آب حیات - مولانا محمد حسین آزاد (مرحوم)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۲۲

دل کا بخار نکالا، مگر وہ مشت بعد از جنگ تھی۔ چند بند اس کے انتخاباً لکھتا ہوں، کیوں کہ اور بند بہ سبب بے لطفی اور نا درستی کے قابل تحریر بھی نہیں۔ مرزا عظیم بیگ کہتے یں :

وہ فاضل زمانہ ہو تم جامع علوم
تحصیل صرف و نحو سے جنکی مچی ہے دھوم

رمل و ریاضی حکمت و ہیئت جفر نجوم
منطق بیان معانی کہیں سب زمیں کو چوم

تیری زباں کے آگے نہ دہقاں کا ہل چلے

اِک دو غزل کے کہنے سے بن بیٹھے ایسے طاق
دیوان شاعروں کی نظر سے رہے بہ طاق

ناصر علی نظیری کی طاقت ہوئی ہے طاق
ہر چند ابھی نہ آئی ہے فہمید جفت و طاق

ٹنگری تلے سے عرفی و قدسی نکل چلے

تھا روز فکر میں کہ کہوں معنی و مثال
تجنیس و ہم رعایت لفظی و ہم خیال

فرق رجز رمل نہ لیا میں نے گو سنبھال
نادانی کا مرے نہ ہو دانا کو احتمال

گو تم بقدر فکر یہی کر عمل چلے

نزدیک اپنے آپ کو کتنا ہی سمجھو دُسر
پر خوب جانتے ہیں مجھے جو ہیں ذی شعور

وہ بحر کونسی نہیں ہے جس پہ یاں عبور
کب میری شاعری میں پڑے شبہ سے قصور

بن کر قمل (جوں) نکالنے کو تم خلل چلے

موزونی و معانی میں پایا نہ تم نے فرق
تبدیل بحر سے ہوئے بحر خوشی میں غرق

روشن ہے مثل نہر یہ از غرب تابہ شرق
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۲۳

کم ظرفی سے تمھیں تو یہی آئی ہے اُمنگ
کیجیے نمود و خلق میں اب کرسخن کی جنگ

اپنے تئیں تو بحثنے آتا ہے یار ننگ
اتنا بھی رکھے حوصلہ فوارہ ساں نہ تنگ

چلو ہی بھر جو پانی میں گز بھر اچھل چلے

کیوں جنگ گفتگو کو تم اٹھ دوڑے اس قماش
کرتے جو بھاری پانچہ ہوتا نہ پردہ فاش

پر سمجھیں کب یہ بات جو کندے ہوں ناتراش
تیغ زباں کو میان میں رکھتے تم اپنے کاش

ناحق جو تم ازار سے باہر نکل چلے​

اب سید انشاء کے طائر فخر کی بلند پروازی اور بھی زیادہ ہوئی۔ ہر غزل میں مضامین فخریہ کا جوش ہونے لگا (پھر تومرزا کا یہ عالم ہو گیا کہ حکیم صاحب کے سنائے بغیر مصرع کسی کے سامنے نہ پڑھتے، سناتے وقت کہتے بابا دیوار گوش دارد۔ چپکے چپکے پڑھا کرتے۔) یہاں تک کہا کہ میرا اور ان لوگوں کا کلام ایسا ہے جیسے کلام الہٰی اور مسلمہ کذّاب کا الفیل۔ مالفیل۔

مشاعرہ میں بادشاہ بھی اپنی غزل بھیجا کرتے تھے اور بادشاہوں کا کلام جیسا ہوتا ہے وہ ظاہر ہے۔ سید انشاء نے حضور میں عرض کی کہ فلاں فلاں اشخاص حضور کی غزل پر تمسخر اور مضحکہ کرتے ہیں۔ بادشاہ اگرچہ اُن خانہ زادانِ قدیم پر ہر طرح قدرت رکھتے تھے، مگر اتنا کیا کہ مشاعرہ میں غزل بھیجنی موقوف کر دی۔ یاروں کو بھی خبر لگ گئی۔ نہایت رنج ہوا۔ چنانچہ بعد اس کے جو مشاعرہ ہوا (یہ مشاعرہ ایک خطرناک معرکہ تھا۔ حریفوں نے تیغ و تفنگ اور اسلحہ جنگ سنبھالے تھے۔ بھائی بند اور دوستوں کو ساتھ لیا تھا۔ بعض کو اِدھر اُدھر لگا رکھا تھا۔ اور بزرگانِ دین کی نیازیں مان مان کر مشاعرہ میں گئے تھے۔) تو اس
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۲۴

میں کمر باندھ باندھ کر آئے، اور ولی اللہ محب نے یہ قطعہ پڑھا :

مجلس میں چکے چاہیے جھگڑا شعراء کا
ایسے ہی کسی صاحب توقیر کے آگے

یہ بھی کوئی دانش ہے کہ پہنچے یہ قضایا
اکبر تئیں یا شاہ جہانگیر کے آگے​

مرزا عظیم بیگ نے کہا بابا میں نے اپنی عرض حال میں اپنے اُستاد کے ایک شعر پر قناعت کی ہے کہ ابھی تضمین ہو گیا۔

عظیم اب گو ہمیشہ سے ہے یہ شعر کہنا شعار اپنا
طرف ہر ایک سے ہو بحث کرنا نہیں ہے کچھ افتخار اپنا

کئی سکھن باز گھنڈ گو یوں ہو نہ ہو اعتبار اپنا
جنھوں کی نظروں میں ہم سبک ہیں دیا انہی کو وقار اپنا

عجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پہ ڈالا جو بار اپنا​

دریائے مواج کےآگے گھاس پھوس کی کیا حقیقت تھی۔ سیَّد انشاء غزل فخریہ کہہ کر لائے تھے۔ وہ پڑھی جس کا ہر شعر دلوں پر توپ کے گولہ کا کام کرتا تھا۔

