آؤ ہنسیں

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
ایک فوجی افسر نے اپنے ماتحتوں کی دعوت کی اور حوش ہوکر کہنے لگا;
جوانو آج کھانے پر اس طرح ٹوٹ پڑو جس طرح دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہو
ایک سکھ جوان جلدی جلدی کھانا اپنی جیبوں میں ٹھونسنے لگا-
افسر نے دیکھا اور غصے سے پوچھا؛ اوئے یہ کیا کر رہے ہو؟
جوان بولا؛ جناب جتنے مارنے تھے مار ڈالے باقی قیدی بنا رہا ہوں
 
پپو : " وہ جو ہمارے ہمسائے تھے ناں، وہ پتلے سے دھان پان سے، وہ ٹنکی میں گر گئے۔"
گڈو : " وہ کیسے؟"
پپو : " وہ کسی نے پنکھے کا رُخ ان کی طرف کر دیا تھا۔"
 
تین غیر حاضر دماغ پروفیسر ریلوے سٹیشن پر کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ وہ باتوں میں ایسے محو تھے کہ گاڑی آنے کی خبر تک نہ ہوئی۔ چند منٹ بعد جب گاڑی نے وسل دی تو وہ چونک گئے اور گھبرا کر ایک ڈبے کی طرف دوڑے۔ دو تو کسی طرح چڑھنے میں کامیاب ہو کئے لیکن تیسرے صاحب نہ چڑھ سکے۔
ایک قلی نے کہا "کوئی بات نہیں صاحب، دوسری گاڑی سے چلے جانا۔
پروفیسر صاحب بولے "وہ تو میں چلا ہی جاؤں گا، مگر ان دونوں کا کیا ہو گا جو مجھے چھوڑنے آئے تھے۔
 

ظفری

لائبریرین
اسامہ اپنی گاڑی میکنک کے پاس لے گیا اور میکنک سے کہا کہ میری گاڑی کے بریک کے صدر ٹھیک دو ۔ میکنک نے پریشان ہو کر اسامہ کے ڈرائیور سے کہا کہ تم اسامہ سے پوچھو کہ بریک میں کونسے صدر ہوتے ہیں جو میں ٹھیک کردوں ۔ !
ڈرائیور نے جواب دیا " بات دراصل یہ ہے کہ ہمارا مالک صدر بُش کو پسند نہیں‌کرتا ۔۔ اس لیئے اس نے بریک کے بش کو صدر کہا ہے ۔ ;)
 
ایک ماہر فلکیات اپنی دور بین سے آسمان میں دیکھ رہا تھا
بنتا سنگھ اس کو غور سے دیکھ رہا تھا
اچانک اک تارہ ٹوٹا تو بنتا سنگھ نے چلا کر کہا
"کیا نشانہ مارا ہے "
 

سارا

محفلین
اطلاع''

آپی! میں امتحان میں فیل ہو گیا ہوں۔۔میرے آنے سے پہلے ابا کو تیار کر لو۔۔ایک بچے نے فون پر اپنی ہمشیرہ کو اطلاع دی۔۔
بہن نے کہا۔۔ابا جان کو اطلاع مل چکی ہے تم اپنے آپ کو تیار کر لو۔۔''
 

سارا

محفلین
آخری الفاظ''

ذیل میں بعض لوگوں کی زندگی کے آخری الفاظ درج کیے جا رہے ہیں جو روایتی قسم کے الفاظ سے کافی مختلف ہیں۔۔''
ٌٌٌٌٌٌٌٌ** یار ایکسیلیٹر ذرا اور دباؤ نا۔۔ابھی تو گاڑی صرف ستر کی اسپیڈ سے جا رہی ہے۔۔''
** ذرا ماچس کی تیلی جلا کر دینا۔۔میں ذرا اپنی گاڑی کی ٹنکی دیکھنا چاہتا ہوں میرا خیال ہے کہ پٹرول ختم ہو گیا ہے۔۔''
**بیگم تم ہمیشہ اتنا بد مزہ کھانا کیوں پکاتی ہو۔۔؟
**ذرا یہ پستول دکھانا۔۔کیا یہ لوڈڈ ہے ؟''
** میرا خیال ہے میں ریلوے لائن کراس کر ہی لوں ٹرین تو بہت معمولی رفتار سے آ رہی ہے۔۔''
** بیگم! کیا کہا تمہاری اماں ابھی چھ ماہ اور ہمارے گھر رکیں گی۔۔؟
** کیا کہہ رہے ہو۔۔جو شیشی میں نے ابھی ختم کی ہے یہ دوا کی شیشی نہیں تھی۔۔؟
** ہاں ٹھیک ہے۔۔تم نے جس کو اپنی بیوی کے ساتھ ہوٹل میں دیکھا تھا' وہ میں ہی تھا۔۔تو پھر کیا ہو گا۔۔''
** ذرا دیکھو 'میں کس قدر قلا بازی کھا کر اس پل سے سمندر میں چھلانگ لگاتا ہوں اور تیرتا ہوا ساحل تک آتا ہوں۔۔''
 

