آؤ ہنسیں

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

سارہ خان

محفلین
بیوی شوہر سے : میں مر جاؤں گی
شوہر : میں بھی مرجاؤں گا
بیوی : میں تو بیمار ہوں اسلئے مرجاؤں گی لیکن تم کیوں مرجاؤ گے ۔ ؟
شوہر : میں اتنی خوشی برداشت نہیں کر پاؤں گا۔
 

سارہ خان

محفلین
میاں (بیوی سے) ”میرے پیٹ میں تو چوہے دوڑ رہے ہیں“
بیوی:”ہائے اللہ مگر پکائی تو مرغی تھی“۔
 
کئی لوگوں کے درمیان کھڑا ایک آدمی دعویٰ کررہا تھا کہ وہ سامنے والی دکان سے کوئی سی بھی چیز اٹھاکر لاسکتا ہے۔
ایک آدمی آگے بڑھا اور بولا: اگر تم اس دکان سے ایک گھی کا ڈبا اٹھا لاؤ تو میں تمہیں پانچ سو روپے انعام میں دوں گا۔
پہلا آدمی گیا اور اس دکان سے گھی کا ڈبہ اٹھا لایا۔
دوسرا آدمی ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا: تمہیں یہ جان کر خوشی ہوگی کہ میرا تعلق پولیس سے ہے۔
پہلا آدمی نے جواب دیا: آپ کو بھی یہ جان کر خوشی ہوگی کہ میں اس دکان کا مالک ہوں۔ :lll:
 

ظفری

لائبریرین
ایک خان صاحب کو راستے میں پڑی ہوئی بوتل ملی ۔ جس میں جن قید تھا ۔ خان صاحب نے اسے آزاد کردیا ۔ جن بہت احسان مند ہوا ۔ کہنے لگا اپنی کوئی تین خواہشیں بتاؤ ۔ میں ا سکو پورا کر دوں گا ۔ خان صاحب نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا ۔ ٹیک اے ۔۔۔۔ ہم کو ایک سائیکل دلاؤ ۔ دوسرا امارا صاب کو ایک نیا بنگلہ دلاؤ اور تیسرا ہم کو اس کے نئے بنگلے پر چوکیدار رکھوا دو ۔ :grin:
 

زونی

محفلین
ایک خان صاحب کو راستے میں پڑی ہوئی بوتل ملی ۔ جس میں جن قید تھا ۔ خان صاحب نے اسے آزاد کردیا ۔ جن بہت احسان مند ہوا ۔ کہنے لگا اپنی کوئی تین خواہشیں بتاؤ ۔ میں ا سکو پورا کر دوں گا ۔ خان صاحب نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا ۔ ٹیک اے ۔۔۔۔ ہم کو ایک سائیکل دلاؤ ۔ دوسرا امارا صاب کو ایک نیا بنگلہ دلاؤ اور تیسرا ہم کو اس کے نئے بنگلے پر چوکیدار رکھوا دو ۔ :grin:


خان صاحب تو پھر خان صاحب ہیں نا:grin:
 

شمشاد

لائبریرین
بس اب دعا کریں کہ جیہ یہاں نہ آ جائے۔ وہ خانوں کا استحصال ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔ ظفری بھائی اگر خیریت چاہتے ہیں تو اس واقعی کا تعلق کراچی کے حوالے سے کر دیں۔
 

سارہ خان

محفلین
ایک سیاح ہوٹل میں گیا تو بیرے نے آکر آرڈر لیا۔
سیاح نے کہا؛ایک فرائی مچھلی اور ہمدردی کے دو بول۔
بیرا مچھلی لے کر آیا اور پوچھا۔“اور کچھ۔“
سیاح نے کہا،“ہمدردی کے دو بول۔“
بیرا اپنا منہ سیاح کے کان کے قریب لے گیا اور بولا “ مچھلی نہ کھانا،دو دن کی باسی ہے۔“
 

سارہ خان

محفلین
ایک تقریب‌میں ایک بچہ اپنی ماں کے قریب آکر بولا؛

امی امی یہ جو انکل سامنے کھڑے ہیں‌انکے سر پر تو بلکل بھی بال نہیں ہیں۔

ماں نے کہا:::ششششششششش چپ کرو وہ سن لیں گے۔

بچہ بولا:تو کیا انہیں‌معلوم نہیں ہے کہ وہ گنجے ہیں۔
 
بوٹا سنگھ پنچایت سے خطاب کر رہے تھے " دوستو سٹار پلس عوتوں کو خراب کر رہا ہے ، اب میرے بیوی کی فرماشیں کافی بڑھ گئی ہیں " ۔ ۔
ابنے میں پنڈال سے سدھا سنگھ کی آواز آئی کہ بوٹا صحیح کہہ رہا ہے، اس کی بیوی رنجیت سیگھ کے ساتھھ گلچھرے اڈا رہی ہے یہ سن کر بوٹا سنگھ نے کرپان نکال کر کہا "میں اس کے ٹوٹے کر دونگا"
تھوڑی دیر بعد بوٹا سنگھ مسکراتا ہوا واپس آیا۔ لوگوں نے پوچھا بوٹا کیا ہوا !

"اے ساڈا سدھا سنگھ تے سالا پاگل او گیا اے ، او رنجیت سینگھ نئیں اے کوئ ھور اے "
 
ايك چھوٹے جہاز كا انجن دوران پرواز خراب ہو گيا۔ اس ميں پائلٹ سميت تين انگريز اور ايك حبشي بيٹھا تھا۔ پائلٹ نے كہا: دوستو جہاز ميں صرف تين پيراشوٹ ہيں ايك فرد كو پيراشوٹ كے بغير چھلانگ لگانا ہو گي۔ ميں اس طرح كرتا ہوں كہ ايك موضوع كے متعلق تين افراد سے سوال پوچھتا ہوں جس كا جواب غلط ہو گا اسے پيراشوٹ كے بغير چھلانگ لگانا پڑے گي ۔
پائلٹ نے پہلے ايك انگريز سے پوچھا: تم بتائو، دنيا كا سب سے بڑا بحري حادثہ كون سا تھا؟
انگريزبولا:ٹائي ٹينك كا۔
پائلٹ : بالكل ٹھيك۔ پھر دوسرے انگريز سے پوچھا: تم بتائو اس ميں كتنے افراد ہلاك ہوئے تھے۔
انگريز بولا: تقريبا پندرہ سو۔
"بالكل ٹھيك ۔" اب حبشي سے پائلٹ بولا: اے مسٹر، تم ان سب ہلاك ہونے والوں كے نام بتائو؟
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top