اِک طفلِ دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے
کیا منھ ہے ارسطو جو کرے چوں مرے آگے

کیا مال بھلا قصر فریدوں مرے آگے
کانپے ہے پڑا گنبدگردوں مرے آگے

مرغانِ اولی اجنحہ مانند کبوتر!
کرتے ہیں سدا عجز سے غوں غوں مرے آگے

منھ دیکھو تو نقارچی پیلِ فلک بھی
نقارے بجا کر کہے دوں دوں مرے آگے

ہوں وہ جبروتی کہ گردہِ حکماء سب
چڑیوں کی طرح کرتے ہیں چوں چوں مرے آگے

بولے ہے یہی خامہ کہ کس کس کو میں باندھوں
بادل سے چلے آتے ہیں مضموں مرے آگے

مُجرے کو مرے خسرو پرویز ہو حاضر
شیریں بھی کہے آ گے بلا لوں مرے آگے

کیا آ کے ڈراوے مجھے زلفِ شب یلدا
ہے دیو سفید سحری جوں مرے آگے

وہ مارِ فلک کاہکشاں نام ہے جس کا
کیا دخل جو بل کھا کے کرے فوں مرے آگے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۲۵

بعد ان کے حکیم میر قدرت اللہ خاں قاسمؔ کے سامنے شمع آئی۔ انھوں نے اتنا کہا کہ سید صاحب ذرا الفیل مالفیل کو بھی ملاحظہ فرمائیے۔ میر مشاعرہ (نواب کے اخلاق کا یہ عالم تھا کہ پہلے مسند تکیہ لگا کر جلسہ میں بیٹھا کرتے تھے۔ مرزا عظیم بیگ نے اپنے دوستوں سے کہا کہ ہمیں کیا غرض ہے جو مسند نشینوں کے جلسوں میں جا کر حاشیہ نشین بنیں۔ نواب نے بہت عذر سے کہلا بھینا کہ آپ صاحب تشریف لائیں کچھ مضائقہ نہیں۔ میں بھی احباب کے ساتھ چاندنی پر بیٹھوں گا۔ اس دن سے مسند اُٹھا ڈالی۔ ہر چند اکثر اعزہ و شرفاء نے کہا، ہرگز نہ مانا، سب کے برابر بیٹھے۔) کو خیال ہوا کہ سیَّد انشاء نے ہجو کہی ہو گی۔ مباداشرفاءمیں بے لطفی حد سے بڑھ جائے، اسی وقت اٹھے کہ دونوں میں صلح کروا دی۔ سیّد انشاء نے بھی شرافت خاندانی اور علّوِ حوصلہ کا کام کیا۔ اٹھ کر حکیم صاحب کے گلے لپٹ گئے اور کہا کہ حضرت حکیم صاحب آپ میرے ابن عم اسپر صاحبِ فضل، خاک بدہنم بھلا آپ پر طنز کروں گا۔ البتہ مرزا عظیم بیگ سے شکایت ہے کہ وہ خواہ مخواہ بددماغی کرتے ہیں۔ اور داد دینی تو درکنار شعر پر سر تک نہیں ہلاتے۔ آخر کس برتے پر، غرض کہ سب کی صلح پر خاتمہ ہو گیا۔

دلّی میں اگرچہ بادشاہ اس وقت فقط بادشاہ شطرنج تھا، یہانتک کہ مال و دولت کے ساتھ غلام قادر نقد بصارت تک بھی لے گیا تھا، مگر یہ اپنا مطلب ہزار طرح سے نکال لیتے تھے۔ مثلاً جمعرات کا دن ہوتا تو باتیں کرتے کرتے دفعتہً خاموش ہوتے اور کہتے کہ پیر و مرشد غلام کو اجازت ہے۔ بادشاہ کہتے خیر باشد۔ کہاں؟ کہاں؟ یہ کہتے۔ حضور آج جمعرات ہے۔ غلام
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۲۶

بنی کریم جائے۔ شاہ دین و دنیا کا دربار ہے۔ کچھ عرض کرے،شاہ عالم بہ ادب کہتے کہ ہاں بھئی ضرور جانا چاہیے۔ انشاء اللہ خاں ہمارے لئے بھی کچھ عرض کرنا۔ یہ عرض کرتے کہ حضور! غلام کی اور آرزو کونسی ہے۔ یہی دین کی آرزو یہی دنیا کی مراد، یہ کہہ کر پھر خاموش ہوتے۔ بادشاہ کچھ اور بات کرنے لگتے۔ ایک لمحہ کے بعد پھر یہ کہتے کہ پیر و مرشد! پھر غلام کو اجازت ہو۔ بادشاہ کہتے ہیں اے بھئی میر انشاء اللہ خاں ابھی تم گئے نہیں؟ یہ کہتے حضور بادشاہ عالی جاہ کے دربامیں غلام خالی ہاتھ کیوں کر جائے۔ کچھ نذر و نیاز، کچھ چراغی کو تو مرحمت ہو! بادشاہ کہتے ہاں بھئی درست، درست۔ مجھے تو خیال نہیں رہا۔ جیب میں ہاتھ ڈالتے اور کچھ روپیہ نکال کر دیتے۔ میر انشاء لیتے اور ایک دو فقرے دعائیہ کہہ کر پھر کہتے کہ حضور دوسری جیب میں دست مبارک جائے تو فدوی کا کام چلے۔ کیوں کہ وہاں سے پھر کر بھی تو آنا ہے۔ بادشاہ کہتے ہیں کہ ہاں بھائی سچ ہے۔ سچ ہے۔ بھلا وہاں سے دو دو کھجوریں تو لا کر کسی کو دو۔ بال بچے کیا جانیں گے کہ تم آج کہاں گئے تھے۔ اگرچہ ان فقروں سے یہ کام نکال لیتے تھے، لیکن پھر کب تک؟ آخر دلّی سے دل اچاٹ ہوا۔ لکھنؤ میں آصف الدولہ کی سخاوتوں نے حاتم کے نام کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اور لوگ بھی کمال کے ایسے جویا تھے کہ جو دلّی سے گیا پھر نہ آیا۔ اس لئے اِدھر کا رُخ کیا۔ جاتے ہی علم و فضل کے زور اور کمال کے شور سے توپ خانے لگا دیئے۔ کہ تمام مشاعرے گونج اٹھے۔ اور اسی نمک خواری قدیم کے سلسلہ سے مرزا سلیمان شکوہ کی سرکار
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۲۷