ویج

محفلین
دوستو، کیا اردو محفل یہ معمہ حل کر سکتی ہے کہ پاکستان میں خواتین اپنی عمر کے متعلق اتنی سینسیٹو کیوں ہیں۔ میں تو بابا پٹتے پٹتے بچا ہوں جب میں نے اپنی باجی کی صحیح عمر ایک محفل میں بتا دی۔ بلکہ اُن کی عمر کیا بتائی، ہوا یوں کہ میں نے اپنی عمر صحیح بتا دی، اور پھر یہ بھی صحیح بتا دیا کہ باجی مجھ سے کتنے سال بڑی ہیں۔ اس پر بس یار قیامت گذر گئی بلکہ ابھی تک جاری ہے۔ اسی قیامت پر عرض کیا ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں کمپئرر ایک خاتون آرٹسٹ کا انٹرویو لے رہا تھا۔ انٹرویو کے دوران اس نے خاتون آرٹسٹ کی عمر کے متعلق بھی سوال کر لیا۔ اس پر خاتون آرٹسٹ بولیں کہ ماشاء اللہ سے ابھی تک میں عمر کی 25 بہاریں دیکھ چکی ہوں۔ اس پر کمپیئرر بے اختیار بولا تو پھر یہ بھی بتا دیں کہ آپ کتنے سال نابینا رہیں ہیں۔
 

ویج

محفلین
دوستو میں سفر میں ہوں اور بہت بور ہو رہا تھا مگر اس تھریڈ نے بہت مزہ دیا۔ آپ سب کا شکریہ اور لگیں رہیں۔
 

سارہ خان

محفلین
میڈم نے اپنی کلاس میں بچوں سے پوچھا
یقین اور وہم میں کیا فرق ہے۔
شاگرد: میڈم آپ پڑہا رہی ہیں یہ یقین ہے اور ہم پڑھ رہے ہیں یہ آپکا وہم ہے ۔
 

سارہ خان

محفلین
ایک بچہ جو ٹی وی کا بے حد شوقین تھا اور ہر وقت اس کے ذہن پر ٹی وی سوار رہتا تھا ۔ ایک دن اس کی ماں کی طبیعت خراب تھی ۔ اس کے سینے میں شدید درد تھا اور گلے میں تکلیف کی وجہ سے آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ۔ دوپہر کو ابو نے ٹیلی فون کیا اور پوچھا ۔
’’بیٹے ! تمہاری امی کی طبیعت کیسی ہے ؟‘‘
بچے نے بستر پر لیٹی ماں کی طرف دیکھا اور بولا ۔ ’’ابو تصویر تو ٹھیک ہے البتہ آواز خراب آرہی ہے
 

سارہ خان

محفلین
’’ڈیڈی ! میں آپ سے یہ بات کہہ تو رہا ہوں لیکن ممی کو مت بتائیے گا ۔ میرا خیال ہے کہ انہیں بچے پالنے نہیں آتے ‘‘۔
’’تمہیں یہ خیال کیوں آیا بیٹا ؟‘‘
’’آپ خود ہی دیکھیں ناں ۔ وہ اس وقت مجھے سونے کے لئے بھیج دیتی ہیں جب میں جاگ رہا ہوتا ہوں ۔اور اس وقت مجھے جگا دیتی ہیں جب میں سو رہا ہوتا ہوں ‘‘۔
 

سارہ خان

محفلین
ایک عامل کا بڑا چرچہ تھا کہ وہ روحوں سے بات کروادیتے ہیں ۔ ایک بچہ جو اپنی ذہانت سے ہوشیاری کی وجہ سے محلے بھر میں مشہور تھا ان عامل کے پاس پہنچا اور نذرانہ پیش کرنے کے بعد کہا ۔
’’میں اپنے دادا کی روح سے بات کرنا چاہتا ہوں ‘‘۔
اسے ایک اندھیرے کمرے میں لے جایا گیا جہاں اگر بتیاں جل رہی تھیں ۔چند لمحوں کے بعد ایک بھاری آواز سنائی دی ۔
کیوں آئے ہو برخوردار؟قریب سے عامل صاحب کے چیلے نے بچے کو ٹھوکا دیا یہ تمہارے دادا کی روح بول رہی ہے ۔ پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟
دادا جان ! بچے نے سر کھجاتے ہوئے کہا ۔
’’مجھے آپ سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ آپ کی روح یہاں کیا کررہی ہے ؟ جبکہ آپ کا تو بھی انتقال بھی نہیں ہوا‘‘
 

سارہ خان

محفلین
آٹھ سالہ پپو کو اسکول جانے کا بہت شوق تھا ۔ جبکہ اس کی چھ سالہ بہن فرح کو اسکول سے نفرت تھی ۔ اسکول سے آنے کے بعد بھی پپو اپنی بہن سے فرمائش کرتا رہتا۔
’’آؤ، اسکول اسکول کھیلیں ‘‘ لیکن وہ انکار کردیتی ۔
آخر ایک روز وہ مان گئی ۔ ’’ٹھیک ہے ، اسکول اسکول کھیلتے ہیں لیکن میں اسکول سے غیر حاضر ہوں
 

عمر سیف

محفلین
سردار جی اپنا رشتہ دیکھنے گئے ۔۔

گھروالوں نے کہا کے دونوں کو اکیلا چھوڑ دو۔ بات وات کر لیں آپس میں۔

سردار لڑکی سے " بہن جی آپ کتنے بہن بھائی ہو ؟"

لڑکی غصہ سے " پہلے 3 تھے اب 4 ہوگئے ہیں "۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top