احمد فرید

  1. پ

    غزل - ترے شہر میں یہ کمال ھونا تھا ھو گیا (احمد فرید)

    ترے شہر میں یہ کمال ھونا تھا ھو گیا میرا دل غموں سے نڈھال ھونا تھا ھو گیا کسی مصلحت کو عروج ملنا تھا مل گیا کوئی عشق رو بہ زوال ھونا تھا ھو گیا کوئی درد ملنا تھا مل چکا ھے جو دیر سے کوئی چہرہ خواب و خیال ھونا تھا ھو گیا تیرے وصل میں وہ جو لمحے کٹنے تھے کٹ گئے وہ جو غم سے رشتہ بحال ھونا...
  2. پ

    غزل-یہ ھم جو اپنے ھی مدھم دل کی صدا سے آگے نکل گئے ھیں(احمد فرید)

    یہ ھم جو اپنے ھی مدھم دل کی صدا سے آگے نکل گئے ھیں سماعتیں کھو گئیں ھیں یا پھر ھوا سے آگے نکل گئے ھیں جلی ھوئی سرد انگلیوں سے صنم کدے کر دئیے ھیں روشن خدا کے کچھ باکمال بندے خدا سے آگے نکل گئے ھیں ہم اب کسی کی عظیم چا ہت کے سرخ رستے پر گامزن ھیں مقام اجر و ثواب گزرا سزا سے آگے نکل گئے ھیں...
  3. پ

    غزل -یہ جو اک سیل فنا ھے مرے پیچھے پیچھے (احمد فرید)

    یہ جو اک سیل فنا ھے مرے پیچھے پیچھے مرے ھونے کی سزا ھے مرے پیچھے آگے آگے ھے مرے دل کے چٹخنے کی صدا اور مری گرد انا ھے مرے پیچھے پیچھے زندگی تھک کے کسی موڑ پر رکتی ھی نہیں کب سے یہ آبلہ پا ھے مرے پیچھے پیچھے اپنا سایہ تو میں دریا میں بہا آیا تھا کون پھر بھاگ رہا ھے مرے پیچھے پیچھے پاؤں پر...
  4. پ

    المیہ -احمد فرید

    بڑے بنگلے میں تازہ پھول دینے جو مالن آئی تھی مرجھا گئی ھے
  5. پ

    غزل- جسم میں روح بھی شامل کر دے - احمد فرید

    جسم میں روح بھی شامل کر دے میں کہ پتھر ھوں مجھے دل کر دے مجھ کو وہ درد عطا کر مالک جو میری روح کو گھائل کر دے جس کو آسان سمجھتے ھیں یہ لوگ زیست کو اور نہ مشکل کر دے میں تجھے چھوڑ کے جا سکتا ھوں ھو سکے تو مجھے غافل کر دے یونہی تکمیل ھو شائد اپنی مجھ میں اب خود کو بھی شامل کر دے
  6. پ

    غزل - جو تیرے میرے زوال کا تھا - احمد فرید

    جو تیرے میرے زوال کا تھا وہ لمحہ کتنے کمال کا تھا سمے کی جب نبض رک گئی تھی وہ ایک پل کتنے سال کا تھا بس ایک لمحے میں کٹ گیا ھے وہ ربط جو ماہ و سال کا تھا جو طاق زندان میں بجھ گیا ھے وہ اک دیا بھی کمال کا تھا
  7. پ

    میرا خیال ھے پتھر کا ھو گیا ھوں میں

    غم زمانہ سے کہو کہ انتظار کرے کسی کے زلف کے سائے میں سو گیا ھوں میں تلاش کر نہیں سکتا مجھے کوئی غم بھی تمہارے لمس کی خوشبو میں کھو گیا ھوں میں نہ تیرے وصل کی خواہش نہ تیرے ہجر کا غم میرا خیال ھے پتھر کا ھو گیا ھوں میں احمد فرید
  8. پ

    انتظار -احمد فرید

    یہ اداس آنکھیں مری کرب ذات کے اس جلتے ھوئے دروازے پر راستہ دیکھتی ھیں کسی بادل کا ایسا بادل جو میرے جسم کے صحرا کو بھی ساحل کر دے ہاتھ ہاتھوں پہ رکھے روح کو جل تھل کر دے یہ اداس آنکھیں مری ظلم کی دھند میں لپٹی ھوئی اس رات کے دروازے پر راستہ دیکھتی رہتی ھیں کسی سورج کا ایسا سورج جو...
  9. پاکستانی

    منجمد خون میں ہلچل کردے - احمد فرید

    منجمد خون میں ہلچل کردے مجھ کو چھو اور مکمل کر دے کتنی پیاسی ہیں یہ بنجر آنکھیں ابر زادے انہیں جل تھل کر دے میں نے وہ درد چپھا رکھا ہے جو تیرے حسن کو پاگل کر دے سارے انسان ہی وحشی ہیں تو پھر اس بھرے شہر کو جنگل کر دے اے جھلستے ہوئے جسموں کے خدا جلتی دوپہر پہ بادل کر دے خوشبو آئی ہے تو...
Top