میں پہونچے۔ وہ شاہ عالم کے بیٹے تھے۔ باپ دادا کے خانہ زادوں پر شفقت واجب تھی۔ اس کے علاوہ شاعر بھی تھے۔ چنانچہ عام اہلِ دہلی کے علاوہ شعراء کا مجمع دونوں وقت ان کے ہاں رہتا تھا۔ سوداؔ، میر ضاحک، میر سوز وغیرہ کا ورق زمانہ اُلٹ چکا تھا۔ مصحفیؔ، جراتؔ، مرزا قتیل وغیرہ شاعروں اور شعر فہموں کے جلسے رہتے تھے۔ جو محفل ایسے گلشن فصاحت کے گلدستوں سے سجائی جاوے وہاں کی رنگینیاں کیا کچھ ہوں گی۔ جی چاہتا تھا کہ ان کی باتوں سے گلزار کھلا دوں۔ مگر اکثر پُھول ایسے فحش کانٹوں میں اُلجھے ہوئے ہیں کہ کاغذ کے پُرزے ہوئے جاتے ہیں۔ اس لئے صفحہ پھیلاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔

پہلے مرزا سلیمان شکوہ مصحفی سے اصلاح لیا کرتے تھے۔ جب سیّد انشاء پہونچے تو مصحفی کا مصحف طاق پر رکھا گیا۔ بزرگوں سے سُنا اور طرزِ کلام سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ کہ شہزادہ موصوف کے سر دیوان کی غزل اور اکثر غزلیں بھی سیّد ممدوح کی اصلاح کی ہوئی یا کہی ہوئی ہیں، چنانچہ پہلا ہی مطلع اس مطلب کو روشن کرتا ہے :

دل اب تو عشق کے دریا میں ڈالا
تَوکَّلتُ عَلٰی اللہِ تعَالٰی​

کیونکہ سیّد انشاء ایسی تضمینوں کے بادشاہ تھے۔

(بلکہ وزیر علی خاں کی مسند نشینی میں ان کی مختاری داخل تھی۔ پھر وزیر علی کا اخراج اور سعادت علی خاں کی مسند نشینی بھی ان ہی کی حسن تدبیر سے ہوئی تھی۔ انھوں نے انگریزی اور لاطینی زبان بھی سیکھی تھی۔ نیوٹن صاحب کے ڈفرنشل وغیرہ کا ترجمہ فارسی میں کیا تھا اور کئی دفعہ کلکتہ گئے تھے۔)
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۲۸

سید انشاء اگرچہ شہزادہ موصوف اور تمام امراء و روسا کے درباروں میں معّزز و مکرم تھے۔ مگر ہمّت عالی کا عقاب ہمیشہ اپنے پروں کو دیکھتا رہتا ہے، وہاں تفضل حسین خاں ایک شخص تھے کہ بعد ابو الفضل اور سعد اللہ خاں (یہ چہنٹ کے رہنے والے اور عبد الحکیم سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ دونوں گمنام گھروں کے لڑکے تھے اور ساتھ ہی پڑھتے تھے۔ عبد الحکیم اوّل سبق میں پیش قدم تھے مگر قسمت کے بھی پیش قدم نکلے۔ یہاں تک کہ پڑھتے پڑھتے شاہجہاں کے وزیر ہو گئے اور علامہ کا خطاب علم و فضل کی شہرت پر طرہ ہوا۔ سوائے نام کے کوئی تصینف کا نشان نہین چھوڑا۔ البتہ شاہجہاں نامہ میں ایک مراسلہ ان کا لکھا ہوا ہے۔ مگر علامہ ابو الفضل کے کام سے نسبت بھی نہیں۔ چہنٹ میں ایک مسجد ہے۔ اس کے مینار ہلاتے سے ہلتے ہیں کہ سنگ لرزاں کے ہیں۔) شاہجہانی کے علامہ کا خطاب اگر ہوا تو ان کے لئے تسلیم ہوا ہے۔ وہ اپنے علم اور حُسن تدبیر سے ادھر معتمد سرکار انگریزی کے اُدھر رُکن سلطنت لکھنؤی کے اور مشیر تدبیر سعادت علی خاں کے تھے۔ ان کی صحبت ایک مجموعہ فضل و کمال کا تھا۔ وہاں سیّد انشاء بھی جایا کرتے تھے۔ وہ بھی ان کی لیاقت اور خاندان کے لحاظ سے پہلوئے عزّت میں جگہ دیتے تھے اور فکر میں تھے کہ کوئی مناسب صورت حال نکالیں۔ ایک دن جوش تقریر میں سیّد انشاء ایک لفظ بول گئے۔ اس کے دو معنی تھے مگر اُردو میں جو معنی ہیں وہ اس قابل نہیں کہ ایسے جلسوں میں ذکر آئے۔ چونکہ یہ خود بھی مزاج شناسی کے ارسطو تھے اس لئے کہنے کو تو کہہ گئے۔ مگر خان علامہ کی نظر تاڑ کر بولے کہ زبان مارواڑی میں بیوقوف کو کہتے ہیں۔ انھوں نے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۲۹

