طارق شاہ

محفلین

تمتماتے ہیں سُلگتے ہُوئے رُخسار تِرے
آنکھ بھر کرکوئی دیکھے گا، توجل جائے گا

اِتنا سیّال ہے یہ پل، کہ گُماں ہوتا ہے !
میں تِرے جسم کو چُھو لوُں تو پگھل جائے گا

احمد ندیم قاسمی
 

طارق شاہ

محفلین

اے دل اب اُسکی یاد میں، کب تک یہ بیخودی !
ہو اُس کی بزمِ ناز میں حاضر کِسی طرح

حاصل ہے جس ہُنر میں مہارت رقیب کو
اُس فن میں ہو سکا نہ میں ماہر کِسی طرح

عنبرامروہوی
 

طارق شاہ

محفلین

مُجھے آتا ہی نہیں بس میں کِسی کے آنا
آؤں بھی تو، بَکفِ آبلہ دار آتا ہُوں

تُجھ سے چُھٹ کر بھی، تِرے سُرخیِ عارض کی قسم
چُپکے چُپکے تِرے دِل میں کئی بار آتا ہُوں

احمد ندیم قاسمی
 

طارق شاہ

محفلین

بے تحاشا سی لا اُبالی ہنسی
چِھن گئی ہم سے وہ جیالی ہنسی

میں کہیں جاؤں، ہے تعاقب میں
اُس کی وہ جان لینے والی ہنسی

بشیر بدر
 
Top