    سفیر ڈیوڈ ہیل نے شرکا ء کو نئی مہارتوں کواپنی زندگیوں کو اجا گر کرنے اور معذوری کے شکار افراد کے حقوق اور آگاہی کے لیے استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔

    امریکی سفیر نے کہا کہ انہیں اُمید ہے کہ شرکا ء کیمپ کے دوران حاصل کی گئی نئی ٹیکنالوجی اور وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی معذور افراد کےلیے اطلاعات، روزگار اور شہری زندگی میں شرکت کے زیادہ مواقع کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

    امریکی سفارتخانہ رواں ہفتے منعقدہ اس ٹیک کیمپ کے علاوہ پاکستان میں معذوری کے شکار افراد کے لیے متعد د دیگر سرگرمیوں میں بھی معاونت کرتا ہے ۔ امریکی سفارتخانے نے موبیلیٹی انٹر نیشنل یو ایس اے اور اسٹیپ کے اشتراک سے امریکہ میں معذور افراد سے متعلق قانون اوردوسروں کے سہارے کے بغیر آزادانہ زندگی سے متعلق آگاہی کے لیےتبادلے کے پروگرام کے دو گروپس کو امریکہ بھیجا ہے۔

    ٹیک کیمپ کے دوران اسٹیپ کی ڈائر یکٹر پراجیکٹس عابیہ اکرم نے ٹیک کیمپ کے انعقاد اور پاکستان میں معذوری کےشکار افراد کی فلاح کے لیے اعانت پر امریکی سفارتخانے کا شکریہ ادا کیا ۔

    عابیہ اکرم نے کہا کہ اسٹیپ پاکستا ن میں معذوری کے شکار افرا د کے لیے پائیدار تعاون پر امریکی سفا رتخانے کا مشکورہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپ کے ذریعے ہم معذوری کے شکار افراد کو اُن وسائل سے روشناس کروا رہے ہیں جن سے وہ اپنی زندگیوں میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ معذوری کے شکار افراد کی پاکستانی معاشرے کے لیے خدمات سے آگاہی بھی فراہم کر سکتے ہیں ۔


    پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے دیگر پروگراموں کے متعلق جاننے کے لیے درج ذیل ویب سائیٹ ملاحظہ کریں۔


    pk.usembassy.gov

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  9. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,853
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    [​IMG]

    [​IMG]
    امریکی ماہرین کی پاکستان واٹر ڈائیلاگ پراجیکٹ میں اعانت کے لئے تربیتی نشستیں
    اسلا م آباد (۲۲ ِاگست، ۲۰۱۷ء) __ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے تین ماہرین پاکستان آبی مکالمہ منصوبہ (پاکستان واٹر ڈائیلاگ پراجیکٹ )میں معاونت کے لئے اس ہفتے اسلام آباد میں آبی وسائل سے متعلق تربیتی نشستیں منعقد کررہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی وزارتوں، جامعات اور غیر سرکاری تنظیموں کے ۸۵ اعلیٰ حکام اور فنی ماہرین اِن ورکشاپس میں شرکت کررہے ہیں، جن کا اہتمام امریکی محکمہ زراعت اور خشک علاقوں میں زرعی تحقیق کے بین الاقوامی مرکز (ایکارڈا) نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

    امریکی سفارتخانہ کے زرعی قونصلر ڈیوڈ ولیمز نے پہلی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آبی مکالمہ منصوبہ سے کسانوں کو زراعت کے لئے پانی کو زیادہ باکفایت انداز میں حاصل کرنے، ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت کے جو ماہرین یہ تربیتی نشستیں منعقد کررہے ہیں، اُن میں یو ایس ڈی اے کے نیچرل ریسورس کنزرویشن سروس کے ایگرونومسٹ مائیکل کیوسیرا ، یو ایس ڈی اے کنسٹرکشن اینڈ سوائل مینجمنٹ سینٹر کے اسٹریم مکینکس سول انجینئر جان فرپ اور یو ایس فارن ایگریکلچرل سروس کے کیپیسٹی بلڈنگ اینڈ ڈیویلپمنٹ آفس کی پروگرام منیجر ہیلری لینڈ فرائیڈ شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ زراعت نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے تعاون سے پانی و زمین کی حفاظت کے طریقوں اور ٹیکنالوجیز کو فروغ دیتے ہوئے واٹر شیڈ کی بحالی و آبپاشی میں بہتری کے لئے چھ برس کام کیا ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت کا یہ کام ۲۰۱۱ء میں ایکارڈا کے ساتھ شراکت میں دیہی کاشتکاروں کی مدد کے لئے ایک پانچ سالہ پروگرام سے شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت چالیس آزمائشی مقامات قائم کئے گئے، ڈیڑھ لاکھ کتابچےشائع کئے گئے، ۲۴۰ فارمرز فیلڈ ڈیز کا انعقاد کیا گیا اور ۱۴ ہزار کاشتکاروں تک رسائی ممکن بنائی گئی۔ ان اقدامات کی بدولت پندرہ سو کاشتکاروں نے پہلے ہی ایک یا اس سے زائد جدید ٹیکنالوجیز کو اختیار کرلیا ہے۔ امریکی محکمہ زراعت نے ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۵ء تک انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ بھی شراکت کی۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان واٹر ڈائیلاگ کا متفقہ لائحہ عمل وضع کرنے کے لئے مقامی حکام اور امریکی محکمہ زراعت کے ماہرین کو ایک جگہ جمع کیا گیا۔

    ۲۰۱۶ء میں امریکی محکمہ زراعت اور ایکارڈا نے ’’پاکستان واٹر ڈائیلاگ ۔ ڈی فیوژن اینڈ اڈاپشن تھرو پارٹنرشپس اینڈ ایکشن آف دی بیسٹ واٹرشیڈ ری ہیبیلٹیشن اینڈ اِری گیشن پریکٹسز‘‘کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کے تحت پچھلے واٹر شیڈ پروگرام میں وضع کردہ انتظامی طریقوں میں مزید بہتری کے لئے پیش رفت کی جارہی ہے۔
    ###​
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     

اس صفحے کی تشہیر