کچھ سوچ کر کہا کہ خیر خاں صاح! انداز معلوم ہو گیا۔ جلد کوئی صورت ہو جائے گی۔ انشاء اللہ تعالٰی دوسرے ہی دن سعادت علی خاں سے ان کی بزرگی اور ان کے ذاتی کمالات کا ذکر کر کے کہا کہ آپ کی صحبت میں ان کا ہونا شغل صغری اور کبریٰ سے بہتر ہو گا۔ وہ سن کر مشتاق ہوئے۔ دوسرے دن خاں صاحب سید انشاء کو لے گئے اور ملازمت ہوتے ہی ایسے شیر و شکر ہوئے کہ پھر نواب کو ان کے سوا کسی کی بات میں مزا ہی نہیں آتا تھا۔

اس میں شک نہیں کہ تہذیب طبعی کی آگ اور شوق انتظام نے نواب کے دماغ کو خشک کر دیا تھا۔ مگر جیتی جان کے لئے شگفتگی کا بھی ایک وقت ضرور ہوتا ہے۔ اور سید انشاء تو وہ شخص تھے کہ ہر بزم میں گلدستہ اور ہر چمن میں پھول، چنانچہ کوئی خاص خدمت نہیں حاصل مگر دربار داری کے ساتھ ہر دم کی مصاحبت تھی۔ اس عالم میں انھوں نے عامہ خلایق خصوصاً اہل کمال اور اہل خاندان کی کاربراری سے نیکی اور نیک نامی کی دولت کمائی کہ جس سے زیادہ کوئی خزانہ نہیں ہو سکتا۔ ہزاروں کو مراتب اعلٰی پر پہنچا دیا۔ مگر آپ شاعر ہی رہے۔ چنانچہ عن قریب ان کے حال سے کچھ اشارے معلوم ہوں گے۔

زمانہ کا دستور ہے کہ صحت میں سے بیماری اور زندگی میں سے موت پیدا کر دیتا ہے۔ اسی مصاحبت سے ہنسی ہنسی میں مخالفت پیدا ہو گئی۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ وہ چہکتا ہوا بلبل اپنے گھر کے پنجرے میں بند کیا گیا۔ اور وہاں سے
(قتیل کے رقعوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۲۲۹ھ میں وہ موقوف ہو کر خانہ نشین ہوئے تھے مگر معلوم نہیں کہ یہی آخری خانہ نشینی تھی یا بعد اس کے پھر بحال ہو گئے۔)
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۰

اس گمنامی کے ساتھ زمین کا پیوند ہوا کہ کسی کو خبر نہ ہوئی۔ بسنت سنگھ نشاط کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۲۳۳ھ میں فوت ہوئے۔

خبر انتقال میر انشاء
دلِ غم دیدہ تا نشاط شنفت

سال تاریخِ اُو زجان اجل
عرفی وقت بود انشاء گفت
(۱۲۳۳ھ)​

ان کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ تصنیفات کا ذخیرہ بہت کچھ ہو گا۔ مگر جو کچھ میری نظر سے گزرا ہے، ان میں ایک کلیات ہے اس میں (۱) اردو غزلوں کا دیوان تمام و کمال (۲) دیوان ریختی اور ریختی میں پہلیاں اور مستزاد طلسمات کے نسخے قواعد پشتو (۳) قصائد اردو، حمد، نعت، مدح بزرگان دین، مدح بادشاہ دہلی اور تعریف امراء میں (۴) قصائد بزبان فارسی (۵) عیوان غزل ہائے فارسی تمام ہے۔ مگر مختصر ہے (۶) مثنوی شیر برنج فارسی میں (۷) مثنوی فارسی بے نقط۔ اس کی سرخیوں کے مصرع بھی بے نقط ہیں۔ (۸) شکار نامہ نواب سعادت علی خاں کا بزبان فارسی، ہجوئیں، گرمی، بھڑوں، کھٹملوں مکھیّوں، پسوؤں وغیرہ کی شکایت میں اور متفرق اشخاص کی ہجوئیں۔ (۱۰) مثنوی عاشقانہ (۱۱) ہاتھی اور چنچل پیاری ہتھنی کی شادی (۱۴) متفرق اشعار تھے۔ رباعیاں قطعے فارسی اُردو وغیرہ، تاریخیں۔ جن میں اکثر مادے قابل یاد رکھنے کے ہیں پہہلیاں، چیستانیں (۱۳) دیوان بے نقط (۱۴) مائتہ عامل زبان عربی کی فارسی میں (۱۵) مرغ نامہ اردو میں مرغ بازی کے قواعد مثنوی کے طور پر لکھے ہیں۔ مگر جو اپنے تمسخر کے قواعد ہیں وہ اس میں نہیں بھولے۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۱

۲ – دریائے لطافت – قواعد اردو۔ منطق، معانی وغیرہ ہیں۔

۳ – ایک داستان۔ نثر اُردو میں ایسی لکھی ہے کہ ایک لفظ بھی عربی فارسی کا نہیں آنے دیا۔ باوجود اس کے اُردو کے رتبہ سے کلام نہیں گرا۔ وہاں وہی چوچلے، وہی چہلیں۔ اس میں بھی چلی جاتی ہیں۔ مقدار میں ۵۰ صفحے کی ہو گی، تھوڑی عبارت نمونہ کے طور پر لکھتا ہوں۔

