حسان خان

لائبریرین
گفت گریان بو علی چون دست بر نبضم نهاد
در کتابِ من دوایِ دردِ این بیمار نیست

(قتیل لاهوری)
ابو علی سینا نے جب میری نبض پر دست رکھا تو اُس نے گِریہ کرتے ہوئے کہا کہ میری کتاب میں اِس بیمار کے درد کی دوا نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
(مادهٔ تاریخِ قتلِ ناصرالدین شاه قاجار)
ناصرالدین شهِ جهان که بدو
دوستان شاد بود و کور عدو
چون شهادت بِیافت شد تاریخ
وای بر دین بِرفت ناصرِ او
۱۳۱۳ھ
(شیخ ابراهیم قزلباش زنجانی 'شفایی')

شاہِ جہاں ناصرالدین، کہ جس کے باعث دوستاں شاد اور دشمناں کور تھے۔۔۔ جب اُس نے شہادت پائی تو [اُس کی] تاریخ [یہ] ہوئی: دین پر افسوس ہو، [کہ] اُس کا ناصر (یعنی مددگار و یاور) چلا گیا۔
× کور = نابینا، اندھا
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
نصیرالملک ابوالمظفر یونس کی مدح میں کہے گئے قصیدے میں ازرقی هِروی فرماتے ہیں:
ز مدحتِ تو سخن نیست راست‌تر، مَلِکا
بُرون ز اشهد ان لا اله الا الله

(ازرقی هِروی)
اے پادشاہ! 'اشہد ان لا الہ الا اللہ' کے بجز، تمہاری مدحت سے زیادہ برحق و درست سُخن نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
امیر علی شیر نوائی اپنے فارسی قصیدے 'تُحفة الافکار' میں اپنے اُستاد و مرشد عبدالرحمٰن جامی کی مدح میں فرماتے ہیں:
عاجز از تعدادِ اوصافِ کمالِ اوست عقل
انجُمِ گردون شُمُردن کَی طریقِ اَعوَر است؟
(امیر علی‌شیر نوایی)

عقل اُن کے اوصافِ کمال کو شمار کرنے سے عاجز ہے؛ فلک کے ستارے گننا کب [کسی] شخصِ یک چشم کی روش ہے؟ (یعنی کب کسی شخصِ یک چشم کے لیے ممکن ہے کہ وہ آسمان کے ستاروں کو شمار کر سکے؟)
× یک چشم = کانا
 

حسان خان

لائبریرین
گِردِ قرآن گَرد زیرا هر که در قرآن گُریخت
آن جهان رَست از عُقوبت این جهان جَست از فِتَن
(سنایی غزنوی)

قرآن کے گِرد گھومو، کیونکہ جو شخص بھی فرار کر کے قرآن میں چلا گیا، وہ اُس جہاں میں سزا و عذاب سے رَہا ہو گیا اور اِس جہاں میں فتنوں سے نجات پا گیا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ہر قطرہ چشمۂ شد و ہر چشمہ آبِ خضر
از بادۂ مراد تہی جامِ من ھماں


بابا فغانی شیرازی

ہر قطرہ (بڑھ کر) چشمہ بن گیا اور ہر چشمہ آبِ حیات ہو گیا، لیکن میرا جام، بادۂ مراد سے ویسے کا ویسا ہی خالی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
وفا طمع نکنم، زانْک جور خوبان را
طبیعت است و سِرِشت است و عادت و دین است
(مولانا جلال‌الدین رومی)

میں وفا کی طمع نہیں کرتا، کیونکہ ظلم و ستم خُوبوں کی طبیعت و فطرت ہے اور عادت و دین ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
کافر گؤرینجه زُلف و رُخون دیدی ای نگار
آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَ اللَيْلَ وَالنَّهَار
(منسوب به سید عمادالدین نسیمی)
اے نِگار! کافر نے جب تمہاری زُلف و رُخ کو دیکھا تو کہا: میں اُس ذات پر ایمان لے آیا جس نے شب و روز کو خَلق کیا۔

Kafir görincə zülf ü ruxun didi ey nigar
Aməntu bil-ləzi xələqəl-leylə vən-nəhar


مأخذ: تذکرة الشعراء، حسن چلَبی قېنالی‌زاده
میں نے مندرجۂ بالا تُرکی بیت کا منظوم فارسی ترجمہ یہ کیا ہے:
کافر چو دید زُلف و رُخت، گفت ای نگار
آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَ اللَيْلَ وَالنَّهَار
 

حسان خان

لائبریرین
بی‌گاه شد، بی‌گاه شد، خورشید اندر چاه شد
خیزید، ای خوش‌طالِعان، وقتِ طلوعِ ماه شد

(مولانا جلال‌الدین رومی)
شام ہو گئی، شام ہو گئی، خورشید چاہ کے اندر چلا گیا۔۔۔ اٹھ جائیے، اے خوش بختو، طلوعِ ماہ کا وقت ہو گیا۔
× چاہ = کنواں
 

حسان خان

لائبریرین
شب روح‌ها واصل شود، مقصودها حاصل شود
چون روز روشن‌دل شود، هر کو ز شب آگاه شد
(مولانا جلال‌الدین رومی)
شب کو روحوں کا وصال ہوتا ہے [اور] مقاصد حاصل ہوتے ہیں؛ جو بھی شخص شب [کی حقیقت] سے آگاہ ہو گیا، وہ روز کی مانند روشن دل ہو جاتا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
رُباعی از شیخ ابوسعید ابوالخیر

