صائمہ شاہ

محفلین
دیر سے منظرِ افلاک صدا دیتا ہے
اور میں چُپ ہوں کہ بے بال و پری کے دن ہیں

آخرِ کار گذرنے کو ہے یہ ساعتِ صبر
اس کے آگے مری شوریدہ سری کے دن ہیں

عرفان صدیقی
 

طارق شاہ

محفلین

عنقا کی طرح خَلق سے عُزلت گزیں ہُوں میں
ہُوں اِس طرح جہاں میں کہ گویا نہیں ہُوں میں

ہُوں طائرِ خیال، نہ پر ہیں نہ میرے بال !
پر اُڑ کے جا پُہنچتا کہیں سے کہیں ہُوں میں

شیخ ابراہیم ذوق
 

طارق شاہ

محفلین

پھر دِل ہے داغ مطلعِ خورشید دیکھ کر
از بسکہ یاد جلوۂ بالائے بام ہے


پھرکچھ صدائے پا سے دلِ مُردہ جی اُٹھا
پھر جلوہ ریز کون قیامت خرام ہے


حکیم مومن خان مومن
 

طارق شاہ

محفلین

کیا نظارہ کِیا ارضِ پامال کا
کیا پتہ چل گیا صورتِ حال کا ؟

یہ جو پیہم اندھیرے میں جھنکار ہے
بس اندھیروں کی آپس میں پیکار ہے

ایسے حالات دل جن پہ افسُردہ ہیں
کِس کو الزام دیں، سارے خود کردہ ہیں

فہمیدہ ریاض
 

طارق شاہ

محفلین

بزورِ طبع ہر اِک تِیر کو کمان کِیا
ہُوئے ہیں جُھک کے وہ رخصت جو مُجھ سے تن کے مِلے

فراق گورکھپوری
 

طارق شاہ

محفلین

عجیب راز ہے تنہائئِ دلِ شاعر !
کہ خِلوتوں میں بھی آثار انجُمن کے مِلے

فراق گورکھپوری
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

عناصر سے نِمٹ کر، کیا بتاؤں، کِس سے نِمٹے گا
ندیم اب آدمی کے ہاتھ ہیں خود اپنی گردن پر

احمد ندیم قاسمی
 

سید فصیح احمد

لائبریرین
برادرِ عزیز میرے پاس شعر یونہی لکھا ہوا ہے ، اگر آپ نے کہیں
آب زر کے ساتھ دیکھا ہے ، تو درست ہی ہوگا ، یا کوئی اور اس بابت
حوالے کے ساتھ لکھ دے تو اور بھی اچھا ہو :)

طارق بھائی معذرت چاہتا ہوں کہ حوالہ ڈھونڈ نکالنے میں دیر ہو گئی کہ زندگی کی تیز گام کہیں ٹَکنے کا نام نہیں لیتی :) خیر مکمل غزل مُجھے یہاں ملی تھی ، جزاک اللہ !
 

طارق شاہ

محفلین
طارق بھائی معذرت چاہتا ہوں کہ حوالہ ڈھونڈ نکالنے میں دیر ہو گئی کہ زندگی کی تیز گام کہیں ٹَکنے کا نام نہیں لیتی :) خیر مکمل غزل مُجھے یہاں ملی تھی ، جزاک اللہ !

فصیح صاحب !
بہت اغلاط ہیں دئے لنک میں، اس لئے آب زر بھی ٹائپو ہی لگتا ہے : دیکھیں :-

جاگے کا خوان ہجر سے آئے گا لوٹ کر یہیں
دیکھیں گے خوف و شوق سے روزنِ در سے سب اسے
=خوابِ

صحرا نہیں ہے شہر ہے، اور بھی لوگ ہیں یہاں
چاروں طرف مکان ہیں، اتنا ہے ہوش کب اسے
= یہ

کہنے کو بات کچھ نہیں، جانا ہے اسکو تجھ کو بھی
کیوں رو کھڑا ہے راہ میں روک کے بے سبب اسے
= تُو

باغوں میں جا اے کوش نواً آئی بسنت کی ہوا
زرد ہُوا ہے بن عجب، جادو چڑھا رجب اسے
=خوش نوا
= عجب

اک اک ورق ہے آبِ زر تیری غزل کا منیرؔ
جب یہ کتاب ہو چکے جا کے دکھانا تب اسے
= اے منیر

بابِ زر ہی بنتا ہے ، آبِ زر مفہوم کی وجہ سے ورق (جوغزل پر کُھلتی ہے) سے نسبت نہیں رکھتی ، اسے میں کل تصدیق کروا لونگا
انشاللہ
تشکّر

(کتاب گھر شکاگو سے کلیات منیر نہ ملنے سے تصدیق نہیں ہوسکی، معذرت :)
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

آنکھ تک دل سے نہ آئے نہ زباں تک پہنچے
بات جس کی ہے، اُسی آفتِ جاں تک پہنچے

کیا تعجّب کہ ، مِری روحِ جواں تک پہنچے
پہلے کوئی مِرے نغموں کی زباں تک پہنچے

جگر مُرادآبادی
 
Top