اب یہاں سے کہنے والا یوں کہتا ہے۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے یہ بات اپنے دھیان چڑھی کوئی کہانی ایسی کہیے جس میں ہندی چھٹ اور کسی بولی کی پُٹ نہ ملے۔ باہر کی بولی اور گنواری کچھ اس کے بیچ میں نہ ہو۔ تب میرا جی پھول کر کلی کے روپ میں کھلے۔ اپنے ملنے والوں میں سے ایک کوئی بڑے پڑھے لکھے پُرانے دھرانے، ٹھاگ بڑے دھاگ پہ کھڑاگ لائے۔ سر ہلا کر منہ تھتھا کر، ناک بھوں چڑھا کر گلا پھلا کر، لال لال آنکھیں پتھرا کر کہنے لگے۔ یہ بات ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ ہندوی پن بھی نہ نکلے اور بھا کھا پن بھی نہ تھس جائے جیسے بھلے مانس اچھوں سے اچھے لوگ آپس میں بولتے جاتے ہیں جوں کا توں وہی سب ڈول رہے۔ اور چھاؤں کسی کی نہ پڑے۔ یہ نہیں ہونے کا۔ میں نے ان کی ٹھنڈی سانس کی پھانس کا ٹہوکا کھا کر جھنجھلا کر کہا۔ میں کچھ ایسا بڑا بول بولا نہیں جو رائی کو پربت کر کھاؤں اور جھوٹ سچ بول کر انگلیاں نچاؤں اور بے سری بے ٹھکانے کی الجھی سلجھی تانیں لئے جاؤں۔ مجھ سے نہ ہو سکتا تو بھلا منہ سے کیوں نکالتا۔ جس ڈھب سے ہوتا، اس بکھیڑے کو ٹالتا۔ اب اس کہانی کا کہنے والا
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۲

آپ کو جتاتا ہے اور جیسا کچھ لوگ اسے پکارتے ہیں کہہ سناتا ہے۔ اپنا ہاتھ منہ پر پھیر کر مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوں۔ اور آپ کو جتاتا ہوں۔ جو میرے داتا نے چاہا تو وہ تاؤ بھاؤ اور راؤ چاؤ اور کود پھاند اور لپٹ جھپٹ دکھاؤں آپ کے دھیان کا گھوڑا جو بجلی سے بھی بہت چنچل اچیلاہٹ میں ہے۔ دیکھتے ہی ہرن کے روپ اپنی چوکڑی بُھول جائے چونکا

گھوڑے پہ اپنے چڑھ کے آتا ہونمیں
کرتب جو جو ہیں سب دکھاتا ہوں میں

اس چاہنے والے نے جو چاہا تو ابھی
کہتا جو کچھ ہوں کر دکھاتا ہوں میں​

غزلوں کا دیوان۔ عجب طلسمات کا عالم ہے۔زبان پر قدرتِ کامل بیان کا لطف محاوروں کی نمکینی، ترکیبوں کی خوش نما تراشیں دیکھنے کے قابل ہیں مگر یہ عالم ہے کہ ابھی کچھ ہیں، ابھی کچھ ہیں، جو غزلیں یا غزلوں میں اشعار بااصول ہو گئے۔ وہ ایسے ہیں کہ جواب نہیں اور جہاں طبیعت اور طرف جا پڑی وہاں ٹھکانا نہیں۔ غزلوں میں غزلیت کے اصول کی پابندی نہیں۔ سبب یہ ہے کہ وہ سخن آفریں ایک ذخیرہ وافر مضامین و الفاظ کا اپنے پاس رکھتاتھا۔ اس سے جو قسم کی مخلوق چاہتا تھا، پیدا کر لیتا تھا۔ جس مشاعرہ میں انھوں نے یہ غزل طرح کی پڑھی ہے :

لگا کے برف میں ساقی صراحی مے لا
جگر کی آگ بجھے جلد جس سے وہ شے لا​

کل پانچ شعر کی غزل تھی۔ جراتؔ اور مصحفی تک سب موجود تھے۔ مگر سب نے غزلیں ہاتھ سے رکھ دیں کہ اب پڑھنا بے حاصل ہے۔ ایک مستزاد
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۳

کی طرح میں جب انھوں نے مسلسل تین غزلیں پڑھیں تو مشاعرہ میں ایک قیامت برپا ہو گئی تھی۔ مصحفیؔ و جراتؔ جب بھی موجود تھے اور غزلیں اب بھی حاضر ہیں۔ یہ عالم ہے جیسے مرصع زیور کے سامنے تنکوں کا کھیل۔ جراتؔ ایک موقع پر کہتے ہیں :

اب تلک آنکھوں میں ساقی ہے نشہ چھایا ہوا
چنپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہوا​

اور سید انشاءؔ کہتے ہیں :

برق چشمک زن ہے ساقی ابر ہے آیا ہوا
جام مے دے تو کدھرجاتا ہے مچلایا ہوا

(مقطع نے تو خاتمہ کر دیا :

دل لگایا ہے کہیں انشاء نے شاید دوستو
ان دنوں آتا نظر ہے سخت گھبرایا ہوا​

ریختی کا شوغ رنگ سعادت یار خاں رنگین کا ایجاد ہے۔ مگر سید انشاء کی طبع رنگین نے بھی موجد سے کم سگھڑاپا نہیں دکھایا، یہ ظاہر ہے کہ عیش و نشاط اور صحبتِ اربابِ نشاط ایسی پلید باتوں کے حق میں وہ تاثیر رکھتی ہے جو نباتات کے حق میں کھاد اثر کرتی ہے۔ چنانچہ دلّی کے فاقہ مستوں میں کم اور لکھنؤ میں قرار واقعی ترقی اس کی ہوئی۔ قطع نظر وضع اور لباس کے، جان صاحب کا دیوان اس کا نمونہ موجود ہے۔ اس صورت میں زنانہ مزاجی اور بے ہمتی اور بزدلی جو عام لوگوں میں پیدا ہوئی اس کا ایک محرک اسی ایجاد کو سمجھنا چاہیے۔ اس انداز میں جو پہیلیاں اور طلسمات کے نسخے لکھے ہیں اُن کا انداز بیان عجب لُطف دکھاتا ہے۔