یا رب نظرے بر منِ سرگرداں کن
لطفے بہ منِ دل شدۂ حیراں کن
با من مکن آنچہ من سزائے آنم
آنچ از کرم و لطفِ تو زیبد آں کن


یا رب، مجھ سرگرداں کے حال پر کرم کی نظر کر۔ مجھ حیران و پریشان عاشقِ صادق کے حال پر لطف فرما۔ میرے ساتھ وہ مت کر کہ جس کا میں سزاوار ہوں، بلکہ میرے ساتھ وہ کر کہ جو تیرے لطف و کرم کو زیب دیتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
در چاهِ شب غافل مشو، در دلوِ گردون دست زن
یوسف گرفت آن دلو را، از چاه سویِ جاه شد
(مولانا جلال‌الدین رومی)
چاہِ شب میں غافل مت ہو جاؤ، [بلکہ] فلک کے دلْو [کی جانب دست بڑھاؤ اور اُس] کو دست میں تھامو۔۔۔ یوسف (ع) نے اُس دلْو کو پکڑا، [نتیجتاً] وہ چاہ سے [نکل کر] حشمت و جاہ کی جانب آ گیا۔

× چاہ = کنواں
× دَلْوْ (dalv) = جس چیز کے ذریعے چاہ سے آب نکالا جاتا ہے؛ بالٹی، ڈول

× شاعر نے شب کو چاہ سے تشبیہ دی ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ شب کے وقت میں غافل ہو کر مت بیٹھ جایا کرو، بلکہ فلک کی جانب کمند پھینک کر فلک تک پہنچنے کی کوشش کیا کرو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
در اندرونِ منِ خسته‌دل ندانم کیست
که من خموشم و او در فغان و در غوغاست
(حافظ شیرازی)
میں نہیں جانتا کہ مجھ خستہ دل کے باطن میں کون ہے
کہ میں خاموش ہوں اور وہ فغاں و غوغا کرتا ہے
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
چه ساز بود که در پرده می‌زد آن مطرب
که رفت عمر و هنوزم دِماغ پُر ز هواست
(حافظ شیرازی)

وہ مُطرِب پردے میں کون سا ساز بجا رہا تھا کہ [میری] عمر گذر گئی [لیکن] ہنوز میرا دل و دماغ آرزو سے پُر ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
خاقانیا بِنال که بر سازِ روزگار
خوش‌تر ز نالهٔ تو نوایی نیافتم
(خاقانی شروانی)

اے خاقانی! نالہ کرو، کیونکہ میں نے سازِ زمانہ پر تمہارے نالے سے خوب تر کوئی نوا نہیں پائی۔
 

حسان خان

لائبریرین
سایه‌ست هم‌نشینم و ناله‌ست هم‌دمم
بیرون ازین دو، لطف‌نمایی نیافتم
(خاقانی شروانی)

سایہ میرا ہم نشیں ہے اور نالہ میرا ہم دم ہے؛ اِن دو کے بجز میں نے کوئی لطف دِکھانے والا نہیں پایا۔
 

حسان خان

لائبریرین
در تیره‌شب چون مصطفیٰ می‌رَو، طلب می‌کن صفا
کان شه ز معراجِ شبی بی‌مثل و بی‌اشباه شد
(مولانا جلال‌الدین رومی)
تاریک شب میں مصطفیٰ (ص) کی طرح چلتے رہو [اور] صفا و پاکیزگی طلب کرتے رہو؛ کہ وہ شاہ ایک شب کی معراج سے بے مثل و بے نظیر ہو گئے تھے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
خاموش شد عالَم به شب تا چُست باشی در طلب
زیرا که بانگ و عربَده تشویشِ خلوت‌گاه شد
(مولانا جلال‌الدین رومی)

شب کے وقت عالَم خاموش ہو گیا تاکہ تم طلب میں چُست ہو جاؤ؛ کیونکہ نعرہ و داد و فریاد خلوت گاہ کے [لیے] تشویش و آشفتگی [کا باعث] ہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
ساقی به سویِ جام رَو، ای پاسبان بر بام رَو
ای جانِ بی‌آرام رَو، کان یار خلوت‌خواه شد
(مولانا جلال‌الدین رومی)

اے ساقی! جام کی جانب جاؤ۔۔۔ اے پاسبان! بام پر جاؤ۔۔۔ اے جانِ بے آرام، چلی جاؤ۔۔۔ کہ وہ یار خلوت چاہ رہا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
ز افراسیابِ دهر خراب است مُلکِ دل
دردا که زورِ رُستمِ دستان نیافتم
(خاقانی شروانی)
افراسیابِ زمانہ کے دستوں [میرا] مُلکِ دل خراب ہے
افسوس کہ میں نے رُستم بن دستان کا زور نہیں پایا

× شاہنامۂ فردوسی کے مطابق، افراسیاب مُلکِ تُوران کے بدکردار پادشاہ کا نام تھا، جسے رُستم نے کئی بار شکست دی تھی۔
 
Top