ہندوستان کی مختلف زبانیں اُن کے گھر کی لونڈی ہیں۔ ابھی پنجاب میں کھڑے یں۔ ابھی یورپ میں بیٹھے باتیں کرتے ہیں۔ ابھی برج بھاشی میں، ابھی مرہٹے، ابھی
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۴

کشمیری۔ ابھی افغان، سب زبانوں میں کچھ نہ کچھ کہا ہے، یہاں پوربی کے دو شعر ہیں وہ لکھتا ہوں کہ قریب الفہم ہیں۔ مطلع و مقطع پوربی زبان میں :

متپھکری میں پھکر بھئی مپھت آئے کے
جھاؤ میاں کو بُھویں پہ جو ٹپکس گھمائے کے

اِنسالہ کھاں میاں بڑے پھاجل جبین ہیں
صدرہ پڑھیں ہیں جن سیتی طلبلم آئے کے​

ان کی الفاظ جو موتی کی طرح ریشم پر ڈھلکتے آتے ہیں۔ اس کا سبب یہی کہہ سکتے ہیں کہ قدرتی فصاحت اور صفائی کلام کے سبب سے ہے اور کلام کا بندوبست جو ارگن باجے کی کساوٹ رکھتا ہے یہ بندش کی چُستی اور استخواں بندی الفاظ کی کوبی ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ ان کی زبان جو فصاحت کا سانچہ ہے اس سے اگر بے معنی الفاظ بھی ترکیب کھا کر نکلتے ہیں تو مزا ہی دیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر ان ہجوؤں سے ثابت ہوتا ہے، جو شیخ مصحفی کے معرکوں میں لکھیں۔اور یہاں شدّتِ فحش کے سبب سے قلم انداز ہوئیں۔

قصائد بڑی دھوم دھام کے ہیں۔ الفاظ کی شکوہ طبیعت کی بلند پروازی کی کوئی حد نہیں۔ مگر سیدھے چلتے چلتے ایک ایسی چال بدلتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ وہ یہی بات ہے کہ اپنی زبان دانی کے جوش اور قوتِ بیاں کے مزے میں آ کر کبھی کوکئی شوخ مضمون، کبھی کوئی خوش آئند ترکیب اور نئی تراش ایسی سوجھ جاتی ہے کہ اسے باندھے بغیر نہیں رہ سکتے اور وہاں قصیدہ کی متانت اور وقار کے اصول ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں۔ اس میں کبھی تو کلام میں شوخی اور ایک قسم کا بانکپن پیدا ہو جاتا ہے، اور کبھی متبذل ہو جاتا ہے۔ مگر پھر لطف یہ ہے کہ قدرتی لذت
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۵

جو زبان میں ہے۔ وہ کلام کو بدمزہ نہیں ہونے دیتی۔ اور اسی واسطے جس دربار یا جلسہ میں قصیدہ پڑھتے تھے۔ سبحان اللہ اور واہ وا کہنے کے سوا سننے والوں کو ہوش نہ ہوتا تھا۔ اس بے اعتدالی کا سبب یہ تھا کہ طبیعت میں بہت طاقت تھی مگر اس پر قابو نہ تھا۔ ان قصیدوں میں مزہ وہاں آتا ہے جہاں ممدوح کی تعریف کرتےکرتے دفعتہً کہتے کہ دارائے ایران تجھے ایران میں بیٹھا کہہ رہا ہے۔ اور جھٹ چند شعر فارسی کے اس طرح کہہ جاتے ہیں، گویا ایک آغائے تازہ ولایت آیا اور اپنی چنیں و چناں کے ساتھ شیرہ شیراز کے دو دو گھونٹ سب کو پلا گیا۔ اِس کے برابر گویا ایک عرب العربا جبّہ پہنے عبا اور عمامہ سجے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ پھر شاہ بخار اترکستان سے ترکی میں آواز دیتا ہے اور ساتھ ہی عالی جاہ کابل اپنی افغانی میں یہ کہتا ہے۔ اور برج کی گوپیاں یوں یوں کہتی ہیں اور پنجاب میں جھنگ سیالے کی جٹیاں یوں کہتی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ غرض اس بیان کی کیفیت اِن کے دیوان کے دیکھنے سے معلوم ہوتی ہے۔ فارسی میں انتہائی درجے کی قدرت رکھتے تھے۔ اس میں جب نظم یا نثر کہتے تو یہی معلوم ہوتا تھا گویا بلبل شیراز سامنے بول رہا ہے۔ مگر قباحت مذکورہ کا پردہ یہاں زیادہ تر کھلتا ہے۔ کیونکہ لفاظی کا لشکر ان کے آگے مسلح حاظر ہے۔ مضمون چاہیں تو آسمان سے تارے اتار لائیں مگر فارسی قصائد میں بھی طبیعت کو روکتے نہیں، قصیدہ کے اصول کو کھول کر محاورہ کی نمکینی اور بول چال کی شوخی
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۶

سے کلام میں مزہ پیدا کرتے ہیں اور بے شک اس مطلب میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ادائے مطلب اور فصاحت کلام کے لحاظ سے اس زبان پر بھی قدرت کامل رکھتے تھے۔ ایک قسیدہ بے نقط کو بہت سی صنعتوں سے مرصع کر کے زوور طبع دکھایا ہے بلکہ بڑی فخر کے ساتھ اس کا نام طور الکلام رکھا ہے اور اسپر انھیں خود بھی بڑا ناز ہے۔

دیوان فارسی کا یہی حال ہے۔ باتوں ہی باتوں کا مزہ ہے۔ جس غزل کو دیکھو گویا دو ایرانی ہیں کہ کھڑے باتیں کر رہے ہیں اور فقط مسخرا پن۔ مضمون کو دیکھو تو کچھ بھی نہیں یہ سب کچھ ہے۔ مگر لطفِ زبان اور خوبی بیان کی تعریف نہیں ہو سکتی اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ اگر چند ساعت کے لئے اپنے رفیق طبعی یعنی تمسخر سے جُدا ہوتے اور ذرا زبان کو قابو میں رکھتے تو خدا جانے اپنے زمانے کے خاقانیؔ و انوریؔ ہوتے یا سعدی و خسرو، چنانچہ ایک ایرانی تازہ وارد کو کسی موقع پر نظم میں رقعہ لکھ کر بھیجا ہے۔ اس سے قدرت زبان اور لطف بیان کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت گھر سے نکلنا بند تھا۔ رقعہ منظوم :

تو اے نسیم سحر گہ زجانب انشاء
برو بخدمت حاجب علی شیرازی

سلام شوق رساں و بگو بعجز و نیاز
کہ مے ہنر و بکمالِ تو ہر قدر نازی

بلے زنفخہ روح القدس مدد داری
ازاں مسیح زمان و سراسر اعجازی

ہمائے عالمِ قدسی سہیم تو عنقاست
چو طائرانِ بہشت بریں خوش آوازی

قصیدہ و غزل فی البدیہہ ات دیدم
علّو مرتبہ داری بلند پروازی !

کسے بہ پیش تو دیگرچہ لافِ شعر زند
بفکر سعدی شیراز را تو انبازی
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۷

بسان رستم دستانی اے نکو کردار
بہ ہر طرف کہ کنی قصدِ رخش مے تازی

ہنوز قید نہ داری چوسرد آزادی
بہر کجاکہ دلت مے کشد سر افرازی

تو سر بمہر و ہمچو نہ نامہ شاہاں!
اگرچہ فقرہ مخصوصِ مطلب زاری

بایں جریمہ کہ حاضرِ بخمت نشدم
توقع اینکہ زچشم خودم نیندازی

بدون حکمِ وزیر المملک اے آغا
چساں کنم حرکت نوکری ست یا بازی

نماز و روزہ معاف است عذر اگر باشد
بگو برائے چہ دیگر بشکوہ پردازی

بعید نیست پے سیر اگر نجانہ من
قدم گذاری و گاہے ز لطف بنوازی​

عربی میں بھی وہ خاموش نہ تھے، چنانچہ یہ قطعے نمونہ دکھاتے ہیں۔

سَکَت ُ الحبیب متانۃً
بقئ التلذذُ سَارِیَا

جُلسائۃ یستحسِنُون
وَیَزعمُونَ محا کِیَا

ربّ علیٰ رَحمَتِک الوافیہ
اسئلک الصحۃ والعافیہ

انت مخیثُ الفقرا ھب لنا
عافیۃُ کافیۃ شافیہ​

عربی فقرے اس خوبصورتی سے تضمین کرتے ہیں جیسے انگوٹھی پر نگینہ، چنانچہ سر دیوان غزل کا مطلع ہے :

ضما برب کریم یاں وہ ہر ایک تیرا ہے مبتلا
کہ اگر آلستُ بِرَبکّمُ تو کہے تو کہدیں ابھی بلٰی

اے عشق مجھے شاہد اصلی دکھا
قعہ خذ بیدی وفقک اللہ تعالٰی

مجھے کیا ملائک عرش سے مجھے عشق تیرا ہے ایخدا
بہت انکو لکھوں تو السّٰلام علی ان اتبع الھدی

بھاتا ہے یہ بھوک پیاس سب کچھ سہنا
اور روزوں میں انتظارِ مغرب رہنا

آپس میں سحر گہی کی چہلیں اور پھر
با الصُّو، غَدا توَیتُ اُن کا کہنا​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۸

آرام و نشاط و عیش کردند ہجوم
ایجاب و قبول جملگی شد معلوم!

با دختر رز پیر مغاں عقدم بست
قَد قُلت قِبَلتُ بالصّدّاق المعلوم

میں کوچہ عشق کی جو کرتا ہوں سیر
آرام میں اور اس میں تو ذاتی ہے بیر

ہرگام مری زباں پہ ہے جاری انشاء
ربّ یسّر ہے اور تمّمِ بالخیر​

مثنوی شیر برنج فارسی زبان میں مولانا روم کی طرز میں لکھی ہے۔ مگر نہیں معلوم ہوتا کہ تمسخر کرتے ہیں تتبع کرتے ہیں۔ کیونکہ زباں کہیں فقط روزمرہ ہے۔ کہیں عالمِ جبروت و لاہوت سے پرے کے الفاظ لفاظی کرتے ہیں اور جا بجا عربی زبان کہیں شعر کہیں مصرعے ہوتے جاتے ہیں۔ مضامین فقط ظرافت کی باتیں اور حکایاتیں ہیں۔ انھیں نظم کر کے معرفت و طریقت میں لاتے ہیں۔

غرض کھیر میں لُون ڈال کر تصوف کو تمسخر کر دیا ہے۔ مگر یہ بچپن کا کلام معلوم ہوتا ہے۔ شکار نامہ سعادت علی خاں کا فارسی میں ہے۔ زبان کی شیرینی اور ترکیب کی چستی اور اس میں طبیعت کی شوخیوں نے جو لطف پیدا کیا ہے دیکھنے سے تعلق ہے۔ اس مقام پر چند شعر لکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔

شکار نامہ

اینکہ کنوں مے گذ رد در شمار
بست فزوں از ود صد و یک ہزار

ساختہ در خامہ انشاء وطن
چند ہزار آہوئے مشک ختن

یہ کہ کنوں صید مضامین کنم
بارگئ ناطقہ را زیں کنم

در تمہید کلام

از مدد شیر خدائے و دود
صورتِ عنقائے طرب پرکشود
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۳۹

ذہن و ذکا رقص چو طاؤس کرد
مست شدہ آہوئے صحرا نورد

طائر اقبال بہ نشو و نما
فصلِ گل و باد بہاری و زید

در تعریف حضور پر نور

اشرف خیل و ز رائے زماں
ناظم ملک ہمسر ہندوستاں

صفدر و منصور و سخی و شجاع
بست کمر از پئے قتل سباع

تاختہ از خانہ بعزمِ شکار
کرد برد برج اسدؔ جاں نثار

در تعیریف خیمہ و خرگاہ نوبت و نقارہ و مایغلق بذالِکَ

تا کہ بر و خیمہ زریں طناب
آمدہ در برج حملِ آفتاب

گشت ز نقارہ صدائے بلند
ز ندہ بماں ز ندہ بماض بےگزند

دزُ و ہلِ نقرہ بر آمد بجوش
تابتواں، تابتواں، ہاں خروش

حلّت صید است در آئین من
دین من و دین من و دین من

داشدہ زیں ساں دہنِ کرّنا!
با دیدہ بادیدہ بادُعا

دشمنِ ایں خانہ جگر خوں بود
دوں بود و دوں بود و دوں بود

عیش بروں از حد و اندازہ شد
رسم کہن از سر نو تازہ شد

غلغلہ کوس بہ کیواں رسید
آب شدہ زہرہ و یوسفید

کوہ چو غرّ یدن پیلش شنید
صورتِ خرطوم دے از دو روید

گفت بروں آمدہ از زیر ابر
صور سرافیل پے صید بیر

وقت ہما نست کہ سیمرغ قاف
بگذر و از قِلّہ لاف و گذاف
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۴۰

آنچہ ند یدست فریدوں نجواب
جملہ مہیاست و را در رکاب

چونکہ بد ید ایں ہمہ عزم و شکوہ
لرزہ بر افتاد بر اندام کوہ

تاریخ

فوج ظفر موج بایں عزّ و جاہ
گر در سا نید چو برادجِ ماہ

شو کتش انشاء بخط زر نوشت
فقرہ تاریخ مظفر نوشت

تعریف اسپ

خود چو بر اسپِ عربی برنشست
آمدہ بر فوج غزالاں شکست

اسب چہ اسپ اشہبِ باد صبا
اسپ مگوشہ رخ گلگوں قبا

اسپ بایں شوخی دل چسپ کو
حور بگو اسبِ مگو، اسپ کو

اسپ مداں لمعہ شرق است ایں
اسپ کجا چشمک برق است ایں

پیش ردِ جودتِ طبع سلیم
گام نہد بر برد دوشِ نسیم

زیب دہ کوہ و بیابانِ نجد
قیس اگر بنگر و آید بہ وجد

سیرتِ لیلٰی رسدش در خیال
باہمہ چالاکی و حُسن و جمال

بیندش از نادر کشورستاں
وصف کند باہمہ ایرانیاں​

آگے نادر کی زبانی جو اشعار ہیں وہ ترکی میں کہے ہیں اور پھر مطلب شروع کیا ہے۔ ہجوئیں اُردو میں ہیں۔ خیال کر لینا چاہیے کہ جنھیں بانکپن غزل اور قصیدے میں سیدھا سیدھا نہیں چلنے دیتا۔ انھوں نے وہاں کیسا کچھ رنگ اڑایا ہو گا۔

مثنوی عاشقانہ مختصر ہے اور کوئی بات اس کی قابل اظہار نہیں۔ ایک ہاتھی
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۳۴۱

اور چنچل پیاری بھتنی کی حکایت کہیں انگریزی سے اُن کے ہاتھ آ گئی ہے۔ نظر باز آنکھ خود ایسے مضامین کی تاک میں رہتی تھی یہ تو تیار مال تھا۔ غرض اس کی شادی جس سامان سے کی ہے وہ تماشا دیکھنے کے قابل ہے۔

متفرق اشعار قطعے، خطوط منظوم، رباعیاں، پہیلیاں چیستانیں، لطائف سے دیوان مالا مال ہیں۔ مگر بنیاد سب کی تمسخر پر ہے۔ طالب علم کو بہت کچھ سمجھ لینا چاہیے کہ بہت کچھ اس میں قابل لینے کے ہے۔ اور بہت کچھ مہملات۔

دیوان بے نقط ایک معمولی طبّع آزمائی ہے۔ اس میں کوئی بات قابل تحریر نہیں۔ مثنوی ماتہ عامل زبان عربی کی نظم فارسی میں ہے۔ اگرچہ وہ بڈھے ہو کر بھی بچّوں کے آگے دوڑتے تھے مگر یہ بھی اوائل عمر کی معلوم ہوتی ہے۔ (ایک مختصر مثنوی میں پشتوں زبان کے قواعد نظم کئے ہیں۔)

دریائے لطافت قواعد اردو میں ہے۔ اس کتاب میں بھی اگرچہ انداز کلام میں وہی تمسخر اور شوخی ہے۔ مگر یہ پہلی کتاب قواعد اُردو کی ہے جو ہمارے اہل زبان نے اردو میں لکھی ہے۔ اس میں اوّل اردو بولنے والوں کی مختلف فرقوں کی زبانوں کے نمونے دکھائے ہیں اور ان میں حق زبان دانی اور سخن فہمی کا ادا کیا ہے۔ پھر قواعد بیان کئے ہیں۔ اور ظرافت سے لے کر فحش تک کوئی بات باقی نہیں چھوڑی۔ لیکن طالب فن اس میں سے بھی اکثر نکتے ایسے حاصِل کر سکتا ہے کہ چند روز کے بعد ڈھونڈھے گا اور نہ پائے گا۔

بعد اس کے کئی بابوں میں عروض قافیہ، منطق، معانی، بیان وغیرہ فروعِ
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top